نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا گیارہ سالہ درخشاں تعلیمی سفر

 جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا گیارہ سالہ درخشاں تعلیمی سفر


مدارسِ اسلامیہ کی بنیادیں تاریخ کے اُن روشن، تابناک اور سنہری اوراق میں پیوست ہیں جو صدیوں قبل اخلاص، للّٰہیت، علم اور روحانیت کی روشنائی سے رقم کیے گئے۔ یہ وہ عظیم الشان ادارے ہیں جنہوں نے ہر دور کے فتنوں اور آزمائشوں کا نہایت حکمت، بصیرت اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف دینِ اسلام کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا بلکہ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر میں بھی ایک کلیدی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ آج کے اس پُرآشوب، پُرفتن اور تغیر پذیر دور میں بھی مدارسِ اسلامیہ اپنی پوری آب و تاب، وقار اور عظمت کے ساتھ قائم ہیں اور ان کی علمی و روحانی شعاعیں چار دانگِ عالم میں پھیل رہی ہیں۔

زیرِ نظر مضمون میں، ان شاء اللہ تعالیٰ، دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی (کیرلا) میں گزرنے والی گیارہ سالہ تعلیمی و تربیتی زندگی کو قدرے تفصیل، خلوصِ نیت اور احساسِ تشکر کے ساتھ قلم بند کرنے کی سعادت حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک ذاتی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کی جھلک ہے جو اپنے دامن میں ہزاروں خوابوں کی تعبیر سمیٹے ہوئے ہے۔ امیدِ واثق ہے کہ قارئین اس تحریر کو محبت و توجہ سے پڑھیں گے اور اس سے علمی و فکری استفادہ حاصل کریں گے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مدارسِ اسلامیہ نے ابتداء ہی سے انسان سازی، کردار سازی اور فکر سازی میں بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ ان اداروں میں تعلیم دینے والے اساتذۂ کرام محض معلّم نہیں ہوتے بلکہ وہ مربّی، مصلح، رہبر اور محسن ہوتے ہیں، جو اپنے شاگردوں کو نہ صرف علم کی روشنی عطا کرتے ہیں بلکہ ان کے دلوں کو اخلاق، ادب اور تقویٰ کی دولت سے بھی مالا مال کرتے ہیں۔ ان کی شبانہ روز محنتیں، بے لوث کاوشیں اور مخلصانہ جدوجہد ہی وہ سرچشمہ ہے جس سے طلبہ کی شخصیت نکھرتی اور سنورتی ہے۔ یہی طلبہ آگے چل کر اپنے اپنے میدان میں امام، خطیب، مفکر، محدث، مصنف، سیاست دان، سائنس دان، پروفیسر، وکیل اور جج بنتے ہیں اور معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ حقیقتاً یہ سب مدارسِ اسلامیہ ہی کا فیضان ہے، اور یہ فیضان ان شاء اللہ رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔

اگر دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کی بات کی جائے تو یہ مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کا ایک عظیم الشان علمی مرکز، ایک درخشاں مینارِ نور اور ایک معتبر و معتمد ادارہ ہے، جو سلفِ صالحین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اور امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی علمی و دینی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس ادارے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو بھی نہایت متوازن انداز میں نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے، تاکہ طلبہ نہ صرف دین کے ماہر بنیں بلکہ زمانے کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ رہیں۔ ہزاروں طلبہ اس جامعہ میں زیرِ تعلیم ہیں اور اس کی متعدد شاخیں ملک کے مختلف علاقوں میں علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔

بڑے فخر، عاجزی اور قلبی مسرت کے ساتھ عرض کررہاہوں کہ اگست 2015 میں میرا داخلہ اس عظیم جامعہ میں ہوا۔ اس وقت میری علمی حالت نہایت ابتدائی تھی،قرآنِ مجید کی تلاوت اور اردو زبان سے کچھ حد تک واقفیت تھی، مگر انگریزی زبان اور اس کے ادب سے تقریباً ناواقف تھا۔ تاہم میرے دل میں ایک سچی تڑپ، ایک پختہ عزم اور ایک بے مثال جذبہ موجود تھا کہ مجھے کچھ سیکھنا ہے، کچھ بننا ہے اور اپنی زندگی کو بامقصد بنانا ہے۔ یہی جذبہ مجھے اس علمی آشیانے تک لے آیا۔ الحمدللہ، پہلے ہی سال میں اردو، عربی اور انگریزی ادب کی بنیادی تعلیم حاصل کی، اور ساتھ ہی ساتھ یہاں کی مقامی زبان ملیالم سیکھنے کا بھی موقع ملا، جو میرے لیے نہایت مفید اور یادگار تجربہ ثابت ہوا۔

