نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

کلثوم بانو! تیری جرأتِ ایمانی کو سلام

کلثوم بانو! تیری جرأتِ ایمانی کو سلام یہ زمانہ عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سائنس و ٹیکنالوجی کی چکاچوند، جدید تعلیم کی دوڑ، مادّی ترقی کی اندھی خواہش اور دنیاوی کامیابیوں کا شور ہے، تو دوسری طرف دینی اقدار، حیا، عفت اور اسلامی تشخص پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ آج بہت سے لوگ معمولی دنیاوی مفاد کے لیے اپنے اصولوں، اپنی تہذیب اور یہاں تک کہ اپنے دین تک کا سودا کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ایسے پُرفتن ماحول میں جب بے پردگی کو آزادی، حیا کو پسماندگی اور دینی احکام پر عمل کو قدامت پسندی سمجھا جانے لگا ہے، ایک مسلمان کے لیے اپنے ایمان اور اسلامی شناخت پر ثابت قدم رہنا یقیناً کسی جہاد سے کم نہیں۔ خصوصاً مسلمان خواتین کے لیے حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل، حیا و عفت کی حفاظت اور اسلامی تشخص کا روشن عنوان ہے۔ یہ وہ تاجِ عزت ہے جس نے صدیوں سے مسلمان عورت کو وقار، احترام اور انفرادیت عطا کی ہے۔ مگر افسوس کہ آج بعض حلقوں کی جانب سے حجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مسلم خواتین کو مختلف طریقوں سے اس سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں جب کوئی مسلمان...
حالیہ پوسٹس

اگر یہی گستاخی کسی مسلمان نے کسی دھرم گرو کے بارے میں کی ہوتی تو کیا ہوتا؟

اگر یہی گستاخی کسی مسلمان نے کسی دھرم گرو کے بارے میں کی ہوتی تو کیا ہوتا؟ ہندوستان ایک جمہوری، سیکولر اور کثیر مذہبی ملک ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے آباد ہیں۔ آئینِ ہند ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے اور اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ ہر شخص اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کی بنیاد باہمی احترام، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی پر قائم ہے۔ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے مذہب کے مقدس پیشواؤں، مذہبی شخصیات، دیوی دیوتاؤں یا مذہبی علامات کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کریں۔ نہ یہ آئینِ ہند کی روح کے مطابق ہے، نہ اخلاقیات اس کی اجازت دیتی ہیں اور نہ ہی انسانیت کا تقاضا یہی ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں ہر شخص کو اپنے مذہب سے محبت کا حق ہے، لیکن کسی دوسرے کے مذہب یا مقدس شخصیات کی توہین کا حق ہرگز حاصل نہیں۔ مگر کچھ سالوں سے، تقریبا دس پندرہ سالوں سے جب سے بی جے پی کی سرکار ہندوستان میں آئی ہے تب سے مسلمانوں کے خلاف ایک مہم چھیڑ دی گئی ہے کہ مسلمانوں کے گرو کے بارے میں یعنی مسلمانوں کے...

آخر ہر چند روز بعد ایک نئی مسجد ہی کیوں؟

آخر ہر چند روز بعد ایک نئی مسجد ہی کیوں؟ بعض اوقات حالات انسان کو ایسے سوالات کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں جو صرف عقل و شعور کی حد تک محدود نہیں رہتے بلکہ دل و دماغ کی گہرائیوں کو بھی جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ سوالات ہوتے ہیں جو کسی ایک فرد کی سوچ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے اندر پائی جانے والی بے چینی، فکر اور اضطراب کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج کے اس دور میں بھی ایک ایسا ہی سوال بار بار ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ آخر ہر چند روز بعد ایک نئی مسجد ہی کیوں تنازعات کا مرکز بن جاتی ہے؟ آخر کیوں وقفے وقفے سے کسی نہ کسی مسجد کے بارے میں نئے دعوے، نئی بحثیں اور نئے اختلافات سامنے آجاتے ہیں؟ اور آخر کیوں یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا؟ یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہم اور حساس بن جاتا ہے کہ مسجد محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت گاہ ہے، جو مسلمانوں کے ایمان، عقیدے، تہذیب، ثقافت اور روحانی زندگی کا مرکز ہوتی ہے۔ مسجد سے مسلمان کا تعلق صرف نماز تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کی پوری دینی تربیت، اخلاقی پرورش اور روحانی سکون کا مرکز بھی یہی جگہ ہوتی ہے۔ اسی لیے جب کسی مسجد کو تنازع کا موضوع بنایا جا...

عصرِ حاضر میں دینی و عصری علوم کا امتزاج: ملتِ اسلامیہ کی ناگزیر ضرورت

عصرِ حاضر میں دینی و عصری علوم کا امتزاج: ملتِ اسلامیہ کی ناگزیر ضرورت       علم کسی بھی قوم کی ترقی، بقا اور سربلندی کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم کو اپنا شعار بنایا، انہوں نے دنیا کی قیادت کی، اور جنہوں نے علم سے دوری اختیار کی، وہ زوال اور پسماندگی کا شکار ہو گئیں۔ اسلام نے بھی سب سے پہلے علم ہی کی دعوت دی اور قرآن کریم کی پہلی وحی "اقرأ" کے ذریعے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ علم ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اسلام کا تصورِ علم صرف عبادات اور دینی مسائل تک محدود نہیں بلکہ وہ انسان کی دنیاوی اور اخروی کامیابی کے لیے ہر اس علم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو انسان اور معاشرے کے لیے نفع بخش ہو۔ اسی لیے اسلام میں علومِ شرعیہ کے ساتھ ساتھ علومِ عقلیہ اور عصری علوم کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ موجودہ دور میں جبکہ دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، سیاست اور ابلاغ کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، مسلمانوں کے لیے یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ دینی اور عصری دونوں علوم سے خود کو آراستہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دینی اور عصری علوم کو ایک ہی پلیٹ...

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار      انسانی معاشرہ مختلف رسوم و روایات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ بعض رسمیں ایسی ہوتی ہیں جو معاشرے کی تعمیر، خوش حالی اور استحکام کا ذریعہ بنتی ہیں، جبکہ بعض رسمیں ایسی بھی جنم لیتی ہیں جو رفتہ رفتہ پورے سماج کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں۔ برصغیر کے مسلم معاشرے میں جہیز کی رسم انہی مہلک معاشرتی بیماریوں میں سے ایک ہے جس نے بے شمار خاندانوں کی خوشیوں کو نگل لیا، والدین کی کمروں کو قرضوں کے بوجھ سے جھکا دیا اور شادی جیسے مقدس اسلامی رشتے کو ایک تجارتی معاملے میں تبدیل کر دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس رسم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ آج بعض مسلمانوں کے نزدیک معاشرتی وقار اور عزت کا معیار بن چکی ہے۔      جہیز دراصل اس سامان کو کہا جاتا ہے جو لڑکی کے والدین شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو دیتے ہیں، لیکن موجودہ دور میں اس کا مفہوم یکسر بدل چکا ہے۔ اب یہ محبت اور تعاون کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسی معاشرتی مجبوری بن چکی ہے جس کے بغیر اکثر رشتے طے نہیں ہوتے۔ کہیں نقد رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے، کہیں گاڑی کی فرمائش ہوتی ہ...

محرم الحرام: آغازِ سال، احتسابِ نفس اور ہماری ذمہ داریاں

محرم الحرام: آغازِ سال، احتسابِ نفس اور ہماری ذمہ داریاں      اسلامی سال کا آغاز محض ایک نئی تاریخ کا آغاز نہیں بلکہ ایک نئے شعور، نئی فکر اور نئی ذمہ داری کا اعلان ہے۔ دنیا کے کیلنڈر بدلنے سے صرف دن اور مہینے تبدیل ہوتے ہیں، لیکن ہجری سال کا آغاز ایک مسلمان کو اس کی تاریخ، اس کے عقیدے، اس کی تہذیب اور اس کے دینی فرائض کی یاد دلاتا ہے۔ ماہِ محرم ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وقت گزر رہا ہے، عمریں کم ہو رہی ہیں اور ہم اپنے انجام کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم رک کر اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں اور آئندہ زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق ڈھالنے کا عزم کریں۔      ہجری سال کی بنیاد تاریخ کے ایک عظیم ترین واقعے یعنی ہجرتِ نبوی ﷺ پر رکھی گئی۔ یہ محض ایک جغرافیائی سفر نہیں تھا بلکہ حق کے لیے قربانی، دین کی خاطر مشکلات برداشت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کا عملی نمونہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سال کا آغاز مسلمانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ اگر دین اور دنیا میں کوئی ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو ایک مؤمن کو ہمیشہ دین ک...

مولانا مبارک حسین مصباحی کی علمی، فکری اور نثری خدمات: ایک تحقیقی مطالعہ

مولانا مبارک حسین مصباحی کی علمی، فکری اور نثری خدمات: ایک تحقیقی مطالعہ مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری خدمات کا مطالعہ دراصل اردو ادب، اسلامی صحافت اور معاصر علمی و فکری تحریکات کے ایک اہم باب کا مطالعہ ہے۔ برصغیر کی علمی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی تدریسی، تحقیقی، تصنیفی اور قلمی صلاحیتوں کے ذریعے اپنے عہد کی فکری ترجمانی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ مولانا مبارک حسین مصباحی انہی ممتاز اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، تحقیقی ذوق اور دل نشیں اسلوبِ نگارش کے ذریعے دینی و ملی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کا تعلق الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی اس عظیم علمی روایت سے ہے جس نے برصغیر میں علمِ دین، دعوت و تبلیغ اور فکری رہنمائی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ مولانا مبارک حسین مصباحی کی شخصیت ہمہ جہت علمی، فکری اور ادبی خدمات کی آئینہ دار ہے۔ اگرچہ آپ نے تدریس، افتا، تحقیق، صحافت اور تصنیف کے مختلف میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا، تاہم علمی صحافت اور فکری رہنمائی کے شعبے میں آپ کی خدمات کو خاص امتیاز حاصل ہے۔ آپ نے طویل عرصے تک ماہنامہ...