نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دہلی اسمبلی الیکشن اور عام آدمی پارٹی

دہلی اسمبلی الیکشن اور عام آدمی پارٹی      دہلی اسمبلی انتخاب قریب آرہا ہے اور فروری کا مہینہ سیاسی سرگرمیوں سے بھرپور ہونے والا ہے۔ اروند کیجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی ان انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے عوام کو مفت سہولیات کی فراہمی پر انحصار کر رہی ہے۔ دہلی حکومت کی جانب سے دی جانے والی ان سہولیات کی فہرست کافی طویل اور متاثر کن ہے، لیکن اس کے ساتھ سرکاری خزانے پر بھاری بوجھ بھی پڑ رہا ہے۔ سب سے پہلے بات کریں بجلی کی، تو دہلی کے عوام کو 200 یونٹ تک بجلی بالکل مفت دی جا رہی ہے۔ اگر بجلی کی کھپت 200 سے 400 یونٹ تک ہو، تو بل پر 50 فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ اس سہولت کا خزانے پر 3600 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔پانی کی بات کریں تو ہر گھر کو 20 ہزار لیٹر تک پانی مفت دیا جا رہا ہے، جس کا کل خرچ حکومت کے خزانے پر 500 کروڑ روپے سالانہ ہے۔اس کے علاوہ خواتین کو ڈی ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ یہ اقدام جہاں خواتین کے لیے آسانی کا باعث ہے، وہیں اس پر سالانہ 440 کروڑ روپے کا خرچ ہو رہا ہے۔      دہلی حکومت کا ایک اور منفر...

دہلی کا سیاسی منظر نامہ

     دہلی کا سیاسی منظر نامہ      اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے ملک کی راجدھانی دہلی ایک منفرد سیاسی قلعہ ہے جو بھارتی سیاست کی پیچیدگیوں کا آئینہ دار ہے۔ یہ وہ قلعہ ہے جس کو انتخابی طور پر فتح کرنا نریندر مودی کے لیے ایک خواب ہی رہا ہے۔ حتیٰ کہ 2014 کے عام انتخابات میں، جب مودی کی قیادت اور شخصیت کو پورے ملک میں ایک تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، اور ''اب کی بار مودی سرکار'' کا نعرہ ہر گلی کوچے میں گونج رہا تھا، تب بھی دہلی نے ان کی جماعت کو اپنی سرزمین پر قدم جمانے کا موقع نہ دیا۔ دہلی کی یہ مزاحمت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی سیاسی گتھی بن چکی ہے۔ مغربی بنگال کی طرح دہلی بھی ان چند علاقوں میں شامل ہے جہاں نریندر مودی اور ان کی جماعت کو بار بار شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی کا سیاسی منظرنامہ زعفرانی سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک معمہ بن گیا ہے جسے جتنی بار سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ اتنا ہی الجھتا چلا جاتا ہے۔           یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ دہلی کے عوامی مسائل...

انسانیت کا جذبہ ہر مذہب سے بلند ہے صاحب!

انسانیت کا جذبہ ہر مذہب سے بلند ہے صاحب! ہندوستان ہمیشہ سے محبت، بھائی چارے، ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کی مثال رہا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، ذاتوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ امن و سکون سے رہتے ہیں۔ یہ روایت ہماری تاریخ کا حصہ ہے، جس پر ہم فخر کرتے ہیں اور جس کی مثالیں آج بھی ہمیں ملک کے مختلف حصوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اگرچہ سماج میں نفرت کی سیاست اور فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود ملک کی اکثریت محبت، امن، اور بھائی چارے کو ترجیح دیتی ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف اپنی زندگی میں سکون چاہتے ہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ ملک کی اصل طاقت ہیں، جو اتحاد اور انسانیت کی بنیاد پر معاشرے کو جوڑتے ہیں۔ نفرت پھیلانے والے افراد کے برعکس، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینے والے افراد انسانیت کو سب سے اوپر رکھتے ہیں۔ ان کے لیے مذہب، ذات پات یا برادری کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ ان کا مقصد صرف اور صرف لوگوں کو قریب لانا اور معاشرے میں امن قائم کرنا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنی زندگی کے ذریعے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسانیت سب سے...

سلطان الہند خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ

سلطان الہند خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلی تیرا  کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا  ہے تری ذات عجب بحر حقیقت پیارے کسی تیراک نے پایا نہ کنارا تیرا اللہ رب العزت نے اس خاکدانِ گیتی پر انسانوں کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام مبعوث فرمایا، حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کرتا جدار کائنات ﷺ تک جتنے بھی انبیاء تشریف لائے سب نے انسانوں کے ساتھ خیر خواہی کا بھر پور مظاہرہ فرمایا اور راہ بھٹکے انسانوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دیتے رہے۔ ظاہری بات ہے کفر کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے اور ظلم وعصیاں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے انسانوں کے لئے راہ راست پر جلدی آنا آسان تو نہ تھا چنانچہ دعوت دین دینے والے مقدس انبیاء کرام پر نصیحت کے جواب میں پتھر برسائے گئے اور کبھی ناشائستہ جملوں کے تیر برسا کر ان کے کلیجے کو چھلنی کیا گیا۔ لیکن اللہ کے فرستادہ پیغمبر ہر ظلم سہتے رہے اور لوگوں پر شفقت و مہربانی کے بادل بن کر برستے رہے۔ رسول معظم ﷺ نے اپنی شفقت، رحمت اور بے غرضی سے انسانوں کے دلوں کا تزکیہ فرمایا اور دیکھتے دیکھتے۳۲ سال کی قلیل م...

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی شاعرِ ہدیٰ سیف علی شاہ عدمؔ صاحب قبلہ جامعہ دارالہدی اسلامیہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  طالب علم و ہنر کا آسرا دارالہدی  کس قدر ہے خوبصورت خوشنما دارالہدی  ان شاء اللہ عام ہو جائیگا علم دوجہاں  اب یون ہی بنتا رہیگا ہر جگہ دارالہدی جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ ایک ممتاز تعلیمی ادارہ اورعظیم الشان تربیتی گہوارہ ہے جو دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی، روحانی، اور اخلاقی رہنمائی کے مقصد سے عمل میں آیا۔ یہاں کے نصاب میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، اور اسلامی تاریخ کے ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ دنیاوی اور دینی دونوں میدانوں میں کامیاب ہو سکیں۔ جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا ماحول طلبہ کے کردار کی تعمیر اور ان کے اندر اسلامی اقدار کے فروغ پر مرکوز ہے۔ یہاں اساتذہ کا انتخاب نہایت محتاط انداز میں کیا جاتا ہے تاکہ وہ علم کے ساتھ تربیت کا بہترین نمونہ پیش کریں۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور...