نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان ازہری بریلوی ؒ ایک عبقری شخصیت

   حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان ازہری قادری برکاتی بریلوی ؒ ایک عبقری شخصیت (6/ ذی القعدہ۔ یومِ وصال حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ) شمعِ بزم اہل سنت حضرت اختر رضا خاں  نازِ بزمِ قادریت حضرت اختر رضا خان نگاہِ مفتی اعظم کی ہیں یہ جلوہ گری چمک رہا ہے جو اختر ہزار آنکھوں میں        یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح ظاہر و باہر ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت اور مذہبِ اسلام کی نشر واشاعت کے لیے آدم علیہ السلام سے لے کر ہم سب کے آقا و مولی جناب احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام و رسولانِ عظام علیہم السلام کو اس خاکدان گیتی پر مبعوث فرمایا۔ اور جتنے بھی انبیاء کرام و رسولانِ عظام علیہم السلام اس روے زمین پر جلو ہ گرہ ہوے سبھی نے اپنی قوم کے لوگوں کو راہِ حق پرگامزن کرنے کے لیے دن و رات محنت کرتے رہیں اور اپنی قوم کے باشندوں کو خدائے لم یزل کے دین سے آشنا کراتے رہیں۔ پھر جن لوگوں نے ان انبیاء کرام و رسولانِ عظام علیہم السلام کی دعوت پر لبیک کہا وہ فلاح و بہبودی کی اعلی ترین منص...

گر کر سنبھلنا ہی اصل زندگی ہے!

گر کر سنبھلنا ہی اصل زندگی ہے!  زندگی ایک خاموش کتاب کی مانند ہے جس کے ہر صفحے پر انسان کے لیے کوئی نہ کوئی سبق لکھا ہوا ہوتا ہے۔ کبھی یہ کتاب خوشیوں کے رنگوں سے بھر جاتی ہے، کبھی غم کی سیاہی اس کے اوراق کو دھندلا دیتی ہے، اور کبھی آزمائشوں کی گرد انسان کے چہرے پر ایسی تھکن چھوڑ جاتی ہے کہ وہ خود کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کے دل میں بے شمار خواب، امیدیں اور تمنائیں جنم لیتی ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ زندگی ایک خوبصورت راستہ ہے جہاں ہر طرف آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی، مگر وقت کے ساتھ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راستہ ہموار نہیں بلکہ پتھروں، کانٹوں اور ٹھوکروں سے بھرا ہوا ہے۔ انسان جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی زیادہ اسے زندگی کی حقیقتوں کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ٹھوکریں بظاہر انسان کو گراتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہی ٹھوکریں انسان کو سنبھلنا سکھاتی ہیں۔ اگر زندگی میں مشکلات نہ ہوں، ناکامیاں نہ ہوں، اور دل ٹوٹنے کے لمحے نہ آئیں تو شاید انسان کبھی مضبوط نہ بن سکے۔ ہر ٹھوکر انسان کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتی ہے۔ کبھی یہ انسان کو اپنی کمز...

ٹی سی ایس ناسک تنازعہ: حقیقت یا پروپیگنڈا؟

ٹی سی ایس ناسک تنازعہ: حقیقت یا پروپیگنڈا؟        انسانی تاریخ دراصل سچ اور فریب کی ایک مسلسل آمیزش کی داستان ہے، جہاں حقیقت اکثر دبائی گئی اور جھوٹ کو اس ہنر سے آراستہ کیا گیا کہ وہ سچ کا روپ دھار کر سامنے آیا۔ زمانہ بدلتا رہا، ذرائع بدلتے رہے، مگر یہ کشمکش اپنی اصل میں قائم رہی بس اس کے انداز اور اثرات میں شدت آتی گئی۔ آج کے عہد میں میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا نے اس عمل کو نہ صرف تیز تر کر دیا ہے بلکہ اسے اس قدر پیچیدہ بنا دیا ہے کہ سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنا آسان نہیں رہا۔ اب خبر محض ایک اطلاع نہیں رہی، بلکہ ایک بیانیہ بن چکی ہے ایسا بیانیہ جو واقعات کو صرف بیان نہیں کرتا بلکہ انہیں مخصوص زاویے سے پیش کر کے ذہنوں کی تشکیل بھی کرتا ہے۔ یوں حقیقت اپنی اصل صورت میں کم اور پیش کردہ صورت میں زیادہ دیکھی جانے لگی ہے۔ اردو کا یہ محاورہ کہ”جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے“آج کے میڈیا کلچر کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کشش، سنسنی اور فوری اثر انگیزی کو صداقت پر فوقیت حاصل ہو چکی ہے۔       اسی طرح کہاوت ہے کہ”آگ لگتی ہے تو دھواں بھی اٹھتا ہے“، یعنی...