نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مارچ, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ملکِ ہندوستان اور مسلمانوں کا مستقبل

ملکِ ہندوستان اور مسلمانوں کا مستقبل ہندوستان جیسی سرسبزو شاداب سرزمین میں جہاں بے شمار ثقافتیں، زبانیں اور عقائد آپس میں ملتے ہیں، مسلم کمیونٹی ملکی تاریخ کے تانے بانے میں ایک اٹوٹ دھاگے کے طور پر کھڑی رہتی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا بیانیہ لچک، تخلیقی صلاحیتوں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے منسوب ہے۔ جیسا کہ ہم ایک نئے دور کی دہلیز پر کھڑے ہیں، یہ ضروری ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے ایک ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جو مسلم کمیونٹی کو بااختیار بنائے، شمولیت، سماجی و اقتصادی ترقی اور بین المذاہب افہام و تفہیم کو فروغ دے۔ تعلیم کو ترجیح دے کر، سماجی و اقتصادی تفاوتوں کو دور کرکے، ثقافتی انضمام کو فروغ دے کر اور سیاسی مشغولیت کو تقویت دے کر ملکِ ہندوستان اپنے مسلم شہریوں کے لیے زیادہ مساوی اور ہم آہنگ مستقبل کی طرف ایک راستہ روشن کر سکتا ہے۔میں نظریے کے مطابق پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت بدلنے کے لیے پانچ مراحل عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔ 1.     تعلیم کے ذریعے تمام تر مسلمانوں کو بااختیار بنانا:  تعلیم کو طویل عرصے سے ترقی اور بااختیار بنانے کا سنگ بنیاد تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ ...

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نبی مکرم، رسول معظم، سرکار اعظم، رحمت عالم سرکار مدینہ ﷺکے اخلاق و عادات کے مظہر کامل ہیں اسی لئے اولیاء کرام اور علمائے عظام نے آپ کی بارگاہ غوثیت میں نذر عقیدت پیش کیا اور آپ کی عظیم شان و عظمت کو یوں بیان کیا ہے کہ میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ ہر غم زدہ اور پریشان حال کی دستگیری فرماتے، ضعیفوں میں بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے، سلام میں پہل کرتے، لوگوں کی خطاؤں اور کوتاہیوں کو درگزر فرماتے، جو کوئی بھی آپ کی ذراسی خدمت کرتا نذرونیاز، ہدیہ تحفہ پیش کرتے اس کی قدر کرتے۔ جود وسخا کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی مجلس میں بعض اوقات چار سو حاضرین کو ولایت کے مقام تک پہنچا دیتے، آپ انتہائی رحیم اور کریم النفس تھے۔ شجاعت ایسی کہ خلیفہ وقت کو منبر پر بیٹھے للکار کر خلاف شرع امور سے روکتے، صدق وصفا میں کمال درجہ رکھتے تھے۔ امانت کے پاسباں، انصاف و عدل کے پیکر عفوو عطا فرمانے والے، علم و حیا میں بے مثل و بے مثال، مروت...

جشن عید میلاد النبی ﷺ دنیا کا سب سے بڑا جشن ہے

    جشن عید میلاد النبی ﷺ دنیا کا سب سے بڑا جشن ہے!           ماہ ربیع الاول خوشیوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ربیع کا معنی بہار ہوتا ہے یعنی خوشیاں۔ ہر طرف شادمانی کا سماں پھیلا ہوا نظر آتا ہے اور سب لوگ عقیدت مندی کے ساتھ جشن عید میلاد النبی مناتے ہیں اور تا صبح قیامت یہ جشن محمدی منایا جائے گا کیونکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جشن جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیاور اگر کوئی اس جشن کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے یا کرے گا تو وہ خود ہلاک و برباد ہو جائے گا کیونکہ یہ جشن صرف اس عالم فانی میں بسنے والے مختلف مخلوقات ہی نہیں مناتے ہیں بلکہ اللہ ربّ العزت اپنے معصوم فرشتوں کے ساتھ جشن عید میلاد النبی مناتا ہے۔اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے ''کل من علیہا فان ویبقی وجہ ربک ذو الجلال والإکرام'' یعنی ہر شے فنا ہوجائیں گی اور اگر باقی رہنے والی کوئی چیز ہے تو وہ ذکر اللہ اور ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ورنہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔            اللہ رب العزت قرآن مقدس ...

بلا شک و شبہ سرکار کی آمد ہمارے لیے اللہ رب العزت کی سب سے بڑی نعمت ہے

  بلا شک و شبہ سرکار کی آمد ہمارے لیے اللہ رب العزت کی سب سے بڑی نعمت ہے!           رب تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اور آپ کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال فرمایا۔ اس کی کن کن نعمتوں کا تذکرہ کیا جائ آپ جدھر نگاہ اٹھا کر دیکھئے اس کی کا جلوہ نظر آئے گا۔ آسمان اس کی نعمت، زمین، اس کی نعمت، ہوا، اس کی نعمت، پانی، اس کی نعمت، کھانا، اس کی نعمت، دانہ، اس کی نعمت، چاند، اس کی نعمت، سورج، اس کی نعمت، جسم اسی کی نعمت، جان اس کی نعمت، قرآن اسی کی نعمت اور ایمان اس کی نعمت۔انسانوں کی کیا مجال کہ اس کی نعمتوں کو شمار کر سکے۔ خود اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے ۔ وَ اِنْ  تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْہَااِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔ (پ14، آیت:81)۔ ترجمہ: اوراگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہیں کرسکو گے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔         مگر پروردگار عالم کا کرم دیکھئے اس نے اپنے بندوں کو ان گنت نعمتوں سے نواز اگر کسی نعمت پر احسان نہیں جتایا مثلاً: عقل و شعور سے ن...