ابتدائی پانچ سال میری زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ ہیں۔ یہ وہ دور تھا جس نے میری علمی بنیادوں کو مضبوط کیا، میرے فکر و نظر کو جلا بخشی اور مجھے زبان و بیان کی مہارت سے آراستہ کیا۔ ان برسوں میں میں نے اردو، عربی اور انگریزی جیسی اہم زبانوں میں معقول مہارت حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس، جغرافیہ، سوشل سائنس، پولیٹیکل سائنس، ریاضی، اکنامکس اور انگلش لٹریچر جیسے عصری علوم نے میرے ذہن کو وسعت دی اور دنیا کو سمجھنے کا شعور عطا کیا۔ دوسری طرف دینی علوم فقہ، حدیث، قرآن، عقیدہ، تصوف اور منطق نے میرے اندر دینی بصیرت، فکری استحکام اور اعتقادی پختگی پیدا کی۔ اس کے بعد دو سالہ سینئر سیکنڈری مرحلہ آیا، جو علمی پختگی اور سنجیدگی کا دور تھا۔ اس مرحلے میں حدیث اور فقہ کی ابتدائی معتبر کتب، جیسے مختصر القدوری اور شرح الوقایہ، کا مطالعہ کیا گیا، نیز عقائد کی بنیادی کتابوں سے واقفیت حاصل ہوئی۔ اس مرحلے نے میرے علمی ذوق کو مزید نکھارا اور میرے اندر تحقیق و مطالعہ کا شوق پیدا کیا۔

پھر تین سالہ ڈگری لیول کی زندگی آئی، جو میرے تعلیمی سفر کا ایک نہایت اہم اور یادگار مرحلہ ہے۔ اس دوران میں نے حدیث کی جلیل القدر کتب جیسے سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، سنن ابی داؤ، سنن ترمذی د اور مؤطا امام مالک کا مطالعہ کیا۔ فقہ میں ہدایہ شریف (مصنف: امام مرغینانی) پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ عقیدہ میں شرح العقائد، اور منطق میں مرقاۃ، شرح تہذیب اور مناظرہ رشیدیہ جیسی اہم کتب سے استفادہ کیا۔ اسی دوران اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ کی عظیم تصانیف فتاویٰ رضویہ، رسائل رضویہ اور احکامِ شریعت اور دیگر اکابرینِ اہلِ سنت کی کتب کا مطالعہ کیا، جس نے میرے علمی افق کو وسعت اور گہرائی عطا کی۔

اسی بابرکت تعلیمی سفر کے دوران مجھے جن معزز، مکرم، مشفق اور مایہ ناز اساتذۂ کرام سے علم حاصل کرنے کا شرف نصیب ہوا، ان کے اسمائے گرامی کا ذکر میرے لیے باعثِ فخر و سعادت ہے۔ بالخصوص ڈاکٹر مفتی مستقیم احمد اشرفی فیضی شازلی، مفتی افروز احمد امجدی، مفتی اشرف رضا علیمی، مولانا حسان نواز علیمی،مفتی غلام حسین مصباحی، مفتی منظر رضا منظر مصباحی، عباس ہدوی، زبیر ہدوی، افتخار ہدوی، اویس ہدوی، انیس ہدوی، ربیع ہدوی، ارشاد ہدوی، حسین ہدوی، ابراہیم ہدوی، نعمت اللہ ہدوی، علی حسن ہدوی، عاشق ہدوی، سالم ہدوی، جزیل ہدوی، عبدالشکور ہدوی، شفیق ہدوی، وی ٹی رفیق ہدوی، سی ایچ شریف ہدوی،مصطفی ہدوی، عبید اللہ ہدوی، شرف الدین ہدوی اور ڈاکٹر ہاشم ندوی ان تمام حضرات کی علمی رہنمائی، شفقت اور دعاؤں نے میری شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔

گریجویشن کے بعد جب میں پوسٹ گریجویشن کے مرحلے میں داخل ہوا تو علم کی وسعت اور گہرائی دونوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ بخاری شریف اور مسلم شریف جیسے عظیم ذخیرۂ حدیث کا درس حاصل کیا۔ تفسیر کے میدان میں صراط الجنان، خزائن العرفان، روح البیان، تفسیر بیضاوی اور دیگر کتب کا مطالعہ کیا۔ فقہ میں بدائع الصنائع، الاشباہ والنظائر، رد المحتار، فتاوی رضویہ، فتاوی تاج الشریعہ، فتاوی شارح بخاری، فتاوی مفتی اعظم ہند، فتاوی بحر العلوم اور فتاویٰ عالمگیری جیسی معتبر کتابوں سے استفادہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئینِ ہند (Constitution of India) اور دیگر عصری موضوعات کا مطالعہ بھی کیا، جس سے ایک متوازن، باخبر اور وسیع النظر شخصیت کی تشکیل ممکن ہوئی۔

