نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گر کر سنبھلنا ہی اصل زندگی ہے!

گر کر سنبھلنا ہی اصل زندگی ہے! 
زندگی ایک خاموش کتاب کی مانند ہے جس کے ہر صفحے پر انسان کے لیے کوئی نہ کوئی سبق لکھا ہوا ہوتا ہے۔ کبھی یہ کتاب خوشیوں کے رنگوں سے بھر جاتی ہے، کبھی غم کی سیاہی اس کے اوراق کو دھندلا دیتی ہے، اور کبھی آزمائشوں کی گرد انسان کے چہرے پر ایسی تھکن چھوڑ جاتی ہے کہ وہ خود کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کے دل میں بے شمار خواب، امیدیں اور تمنائیں جنم لیتی ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ زندگی ایک خوبصورت راستہ ہے جہاں ہر طرف آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی، مگر وقت کے ساتھ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راستہ ہموار نہیں بلکہ پتھروں، کانٹوں اور ٹھوکروں سے بھرا ہوا ہے۔ انسان جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی زیادہ اسے زندگی کی حقیقتوں کا احساس ہونے لگتا ہے۔
ٹھوکریں بظاہر انسان کو گراتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہی ٹھوکریں انسان کو سنبھلنا سکھاتی ہیں۔ اگر زندگی میں مشکلات نہ ہوں، ناکامیاں نہ ہوں، اور دل ٹوٹنے کے لمحے نہ آئیں تو شاید انسان کبھی مضبوط نہ بن سکے۔ ہر ٹھوکر انسان کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتی ہے۔ کبھی یہ انسان کو اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتی ہے، کبھی صبر کی طاقت سکھاتی ہے، اور کبھی اسے یہ باور کراتی ہے کہ زندگی صرف خواہشات کے پورا ہونے کا نام نہیں بلکہ آزمائشوں سے گزرنے کا بھی نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ زندگی کی سختیوں سے گزر کر آگے بڑھتے ہیں، ان کے چہروں پر ایک الگ قسم کی سنجیدگی، برداشت اور سمجھداری نظر آتی ہے۔ وہ جان لیتے ہیں کہ گرنا زندگی کا اختتام نہیں بلکہ دوبارہ اٹھنے کی ابتدا ہے۔
انسان کی زندگی کا آغاز ہی ٹھوکروں سے ہوتا ہے۔ بچہ جب پہلی بار چلنے کی کوشش کرتا ہے تو بار بار گرتا ہے۔ کبھی زمین پر منہ کے بل گرتا ہے، کبھی دیوار سے ٹکرا جاتا ہے، اور کبھی قدم لڑکھڑا جاتے ہیں، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ ہر بار دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے دل میں نہ خوف ہوتا ہے اور نہ مایوسی۔ یہی معصوم حوصلہ دراصل انسان کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ اگر بچہ گرنے سے ڈر جاتا تو شاید کبھی چلنا نہ سیکھ پاتا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ انسان بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس کے خوف بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ بچپن میں جسم پر لگنے والی چوٹ چند لمحوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن جوانی میں دل پر لگنے والی ٹھوکریں برسوں تک انسان کے اندر زندہ رہتی ہیں۔
جوانی انسان کی زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جہاں خواب سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور حقیقتیں سب سے زیادہ تلخ محسوس ہوتی ہیں۔ نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں بڑے بڑے منصوبے بناتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دنیا اس کے قدموں میں ہوگی، ہر خواہش آسانی سے پوری ہو جائے گی، اور ہر راستہ اس کے لیے کھلتا چلا جائے گا۔ لیکن جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ہر چیز اتنی آسان نہیں۔ کبھی حالات اس کے خلاف ہو جاتے ہیں، کبھی لوگ اس کی امیدیں توڑ دیتے ہیں، اور کبھی قسمت اسے ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے۔ مگر یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں انسان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ ان ٹھوکروں کے باوجود ہمت نہیں ہارتے، وہی آخرکار زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ طالبِ علم کی زندگی دراصل مسلسل جدوجہد، خوابوں اور آزمائشوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ہر طالبِ علم اپنے دل میں کامیابی کی خواہش لے کر تعلیمی سفر شروع کرتا ہے۔ ابتدا میں انسان بڑے شوق اور جذبے کے ساتھ کتابیں کھولتا ہے، منصوبے بناتا ہے، اور خود سے وعدے کرتا ہے کہ اس بار پوری محنت کرے گا۔ مگر وقت کے ساتھ سستی، غفلت اور لاپرواہی انسان کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیتی ہے۔ دن گزرتے رہتے ہیں، مہینے بیت جاتے ہیں، اور انسان خود کو یہ تسلی دیتا رہتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔ پھر اچانک امتحانات قریب آ جاتے ہیں اور انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وقت اس کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل چکا ہے۔
امتحان کی راتیں طالبِ علم کی زندگی کی سب سے عجیب راتیں ہوتی ہیں۔ ہر طرف کتابیں پھیلی ہوتی ہیں، چائے اور کافی کے کپ میز پر رکھے ہوتے ہیں، اور آنکھوں میں نیند کے باوجود دل میں خوف جاگ رہا ہوتا ہے۔ انسان پوری رات جاگ کر تیاری کرتا ہے، دعائیں مانگتا ہے اور خود کو تسلی دیتا ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر جب امتحان ہال میں سوالات سامنے آتے ہیں تو بعض اوقات انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی اور ہی دنیا کے سوالات ہوں۔ اس لمحے انسان اپنی تیاری سے زیادہ اپنی قسمت پر حیران ہوتا ہے۔ لیکن یہی ناکامیاں اور یہی پریشانیاں انسان کو محنت کی اصل اہمیت سمجھاتی ہیں۔ یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو انسان کو سکھاتے ہیں کہ کامیابی صرف خواہشات سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، نظم و ضبط اور قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔
آپ ہمیشہ یاد رکھیں کہ زندگی میں سب سے گہری ٹھوکریں وہ ہوتی ہیں جو انسان کو جذبات اور محبت کے میدان میں لگتی ہیں۔ محبت ایک ایسا احساس ہے جو انسان کے دل میں خاموشی سے جنم لیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس کی پوری دنیا پر چھا جاتا ہے۔ بعض لوگ کسی کی ایک مسکراہٹ، ایک میٹھی بات یا ایک معمولی توجہ کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ وہ اپنے دل میں خوابوں کی ایک نئی دنیا آباد کر لیتے ہیں۔ ان کے خیالوں میں ایک حسین مستقبل بنتا رہتا ہے، اور وہ ہر لمحہ انہی امیدوں کے سہارے جیتے ہیں۔ مگر زندگی ہمیشہ انسان کے خوابوں کے مطابق نہیں چلتی۔ بعض اوقات حقیقت اتنی تلخ ہوتی ہے کہ انسان کے سارے خواب ایک لمحے میں بکھر جاتے ہیں۔
جب محبت میں انسان کو ٹھوکر لگتی ہے تو وہ صرف ایک رشتے کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ انسان کے اندر موجود معصوم یقین بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ باہر سے وہ خود کو مضبوط ظاہر کرتا ہے، دوستوں کے سامنے مسکرا کر فلسفیانہ باتیں کرتا ہے، مگر اندر ہی اندر اس کا دل زخمی ہوتا ہے۔ وہ راتوں کو خاموشی سے ماضی کو یاد کرتا ہے، خود سے سوال کرتا ہے، اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر غلطی کہاں ہوئی۔ لیکن یہی درد انسان کو بالغ نظری عطا کرتا ہے۔ یہی تجربات اسے یہ سکھاتے ہیں کہ محبت صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں بلکہ حقیقت کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی مانگتی ہے۔ انسان جب ان جذباتی ٹھوکروں سے گزر جاتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی سنجیدگی پیدا ہو جاتی ہے، اور وہ زندگی کو پہلے سے زیادہ گہرائی سے سمجھنے لگتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی کی ٹھوکریں انسان کی شکست نہیں بلکہ اس کی تربیت ہوتی ہیں۔ ہر ناکامی انسان کے اندر ایک نئی سوچ پیدا کرتی ہے۔ جب انسان بار بار غلط فیصلوں کا نقصان اٹھاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ سمجھدار ہوتا جاتا ہے۔ آسانیاں انسان کو آرام طلب بنا دیتی ہیں، لیکن مشکلات اس کے اندر برداشت، ہمت اور صبر پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ زندگی میں بہت زیادہ آزمائشوں سے گزرتے ہیں، وہ دوسروں کے درد کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔ ان کے اندر غرور کم اور عاجزی زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی ایک لمحے میں انسان کو زمین پر لا سکتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ انسان کو اپنی پرانی ناکامیوں پر حیرت بھی ہوتی ہے اور ہنسی بھی آتی ہے۔ جن باتوں پر کبھی وہ شدید غمگین ہوتا تھا، بعد میں وہی باتیں اس کی زندگی کا سب سے بڑا سبق بن جاتی ہیں۔ انسان سمجھ جاتا ہے کہ ہر دکھ عارضی ہے، ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے، اور ہر ٹھوکر کے بعد سنبھلنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو کبھی نہیں گرے، بلکہ کامیاب وہ ہوتے ہیں جو ہر بار گرنے کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی لوگ زندگی کے اصل مسافر ہوتے ہیں۔
الغرض! اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کی شخصیت کی اصل تعمیر انہی مشکلات، ناکامیوں اور ٹھوکروں نے کی ہے جن سے وہ کبھی خوفزدہ ہوا کرتا تھا۔ زندگی کی آزمائشیں بظاہر تکلیف دہ محسوس ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں یہی انسان کو مضبوط بناتی ہیں۔ جو لوگ ہر مشکل کے بعد ہمت ہار دیتے ہیں، وہ راستے میں ہی رک جاتے ہیں، لیکن جو لوگ ہر ٹھوکر کے بعد اپنے کپڑے جھاڑ کر دوبارہ چلنا شروع کر دیتے ہیں، منزل آخرکار انہی کے قدم چومتی ہے۔
اس لیے اگر زندگی میں بار بار ناکامی مل رہی ہو، لوگ ساتھ چھوڑ رہے ہوں، خواب ٹوٹ رہے ہوں یا قسمت ہر موڑ پر آزمائش دے رہی ہو تو مایوس ہونے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ شاید زندگی ہمیں کچھ بڑا سکھانا چاہتی ہے۔ کیونکہ زندگی کی اصل خوبصورتی اسی میں ہے کہ انسان گرنے کے باوجود دوبارہ اٹھے، آنسوؤں کے باوجود مسکرائے، اور ہر مشکل کے بعد نئے حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔ یہی حوصلہ انسان کو عظیم بناتا ہے اور یہی ٹھوکریں آخرکار اس کی کامیابی کی بنیاد بنتی ہیں۔

تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری 
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی شاعرِ ہدیٰ سیف علی شاہ عدمؔ صاحب قبلہ جامعہ دارالہدی اسلامیہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  طالب علم و ہنر کا آسرا دارالہدی  کس قدر ہے خوبصورت خوشنما دارالہدی  ان شاء اللہ عام ہو جائیگا علم دوجہاں  اب یون ہی بنتا رہیگا ہر جگہ دارالہدی جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ ایک ممتاز تعلیمی ادارہ اورعظیم الشان تربیتی گہوارہ ہے جو دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی، روحانی، اور اخلاقی رہنمائی کے مقصد سے عمل میں آیا۔ یہاں کے نصاب میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، اور اسلامی تاریخ کے ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ دنیاوی اور دینی دونوں میدانوں میں کامیاب ہو سکیں۔ جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا ماحول طلبہ کے کردار کی تعمیر اور ان کے اندر اسلامی اقدار کے فروغ پر مرکوز ہے۔ یہاں اساتذہ کا انتخاب نہایت محتاط انداز میں کیا جاتا ہے تاکہ وہ علم کے ساتھ تربیت کا بہترین نمونہ پیش کریں۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور...

حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں...

  حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں!   تذکرہ مصطفی کا کرتے ہیں سب فدایانِ حافظ ملت نعت کی شکل میں زباں پر ہے خوب ا حسانِ حافظ ملت             جلالۃ العلم،استاذ العلما حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بافیص مدرس،خدارسیدہ بزرگ،کامیاب مصلح ومبلغ اور ہزاروں کی تعداد میں علما وفقہا کی جماعت تیار کرنے والے اس مرد قلندر کو دنیائے اہل سنت بہت قریب سے جانتی ہے۔ آپ کی حیات و خدمات نے پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کے خوابوں کی حسین تعبیر جامعہ اشرفیہ مباک پور آج پوری دنیا حافظ ملت کا دینی وعلمی اور روحانی فیضان تقسیم کر رہا ہے۔ مصباحی برادران ملک اور بیرون ملک دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دے کر فرمانِ حافظ ملت ”زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام“ کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،آمین۔ تو آئیے ہم حضور حافظ ملت کی ہمہ جہت شخصیت کو اقوالِ ائمہ کی ...

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نبی مکرم، رسول معظم، سرکار اعظم، رحمت عالم سرکار مدینہ ﷺکے اخلاق و عادات کے مظہر کامل ہیں اسی لئے اولیاء کرام اور علمائے عظام نے آپ کی بارگاہ غوثیت میں نذر عقیدت پیش کیا اور آپ کی عظیم شان و عظمت کو یوں بیان کیا ہے کہ میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ ہر غم زدہ اور پریشان حال کی دستگیری فرماتے، ضعیفوں میں بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے، سلام میں پہل کرتے، لوگوں کی خطاؤں اور کوتاہیوں کو درگزر فرماتے، جو کوئی بھی آپ کی ذراسی خدمت کرتا نذرونیاز، ہدیہ تحفہ پیش کرتے اس کی قدر کرتے۔ جود وسخا کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی مجلس میں بعض اوقات چار سو حاضرین کو ولایت کے مقام تک پہنچا دیتے، آپ انتہائی رحیم اور کریم النفس تھے۔ شجاعت ایسی کہ خلیفہ وقت کو منبر پر بیٹھے للکار کر خلاف شرع امور سے روکتے، صدق وصفا میں کمال درجہ رکھتے تھے۔ امانت کے پاسباں، انصاف و عدل کے پیکر عفوو عطا فرمانے والے، علم و حیا میں بے مثل و بے مثال، مروت...