نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار

 






جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار 

              میرا اور آپ سب کا پیارا ملک ملکِ ہندوستان ایک ڈیموکریٹک اور سیکولر ملک ہے جس میں مختلف اور متفرق مذاہب کے ماننے والے اپنے اصول و ضوابط اور شرائط کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ تمام مختلف مذاہب کے ماننے والے سال بھر میں متنوع قسم کے تہوار مناتے ہیں اور خوشی کا اظہار بھی خوب عقیدت مندی کے ساتھ کرتے ہیں۔ سب لوگ اپنے تہواروں کو خوش ہو کر اور خوش رہ کر مناتے ہیں کیونکہ وہ ایک خاص دن ان کی زندگی کا اہم ترین دن ہوتا ہے جس دن میں وہ خوشیوں کا اظہار دل کھول کر کرتے ہیں۔ انہیں تمام خوشیوں کے مابین ایک خوشی ایسی بھی ہے جو کسی مذہب سے خاص نہیں بلکہ اس خوشی میں تمام باشندگانِ ہندوستان برابر کے شریک ہوتے ہیں اور عقیدت مندی کے ساتھ اس خوشی کو مناتے ہیں اور وہ کوئی اورخوشی نہیں بلکہ وہ خوشی یوم آزادی کی خوشی ہے جسے ہم  15 اگست کوخلوصیت کے ساتھ مناتے ہیں۔

              آج ہمارے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوئے مکمل47سال ہوگیا ہے۔ اس ملکِ عظیم کو آزاد کرانے میں بہت سارے امراء اور علماء کا کردار رہا ہے۔ اس ہندوستان کو آزاد کرانے میں مختلف مذاہب یعنی ہندو، سکھ، عیسائی اور مسلمان سب کا اہم کردار رہا ہے جس کے نتیجے میں آج ہم سب کا چمنستان غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہے اور ہم خوشی خوشی اس آزاد ہندوستان میں زندگی گزار رہے ہیں اور بھائی چارگی کا درس دے رہے ہیں۔

               مگر میرے عزیزوں! کیا آپ کو معلوم ہے کہ تحریک آزادیِ ہند میں کن کن لوگوں نے حصہ لیا تھا؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارا ملک آخر کس طرح انگریزوں کے ظلم و ستم سے آزاد ہوا؟کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہمارا ملک غربت، مفلسی اور جہالت کے اندھیروں سے باہر کیسے نکلا؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج ہمارا ہندوستان ترقی کی راہ پر گامزن کیسے ہے؟ آخر اس ملک کو انگریزوں کے چنگل سے کس طرح آزاد کیا گیا؟۔ ان تمام سوالوں کا جواب ملنے کے لیے تو ہمیں تاریخ کا کافی ذوق و شوق سے مطالعہ کرنا پڑے گا۔ ہاں اگر آپ تاریخِ ہند کا مطالعہ کریں گے تو معلوم پڑے گا کہ مسلم حکمرانوں، امراء اور علماءِ ملتِ اسلامیہ کا بہت اہم کردار رہا ہے جس کی وجہ سے آج ہندوستان آزاد ہے۔

                 اس ملک کو ظلم و ستم،ظلم و بربریت، فاقہ کشی، ڈاکہ زنی، شراب نوشی اور چھوا چھوت جیسے متعدد برائیوں سے آخری کس نے آزاد کروایا اور کس نے نجات دلایا؟ تو آپ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ہمارا ملک جس طرح مختلف مذاہب کے حکمرانوں کی محنت سے آزاد ہوا ہے بالکل اسی طرح مسلم حکمرانوں، امراء اور علماءِ ملتِ اسلامیہ کا اس سے زیادہ اہم کردار رہا ہے جس کی وجہ سے بھی ہمارا ملک آزاد ہوا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے ہاتھوں میں ہمارے زندگی حقیقی معنوں میں آزاد ہے۔ اس ملت اسلامیہ ہی کا دین ہے کہ ہم کھلی فضا میں ٹھنڈی سانس لے رہے ہیں اور زندگی اچھی طرح سے گزر بسر کر رہے ہیں۔

              آئیے ذرا ان مسلم حکمرانوں اور امراء کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر ہمارے ملکِ عظیم ملکِ ہندوستان کو انگریزوں کے غلامی سے آزاد کروایا۔ مسلم حکمرانوں اور لیڈران میں جس عظیم شخصیت کا نام سب سے پہلے آتا ہے وہ فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی ذات ہے جنہوں نے لوگوں میں جہاد کی روح پھونکی اور لوگوں کو ظلم کے خلاف صدائے حق بلند کرنے کا ایک جذبہ دیا۔ اس طرح بہت مشہور و معروف علماء اور امراء بھی ہیں جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے اس ملک کو آزاد کر وایا جن میں سراج الدولہ (بنگال کا نواب)، میرا قاسم علی خان، حیدرعلی، ٹیپو سلطان، سید میر ناصر علی، حاجی شریعت اللہ خان غلام رسول خان، مولانا شیر علی خان، مولوی احمد اللہ شاہ فیضا بادی، بہادر شاہ ظفر، بیگم حضرت محل، مولانا محمد علی جوہر، علامہ محمد اقبال، محمد عبد القادر، محمد علی عبدالرحمن صاحب، محمد علی جنا، ڈاکٹر خان عبدالجبار خان، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر فخر الدین علی احمد، سید عابد حسین صفرائی، علامہ مولانا عبدالباسط، فرید مرزا، شیخ قادری معین الدین، رجب علی خان، محمد خان صاحب، عبدالمجید خواجہ، آصف علی خان اور مولانا ابوالکلام آزاد کا ہیں جن کا نام تارخ کے صفحات میں الی طول الدہر محفوظ ہو گیا ہے اور جن کا نام بہت عقیدت مندی سے لیا جاتا ہے اور سبھی لوگ ان کو یاد بھی کرتے ہیں اور بھلا یاد کیوں نہ کرے کیونکہ انہیں لوگوں کی بدولت ہمیں ایک نئی زندگی ملی ہے۔

              یہاں میں نے فقط چند اہم ترین مسلم حکمران، لیڈران اور امراء کا نام ذکر کیا ہے جنہوں نے اپنی محنت اور خدمات سے ہندوستان کو غلامی کے قید سے آزاد کرایا۔ ان لوگوں کی طرح اور بھی 350 ایسے بھی لیڈران اور حکمران گزرے ہیں جنہوں نے اس چمنستان کو آزاد کرانے کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کر دیا اور سب کچھ تک قربان کر دیا۔ اگر میں یہاں ان سب کا نام ذکر کروں تو یہ مضمون بہت بڑا بن جائے گا مگر آپ ہمیشہ سے یہ جانتے ہیں اور اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے ملک کو آزاد کرانے میں علمائے ملت اسلامیہ کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔

                 ایک جانب جہاں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر اس آزادی میں حصہ لیا بالکل اسی طرح دوسرے قوم کے لیڈران کی بھی شرکت ملتی ہے۔ جن میں مشہور و معروف ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر (فادر آف کنسٹیٹیوشن)، مہاتما گاندھی، موہن داس کرم چند گاندھی، ڈاکٹر راجندر پرساد، سردار ولب بھائی پٹیل، جواہر لال نہرو، بھگت سنگھ، رانی لکشمی بائی، منگل پانڈے، چندر بھکتی، رام پرساد بسمل، شیواجی مہاراج۔ (شیرِ مہاراشٹر) لال بہادر شاستری اور کنور سنگھ کا نام قابل ذکر ہیں جنہوں نے ملک کو انگریزوں سے آزاد کروایا۔ یہاں میرا مقصدصرف یہ بتانا  ہے کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں فقط ہندو دھرم کے لیڈران اور حکمرانوں کا ہی حق نہیں بلکہ مسلم حکمرانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا دیگر قوموں کے لیڈر کا حق ہے۔اور یہ بات ایسی ہے جسے آئین ہند بھی انکار نہیں کر سکتا ہے کیونکہ کتاب تاریخ ہند میں یہ بات باضابطہ لکھا ہوا ہے کہ یہ ملک مختلف مذاہب کے کے لیڈران اور علماء کی خدمت سے آزاد ہوا ہے جس میں سب برابر کے شریک ہیں۔

              مگر میرے دوستوں!  ہمارا ملک تو ڈیموکرٹیک اور سیکولر ملک ہے جس میں مختلف قسم کے مذاہب کے ساتھ مختلف زبانیں بولی جاتی ہے اور مختلف رسم و رواج کے مطابق تہوار منائے جاتے ہیں جو اس بات کی سچی دلیل ہے کہ ہمارا ملک اس عالم کے تمام ملکوں میں سب سے اچھا اور سب سے اعلی ملک ہے جس کی شہرت اور معرفت سے کوئی بھی ناواقف نہیں ہے۔  انہیں بڑے تہواروں میں سے ایک عظیم الشان تہوار یوم آزادی کا بھی ہے جس دن میں اس ملک کے تمام تر باشندے اپنے وطن پر فخر کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور یوم آزادی پر خوشی کا اظہار کیوں نہ کرے ارے یہ تو ان لوگوں کا ہی ملک ہے نہ کہ کسی دوسری قوموں کا ملک ہے، ان کی ہی آباؤ اجداد کی میراث ہے اور ان کی ہی محنت سے یہ ملک عظیم آزاد ہو کر آج ہمارے ہاتھوں میں ملا ہے۔ انہیں لوگوں کی محنت کی بدولت اس دور جدید میں ہم باآسانی اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور آنے والے دور میں بھی ہم جشن یوم آزادی خوب ذوق و شوق سے منائیں گے۔ ہم اس جہاں سے رحلت کر کے بھلے دوسرے دنیا میں چلے جائیں پھر بھی ہماری آنے والی نسلیں اس ملک کی عظمت کی خاطر مر مٹیں گے کیونکہ ہم نے اپنے بچوں کو وطن کی محبت کا وہ درس دیا ہے جو مرتے دم تک ان کے جسم سے جدا نہیں ہو سکتا ہے۔

               یہ مضمون کافی مطالعہ کر کے لکھا گیا ہے جس میں یہ بات بیان کر دی گئی ہے کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں کن کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور کون کون لوگوں نے اس ملک کی آزادی میں برابر کے شریک رہے؟۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہمارا ملک کے عظیم فقط دیگر قوموں کے حکمرانوں اور لیڈران سے آزاد نہیں ہوا ہے بلکہ مسلم لیڈران اور حکمرانوں کا بھی سو فیصد اتنا ہی ہاتھ رہا ہے جتنا کے دیگر قوموں کے حکمرانوں اور لیڈران کا اہم کردار رہا ہے تب جاکر ہمارا ہندوستان آزاد ہوا ہے۔اور میں اس بات سے اپنے بیان کو ختم کرنا چاہتا ہوں کے ہمارے اس ملک ہندوستان کو آزاد کرانے میں تمام مختلف قومیں یکجا اور ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ اور سب کے سب برابر کے شریک ہیں  ساتھ ہی مسلمانوں کا بھی کچھ زیادہ ہی اہم کردار رہا ہے تب جاکر ہندوستان آج ہمارے ہاتھوں میں پھل پھول رہا ہے اور ترقی کی راہیں ہموار کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔

 یہاں عیسائی کے کاندھے پر سکھ کے ہاتھ رہتے ہیں  

 ہمارے  ملک  میں  ہندو  مسلماں  ساتھ  رہتے ہیں




تحرير:محمد فداء المصطفیٰ گیاوی

رابطہ نمبر: 9037099731

ڈومریا ،مرشد نگر بھنگیا، گیا، بہار

 

 

 

 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی شاعرِ ہدیٰ سیف علی شاہ عدمؔ صاحب قبلہ جامعہ دارالہدی اسلامیہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  طالب علم و ہنر کا آسرا دارالہدی  کس قدر ہے خوبصورت خوشنما دارالہدی  ان شاء اللہ عام ہو جائیگا علم دوجہاں  اب یون ہی بنتا رہیگا ہر جگہ دارالہدی جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ ایک ممتاز تعلیمی ادارہ اورعظیم الشان تربیتی گہوارہ ہے جو دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی، روحانی، اور اخلاقی رہنمائی کے مقصد سے عمل میں آیا۔ یہاں کے نصاب میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، اور اسلامی تاریخ کے ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ دنیاوی اور دینی دونوں میدانوں میں کامیاب ہو سکیں۔ جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا ماحول طلبہ کے کردار کی تعمیر اور ان کے اندر اسلامی اقدار کے فروغ پر مرکوز ہے۔ یہاں اساتذہ کا انتخاب نہایت محتاط انداز میں کیا جاتا ہے تاکہ وہ علم کے ساتھ تربیت کا بہترین نمونہ پیش کریں۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور...

کلثوم بانو! تیری جرأتِ ایمانی کو سلام

کلثوم بانو! تیری جرأتِ ایمانی کو سلام یہ زمانہ عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سائنس و ٹیکنالوجی کی چکاچوند، جدید تعلیم کی دوڑ، مادّی ترقی کی اندھی خواہش اور دنیاوی کامیابیوں کا شور ہے، تو دوسری طرف دینی اقدار، حیا، عفت اور اسلامی تشخص پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ آج بہت سے لوگ معمولی دنیاوی مفاد کے لیے اپنے اصولوں، اپنی تہذیب اور یہاں تک کہ اپنے دین تک کا سودا کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ایسے پُرفتن ماحول میں جب بے پردگی کو آزادی، حیا کو پسماندگی اور دینی احکام پر عمل کو قدامت پسندی سمجھا جانے لگا ہے، ایک مسلمان کے لیے اپنے ایمان اور اسلامی شناخت پر ثابت قدم رہنا یقیناً کسی جہاد سے کم نہیں۔ خصوصاً مسلمان خواتین کے لیے حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل، حیا و عفت کی حفاظت اور اسلامی تشخص کا روشن عنوان ہے۔ یہ وہ تاجِ عزت ہے جس نے صدیوں سے مسلمان عورت کو وقار، احترام اور انفرادیت عطا کی ہے۔ مگر افسوس کہ آج بعض حلقوں کی جانب سے حجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مسلم خواتین کو مختلف طریقوں سے اس سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں جب کوئی مسلمان...

حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں...

  حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں!   تذکرہ مصطفی کا کرتے ہیں سب فدایانِ حافظ ملت نعت کی شکل میں زباں پر ہے خوب ا حسانِ حافظ ملت             جلالۃ العلم،استاذ العلما حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بافیص مدرس،خدارسیدہ بزرگ،کامیاب مصلح ومبلغ اور ہزاروں کی تعداد میں علما وفقہا کی جماعت تیار کرنے والے اس مرد قلندر کو دنیائے اہل سنت بہت قریب سے جانتی ہے۔ آپ کی حیات و خدمات نے پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کے خوابوں کی حسین تعبیر جامعہ اشرفیہ مباک پور آج پوری دنیا حافظ ملت کا دینی وعلمی اور روحانی فیضان تقسیم کر رہا ہے۔ مصباحی برادران ملک اور بیرون ملک دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دے کر فرمانِ حافظ ملت ”زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام“ کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،آمین۔ تو آئیے ہم حضور حافظ ملت کی ہمہ جہت شخصیت کو اقوالِ ائمہ کی ...