ملکِ ہندوستان اور مسلمانوں کا مستقبل ہندوستان جیسی سرسبزو شاداب سرزمین میں جہاں بے شمار ثقافتیں، زبانیں اور عقائد آپس میں ملتے ہیں، مسلم کمیونٹی ملکی تاریخ کے تانے بانے میں ایک اٹوٹ دھاگے کے طور پر کھڑی رہتی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا بیانیہ لچک، تخلیقی صلاحیتوں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے منسوب ہے۔ جیسا کہ ہم ایک نئے دور کی دہلیز پر کھڑے ہیں، یہ ضروری ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے ایک ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جو مسلم کمیونٹی کو بااختیار بنائے، شمولیت، سماجی و اقتصادی ترقی اور بین المذاہب افہام و تفہیم کو فروغ دے۔ تعلیم کو ترجیح دے کر، سماجی و اقتصادی تفاوتوں کو دور کرکے، ثقافتی انضمام کو فروغ دے کر اور سیاسی مشغولیت کو تقویت دے کر ملکِ ہندوستان اپنے مسلم شہریوں کے لیے زیادہ مساوی اور ہم آہنگ مستقبل کی طرف ایک راستہ روشن کر سکتا ہے۔میں نظریے کے مطابق پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت بدلنے کے لیے پانچ مراحل عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔ 1. تعلیم کے ذریعے تمام تر مسلمانوں کو بااختیار بنانا: تعلیم کو طویل عرصے سے ترقی اور بااختیار بنانے کا سنگ بنیاد تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ ...