کیا موہن بھاگوت صاحب کا بیان حقیقت پر مبنی ہے؟
سب سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہو نا چاہیے کہ آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک
سنگھ) ایک ہندوستانی ہندو قوم پرست تنظیم ہے جو 1925 میں قائم کی گئی تھی۔ اس کا
مقصد ہندو معاشرے کو مضبوط بنانا، ہندو ثقافت کا فروغ اور ہندوستان کو ایک مکمل
ہندو ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات اور سرگرمیاں اکثر تنازعات کا
شکار رہی ہیں، خاص طور پر اقلیتوں اور سیکولر حلقوں کے حوالے سے۔ آر ایس ایس ایک
رضاکارانہ تنظیم ہے جس کے ارکان شاکھاؤں (مقامی یونٹوں) میں جمع ہوتے ہیں۔ ان
شاکھاؤں میں جسمانی مشقیں، نظریاتی تربیت، اور سماجی خدمات کے پروگرام منعقد کیے
جاتے ہیں۔ آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہے، جو بھارت
کی موجودہ حکمراں جماعت ہے۔ یہ تنظیم اپنے آپ کو ثقافتی تنظیم قرار دیتی ہے، لیکن
اس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے اقدامات مذہبی تعصب اور اقلیتوں کے خلاف ہیں۔
ناقدین کے مطابق، آر ایس ایس کے خیالات بھارت کی سیکولر شناخت کے لیے خطرہ ہیں۔
تاہم، اس کے حامی اسے ہندو سماج کی تنظیم اور اتحاد کے لیے ضروری سمجھتے
ہیں۔
آر ایس ایس کے سربراہ
موہن بھاگوت نے 22 دسمبر 2024 کو مہاراشٹر کے امراوتی میں منعقدہ ’مہانوبھاؤ آشرم‘
کی صد سالہ تقریب میں اپنے بیان سے عوام کو حیرت میں ڈال دیا اور لوگ محوِ حیرت
میں کھو گئے۔ اُن کے بیان نے مذہب کے حوالے سے ایک نئے زاویے کو پیش کیا، جسے
مختلف طبقات کی طرف سے زبردست پذیرائی ملی۔ اُنہوں نے کہا کہ مذہب کا ادھورا علم
انسان کو غلط راستے پر لے جا سکتا ہے۔ دنیا میں مذہب کے نام پر ہونے والے تمام
مظالم کی جڑ دراصل مذہب کے بارے میں ناقص فہم اور غلط تصورات کم علم رکھنے کی کی
وجہ سے ہے۔ موہن بھاگوت نے اپنے بیان میں زور دیا کہ مذہب نہ صرف ہمیشہ سے
دنیا میں موجود ہے بلکہ دنیا کے تمام معاملات اسی کے مطابق طے پاتے ہیں۔ اُنہوں نے
مزید کہا کہ مذہب پر عمل کرنے سے ہی اس کی حقیقی روح کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
اگر مذہب کو صحیح طور پر سمجھا جائے تو معاشرے میں امن، ہم آہنگی، اور خوش حالی کا
قیام ممکن ہے۔ اُن کے مطابق، مذہب کا مقصد کسی بھی صورت میں تشدد یا جبر کو فروغ
دینا نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کرنا اور ایک بہتر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
موہن بھاگوت پہلے بھی
اپنے بیانات سے زعفرانی تنظیموں اور حکمراں جماعت کو تنقیدی آئینہ دکھا چکے ہیں ان
شر پسند عناصر کوبتا چکے ہیں کہ ہمارا ملک ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے جس میں ہر
کسی کو برابری کا حق ہے۔ وہ اس سے قبل یہ واضح کر چکے ہیں کہ آر ایس ایس کا مقصد
ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر تھا، جو اب مکمل ہو چکی ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اب کسی مسجد یا درگاہ کے نیچے مندر کے باقیات تلاش کرنے
کی ضرورت نہیں ہے۔ اُنہوں نے ملک میں امن و امان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ
ہر مذہب کے ماننے والے کو اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرنے اور تہوار منانے کا
بنیادی حق حاصل ہے۔ اُن کے اس بیان نے مذہب اور انسانیت کے تعلق پر ایک اہم بحث
چھیڑ دی ہے، جس سے ایک مثبت مکالمے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ آر ایس ایس
کے سپریم موہن بھاگوت نے 19 دسمبر 2024 کو پونے میں منعقدہ ’وشوگرو بھارت‘ کے
موضوع پر ’ہندو سیوا مہوتسو‘ میں لیکچر سیریز کا افتتاح کرتے ہوئے ملک میں فرقہ
وارانہ سیاست اور مندر و مسجد تنازعات پر اپنی گہری تشویش ظاہر کی۔ اُن کے بیان نے
ایک بار پھر قومی سیاست میں ہلچل مچا دی اور کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔
موہن بھاگوت نے واضح
الفاظ میں کہا کہ کچھ لوگ رام مندر جیسے مسائل کو اٹھا کر خود کو ہندو لیڈر کے طور
پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی اس کی اجازت دی جا
سکتی ہے۔ اُن کے مطابق، یہ طرز عمل سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں
نے انتہا پسندی اور مذہبی عدم برداشت کی کھلی مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستانی ثقافت
اور روایات کے خلاف قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ زبردستی، نفرت، اور دوسروں کے
عقائد کی توہین ہندو فلسفے کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہمیشہ
ایک تکثیری معاشرہ رہا ہے، جہاں ہر مذہب اور عقیدے کے پیروکاروں کو آزادی حاصل رہی
ہے۔ ہمیں اس روایت کو برقرار رکھنا ہوگا اور دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ ہندوستان
مختلف نظریات کے ساتھ بھی ہم آہنگی سے رہنے کا قابلِ تقلید ماڈل ہے۔ موہن بھاگوت
نے معاشرتی مساوات پر زور دیتے ہوئے سوال اٹھایا، ”کون اقلیت ہے اور کون اکثریت؟
یہاں سب برابر ہیں۔“
موہن بھاگوت نے ایودھیا
میں رام مندر کی تعمیر کو ہندو عقیدت کا اہم سنگ میل قرار دیا، لیکن اس کے بعد اب
نئے تنازعات پیدا کرنے کی مخالفت کی۔ اُن کے مطابق، ایسے معاملات معاشرتی انتشار
کو جنم دیتے ہیں، جو نہ صرف امن و امان بلکہ ملک کی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق لینا چاہیے اور
ہندوستان کو اتحاد اور بھائی چارے کا عالمی ماڈل بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
موہن بھاگوت کے حالیہ بیانات کے سیاسی مضمرات پر بھی بحث جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ
وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، اور وزیر داخلہ امت شاہ کی
موجودگی میں موہن بھاگوت کی بات کو واقعی کوئی سنتا بھی ہے یا نہیں؟ ایک وقت تھا
جب آر ایس ایس کی زبان سے نکلا ہر لفظ حکومتی فیصلوں کے لیے حتمی ہوتا تھا۔ لیکن
کیا آج بھی آر ایس ایس کی وہی طاقت اور اثر و رسوخ باقی ہے؟ شاید نہیں۔
یہ سوالات اہم ہیں
کیونکہ اگر آر ایس ایس کے سپریمو کے بیانات محض رسمی ہوں، تو اُن کے اثرات قومی
سیاست پر نہیں پڑیں گے۔ آج، موہن بھاگوت کے الفاظ کو نقارخانے میں طوطی کی آواز کے
طور پر دیکھنے والے لوگ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ بیانات کسی خاص
حلقے کو خوش کرنے کے لیے ہیں یا واقعی وہ ملک میں امن و ہم آہنگی کا پیغام دینا
چاہتے ہیں۔ڈاکٹر موہن بھاگوت کے قومی یکجہتی اور معاشرتی ہم آہنگی پر دیے گئے
حالیہ بیان نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کے الفاظ
کو جہاں ایک طرف بعض زعفرانی تنظیموں اور شدت پسند عناصر کی طرف سے مخالفت کا
سامنا ہے، وہیں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اس بیان کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا
ہے۔
سماجوادی پارٹی کی
کیرانہ سے منتخب پارلیمانی رکن، اقرا حسن نے موہن بھاگوت کے بیان کو خوش آئند قرار
دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ ان کی کسی بات سے متفق ہیں۔ اقرا حسن نے مزید کہا
کہ ترقی سے متعلق ایشوز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور یہ سلسلہ ایودھیا
سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے آر ایس ایس چیف سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی اور حامیوں
کو بھی اس نقطہ نظر پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کریں۔ اقرا حسن نے زور دے کر کہا کہ
سماج کے موجودہ تانابانا کو برقرار رکھنے اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دینے کی اشد
ضرورت ہے، تاکہ ملک کی ترقی اور عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔
ایوانِ بالا میں کانگریس کے سینئر رکن، دگ وجے سنگھ نے بھی ڈاکٹر موہن بھاگوت کے
بیان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے الفاظ واقعی ان کے دل کی
آواز ہیں، تو انہیں وشوہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں کو لگام دینے کی کوشش
کرنی چاہئے۔ دگ وجے سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا
کہ بھاگوت ایسے مواقع پر وزیراعظم کو سمجھانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے
کہا کہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور مذہبی منافرت کے بڑھتے رجحان پر موہن
بھاگوت کی خاموشی ان کے مثبت بیانات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
حزب اختلاف نے یہ بھی
واضح کیا کہ اگر موہن بھاگوت واقعی ملک کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ ہیں، تو
انہیں محض بیان بازی کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اقرا حسن نے کہا کہ مذہبی
منافرت کو ہوا دینے والوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کی طرف قدم
بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بھاگوت سے یہ اپیل کی کہ وہ اپنے حامیوں اور
بی جے پی کی قیادت کو ان اصولوں پر عمل کرنے کے لیے تیار کریں، تاکہ ملک میں فرقہ
وارانہ ہم آہنگی کا ماحول پروان چڑھ سکے۔موہن بھاگوت کے بیانات نے جہاں کچھ لوگوں
کو سوچنے پر مجبور کیا ہے، وہیں ان کی اپنی تنظیم اور اس سے منسلک افراد پر عمل
درآمد کا دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ ان کے الفاظ کا حقیقی اثر تب ہی ممکن ہوگا جب وہ
اپنے حامیوں کو عملی اقدامات کے لیے قائل کریں گے۔ بصورت دیگر، یہ بیان محض ایک
سیاسی چال سمجھا جائے گا، جو وقت کے ساتھ اپنی اہمیت کھو دے گا۔
تحریر: محمد فداء ا لمصطفیٰ قادریؔ
رابطہ نمبر:9037099731
ڈگری اسکالر: جامعہ دارالہدی اسلامیہ، ملاپورم،کیرالا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں