نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اگست, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں...

  حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں!   تذکرہ مصطفی کا کرتے ہیں سب فدایانِ حافظ ملت نعت کی شکل میں زباں پر ہے خوب ا حسانِ حافظ ملت             جلالۃ العلم،استاذ العلما حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بافیص مدرس،خدارسیدہ بزرگ،کامیاب مصلح ومبلغ اور ہزاروں کی تعداد میں علما وفقہا کی جماعت تیار کرنے والے اس مرد قلندر کو دنیائے اہل سنت بہت قریب سے جانتی ہے۔ آپ کی حیات و خدمات نے پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کے خوابوں کی حسین تعبیر جامعہ اشرفیہ مباک پور آج پوری دنیا حافظ ملت کا دینی وعلمی اور روحانی فیضان تقسیم کر رہا ہے۔ مصباحی برادران ملک اور بیرون ملک دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دے کر فرمانِ حافظ ملت ”زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام“ کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،آمین۔ تو آئیے ہم حضور حافظ ملت کی ہمہ جہت شخصیت کو اقوالِ ائمہ کی ...

جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار

  جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار                     میرا اور آپ سب کا پیارا ملک ملکِ ہندوستان ایک ڈیموکریٹک اور سیکولر ملک ہے جس میں مختلف اور متفرق مذاہب کے ماننے والے اپنے اصول و ضوابط اور شرائط کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ تمام مختلف مذاہب کے ماننے والے سال بھر میں متنوع قسم کے تہوار مناتے ہیں اور خوشی کا اظہار بھی خوب عقیدت مندی کے ساتھ کرتے ہیں۔ سب لوگ اپنے تہواروں کو خوش ہو کر اور خوش رہ کر مناتے ہیں کیونکہ وہ ایک خاص دن ان کی زندگی کا اہم ترین دن ہوتا ہے جس دن میں وہ خوشیوں کا اظہار دل کھول کر کرتے ہیں۔ انہیں تمام خوشیوں کے مابین ایک خوشی ایسی بھی ہے جو کسی مذہب سے خاص نہیں بلکہ اس خوشی میں تمام باشندگانِ ہندوستان برابر کے شریک ہوتے ہیں اور عقیدت مندی کے ساتھ اس خوشی کو مناتے ہیں اور وہ کوئی اورخوشی نہیں بلکہ وہ خوشی یوم آزادی کی خوشی ہے جسے ہم  15 اگست کوخلوصیت کے ساتھ مناتے ہیں۔                  آج ہمارے ملک کو انگریزوں کی غل...

10 رمضان المبارک یومِ وصال: غمگسارِ رسول اُمّ المؤمنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

    10 رمضان المبارک یومِ وصال غمگسارِ رسول اُمّ المؤمنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا وہ   ام   المسلمین   جو مادر   گیتی   کی   عزت   ہے وہ ام المسلمین قدموں کے نیچے جس کی جنت ہے خدیجہ   طاہرہ   یعنی   نبی   کی   باوفا   بی   بی شریک   راحت   و   اندوہ   پابندِ   رضا   بی بی دیارِ   جاودانی   کی   طرف راہی   ہوئیں   وہ   بھی گئے دنیا سے آخر سوئے فردوسِ بریں وہ بھی اس خاکدان گیتی پر روزانہ انگنت اور بے شمار افراد جنم لیتے ہیں اور اپنی زندگی کی مقررہ میعاد پوری کرکے داعی اجل کے حضور لبیک بول کر اس دارفانی کو الوداع کہہ جاتے ہیں۔اگر انہوں نے اس عالم رنگ و بو میں کسی بھی شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیا ہے تو تاریخ کے پنے انہیں مدت مدید تک مقید کرلیتے ہیں ورنہ صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتے ہیں۔آپ تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ جہاں ایک طرف ایسے افراد بھی ہیں جو دنیاوی نظم و نسق اور اس کے فلاح و بہبود میں ...

اللہ رب العزت سے تعلق رکھنے والے کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتے!

اللہ رب العزت سے تعلق رکھنے والے کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتے !             اللہ کے حبیب مخلوق کے طبیب سید الثقلین رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا یہ ایک حسین واقعہ ہے کہ اس دور میں ایک عورت تھی خولہ بنت ثعلبہ، ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی اور طلاق تھی زمانہ جاہلیت کی۔ شوہرنے اپنی اہلیہ سے کہاکہا: ”تو میرے لئے میری ماں کی طرح ہے“ اس وجہ سے طلاق پڑ گئی اور اس پر جو طلاق پڑتی تھی وہ ایسی طلاق پڑتی تھی کہ کسی بھی صورت رجوع ممکن نہیں تھا۔ جب ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی تو وہ پریشان ہو کر اللہ کے نبی سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر تھے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان کو کنگھی کر رہی تھیں۔ وہ عورت کہنے لگتی ہے یارسول اللہ میرے خاوند اوس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور کہہ دیا ہے تو میرے لئے میری ماں کی طرح ہے۔ اللہ کے رسول اب کیا حکم ہے؟ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اب تو اس کے لئے حرام ہو گئی۔ تو کہنے لگی کہ یا رسول اللہ آپ نظر ثانی کریں وہ می...