نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے !

        اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے !         اعلی حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملت حامئ اہلسنت قاطع بدعت و ضلالت ناشر مسلک اہلسنت و جماعت کنز الکرامت امام عشق و محبت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حضور سر ور دوعالم فخر کائنات احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کچھ اس طرح قلم طراز ہیں :  تیرے خلق کو حق نے عظیم کہا تیری خلق کو حق نے جمیل  کیا کوئی  تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق  حسن و ادا کی  قسم وہ خدا نے ہے مربتہ تجھ کو دیا نہ کسی  کو ملے نہ کسی  کو  ملا کہ  کلام  مجید  نے  کھائی  شہا  ترے  شہر و کلام  و بقا  کی قسم        آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بارے میں خلق خدا سے کیا پوچھنا؟ جب کہ خود خالق اخلاق نے یہ فرما دیا کہ  "انّک لعلی خلق عظیم" ترجمہ: اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے ۔ یعنی اے حبیب! بلا شبہ آپ اخلاق کے بڑے ...

أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّہُ نُورِی: اقوال آئمہ کی روشنی میں

                       أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّہُ نُورِی: اقوال آئمہ کی روشنی میں          اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:  "قَدْ جَاءَ کُم مِّنَ اللہِ نُورٌ وَکِتَبٌ مُّبِینٌ  '' ترجمہ: بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔ (کنز الایمان،سورۂ المائدہ،آیت:120)۔ یقینا یہ مبارک مہینہ ربیع النور کا، نور والا مہینہ ہے جس میں ہم سب نبی آخر الزماں سید الثقلین ﷺ کی تشریف آوری ہوئی۔ عاشق مصطفی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں۔ صبح  طیبہ  میں  ہوئی  بٹتا  ہے باڑا نور کا صدقہ  لینے  نور  کا  آیا  ہے تارا  نور کا باغ  طیبہ  میں سہانا  پھول پھولا  نور کا مست ہو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا         یہ آیت مبارکہ جو میں نے اوپر پیش کی ہ...

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

  آپ کیا کر سکتے ہیں؟        زندگی میں کبھی کبھار ہم اپنی بڑی چیزوں کو چھو ڑ دیتے ہیں کیونکہ ہم اپنی ہمت کھو دیتے ہیں یا دوسروں کے تاثر یا بہکاوے میں آجاتے ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا آپ نے کبھی اپنے اندر کی صلاحیت کو پہچاننے کی کوشش کی ہے؟ ۔ خود کو جاننا ایک مخصوص سفر ہے جس میں ہم اپنے اندر کے احساسات، خواہشات، اور قابلیتوں کو پہچانتے ہیں۔ یہ سفر ہمیں اپنے حقیقی خود اعتمادی کی طرف لے جاتا ہے جو کہ ایک خوبصورت اور کامیابی کی اہم بنیاد ہے ۔   خود کو جاننے کے لئے، پہلا قدم یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی اور مقصدِ زندگی کے لئے وقت نکالیں۔ آپ اپنے آپ کو جاننے کے لئے اپنے اندر کی باتوں کو سننے کا وقت دیں۔ اپنے اندر کے حسین خصوصیات کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ کیا آپ میں کوئی خاص خوبی ہے؟ کیا آپ میں کوئی مضبوطی ہے جو آپ کو مختلف بناتی ہے؟ اور یقینا ان خیالات کا پیدا ہونا ہی آپ کو خوشی دینے والی ہیں۔  آپ کی توانائیوں کو جاننا بھی بہت اہم ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ میں کون کون سی خوبیاں ہیں؟ آپ اپنا مقدر کیسے بدل سکتے ہیں اور کیا کیا آپ اپنی زندگی اور ا...

کتابوں میں جو افضل ہے اسے قرآن کہتے ہیں

  کتابوں میں جو افضل ہے اسے قرآن کہتے ہیں!   کتابوں میں جو افضل ہے اسے قرآن کہتے ہیں  اتارا ہے اسے جس نے اسے رحمان کہتے ہیں  سجا لے اپنے سینے میں جو اس کے تیس پارے کو  زمانے بھر میں اس کو حافظ ِ قرآن کہتے ہیں            اللہ رب العزت خالقِ شش جہات اور مالکِ کل کائنات ہے جس نے حضرتِ انسان کو سب سے اعلی اور افضل بناکر اس خادانِ گیتی پر مبعوث فرمایا  اور قرآن اس چیز کا گواہ ہے:”لقد خلقنا الانسان فی أحسن تقویم“۔ ترجمہ: بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا“.(کنز الایمان،پ:30،سورۃ التین،آیت:4) اور کنز العرفان میں کچھ اس طرح ذکر ہے: ”بیشک یقینا ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا“۔اللہ رب العزت نے انجیر، زیتون،طورِسینااور شہر مکہ مکرمہ کی قسم ذکر کرکے ارشاد فرماتاہے کہ بیشک ہم نے آدمی کو سب سے اچھی شکل و صورت میں پیدا کیا، اس کے اعضاء میں مناسبت رکھی، اسے جانوروں کے طرح جھکا ہوا نہیں بلکہ سیدھی قامت والا بنایا، اسے جانوروں کی منھ سے پکڑ کر نہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھانے والا بنایا اور علم، فہم، ...

بشری کمزوریاں کیا ہیں؟

  بشری کمزوریاں کیا ہیں؟ اللہ تبارک و تعالی نے اپنی ہر مخلوق کو کچھ ایسی خصوصیات عطا کی ہیں جن کی  مدد سے وہ نہ صرف اپنی غذا حاصل کرتا ہے بلکہ دشمنوں سے اپنا بچاؤ بھی کرتا ہے۔ سانپ کو زہر کی پوٹلی،ہرن کو تیز رفتاری،شیر کو بے پناہ طاقت اور گینڈے کو بے انتہا سخت کھال عطا کر کے ان کو نسلوں کی محفوظ رہنے کا سامان مہیا کیا ہے۔ انسان جسمانی اعتبار سے بہت زیادہ مضبوط نہیں ہے لیکن وہ قدرت کی بے حد حسین تخلق ہے جس سے ہم اشرف المخلوقات (اللہ تعالی کی پیدا کی گئی تمام چیزوں میں سب سے زیادہ اہم اور بہتر) بھی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ گویا دنیا کی دیگر تخلیقات تو کن فیکن کا مظہر ہیں۔ یعنی اس نے کہا ہو جا اور وہ ہو گئیں لیکن انسان کی تخلیق اللہ تعالی کی قوت تخلیق کا ایک نادر نمونہ ہے۔ اللہ تعالی خود قرآنِ مقدس میں ارشاد فرماتاہے کہ میں نے انسان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ ’’ قال یا ابلیس ما منعک ان تسجد لما خلقت بیدی‘‘۔ ترجمہ: کہا اے ابلیس کس چیز نے تجھے روکا ہے کہ تو اسے سجدہ نہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔ (...