نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کیا بیرین سنگھ کا استعفیٰ واقعی امن کی بحالی کاباعث بنے گا؟

کیا بیرین سنگھ کا استعفیٰ واقعی امن کی بحالی کاباعث بنے گا؟ بیرین سنگھ کا استعفیٰ منی پور میں بڑھتے ہوئے بحران اور سیاسی عدم استحکام کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ استعفیٰ واقعی ریاست میں امن کی بحالی کا باعث بنے گا یا یہ محض ایک وقتی سیاسی چال ثابت ہوگا۔ اس سوال کا جواب ریاست کی موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل پر منحصر ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر ایک سیاسی چال کے طور پر دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کے پس پردہ جو عوامل کارفرما ہیں وہ ریاست کی طویل المدتی سیاسی عدم استحکام اور مرکزی حکومت کی بے حسی کو نمایاں کرتے ہیں۔ اگرچہ بی جے پی نے بیرین سنگھ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، مگر یہ سوال ابھی بھی برقرار ہے کہ آیا یہ فیصلہ ریاست میں امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا یا نہیں۔بیرین سنگھ کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران منی پور میں ایک طویل بحران نے جنم لیا ہے۔ کوکی اور میتیئی برادریوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیاہے، اور ریاستی حکومت اور مرکز کی بے توجہی نے اس بحران کو اور بھی گھمبیر کر دیاہے۔ بی جے پی قیادت کی طرف سے اس بحران پر نظراندازی اور عوام کو ان ...

سال26- 2025 اور بجٹ: ایک تقابلی جائزہ

 سال26- 2025 اور بجٹ: ایک تقابلی جائزہ حالیہ بجٹ کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنے مجموعی اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے، جس کا براہِ راست اثر سماجی شعبے، بالخصوص صحت اور تعلیم پر پڑا ہے۔ صحت کے شعبے میں ہونے والے بجٹ تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مرکزی حکومت اس بنیادی شعبے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ حالانکہ 2024-25 کے تخمینی بجٹ میں 94,671 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جو اس سال بڑھ کر 1,03,851 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اس 9,180 کروڑ روپے کے اضافے کے باوجود اگر افراط زر کو مدِنظر رکھا جائے تو حقیقی اضافہ محض 3 فیصد کے لگ بھگ رہ جاتا ہے۔ مزید برآں، مجموعی صحت کا بجٹ جی ڈی پی کے تناسب سے 0.37 فیصد سے کم ہو کر 0.29 فیصد رہ گیا ہے، جب کہ مجموعی بجٹ میں بھی صحت کا حصہ 2.06 فیصد سے گھٹ کر 2.05 فیصد ہو چکا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں، جن میں نیشنل ہیلتھ مشن، پردھان منتری سواستھ سرکشا یوجنا اور دیگر صحت سے متعلق اسکیمیں شامل ہیں، مگر بدقسمتی سے ان اسکیموں کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کے برخلاف، پردھان من...

آج کل کے پردے کو بھی پردے کی ضرورت ہے!

آج کل کے پردے کو بھی پردے کی ضرورت ہے! آج کے دور میں پردے کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اصل پردے کے مفہوم سے بہت دور جا چکا ہے۔ فٹنگ عبایا، چمکدار اور خوشنما رنگوں کے فینسی حجاب، اور اسٹائلش انداز میں لپٹا ہوا دوپٹہ یہ سب کیا واقعی پردہ کہلانے کے لائق ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ دور کی مسلمان خواتین، پردے کے نام پر جو کچھ کر رہی ہیں، وہ درحقیقت شیطان کے جال میں پھنستی جا رہی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ پردہ کر رہی ہیں، جبکہ اصل میں وہ اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہو چکی ہیں اور اپنی ہی عزت و وقار کو مجروح کر رہی ہیں۔ آج کل جو عبایا اور حجاب بازاروں میں دستیاب ہیں، وہ حقیقت میں حیاداری کے بجائے مزید بے حیائی کو فروغ دے رہے ہیں۔ بعض عبایا ایسے باریک کپڑے سے تیار کیے جا رہے ہیں کہ اندرونی لباس تک نمایاں نظر آتا ہے۔ کہیں اتنا چمکدار اور فیشن ایبل لباس ہے کہ دیکھنے والے کی توجہ پردے کی روح سے ہٹ کر لباس کی خوبصورتی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ بعض عبایا ایسے چست اور لچکدار کپڑے سے بنائے جا رہے ہیں کہ وہ پورے جسم سے چپک جاتے ہیں اور جسم کے خد و خال کو نمایاں کرتے ہیں۔ کیا یہی پردے کی اصل روح ہے؟ کیا...

شعبان المعظم: نیکیوں سے رغبت اور برائیوں سے اجتناب کا مہینہ ہے!

شعبان المعظم: نیکیوں سے رغبت اور برائیوں سے اجتناب کا مہینہ ہے! اسلامی سال کے مہینوں میں شعبان المعظم ایک خاص مقام رکھتا ہے، کیونکہ یہ رمضان المبارک کی آمد کا پیش خیمہ ہے۔ یہ مہینہ برکتوں، مغفرت اور عبادات میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے کو اپنے لیے مخصوص قرار دیا ہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ارشاد فرمایا:”رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے“(شعب الایمان)۔ یہ بابرکت مہینہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم خود کو رمضان کی برکتوں کے لیے تیار کریں۔ عبادات میں اضافہ، دعا و استغفار کی کثرت، اور نیک اعمال میں مشغولیت شعبان کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، گناہوں کی معافی مانگے اور رمضان کے استقبال کے لیے اپنی روحانی کیفیت کو بہتر بنائے۔ شعبان المعظم کی سب سے اہم رات شبِ برائت ہے، جو مغفرت، رحمت اور نجات کی رات کہلاتی ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر خاص نظر کرم فرماتا ہے اور بے شمار گناہ گاروں کو معاف کرتا ہے۔ احادیث میں اس رات کی فضی...

منی پور میں نسلی کشیدگی اور تشدد کی لہر کا خاتمہ کب ہوگا؟

منی پور میں نسلی کشیدگی اور تشدد کی لہر کا خاتمہ کب ہوگا؟  سال 2023 سے لیکر 2024 کے دوران منی پور میں ہونے والے نسلی تشدد نے ریاست کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں سیکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال میں، وزیراعلیٰ این بیرین سنگھ نے نئے سال کی آمد سے پہلے عوام سے معافی طلب کی، جو ایک اہم سیاسی اقدام تھا۔ تاہم، اس معافی کے اثرات اور اس کی حقیقی نیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔یہ معافی محض ایک رسمی بیان ثابت ہوئی ہے، کیونکہ اگلے ہی دن، یعنی یکم جنوری 2025 کو، وزیراعلیٰ این بیرین سنگھ نے ریاست میں جاری تشدد کا ذمہ دار کانگریس کو ٹھہرا دیا۔ انہوں نے ماضی کے واقعات، جیسے 1997 کی ناگاکوکی جھڑپوں کا حوالہ دیا، لیکن وہ یہ نظر انداز کر گئے کہ موجودہ بحران کی اصل جڑ ان کی حکومت کی ناکامی ہے۔ کانگریس پر ان کی یہ الزام تراشی نہ صرف ان کی معافی کے خلوص کو مزید مشکوک بناتی ہے بلکہ ریاست میں جاری تشدد کو ہوا دینے کے ساتھ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے۔ مئی 2023 میں شروع ہونے والے نسلی تشدد نے منی پور کو غیر یقینی صو...