اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ بحیثیتِ فقیہ


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ بحیثیتِ فقیہ

          اسلامی تاریخ کے افق پر بعض شخصیات ایسی طلوع ہوتی ہیں جن کے علم کی روشنی ایک عہد کی حدود سے نکل کر نسلوں کے راستوں کو منور کرتی رہتی ہے۔ وہ محض اپنے زمانے کے عالم نہیں ہوتے، بلکہ اپنے عہد کی علمی ضرورتوں کا جواب، اپنے معاشرے کی فکری رہنمائی اور آنے والی نسلوں کے لیے علمی سرمایہ بن جاتے ہیں۔ برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام اسی روشن سلسلے کی ایک درخشاں کڑی ہے۔ آپ کی شخصیت علم و عمل، عشق و بصیرت، فقہ و فتویٰ اور تحقیق و تصنیف کا ایسا حسین امتزاج تھی جس کی مثال اپنے عہد میں کم ہی نظر آتی ہے۔

          اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ایک جامع تعبیر میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو ’’معجزۃٌ من معجزاتِ النبی‘‘ کا مفہوم سامنے آتا ہے؛ یعنی آپ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضانِ علم و ہدایت کا ایک ایسا مظہر تھے جس میں نبوی فیض کی جلوہ گری نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ولی کی کرامت درحقیقت اس کے نبی کے معجزے کی ایک جھلک ہوتی ہے؛ اس اعتبار سے اعلیٰ حضرت کی علمی جامعیت، فقہی بصیرت، دینی خدمات اور غیر معمولی تصنیفی کمالات کو فیضانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک عظیم شاہکار کہنا عقیدت ہی نہیں، آپ کی علمی شخصیت کے فہم کا ایک زاویہ بھی ہے۔ تاہم اعلیٰ حضرت کی ہمہ جہت شخصیت میں اگر کسی ایک پہلو کو ان کی علمی زندگی کا محور قرار دیا جائے تو وہ فقاہت اور افتا ہے۔ آپ نے فقہ کو محض کتابی مسائل کی تفہیم تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے زندگی کے بدلتے ہوئے حالات میں شریعت کی رہنمائی کا زندہ وسیلہ بنا کر پیش کیا۔ مسلمانوں کے روزمرہ معاملات سے لے کر پیچیدہ فقہی مسائل تک، آپ کی نگاہ نصوصِ شرعیہ، اصولِ فقہ، اقوالِ ائمہ اور عرف و حالات سب کو ایک جامع علمی تناظر میں دیکھتی تھی۔ یہی وہ فقہی بصیرت تھی جس نے آپ کو اپنے زمانے کا ایک ممتاز فقیہ اور مرجعِ افتا بنا دیا۔

          خود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کی مصروفیات میں مسلمانوں کی فقہِ حنفی کے مطابق رہنمائی کو نمایاں حیثیت دی۔ دنیا کے مختلف خطوں سے لوگ اپنے دینی و شرعی مسائل لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے یا خطوط کے ذریعے استفتا کرتے، اور آپ نہایت دقتِ نظر، علمی احتیاط اور شرعی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ان کے جوابات تحریر فرماتے۔ یوں فتویٰ نویسی آپ کی زندگی کا محض ایک معمولی مشغلہ نہ رہی، بلکہ آپ کے علمی وجود کا ایک بنیادی امتیاز بن گئی۔ آپ کی یہی فقہی کاوشیں آگے چل کر ایک عظیم علمی ذخیرے کی صورت اختیار کرتی گئیں اور فتاویٰ رضویہ جیسی بے مثال فقہی تصنیف وجود میں آئی۔

          اعلیٰ حضرت کی فقاہت کا دائرہ صرف کثرتِ فتاویٰ تک محدود نہیں؛ اصل کمال یہ ہے کہ آپ کے فتاویٰ میں وسعتِ مطالعہ، قوتِ استدلال، اصولی پختگی، جزئیات پر گہری نظر، فقہی مذاہب کا وسیع علم اور مسائل کے دقیق پہلوؤں تک رسائی یکجا نظر آتی ہے۔ اسی لیے آپ کی تصنیفات کی کثرت بھی محض عددی حیرت کا عنوان نہیں، بلکہ ایک ایسی علمی زندگی کی شہادت ہے جو قلم کی نوک سے مسائلِ امت کی گتھیاں سلجھاتی اور شریعت کے احکام کو زندگی کے مختلف گوشوں تک پہنچاتی رہی۔ پس اعلیٰ حضرت کو بحیثیتِ فقیہ سمجھنا دراصل ایک ایسے عالمِ دین کو سمجھنا ہے جس کے لیے فقہ صرف مسائل کا مجموعہ نہیں، بلکہ کتاب و سنت کی روشنی میں انسانی زندگی کی رہنمائی کا ایک جامع نظام تھی۔ ان کی فقاہت میں علم کی گہرائی بھی ہے، تحقیق کی گیرائی بھی؛ نصوص کی پاسداری بھی ہے اور حالات کی نزاکت کا ادراک بھی۔ یہی وہ امتیازات ہیں جو اعلیٰ حضرت کی فقہی شخصیت کو محض ایک بڑے فقیہ کی سطح سے بلند کرکے برصغیر کی فقہی تاریخ کا ایک نمایاں اور تابندہ باب بنا دیتے ہیں۔

فقہ: شریعت کو سمجھنے کا فن اور فقیہ

          فقہ دراصل شریعت کے ان عملی احکام کو ان کے تفصیلی دلائل سے سمجھنے اور جاننے کا نام ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ محض مسائل کا انبار یا احکام کی فہرست نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے وسیع ذخیرے، اصولِ شریعت، اقوالِ صحابہ و ائمہ، عربی زبان، ناسخ و منسوخ، عام و خاص، مطلق و مقید اور دیگر اصولی مباحث کی گہری معرفت کے ذریعے حکمِ شرعی تک رسائی کا ایک منظم علمی طریقہ ہے۔ اسی لیے فقہ کا حقیقی امتیاز یہ ہے کہ وہ نصوص کو زندگی کے واقعات سے جوڑتی ہے اور شریعت کے اصولوں کو انسانی معاملات کی رہنمائی کا ذریعہ بناتی ہے۔ اور فقیہ وہ شخص ہے جو صرف مسائل کا حافظ نہ ہو، بلکہ شریعت کے مزاج اور اس کے اصول و جزئیات پر ایسی بصیرت رکھتا ہو کہ پیش آمدہ مسائل کو ان کے شرعی اصولوں پر پرکھ سکے، دلائل میں تطبیق دے سکے، اقوالِ فقہا میں ترجیح کے مواقع کو سمجھ سکے اور سائل کو ایسا جواب دے جو محض معلومات نہ ہو بلکہ حکمِ شرعی کی ذمہ دارانہ ترجمانی ہو۔

          فقاہت کی بنیاد صرف کثرتِ مطالعہ پر نہیں؛ اس کے لیے کتاب و سنت کا عمیق علم، اصولِ فقہ میں پختگی، عربی زبان و ادب پر دسترس، فقہی جزئیات کا وسیع ذخیرہ، ائمہ و فقہا کے مناہج سے واقفیت، قوتِ استنباط، دقتِ نظر، حاضر جوابی، حالات و عرف کا فہم اور تقویٰ و دیانت ناگزیر ہیں۔ فقیہ کی نگاہ ایک ہی وقت میں نص کے لفظ، حکم کے مقصد اور واقعے کی صورتِ حال تینوں کو دیکھتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محض عالم اور صاحبِ فقاہت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔

          اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام عناصر آپ کی ذات میں غیر معمولی جامعیت کے ساتھ جمع تھے۔ آپ نے فقہِ حنفی کے متداول ذخیرے کا نہ صرف گہرا مطالعہ کیا بلکہ اصولی مباحث، حدیث، تفسیر، لغت، منطق اور دیگر علوم کو بھی فقہی استنباط کے لیے معاون بنایا۔ چنانچہ آپ کے فتاویٰ میں محض حکم نہیں ملتا؛ حکم تک پہنچنے کی علمی راہ بھی دکھائی دیتی ہے۔ کہیں لغت کی باریکی مسئلے کا رخ متعین کرتی ہے، کہیں حدیث کی تحقیق حکم کو مضبوط کرتی ہے، کہیں اصولِ فقہ اختلافِ اقوال کو سلجھاتے ہیں اور کہیں فقہی جزئیات کا وسیع ذخیرہ ایک دقیق مسئلے کو اپنی صحیح جگہ پر رکھ دیتا ہے۔ یہی فقہی بصیرت تھی جس نے اعلیٰ حضرت کے قلم کو محض فتویٰ نویس کا قلم نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے فقہی تحقیق کا میزان بنا دیا۔ آپ کے سامنے جب کوئی سوال آتا تو وہ صرف ایک سائل کا سوال نہیں رہتا؛ وہ شریعت کے ایک حکم کی تحقیق کا دروازہ بن جاتا۔ اسی لیے آپ کے فتاویٰ میں سوال کی سطح سے کہیں زیادہ وسیع علمی بحث دکھائی دیتی ہے۔

مسندِ افتا پر کم سنی میں جلوہ گری

          اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی عظمت کا ایک حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ آپ کی علمی زندگی میں افتا کا آغاز ایسی عمر میں ہوا جس میں عموماً طالبِ علم ابھی بنیادی کتابوں کے مطالعے کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ آپ کی ولادت ۰۱ شوال۲۷۲۱ھ میں ہوئی، اور۴۱ شعبان۶۸۲۱ھ کو، یعنی تقریباً تیرہ برس دس ماہ کی عمر میں، آپ نے علوم کی تکمیل کے بعد دستارِ فضیلت حاصل کی۔ اسی روز رضاعت کے ایک مسئلے پر فتویٰ تحریر کیا جسے والدِ ماجد، علامہ مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ، کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ جواب درست پایا گیا اور آپ کی علمی صلاحیت و فقہی استعداد کو دیکھتے ہوئے اسی دن منصبِ افتا آپ کے سپرد کردیا گیا۔

          یہاں واقعے کی اصل اہمیت صرف یہ نہیں کہ ایک کم سن عالم نے فتویٰ لکھ دیا؛ اصل حیرت اس بات میں ہے کہ ایک جلیل القدر فقیہ نے اپنے صاحبزادے کے تحریر کردہ جواب کو جانچ کر اس میں وہ پختگی محسوس کی جو منصبِ افتا کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے ضروری تھی۔ یوں ۴۱ شعبان۶۸۲۱ھ  اعلیٰ حضرت کی زندگی میں محض ایک تاریخ نہیں رہی، بلکہ وہ دن بن گیا جب ایک کم سن عالم کا قلم باقاعدہ طور پر مسائلِ شریعت کی ترجمانی کے لیے اٹھا۔ بعد میں خود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس پہلے فتویٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہی وہ فتویٰ تھا جو انہوں نے ۴۱ شعبان۶۸۲۱ھ کو سب سے پہلے لکھا، اور اسی تاریخ کو انہیں منصبِ افتا عطا ہوا؛ اس وقت ان کی عمر تیرہ برس دس ماہ چار دن تھی۔

          یوں اعلیٰ حضرت کی فقہی زندگی کا آغاز ایک مختصر سوال کے جواب سے ہوا، مگر اس جواب کے پیچھے جو علمی استعداد کارفرما تھی، وہ آنے والے زمانے میں ہزاروں مسائل کی تحقیق کا سرچشمہ بن گئی۔ رضاعت کا وہ پہلا فتویٰ گویا فقاہت کے اس آفتاب کی پہلی کرن تھا جس نے آگے چل کر برصغیر کی فقہی فضا کو ایک وسیع علمی اجالے سے منور کردیا۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی خصوصیات و امتیازات

          اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت محض کثرتِ فتاویٰ، وسعتِ مطالعہ یا مسائل کے انبار کا نام نہیں؛ ان کی اصل عظمت اس فقہی بصیرت میں پوشیدہ ہے جو نصوص کے الفاظ سے آگے بڑھ کر ان کے معانی، اصول اور مقتضیات تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ آپ کے سامنے مسئلہ خواہ قدیم فقہی کتابوں میں مذکور ہو یا زمانہ حاضر کا کوئی نیا اور پیچیدہ معاملہ، آپ اس کے حکم تک پہنچنے کے لیے قرآن و سنت، اصولِ فقہ، فقہی جزئیات، اقوالِ ائمہ اور عرف و حالات سب کو ایک مربوط علمی میزان پر رکھتے تھے۔ یہی جامع نظر آپ کی فقاہت کو اپنے عہد میں امتیازی شان عطا کرتی ہے۔ آپ کی فقہی شخصیت کے نمایاں امتیازات پر نظر ڈالیں تو متعدد خصوصیات سامنے آتی ہیں، جن میں سے چند ایسی ہیں جو آپ کے مقامِ تفقہ کو نمایاں طور پر واضح کرتی ہیں۔

پہلی فقہی خصوصیت: تقریباً نصف صدی پر محیط منصبِ افتا

          اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی زندگی کا ایک نہایت نمایاں امتیاز طولِ مدت ہے۔ آپ نے کم سنی ہی میں فتویٰ نویسی کا آغاز کیا اور تقریباً نصف صدی سے زائد عرصے تک مسلمانوں کے شرعی مسائل کا جواب دیتے رہے۔ آپ کا پہلا باقاعدہ فتویٰ۴۱ شعبان۶۸۲۱ھ کو، تیرہ برس دس ماہ اور چند دن کی عمر میں تحریر ہوا، جبکہ آپ کا وصال۵۲ صفر۰۴۳۱ھ میں ہوا۔ اس اعتبار سے آپ کی زندگی کا نصف صدی سے زائد حصہ افتا اور فقہی رہنمائی کی خدمت میں گزرا۔ یہ مدت محض وقت کا ایک طویل فاصلہ نہیں؛ یہ علمی استقامت کی ایک پوری داستان ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک روزانہ نئے سوالات، نئے واقعات، نئے حالات اور نئے فقہی پہلوؤں کا سامنا کرنا، پھر ہر مسئلے کو تحقیق و تدقیق کے مراحل سے گزار کر جواب دینا، کسی معمولی علمی مشغلے کا نام نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اعلیٰ حضرت کے لیے فقہ کوئی وقتی سرگرمی نہ تھی؛ وہ ان کی علمی زندگی کا مستقل محور اور امت کی رہنمائی کا بنیادی ذریعہ تھی۔

دوسری فقہی خصوصیت: فتاویٰ میں وسعت، تنوع اور عالمگیریت

          اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ کا دوسرا نمایاں امتیاز وسعت اور تنوع ہے۔ آپ کی خدمت میں آنے والے سوالات کسی ایک طبقے، ایک علاقے یا ایک خاص نوعیت کے مسائل تک محدود نہ تھے۔ دنیا کے مختلف خطوں سے استفتائات موصول ہوتے، مختلف معاشرتی حالات سے متعلق سوالات پیش کیے جاتے، اور ان میں عام مسلمانوں سے لے کر ماہر علمائ تک سب شامل ہوتے۔

          کبھی سوال مختصر ہوتا اور چند سطروں میں جواب کا متقاضی؛ کبھی مسئلہ ایسا ہوتا کہ اس کی تحقیق کے لیے متعدد فقہی کتابوں، احادیث، شروح اور اصولی مباحث کی مراجعت ضروری ہوتی۔ کہیں طہارت و عبادات کے مسائل تھے، کہیں نکاح و طلاق کے پیچیدہ معاملات، کہیں تجارت و معاملات کے نئے مسائل، کہیں عقائد و عادات سے متعلق سوالات، اور کہیں ایسے پیش آمدہ مسائل جن کا براہِ راست جواب متداول صورت میں سامنے نہ آتا تھا۔ یوں اعلیٰ حضرت کا دفترِ افتا ایک ایسے وسیع علمی مرکز کی صورت اختیار کر گیا جہاں زمانے کے مختلف گوشوں سے سوالات آتے اور فقہِ حنفی کی روشنی میں ان کا حل تلاش کیا جاتا۔ یہی تنوع آپ کی فقہی دسترس کا ایک روشن ثبوت ہے؛ کیونکہ فقاہت صرف چند ابواب میں مہارت کا نام نہیں، بلکہ شریعت کے مختلف شعبوں کو ایک جامع نظر سے سمجھنے کا نام ہے۔

تیسری فقہی خصوصیت: فتاویٰ رضویہ کا غیر معمولی علمی حجم

          اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی عظمت کا سب سے نمایاں مظہر فتاویٰ رضویہ ہے۔ تاریخِ فقہ میں فتاویٰ کے مجموعے پہلے بھی مرتب ہوئے؛ فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ تاتارخانیہ اور فتاویٰ بزازیہ جیسے عظیم ذخائر اسلامی فقہی روایت کا حصہ ہیں۔ تاہم فتاویٰ رضویہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ہی فقیہ کی طویل علمی زندگی کے دوران مختلف اوقات، مختلف علاقوں اور مختلف نوعیت کے پیش آمدہ مسائل کے جوابات ایک عظیم فقہی مجموعے کی شکل میں محفوظ ہوگئے۔ یہاں فتاویٰ کے دو معروف مفاہیم میں فرق بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔ فقہی روایت میں بعض کتابیں فقہی مسائل اور ائمہ کے اقوال کی تدوین و شرح پر مشتمل ہیں، جبکہ بعد کے ادوار میں مفتیانِ کرام سے پیش آمدہ سوالات کے جوابات جمع کرکے بھی ’’فتاویٰ‘‘ کے نام سے مستقل مجموعے مرتب ہوئے۔ اعلیٰ حضرت کا فتاویٰ رضویہ اسی دوسرے مفہوم میں آپ کی نصف صدی سے زائد علمی و افتائی زندگی کا عظیم الشان ثمر ہے۔

          موجودہ معروف تدوین میں فتاویٰ رضویہ متعدد ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے، اور اس میں فقہ کے تقریباً تمام اہم ابواب سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ اس کی ضخامت کو محض صفحات کی کثرت سمجھنا درست نہیں؛ اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ اس کے اندر استدلال، تحقیق، تطبیق، تخریج، تنقیح اور فقہی جزئیات کا ایک وسیع جہان آباد ہے۔ یوں فتاویٰ رضویہ کو اعلیٰ حضرت کی فقاہت کا صرف ’’مجموعہ‘‘ کہنا شاید اس کی علمی حیثیت کو پوری طرح ادا نہ کرے؛ یہ دراصل ان کی فقہی فکر کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ان کے علمی منہج، استنباطی قوت اور فقہی بصیرت کے بے شمار نقوش یکجا نظر آتے ہیں۔

چوتھی فقہی خصوصیت: مشکل اور نئے مسائل میں اجتہادی بصیرت

          اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت کا سب سے دل کش پہلو یہ ہے کہ آپ صرف پہلے سے منقول مسائل کے حافظ نہ تھے؛ بلکہ نئے پیش آمدہ مسائل کو قدیم فقہی اصولوں کی روشنی میں حل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس کی ایک روشن مثال کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت کا مسئلہ ہے۔ اعلیٰ حضرت کے زمانے میں کاغذی کرنسی کا استعمال ایک نسبتاً نیا معاشی مسئلہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوا کہ شرعی اعتبار سے نوٹ کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ محض ایک تحریری دستاویز ہے، کسی مال کی رسید ہے، یا خود مال و ثمن کی کوئی مستقل حیثیت رکھتا ہے؟ اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں میں زکوٰۃ، مہر، سرقہ اور ضمان جیسے مسائل بھی پیدا ہوتے تھے۔ اسی سلسلے میں مکہ مکرمہ کے علمائ کی جانب سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوالات کیے گئے۔ آپ نے اس موضوع پر ۴۲۳۱ھ میں ایک مستقل رسالہ ’’کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم‘‘ تحریر فرمایا، جس میں کاغذی نوٹ کے متعلق سوالات کا فقہی اصولوں کی روشنی میں تفصیلی جواب دیا گیا۔ یہ رسالہ بعد میں فتاویٰ رضویہ کی جلد ۱۷ میں شامل ہوا۔

          یہاں اعلیٰ حضرت کی فقاہت کا ایک نہایت اہم وصف سامنے آتا ہے: نیا مسئلہ آیا، مگر اصول نئے نہیں بنائے گئے؛ قدیم فقہی ذخیرے ہی سے نئے واقعے کا حکم دریافت کیا گیا۔ یہی فقاہت کی روح ہے۔ فقیہ زمانے کے بدلنے سے شریعت کو نہیں بدلتا، بلکہ شریعت کے ثابت اصولوں کی روشنی میں بدلتے ہوئے زمانے کے مسائل کا حکم واضح کرتا ہے۔ اس رسالے میں اعلیٰ حضرت نے فقہی کتب کے دقیق مباحث سے استدلال کرتے ہوئے نوٹ کی شرعی حیثیت پر گفتگو کی۔ ان کے استدلال کی قوت کا ایک معروف واقعہ یہ بھی نقل ہوا ہے کہ مکہ مکرمہ کے مفتیِ حنفیہ مولانا عبداللہ صدیق نے حرم کی کتب خانہ میں اس رسالے کا مطالعہ کرتے ہوئے جب ایک اہم فقہی دلیل دیکھی تو سابقہ موقف کے حوالے سے تعجب کا اظہار کیا کہ ایسی واضح فقہی بنیاد پر توجہ کیوں نہ دی گئی۔

          یہ واقعہ اعلیٰ حضرت کی فقاہت کے ایک نہایت اہم راز کی طرف اشارہ کرتا ہے: بسا اوقات دلیل موجود ہوتی ہے، کتاب سامنے ہوتی ہے، فقہی عبارت پڑھی بھی جاتی ہے؛ مگر اس عبارت کو نئے واقعے پر منطبق کرنے کے لیے جس نگاہِ فقاہت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہر شخص کے پاس نہیں ہوتی۔ اعلیٰ حضرت کے کمال کا ایک بڑا حصہ اسی تطبیقی بصیرت میں تھا۔ چنانچہ ان کی فقاہت کا دائرہ محض ’’کیا لکھا ہے؟‘‘ تک محدود نہ تھا؛ وہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ ’’اس لکھے ہوئے اصول کا اس نئے واقعے پر انطباق کیسے ہوگا؟‘‘ یہی سوال ایک حافظِ مسائل اور صاحبِ فقاہت کے درمیان خطِ امتیاز کھینچ دیتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ میں ہمیں ایک طرف فقہ کی صدیوں پرانی علمی روایت پوری قوت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے، تو دوسری طرف اپنے عہد کے نئے مسائل کا زندہ اور مؤثر حل بھی۔ ان کا قلم ماضی کا امین بھی تھا اور حال کا رہنما بھی۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی کتب و رسائل

          اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت کا اندازہ صرف ان کے فتاویٰ کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان کے قلم سے نکلنے والے ان علمی شاہکاروں سے بھی ہوتا ہے جن میں فقہ کے مختلف گوشوں، پیش آمدہ مسائل اور دقیق شرعی مباحث پر مستقل تحقیقات موجود ہیں۔ آپ کی تصانیف میں کہیں فقہِ حنفی کے متون و شروح کی گہرائیوں میں اترنے کا منظر ملتا ہے، کہیں جدید معاشی مسئلے کا شرعی حل سامنے آتا ہے، کہیں ہندوستان کی شرعی حیثیت زیرِ بحث آتی ہے اور کہیں فلکیاتی و شرعی مسئلے کو نصوص اور فقہی اصولوں کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے۔ ان۴۳۱فقہی تصنیفات میں سے چند اہم تصانیف یہ ہیں:

۱۔ فتاویٰ رضویہ :  فقہِ حنفی کا عظیم علمی انسائیکلوپیڈیا

          فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی زندگی کا سب سے عظیم علمی ثمر ہے۔ اس کا اصل نام ’’العطایا النبویۃ فی الفتاویٰ الرضویۃ‘‘ ہے۔ اس میں ہزاروں شرعی مسائل کے جوابات، دلائل، فقہی جزئیات، احادیث، اقوالِ فقہائ اور اصولی مباحث جمع ہیں۔ جدید مطبوعہ دنیا میں اس کی۰۳ جلدوں کی تدوین معروف ہے، جبکہ بعض ایڈیشن ۲۳ جلدوں میں بھی شائع ہوئے ہیں۔ یوں یہ مجموعہ ایک فرد کے نصف صدی سے زائد علمی سفر کا ایسا فقہی ذخیرہ ہے جس میں فقہِ حنفی کی صدیوں پر پھیلی روایت اور اپنے عہد کے پیش آمدہ مسائل ایک ہی علمی افق پر جمع ہوگئے ہیں۔

۲۔ جد الممتار علی رد المحتار

          ’’جد الممتار علی رد المحتار‘‘ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا علامہ ابن عابدین شامی کی شہرئہ آفاق کتاب رد المحتار پر عظیم علمی حاشیہ ہے۔ اس میں فقہِ حنفی کے دقیق اور مشکل مباحث کی توضیح، شامی کی عبارات کی تحقیق، فقہی جزئیات کی تنقیح اور مختلف اقوال کے مابین ترجیح و تطبیق کے نہایت نفیس نمونے ملتے ہیں۔ یہ کتاب اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اعلیٰ حضرت محض فتاویٰ نقل کرنے والے فقیہ نہیں، بلکہ فقہی ذخیرے کے ناقد، محقق اور شارح بھی تھے۔ یہ تصنیف عربی میں ہے اور متعدد جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔

۳۔ کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم

          ’’کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم‘‘ اعلیٰ حضرت کی فقہی بصیرت کا ایک روشن مظہر ہے۔ اس میں کاغذی کرنسی کے بارے میں علمائِ مکہ مکرمہ کے بارہ سوالات کے تحقیقی جوابات دیے گئے ہیں۔ یہ رسالہ۴۲۳۱ھ میں تحریر ہوا اور اس میں ایک نئے معاشی مسئلے کو قدیم فقہی اصولوں کی روشنی میں سمجھنے اور اس پر حکمِ شرعی منطبق کرنے کی غیر معمولی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔ یوں یہ رسالہ بتاتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کی فقاہت صرف منقول مسائل تک محدود نہ تھی، بلکہ بدلتے ہوئے معاشی حالات کے شرعی احکام کی تعیین میں بھی ان کی نظر نہایت گہری تھی۔

۴۔ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ

          ’’الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ‘‘ اگرچہ براہِ راست فقہی ابواب کی کتاب نہیں، لیکن اعلیٰ حضرت کی علمی جامعیت، قوتِ استدلال اور نصوص کے دقیق فہم کا ایک غیر معمولی شاہکار ہے۔ اس میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علمِ غیب کے مسئلے پر قرآن و حدیث اور عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں نہایت وسیع بحث کی گئی ہے۔ اس تصنیف کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں اعلیٰ حضرت نے عقائدی مسئلے کو محض جذباتی انداز میں نہیں بلکہ منظم استدلال، نصوص کے باہمی ربط اور علمی تحقیق کے ساتھ پیش کیا۔

۵۔ اعلام الاعلام بأن ہندستان دار الاسلام

          ’’اعلام الاعلام بأن ہندستان دار الاسلام‘‘ میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے برصغیر کی شرعی حیثیت کے ایک نہایت اہم اور حساس مسئلے کو فقہِ حنفی کے اصولوں کی روشنی میں واضح کیا۔ دارالاسلام اور دارالحرب کی فقہی اصطلاحات کو محض سیاسی حالات کے تابع سمجھنے کے بجائے ان کے شرعی معیارات اور فقہی اصولوں کی روشنی میں بحث کی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کی فقاہت محض عبادات و معاملات کے محدود دائرے تک نہ تھی، بلکہ وہ مسلم معاشرے کی اجتماعی، سیاسی اور معاشرتی صورتِ حال کو بھی فقہی اصولوں کے میزان پر پرکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یوں یہ رسالہ برصغیر کے مسلمانوں کو اپنے دینی تشخص، معاشرتی وقار اور شرعی مقام کے فہم میں ایک اہم علمی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

۶۔ نطق الہلال بأرّخ ولاد الحبیب والوصال

          چاند اور قمری تاریخ کے مباحث سے متعلق اعلیٰ حضرت کی علمی کاوشوں میں ’’نطق الہلال بأرّخ ولاد الحبیب والوصال‘‘ قابلِ ذکر ہے۔ اس میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ اور وصالِ اقدس کی تاریخ کے تعین کے سلسلے میں قمری حساب، تاریخی روایات اور ہلال سے متعلق مباحث کو تحقیق کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ رسالہ اس بات کی مثال ہے کہ اعلیٰ حضرت تاریخی و فلکیاتی معلومات کو بھی شرعی اور تحقیقی مسائل کے ساتھ مربوط کرکے دیکھتے تھے۔ یہ تصنیف۷۱۳۱ھ میں لکھی گئی۔

          ان تصانیف پر ایک مجموعی نظر ڈالی جائے تو اعلیٰ حضرت کی فقاہت کا ایک نہایت خوب صورت نقش سامنے آتا ہے: فتاویٰ رضویہ میں امت کے روزمرہ اور پیش آمدہ مسائل کا وسیع ذخیرہ ہے، جد الممتار میں فقہی متون کی گہرائیوں میں اترنے والی تحقیقی نگاہ ہے، کفل الفقیہ الفاہم میں جدید معاشی مسئلے کی شرعی تحلیل ہے، الدولۃ المکیۃ میں نصوص اور استدلال کی غیر معمولی قوت ہے، اعلام الاعلام میں اجتماعی و سیاسی حالات پر فقہی تطبیق ہے، اور نطق الہلال میں تاریخ، ہلال اور قمری حساب کے باہمی تعلق کی تحقیقی جستجو۔

          یوں اعلیٰ حضرت کی تصانیف ایک ہی حقیقت کی مختلف تصویریں بن جاتی ہیں: وہ فقیہ جو ماضی کے فقہی ذخیرے کا امین بھی تھا اور اپنے عہد کے نئے سوالات کا جواب دینے والا مجتہدانہ ذہن بھی۔ ان کا قلم جہاں قدیم متون کے غبار کو جھاڑ کر ان کے اندر چھپے ہوئے فقہی جواہر سامنے لاتا ہے، وہیں زمانے کے نئے سوالات کو شریعت کے ابدی اصولوں کے سامنے لاکر ان کا حکم بھی متعین کرتا ہے۔ یہی وہ جامع فقہی بصیرت ہے جس نے اعلیٰ حضرت کو محض ایک مفتی نہیں بلکہ ایک فقہی مرجع اور علمی دبستان کی حیثیت عطا کی۔

فتاویٰ رضویہ کی عصری معنویت: ایک فقہی انسائیکلوپیڈیا

          اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی خدمات کا ذکر فتاویٰ رضویہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت کی فقہی بصیرت کا وہ عظیم الشان مظہر ہے جس میں ان کی پوری افتائی زندگی کی علمی جولانیاں سمٹ آئی ہیں۔ یہ محض سوالات کے جوابات کا مجموعہ نہیں، بلکہ فقہِ حنفی کے وسیع دامن میں انسانی زندگی کے بے شمار گوشوں کو سمیٹنے والا ایک ایسا فقہی انسائیکلوپیڈیا ہے جس کے صفحات پر فرد بھی نظر آتا ہے، معاشرہ بھی؛ مسجد بھی ہے، بازار بھی؛ عبادت بھی ہے، معاملات بھی؛ حقوق بھی ہیں اور ذمہ داریاں بھی۔

          انسانی زندگی کسی ایک دائرے کا نام نہیں۔ اس کے شب و روز میں عبادات کے ساتھ معاملات، معاشرت کے ساتھ تجارت، نکاح و طلاق کے ساتھ وراثت، مالیات کے ساتھ اقتصادیات، انفرادی مسائل کے ساتھ اجتماعی معاملات اور روحانی زندگی کے ساتھ مادی ضروریات بھی شامل ہیں۔ فتاویٰ رضویہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انسانی زندگی کے ان مختلف پہلوؤں کو فقہی نگاہ سے دیکھا اور ان کے شرعی احکام کو تفصیل، تحقیق اور استدلال کے ساتھ واضح کیا۔ طہارت و نماز سے لے کر روزہ و حج تک، نکاح و طلاق سے لے کر وراثت و معاملات تک، تجارت و مالیات سے لے کر معاشرتی و اجتماعی مسائل تک فقہ کے متعدد ابواب اس عظیم ذخیرے میں اپنی پوری وسعت کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔

          اس کی عصری معنویت کا راز یہی ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فقہ کو محض ماضی کے واقعات کی تشریح تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنے عہد کے زندہ مسائل کو فقہی اصولوں کے سامنے رکھ کر ان کا حکم دریافت کیا۔ جب زمانہ بدلا، معاملات کی صورتیں بدلیں، تجارت کے نئے طریقے سامنے آئے، مالی نظام میں تبدیلیاں آئیں اور معاشرتی زندگی نے نئی کروٹیں لیں تو اعلیٰ حضرت کا فقہی قلم ان نئے سوالات سے بے نیاز نہیں رہا۔ انہوں نے قدیم فقہی اصولوں کی روشنی میں نئے حالات کا جائزہ لیا اور یوں فقہ کو زندگی سے مربوط رکھنے کی ایک روشن مثال قائم کی۔

