آخر ہر چند روز بعد ایک نئی مسجد ہی کیوں؟ بعض اوقات حالات انسان کو ایسے سوالات کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں جو صرف عقل و شعور کی حد تک محدود نہیں رہتے بلکہ دل و دماغ کی گہرائیوں کو بھی جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ سوالات ہوتے ہیں جو کسی ایک فرد کی سوچ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے اندر پائی جانے والی بے چینی، فکر اور اضطراب کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج کے اس دور میں بھی ایک ایسا ہی سوال بار بار ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ آخر ہر چند روز بعد ایک نئی مسجد ہی کیوں تنازعات کا مرکز بن جاتی ہے؟ آخر کیوں وقفے وقفے سے کسی نہ کسی مسجد کے بارے میں نئے دعوے، نئی بحثیں اور نئے اختلافات سامنے آجاتے ہیں؟ اور آخر کیوں یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا؟ یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہم اور حساس بن جاتا ہے کہ مسجد محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت گاہ ہے، جو مسلمانوں کے ایمان، عقیدے، تہذیب، ثقافت اور روحانی زندگی کا مرکز ہوتی ہے۔ مسجد سے مسلمان کا تعلق صرف نماز تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کی پوری دینی تربیت، اخلاقی پرورش اور روحانی سکون کا مرکز بھی یہی جگہ ہوتی ہے۔ اسی لیے جب کسی مسجد کو تنازع کا موضوع بنایا جا...
عصرِ حاضر میں دینی و عصری علوم کا امتزاج: ملتِ اسلامیہ کی ناگزیر ضرورت علم کسی بھی قوم کی ترقی، بقا اور سربلندی کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم کو اپنا شعار بنایا، انہوں نے دنیا کی قیادت کی، اور جنہوں نے علم سے دوری اختیار کی، وہ زوال اور پسماندگی کا شکار ہو گئیں۔ اسلام نے بھی سب سے پہلے علم ہی کی دعوت دی اور قرآن کریم کی پہلی وحی "اقرأ" کے ذریعے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ علم ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اسلام کا تصورِ علم صرف عبادات اور دینی مسائل تک محدود نہیں بلکہ وہ انسان کی دنیاوی اور اخروی کامیابی کے لیے ہر اس علم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو انسان اور معاشرے کے لیے نفع بخش ہو۔ اسی لیے اسلام میں علومِ شرعیہ کے ساتھ ساتھ علومِ عقلیہ اور عصری علوم کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ موجودہ دور میں جبکہ دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، سیاست اور ابلاغ کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، مسلمانوں کے لیے یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ دینی اور عصری دونوں علوم سے خود کو آراستہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دینی اور عصری علوم کو ایک ہی پلیٹ...