جہیز: ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار
انسانی معاشرہ مختلف رسوم و روایات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ بعض رسمیں ایسی ہوتی ہیں جو معاشرے کی تعمیر، خوش حالی اور استحکام کا ذریعہ بنتی ہیں، جبکہ بعض رسمیں ایسی بھی جنم لیتی ہیں جو رفتہ رفتہ پورے سماج کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں۔ برصغیر کے مسلم معاشرے میں جہیز کی رسم انہی مہلک معاشرتی بیماریوں میں سے ایک ہے جس نے بے شمار خاندانوں کی خوشیوں کو نگل لیا، والدین کی کمروں کو قرضوں کے بوجھ سے جھکا دیا اور شادی جیسے مقدس اسلامی رشتے کو ایک تجارتی معاملے میں تبدیل کر دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس رسم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ آج بعض مسلمانوں کے نزدیک معاشرتی وقار اور عزت کا معیار بن چکی ہے۔
جہیز دراصل اس سامان کو کہا جاتا ہے جو لڑکی کے والدین شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو دیتے ہیں، لیکن موجودہ دور میں اس کا مفہوم یکسر بدل چکا ہے۔ اب یہ محبت اور تعاون کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسی معاشرتی مجبوری بن چکی ہے جس کے بغیر اکثر رشتے طے نہیں ہوتے۔ کہیں نقد رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے، کہیں گاڑی کی فرمائش ہوتی ہے، کہیں قیمتی فرنیچر اور برقی آلات کی فہرست تھما دی جاتی ہے۔ بظاہر اسے تحفہ کہا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا دباؤ ہے جس کے نیچے غریب اور متوسط طبقہ بری طرح پس جاتا ہے۔
اسلام نے نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ" ترجمہ: "اور تم اپنے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دیا کرو، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔" (القرآن، سورۃ النور: 32، ترجمۂ کنز الایمان، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اس آیت میں نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دی گئی ہے، لیکن آج ہم نے نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ ہزاروں لڑکیاں صرف جہیز کی وجہ سے شادی کی عمر گزر جانے کے باوجود اپنے گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشرتی بگاڑ کو جنم دیتی ہے بلکہ بہت سی اخلاقی اور نفسیاتی خرابیوں کا سبب بھی بنتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً"۔ ترجمہ: "سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔" (مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحہ 145، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ برکت کا تعلق نمود و نمائش اور فضول اخراجات سے نہیں بلکہ سادگی اور اخلاص سے ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں برکت کی جگہ دکھاوا، تفاخر اور مقابلہ بازی نے لے لی ہے۔
جہیز کی رسم کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ معاشرتی نمود و نمائش ہے۔ بعض لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں تاکہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے سامنے اپنی شان و شوکت کا اظہار کر سکیں۔ ایک خاندان جب اس طرح کا غیر ضروری خرچ کرتا ہے تو دوسرے خاندان بھی اسی کی تقلید کرتے ہیں۔ یوں ایک غلط روایت پورے معاشرے میں جڑ پکڑ لیتی ہے۔ اردو کی کہاوت ہے: "دیکھا دیکھی سادھے جوگ، چھوٹے جان سے بڑا روگ۔" حقیقت بھی یہی ہے کہ تقلیدِ باطل نے اس ناسور کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
ہندوستانی مسلم معاشرے میں جہیز کے نتیجے میں بے شمار معاشرتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ غریب والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے سودی قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کئی خاندان اپنی زمینیں اور زیورات فروخت کر دیتے ہیں۔ بعض گھروں میں برسوں کی جمع پونجی صرف ایک دن کی نمائش کی نذر ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود اگر مطالبات پورے نہ ہوں تو لڑکی کو طعنوں، ذلتوں اور بعض اوقات جسمانی و ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔
مزید افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض نوجوان، جو خود کو تعلیم یافتہ اور مہذب سمجھتے ہیں، جہیز کے مطالبات کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں مرد کو لینے والا نہیں بلکہ دینے والا بنایا گیا ہے۔ شریعت نے عورت پر مہر فرض نہیں کیا بلکہ مرد پر مہر لازم کیا ہے۔ اگر اسلام کا مزاج سمجھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام معاشی بوجھ لڑکی کے خاندان پر نہیں بلکہ مرد پر ڈالتا ہے تاکہ عورت عزت اور وقار کے ساتھ ازدواجی زندگی کا آغاز کر سکے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بھی متعدد مقامات پر فضول رسموں اور غیر شرعی معاشرتی بوجھوں کی مذمت فرمائی ہے اور مسلمانوں کو سنت کے مطابق سادہ نکاح اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ اہلِ علم ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ شادی کو آسان بنایا جائے اور ایسی رسوم کا خاتمہ کیا جائے جو شریعت اور عقل دونوں کے خلاف ہوں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بیماری کا علاج کیا ہے؟ سب سے پہلی ذمہ داری نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر نوجوان خود یہ اعلان کر دیں کہ وہ جہیز نہیں لیں گے تو اس مسئلے کا ایک بڑا حصہ خود بخود حل ہو سکتا ہے۔ معاشرے کی تبدیلی ہمیشہ نوجوان نسل سے شروع ہوتی ہے۔ جو نوجوان اپنی تعلیم، دیانت اور کردار پر فخر کرتا ہے، اسے چند سامانِ دنیا کے لیے اپنی عزتِ نفس کا سودا نہیں کرنا چاہیے۔
دوسری ذمہ داری والدین کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کی تربیت اس انداز سے کریں کہ وہ جہیز کو حق نہیں بلکہ ایک معاشرتی برائی سمجھیں۔ اسی طرح بیٹیوں کے والدین کو بھی غیر ضروری مقابلہ بازی سے بچنا چاہیے۔ اگر اپنی خوشی سے کوئی ضروری سامان بیٹی کو دینا چاہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن اسے معاشرتی فریضہ یا عزت کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔
تیسری ذمہ داری علماء، ائمہ اور دینی اداروں کی ہے۔ مساجد کے خطبات، دینی اجتماعات اور اصلاحی پروگراموں میں اس مسئلے کو مستقل موضوع بنایا جانا چاہیے۔ جب تک عوامی شعور بیدار نہیں ہوگا، اس رسم کا خاتمہ مشکل رہے گا۔ علماء کرام کو چاہیے کہ نکاح کے موقع پر جہیز کے خلاف واضح پیغام دیں اور سنت کے مطابق سادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
چوتھی ذمہ داری سماجی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں نوجوانوں کو یہ شعور دیا جائے کہ انسان کی عزت اس کے کردار، علم اور تقویٰ میں ہے، نہ کہ جہیز کے سامان میں۔ ایسے نوجوانوں اور خاندانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو بغیر جہیز کے نکاح کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جہیز صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک ذہنی بیماری ہے۔ جب تک ذہن تبدیل نہیں ہوں گے، قوانین اور نعروں سے مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں سے اس اصلاح کا آغاز کریں۔ اگر ہر مسلمان یہ عہد کر لے کہ نہ جہیز لے گا، نہ اس کا مطالبہ کرے گا اور نہ اس رسم کی حوصلہ افزائی کرے گا، تو آنے والی نسلیں اس لعنت سے محفوظ ہو سکتی ہیں۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اسلام کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کریں، نکاح کو آسان بنائیں، سادگی کو اپنائیں اور جہیز جیسی ظالمانہ رسم کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں۔ یہی دینی غیرت کا تقاضا ہے، یہی معاشرتی اصلاح کا راستہ ہے اور یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے ہم اپنی بیٹیوں کے مستقبل کو محفوظ اور اپنے معاشرے کو ایک بڑے ناسور سے نجات دلا سکتے ہیں۔ بقول شاعر:
رسم و رواجِ باطل کو مٹانا ہوگا
ہر گھر کو سنتوں سے سجانا ہوگا
اگر ہم نے آج اس مسئلے کے حل کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو آنے والی نسلیں بھی اسی بوجھ تلے کراہتی رہیں گی، لیکن اگر ہم نے ہمت، بصیرت اور اخلاص کے ساتھ قدم اٹھایا تو یقیناً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں شادی خوشی، محبت اور رحمت کا پیغام ہوگی، تجارت اور مطالبات کا میدان نہیں۔
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں