نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تم سبھی کچھ ہو، یہ تو بتلاؤ کہ مسلمان بھی ہو؟

 


تم سبھی کچھ ہو، یہ تو بتلاؤ کہ مسلمان بھی ہو؟

        آج امتِ مسلمہ ایک نہایت نازک اور آزمائش بھری گھڑی سے گزر رہی ہے۔ چاروں طرف سے ایسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں جن میں مسلمانوں کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ باطل قوتیں پوری طاقت کے ساتھ عالمِ اسلام کے خلاف صف آرا ہیں، اور یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس دور میں بقا اور عزت کا راستہ صرف اتحاد و اتفاق میں ہی مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآنِ مجید میں بار بار مسلمانوں کو اتحاد اختیار کرنے اور اختلاف و تفرقہ سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ سورۂ آل عمران میں واضح حکم دیا گیا کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ یہ محض ایک نصیحت نہیں بلکہ کامیابی اور سربلندی کا بنیادی اصول ہے۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے باہمی محبت، اخوت اور دلوں کے جوڑ کو اپنی عظیم نعمت قرار دیا، اور یاد دلایا کہ کبھی تم ایک دوسرے کے دشمن تھے مگر اس نے تمہارے دلوں کو جوڑ کر تمہیں بھائی بھائی بنا دیا۔

        مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی سختی سے روکا کہ کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو واضح ہدایات ملنے کے بعد بھی فرقوں میں بٹ گئے اور اختلافات میں پڑ گئے۔ سورۂ انعام میں ایسے لوگوں سے براءت کا اعلان کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑوں میں تقسیم کر لیا اور گروہ در گروہ بن گئے۔ اسی طرح سورۂ الروم میں گروہ بندی اور فرقہ واریت کو مشرکین کا طرزِ عمل قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ لہٰذا موجودہ حالات میں اتحاد اختیار کرنا محض ایک وقتی ضرورت نہیں بلکہ دینی فریضہ اور زندہ قوم کی پہچان ہے۔ اگر ہم نے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ہونے کی کوشش نہ کی تو ہماری کمزوری مزید بڑھتی جائے گی۔ لیکن اگر ہم اخلاص کے ساتھ اتحاد کو اپنائیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں اور مشترکہ مقاصد کے لیے متحد ہو جائیں تو یہی اتحاد ہماری طاقت بن جائے گا اور کامیابی کا دروازہ کھول دے گا۔ اور یہی سبق ہمیں قرآن دیتا ہے کہ نجات، عزت اور کامیابی اتحاد میں ہے، جبکہ تفرقہ صرف زوال اور نقصان کا سبب بنتا ہے۔

        آج اگر ہم سنجیدگی کے ساتھ عالمِ اسلام کے حالات پر نظر ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے۔ دشمن کی مسلسل سازشوں کے ساتھ ساتھ ہماری اپنی کمزوریاں، نااہلیاں اور دور اندیشی کی کمی بھی اس زوال کا بڑا سبب بنی ہیں۔ نتیجتاً امتِ مسلمہ اس مقام پر آ پہنچی ہے جہاں اس کا حال اس آیت کی عملی تصویر معلوم ہوتا ہے جس میں گروہوں میں بٹ جانے کو مشرکانہ روش قرار دیا گیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج مسلمان مختلف حصوں اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم نہیں ہو چکے؟ کیا یہ تقسیم اسی نقشے کے مطابق نہیں جسے عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لیے ترتیب دیا؟ اور صرف جغرافیائی تقسیم ہی نہیں، بلکہ ہماری مساجد، ہمارے معاشرے اور ہماری صفوں میں بھی اختلافات نے گہری جڑیں پکڑ لی ہیں۔ وہی کیفیت نظر آتی ہے جسے مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال نے بڑے درد کے ساتھ بیان کیا تھا کہ کہیں فرقہ بندی ہے اور کہیں ذات پات کا جال۔

        افسوس کی بات تو یہ ہے کہ معاملہ یہاں تک جا پہنچا ہے کہ ہماری شناخت بھی منتشر ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم اپنے آپ کو مختلف ناموں، قومیتوں اور برادریوں سے تو پہچانتے ہیں، مگر اصل پہچان یعنی "مسلمان" ہونا پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال نے سوال اٹھایا تھا:

"یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو!

تم سبھی کچھ ہو، یہ تو بتلاؤ کہ مسلمان بھی ہو؟"

        یہ شعر دراصل ہمارے لیے ایک آئینہ ہے جو ہمیں ہماری حقیقت دیکھاتی ہے ۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش نہ سنبھالا اور اتحاد کی طرف واپس نہ آئے تو یہ تفرقہ ہمیں مزید کمزور کرتا چلا جائے گا۔ لیکن اگر ہم اپنی اصل شناخت کو پہچان لیں اور اختلافات کو چھوڑ کر ایک امت بن جائیں، تو یہی بکھری ہوئی طاقت پھر سے ایک مضبوط قوت میں بدل سکتی ہے۔

        آج کا منظرنامہ نہایت فکر انگیز ہے۔ دنیا میں باطل نظام کی قیادت کرنے والی طاقتیں، خصوصاً یونائٹڈ اسٹیٹ اور اس کی پشت پناہی میں قائم اسرائیل، اس انداز سے اپنی قوت کا اظہار کر رہی ہیں جیسے انہیں کسی کا خوف نہ ہو۔ مگر افسوس کہ ایسے نازک وقت میں امتِ مسلمہ متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرنے کے بجائے آپس کے اختلافات میں الجھی ہوئی ہے۔

        حقیقت یہ ہے کہ دشمن کی چالاکیوں اور سازشوں نے ہمیں اس قدر متاثر کیا ہے کہ ہم خود ہی ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو گئے ہیں۔ بھائی بھائی کا مخالف بن چکا ہے، اور عالمِ اسلام کے حکمران بھی باہمی کشمکش اور ٹکراؤ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف کمزوری کی علامت ہے بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کی بھی واضح دلیل ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور قرآن و حدیث کی رہنمائی کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ قرآنِ کریم بار بار ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا قریبی دوست اور رازدار نہ بناؤ، کیونکہ ان کے مفادات تم سے مختلف ہیں۔ لیکن اس واضح تنبیہ کے باوجود ہم ان ہی طاقتوں سے قربت بڑھانے، ان پر اعتماد کرنے اور ان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

        اگر امتِ مسلمہ اسی غفلت کا شکار رہی تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں، دشمن کی چالوں کو سمجھیں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ جب تک ہم باہمی اختلافات کو ختم کر کے ایک مضبوط قوت نہیں بنتے، اس وقت تک نہ ہم اپنی حفاظت کر سکتے ہیں اور نہ ہی عزت و وقار کے ساتھ دنیا میں اپنا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

        اور آج ملتِ اسلامیہ جس بے بسی کے ساتھ حالات کا مشاہدہ کر رہی ہے، وہ نہایت تشویشناک ہے۔ اگر امت میں اسی طرح انتشار اور باہمی اختلافات برقرار رہے تو مستقبل میں جو تباہی اور زوال ہمارا مقدر بن سکتا ہے، اس کے آثار ابھی سے نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جو ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم سنبھل جائیں اور اپنے اصل راستے کی طرف لوٹ آئیں۔

        ایسے نازک وقت میں قرآنِ حکیم ہمیں واضح اور دوٹوک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ سورۂ حجرات کی آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا ان کے درمیان تعلقات کو درست کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہنا ہی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح جب میدانِ مقابلہ کی بات آتی ہے تو قرآن ہمیں ثابت قدمی، کثرتِ ذکرِ الٰہی، اطاعتِ الٰہی و رسولؐ اور باہمی اتحاد کا حکم دیتا ہے، اور سختی سے تنبیہ کرتا ہے کہ آپس کے جھگڑے تمہیں کمزور کر دیں گے اور تمہاری طاقت کو ختم کر دیں گے۔

        حقیقت یہ ہے کہ قرآن قدم قدم پر ہماری رہنمائی کر رہا ہے، ہمیں جگا رہا ہے، ہمارے ضمیر کو آواز دے رہا ہے، مگر افسوس کہ ہم اپنی روش بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ ہماری بنیادیں ایک ہیں: ہمارا اللہ ایک، ہمارا رسولؐ ایک، ہمارا دین ایک، ہماری کتاب ایک اور ہمارے مقاصد بھی ایک ہیں۔ اتنی مضبوط یکسانیت کے باوجود اگر ہم متحد نہیں ہو پاتے تو یہ ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اسی درد کو محسوس کرتے ہوئے مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال نے برسوں پہلے ہمیں متوجہ کیا تھا کہ اگر مسلمان واقعی ایک ہو جائیں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک عظیم قوت بن سکتی ہے۔ اور انہوں نے پکار کر کہا:

"ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر"

        آج بھی ہماری بقا، سلامتی اور عزت کا راستہ اسی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا اور اپنی صفوں کو جوڑ لیا تو کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی، لیکن اگر ہم اسی تفرقہ میں مبتلا رہے تو نقصان ہمارا ہی ہوگا۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی شاعرِ ہدیٰ سیف علی شاہ عدمؔ صاحب قبلہ جامعہ دارالہدی اسلامیہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  طالب علم و ہنر کا آسرا دارالہدی  کس قدر ہے خوبصورت خوشنما دارالہدی  ان شاء اللہ عام ہو جائیگا علم دوجہاں  اب یون ہی بنتا رہیگا ہر جگہ دارالہدی جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ ایک ممتاز تعلیمی ادارہ اورعظیم الشان تربیتی گہوارہ ہے جو دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی، روحانی، اور اخلاقی رہنمائی کے مقصد سے عمل میں آیا۔ یہاں کے نصاب میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، اور اسلامی تاریخ کے ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ دنیاوی اور دینی دونوں میدانوں میں کامیاب ہو سکیں۔ جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا ماحول طلبہ کے کردار کی تعمیر اور ان کے اندر اسلامی اقدار کے فروغ پر مرکوز ہے۔ یہاں اساتذہ کا انتخاب نہایت محتاط انداز میں کیا جاتا ہے تاکہ وہ علم کے ساتھ تربیت کا بہترین نمونہ پیش کریں۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور...

حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں...

  حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں!   تذکرہ مصطفی کا کرتے ہیں سب فدایانِ حافظ ملت نعت کی شکل میں زباں پر ہے خوب ا حسانِ حافظ ملت             جلالۃ العلم،استاذ العلما حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بافیص مدرس،خدارسیدہ بزرگ،کامیاب مصلح ومبلغ اور ہزاروں کی تعداد میں علما وفقہا کی جماعت تیار کرنے والے اس مرد قلندر کو دنیائے اہل سنت بہت قریب سے جانتی ہے۔ آپ کی حیات و خدمات نے پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کے خوابوں کی حسین تعبیر جامعہ اشرفیہ مباک پور آج پوری دنیا حافظ ملت کا دینی وعلمی اور روحانی فیضان تقسیم کر رہا ہے۔ مصباحی برادران ملک اور بیرون ملک دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دے کر فرمانِ حافظ ملت ”زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام“ کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،آمین۔ تو آئیے ہم حضور حافظ ملت کی ہمہ جہت شخصیت کو اقوالِ ائمہ کی ...

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نبی مکرم، رسول معظم، سرکار اعظم، رحمت عالم سرکار مدینہ ﷺکے اخلاق و عادات کے مظہر کامل ہیں اسی لئے اولیاء کرام اور علمائے عظام نے آپ کی بارگاہ غوثیت میں نذر عقیدت پیش کیا اور آپ کی عظیم شان و عظمت کو یوں بیان کیا ہے کہ میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ ہر غم زدہ اور پریشان حال کی دستگیری فرماتے، ضعیفوں میں بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے، سلام میں پہل کرتے، لوگوں کی خطاؤں اور کوتاہیوں کو درگزر فرماتے، جو کوئی بھی آپ کی ذراسی خدمت کرتا نذرونیاز، ہدیہ تحفہ پیش کرتے اس کی قدر کرتے۔ جود وسخا کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی مجلس میں بعض اوقات چار سو حاضرین کو ولایت کے مقام تک پہنچا دیتے، آپ انتہائی رحیم اور کریم النفس تھے۔ شجاعت ایسی کہ خلیفہ وقت کو منبر پر بیٹھے للکار کر خلاف شرع امور سے روکتے، صدق وصفا میں کمال درجہ رکھتے تھے۔ امانت کے پاسباں، انصاف و عدل کے پیکر عفوو عطا فرمانے والے، علم و حیا میں بے مثل و بے مثال، مروت...