اگر میں اپنی اس پوری زندگی کا خلاصہ ایک جملے میں بیان کروں تو یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ مدرسہ میرے لیے محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک مکمل حیات ہے ایک ایسی حیات جس نے مجھے جینے کا شعور دیا، مقصدِ حیات سے روشناس کرایا اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی راہیں دکھائیں۔ بلاشبہ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی ایک روشن، درخشاں اور تابندہ ستارے کی مانند ہے، جس کی روشنی سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ فیضیاب ہو رہے ہیں، اور ان شاء اللہ یہ فیض قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔

اللہ تعالیٰ اس عظیم ادارے کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اس کے اساتذہ و طلبہ کو اخلاص، استقامت اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں بھی اسی قافلے کا ایک مخلص خادم بنائے۔ آمین۔







تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی شاعرِ ہدیٰ سیف علی شاہ عدمؔ صاحب قبلہ جامعہ دارالہدی اسلامیہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  طالب علم و ہنر کا آسرا دارالہدی  کس قدر ہے خوبصورت خوشنما دارالہدی  ان شاء اللہ عام ہو جائیگا علم دوجہاں  اب یون ہی بنتا رہیگا ہر جگہ دارالہدی جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ ایک ممتاز تعلیمی ادارہ اورعظیم الشان تربیتی گہوارہ ہے جو دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی، روحانی، اور اخلاقی رہنمائی کے مقصد سے عمل میں آیا۔ یہاں کے نصاب میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، اور اسلامی تاریخ کے ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ دنیاوی اور دینی دونوں میدانوں میں کامیاب ہو سکیں۔ جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا ماحول طلبہ کے کردار کی تعمیر اور ان کے اندر اسلامی اقدار کے فروغ پر مرکوز ہے۔ یہاں اساتذہ کا انتخاب نہایت محتاط انداز میں کیا جاتا ہے تاکہ وہ علم کے ساتھ تربیت کا بہترین نمونہ پیش کریں۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور...

حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں...

  حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں!   تذکرہ مصطفی کا کرتے ہیں سب فدایانِ حافظ ملت نعت کی شکل میں زباں پر ہے خوب ا حسانِ حافظ ملت             جلالۃ العلم،استاذ العلما حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بافیص مدرس،خدارسیدہ بزرگ،کامیاب مصلح ومبلغ اور ہزاروں کی تعداد میں علما وفقہا کی جماعت تیار کرنے والے اس مرد قلندر کو دنیائے اہل سنت بہت قریب سے جانتی ہے۔ آپ کی حیات و خدمات نے پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کے خوابوں کی حسین تعبیر جامعہ اشرفیہ مباک پور آج پوری دنیا حافظ ملت کا دینی وعلمی اور روحانی فیضان تقسیم کر رہا ہے۔ مصباحی برادران ملک اور بیرون ملک دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دے کر فرمانِ حافظ ملت ”زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام“ کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،آمین۔ تو آئیے ہم حضور حافظ ملت کی ہمہ جہت شخصیت کو اقوالِ ائمہ کی ...

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نبی مکرم، رسول معظم، سرکار اعظم، رحمت عالم سرکار مدینہ ﷺکے اخلاق و عادات کے مظہر کامل ہیں اسی لئے اولیاء کرام اور علمائے عظام نے آپ کی بارگاہ غوثیت میں نذر عقیدت پیش کیا اور آپ کی عظیم شان و عظمت کو یوں بیان کیا ہے کہ میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ ہر غم زدہ اور پریشان حال کی دستگیری فرماتے، ضعیفوں میں بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے، سلام میں پہل کرتے، لوگوں کی خطاؤں اور کوتاہیوں کو درگزر فرماتے، جو کوئی بھی آپ کی ذراسی خدمت کرتا نذرونیاز، ہدیہ تحفہ پیش کرتے اس کی قدر کرتے۔ جود وسخا کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی مجلس میں بعض اوقات چار سو حاضرین کو ولایت کے مقام تک پہنچا دیتے، آپ انتہائی رحیم اور کریم النفس تھے۔ شجاعت ایسی کہ خلیفہ وقت کو منبر پر بیٹھے للکار کر خلاف شرع امور سے روکتے، صدق وصفا میں کمال درجہ رکھتے تھے۔ امانت کے پاسباں، انصاف و عدل کے پیکر عفوو عطا فرمانے والے، علم و حیا میں بے مثل و بے مثال، مروت...