نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دسمبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نیا سال، نیا عزم: زندگی کے مقصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے!

  نیا سال، نیا عزم: زندگی کے مقصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے!        وقت زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، جسے اگر ضائع کیا جائے تو کبھی واپس نہیں لایا جا سکتا۔ انسان کی زندگی وقت کی ایک ایسی لڑی ہے، جو لمحہ بہ لمحہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتی ہے۔ ہر گزرتا ہوا لمحہ یہ سوال چھوڑتا ہے کہ کیا ہم نے اسے اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کے مطابق گزارا؟ سال کا اختتام اور نئے سال کا آغاز ہمیں ایک نایاب موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالیں، اپنی زندگی کے اصول و مقاصد کو دوبارہ ترتیب دیں، اور ایک نئی راہ پر گامزن ہوں۔  آج کا انسان دنیاوی مصروفیات، مادی چمک دمک، اور عارضی خوشیوں میں اتنا محو ہو چکا ہے کہ وقت کی اصل قیمت کو بھول بیٹھا ہے۔ یہ غفلت صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی زندگی پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ سال نو کی تقریبات کے شور و غل میں، ہمیں ایک لمحہ رک کر یہ سوچنا چاہیے کہ کیا یہ سرگرمیاں ہماری دینی تعلیمات اور روحانی اقدار سے مطابقت رکھتی ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگی کو اس طرح گزار رہے ہیں، جس طرح ایک مسلمان کے شایان شان ہے؟ ...

ہو علم تو پھر کیا نہیں امکاں میں تمہارے!

ہو علم تو پھر کیا نہیں امکاں میں تمہارے! علم کی فضیلت اور اہمیت کے بارے میں اسلام نے جو اعلیٰ اور جامع تعلیمات دی ہیں، وہ دنیا کے کسی دوسرے مذہب یا فلسفے میں اس طرح نظر نہیں آتیں۔ دین اسلام نے تعلیم و تربیت اور درس و تدریس کو اپنی بنیادوں کا حصہ بنایا ہے۔ یہ اس دین کا لازمی جزو ہے، جس نے انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لایا۔قرآن مجید کے تقریباً اٹھتر ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو رب العالمین نے نبی اکرم ﷺ کے قلبِ مبارک پر نازل فرمایا، وہ تھا ''اقرأ'' یعنی ''پڑھ''۔ یہی علم کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کرنے کا اولین اشارہ تھا۔ مزید یہ کہ قرآن کی پہلی پانچ آیات جو وحی کی صورت میں نازل ہوئیں، وہ بھی قلم اور علم کی عظمت کو بیان کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”اقرأ وربک الأکرم، الذی علّم بالقلم، علّم الإنسان ما لم یعلم“۔ ترجمہ:”پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑاکریم ہے،جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا“۔(ترجمہ کنز الایمان) اسلام نے ابت...

کیا موہن بھاگوت صاحب کا بیان حقیقت پر مبنی ہے؟

         کیا موہن بھاگوت صاحب کا بیان حقیقت پر مبنی ہے؟  سب سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہو نا چاہیے کہ آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) ایک ہندوستانی ہندو قوم پرست تنظیم ہے جو 1925 میں قائم کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ہندو معاشرے کو مضبوط بنانا، ہندو ثقافت کا فروغ اور ہندوستان کو ایک مکمل ہندو ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات اور سرگرمیاں اکثر تنازعات کا شکار رہی ہیں، خاص طور پر اقلیتوں اور سیکولر حلقوں کے حوالے سے۔ آر ایس ایس ایک رضاکارانہ تنظیم ہے جس کے ارکان شاکھاؤں (مقامی یونٹوں) میں جمع ہوتے ہیں۔ ان شاکھاؤں میں جسمانی مشقیں، نظریاتی تربیت، اور سماجی خدمات کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہے، جو بھارت کی موجودہ حکمراں جماعت ہے۔ یہ تنظیم اپنے آپ کو ثقافتی تنظیم قرار دیتی ہے، لیکن اس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے اقدامات مذہبی تعصب اور اقلیتوں کے خلاف ہیں۔ ناقدین کے مطابق، آر ایس ایس کے خیالات بھارت کی سیکولر شناخت کے لیے خطرہ ہیں۔ تاہم، اس کے حامی اسے ہندو سماج کی تنظیم اور اتحاد کے لیے ضرو...

ڈاکٹر من موہن سنگھ: ایک کمزور وزیر اعظم یا مضبوط رہنما؟

  ڈاکٹر من موہن سنگھ: ایک کمزور وزیر اعظم یا مضبوط رہنما؟  ڈاکٹر من موہن سنگھ، جنہیں عالمی سطح پر ایک ذہین ماہر معاشیات اور ہندوستان کے انتہائی قابل سیاست دان کے طور پر جانا جاتا ہے، اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کی خاموشی سے پہلے کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے، جسے امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے یوں بیان کیا تھا: "جب ڈاکٹر من موہن سنگھ بولتے ہیں، دنیا سنتی ہے۔" ان کے انتقال کے ساتھ ہی ہندوستان نے اپنے ایک عظیم سپوت کو کھو دیا، جو نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں اپنی قابلیت اور دیانت داری کے لئے تسلیم کیے جاتے تھے۔ وزیر خزانہ کے طور پر انہوں نے 1991 میں ہندوستان کو ایک بڑی اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے اصلاحات کا ایک تاریخی دور شروع کیا، جو آج بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کے طور پر ان کا دور ہندوستان کی ترقی کی ایک نئی تاریخ کا گواہ ہے۔ چاہے نیوکلیئر معاہدہ ہو یا انفراسٹرکچر کی ترقی، ان کی پالیسیوں نے ہندوستان کو ایک مضبوط معیشت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حالیہ برسوں میں وہ کبر سنی اور بیماریوں کی وجہ سے سیاسی میدان سے دور تھے، لیکن ان کے اقدامات کی گون...

پارلیمنٹ عوام کے مسائل حل کرنے کا پلیٹ فارم ہے یا ذاتی مفادات کی جنگ کا اکھاڑہ؟

 پارلیمنٹ عوام کے مسائل حل کرنے کا پلیٹ فارم ہے یا ذاتی مفادات کی جنگ کا اکھاڑہ؟ پارلیمنٹ کسی بھی جمہوری نظامِ حکومت کا ایک اہم ستون ہے۔ یہ عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ادارہ ہے جو قانون سازی، پالیسی سازی اور حکومت کی نگرانی جیسے اہم فرائض انجام دیتا ہے۔ پارلیمنٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی نمائندہ حیثیت ہے، کیونکہ یہ مختلف طبقات، مذاہب اور علاقوں کے افراد کی آواز کو حکومت تک پہنچاتی ہے۔پارلیمنٹ کا بنیادی کام قوانین بنانا اور حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔ یہ ایک ایسا فورم فراہم کرتی ہے جہاں عوامی مسائل پر بحث ہوتی ہے اور ان کے حل کے لیے پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ پارلیمنٹ کے ذریعے ہی بجٹ کی منظوری ہوتی ہے، جس کے تحت ملک کے وسائل کو منظم کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی مضبوطی میں پارلیمنٹ کا کردار کلیدی ہوتا ہے، کیونکہ یہ حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ طاقت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام فراہم کرتی ہے۔ پارلیمنٹ کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ اقلیتوں کے حقوق، آزادی اظہار، اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ یوں، پ...