          یہی وجہ ہے کہ فتاویٰ رضویہ کو صرف ایک تاریخی کتاب سمجھ کر الماری کی زینت بنا دینا اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ ایسا علمی سرمایہ ہے جس سے آج بھی علمائ، مفتیانِ کرام، طلب? علومِ دینیہ، محققین اور فقہ کے طالب علم استفادہ کرتے ہیں۔ برصغیر کے علمی حلقوں سے لے کر دنیا کے مختلف خطوں میں قائم دینی مراکز تک، اعلیٰ حضرت کے فقہی ذخیرے کو مسائل کے مطالعے، فقہی تحقیق اور حوالہ جاتی کام میں دیکھا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے فتاویٰ رضویہ کی معنویت کو صرف قومی سطح تک محدود کرنا بھی اس کے دائر? اثر کو محدود کرنا ہوگا۔ اس کے مباحث میں موجود فقہی اصول، استدلالی منہج اور تفصیلی تحقیقات آج بھی ایسے طالبِ علم کے لیے علمی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں جو فقہِ حنفی کے وسیع ذخیرے کو سمجھنا چاہتا ہو۔ یوں یہ کتاب ایک عہد کی علمی یادگار سے بڑھ کر کئی ادوار کے لیے قابلِ استفادہ فقہی مرجع کی صورت اختیار کرچکی ہے۔

          فتاویٰ رضویہ کی سب سے بڑی عصری خوبی شاید یہی ہے کہ اس میں زندگی اور شریعت کے درمیان وہ رشتہ نمایاں ہوتا ہے جسے اعلیٰ حضرت نے اپنی فقہی بصیرت سے قائم رکھا۔ شریعت ان کے یہاں صرف ماضی کے مسائل کا محفوظ دفتر نہیں؛ وہ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی رہنمائی کرنے والا نظام ہے۔ اسی لیے فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ سوالات اگرچہ مختلف زمانوں کے ہیں، مگر ان کے پس منظر میں موجود انسانی ضرورتیں آج بھی بڑی حد تک وہی ہیں: عبادت کیسے درست ہو؟ معاملات کیسے پاکیزہ ہوں؟ تجارت میں حلال و حرام کی حد کہاں ہے؟ مالی حقوق کیسے ادا ہوں؟ خاندان کے حقوق و فرائض کیا ہیں؟ اور ایک مسلمان اپنی روزمرہ زندگی کو شریعت کے مطابق کیسے ڈھالے؟

          یہی وہ مقام ہے جہاں فتاویٰ رضویہ ایک کتاب سے بڑھ کر ایک علمی دنیا بن جاتا ہے۔ اس دنیا میں فقہ محض صفحات پر درج احکام نہیں بلکہ زندگی کے مختلف گوشوں میں جاری ایک زندہ رہنمائی ہے۔ اس کے صفحات میں ماضی کی فقہی روایت بھی محفوظ ہے اور حال کے لیے رہنمائی کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ لہٰذا فتاویٰ رضویہ کی عصری معنویت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فقہِ حنفی کی ایک عظیم الشان علمی دستاویز، انسانی زندگی کے متنوع مسائل کا وسیع فقہی ذخیرہ اور اعلیٰ حضرت کی فقہی بصیرت کا زندہ نشان ہے۔ وقت کے اوراق پلٹتے رہیں گے، مسائل کی صورتیں بدلتی رہیں گی، سوالات کے انداز تبدیل ہوتے رہیں گے؛ مگر جب تک فقہِ حنفی کے اصولوں کی روشنی میں زندگی کے نئے سوالات کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت باقی ہے، فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ اور اس کے فقہی منہج سے استفادہ بھی جاری رہے گا۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ فتاویٰ رضویہ اپنے عہد کا فقہی انسائیکلوپیڈیا تھا، مگر اس کی علمی افادیت کسی ایک عہد کی پابند نہیں؛ یہ آج بھی فقہی تحقیق کے افق پر ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔

رسائلِ رضویہ: فقہی خدمات کی ایک جامع توضیح

          فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی بصیرت کا ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا ہے، لیکن اعلیٰ حضرت کی علمی شخصیت کا دائرہ صرف فتاویٰ تک محدود نہیں۔ ان کی قلمی خدمات کا ایک وسیع اور گراں قدر حصہ ان مستقل رسائل میں بھی محفوظ ہے جو مختلف اوقات میں مختلف علمی و شرعی ضرورتوں کے تحت تحریر کیے گئے۔ انہی رسائل و تصانیف کے مجموعی ذخیرے کو رسائلِ رضویہ کے نام سے مرتب کیا گیا ہے، جو متعدد جلدوں میں شائع ہوا ہے اور اس کی معروف تدوین ۲۵ جلدوں پر مشتمل ہے۔ 

          رسائلِ رضویہ کو اگر فتاویٰ رضویہ کا لفظی ’’شرح‘‘ کہا جائے تو یہ تعبیر پوری طرح درست نہ ہوگی؛ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ رسائلِ رضویہ، فتاویٰ رضویہ میں جلوہ گر اعلیٰ حضرت کی علمی و فقہی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ موضوعات میں سمجھنے اور ان کی تفصیلات تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں جہاں مسائل سوال و جواب اور تفصیلی فقہی استدلال کے انداز میں سامنے آتے ہیں، وہیں رسائلِ رضویہ میں متعدد موضوعات مستقل رسائل کی صورت میں زیادہ مرکوز اور مخصوص انداز سے زیرِ بحث آتے ہیں۔ رسائلِ رضویہ کے ۲۵ جلدوں پر مشتمل اس وسیع ذخیرے میں اعلیٰ حضرت کی علمی زندگی کے مختلف رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔ کہیں فقہی مسئلہ ہے، کہیں حدیث کی تحقیق؛ کہیں عقائد کی توضیح ہے، کہیں بدعات و رسوم کی اصلاح؛ کہیں معاشرتی معاملات کا شرعی حکم ہے، کہیں نئے پیش آمدہ مسئلے کا فقہی حل۔ اس اعتبار سے یہ مجموعہ اعلیٰ حضرت کے علمی افق کی وسعت کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ان کی تصنیفی قوت اور تحقیق و استدلال کی مختلف جہتیں بیک وقت نظر آتی ہیں۔

          اس کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ بہت سے مستقل رسائل کسی ایک مخصوص مسئلے کو مرکز بنا کر اس کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ یوں قاری کو کسی مسئلے کی محض سطحی معلومات نہیں ملتیں، بلکہ اس کے پس منظر، دلائل، فقہی اصول اور متعلقہ جزئیات کا بھی علم حاصل ہوتا ہے۔ یہی طرزِ تحقیق اعلیٰ حضرت کی فقہی شخصیت کا ایک اہم امتیاز ہے کہ وہ کسی مسئلے کو محض ایک حکم کے طور پر بیان کرنے پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ جہاں ضرورت ہو وہاں اس کے علمی مبادی اور استدلالی بنیادوں کو بھی واضح فرماتے ہیں۔

          اگر فتاویٰ رضویہ ایک وسیع فقہی انسائیکلوپیڈیا ہے تو رسائلِ رضویہ اسی علمی دنیا کے مختلف ابواب پر پڑنے والی ایسی روشنی ہے جو مخصوص مسائل کو قریب سے دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں فقہی منظرنامہ اپنی پوری وسعت کے ساتھ سامنے آتا ہے، جبکہ رسائلِ رضویہ میں متعدد موضوعات پر اعلیٰ حضرت کی تحقیق زیادہ مرکوز صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ اسی لیے رسائلِ رضویہ کو اعلیٰ حضرت کی فقہی خدمات کا ایک دوسرا عظیم الشان علمی مظہر کہا جاسکتا ہے۔ یہ مجموعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کا قلم صرف سوال کا جواب دینے کے لیے نہیں اٹھتا تھا؛ جب کسی مسئلے کی علمی اہمیت تقاضا کرتی تو وہ اسے مستقل موضوع بنا کر اس کی تحقیق فرماتے، اس کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتے اور فقہی اصولوں کی روشنی میں اس کا حکم متعین کرتے۔

          یوں فتاویٰ رضویہ اور رسائلِ رضویہ کو ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو اعلیٰ حضرت کی فقہی خدمات کی تصویر مزید مکمل ہوجاتی ہے۔ ایک طرف مسائلِ امت کا وسیع فقہی انسائیکلوپیڈیا، دوسری طرف مخصوص موضوعات پر مستقل علمی تحقیقات؛ ایک طرف سوالات کے جوابات کا بحرِ ذخار، دوسری طرف اسی علمی سمندر سے نکلنے والے مستقل تحقیقی جواہر۔ یہی دونوں مل کر اعلیٰ حضرت کی فقہی عظمت اور علمی وسعت کا ایک ایسا نقش پیش کرتے ہیں جس کی معنویت آج بھی برقرار ہے۔

آج کے فقہا کے لیے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے رہنمائی

          اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی خدمات کا مطالعہ صرف ماضی کے ایک عظیم فقیہ کی علمی عظمت سے واقف ہونے کے لیے نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے فقہا اور مفتیانِ کرام کے لیے ایک زندہ علمی درس بھی ہے۔ آج جب انسانی زندگی کے دائرے میں نت نئے مسائل جنم لے رہے ہیں، تجارت اور مالیات کی صورتیں بدل رہی ہیں، طب و سائنس نئی صورتیں پیش کر رہی ہیں، ٹیکنالوجی نے معاملات کے انداز تبدیل کر دیے ہیں اور معاشرتی زندگی نئے سوالات اٹھا رہی ہے، ایسے وقت میں اعلیٰ حضرت کا فقہی منہج ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نئے مسائل کا جواب محض جذبات سے نہیں، بلکہ گہری علمی بصیرت، اصولی پختگی اور ذمہ دارانہ استدلال سے دیا جاتا ہے۔

          اعلیٰ حضرت کی فقہی شخصیت سے سب سے پہلی رہنمائی علم کی وسعت اور تخصص کی ملتی ہے۔ آپ نے فتویٰ نویسی کو محض چند فقہی کتابیں پڑھ لینے کا نتیجہ نہیں سمجھا، بلکہ قرآن و حدیث، اصولِ فقہ، فقہی متون و شروح، عربی زبان و ادب، لغت اور دیگر علوم میں غیر معمولی دسترس حاصل کی۔ اس سے عصرِ حاضر کے فقیہ کے لیے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ فتویٰ ایک دینی امانت ہے؛ اس کے لیے صرف مسئلہ یاد ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کے مصادر، اصول، علت اور اطلاق کو سمجھنا ضروری ہے۔

          دوسری اہم رہنمائی تحقیق و تدقیق ہے۔ اعلیٰ حضرت کے ہاں کسی مسئلے کا جواب محض کسی سابقہ عبارت کو نقل کردینے سے مکمل نہیں ہوجاتا تھا۔ وہ عبارت کے ماخذ تک پہنچتے، مختلف نسخوں اور روایات کو دیکھتے، اقوال کا تقابل کرتے، دلائل کی قوت کو پرکھتے اور پھر حکم بیان کرتے۔ اس لیے آج کے فقیہ کے لیے اعلیٰ حضرت کا علمی منہج یہ پیغام دیتا ہے کہ فتویٰ تحقیق کے بعد ہو، تاثر کے بعد نہیں؛ دلیل کی بنیاد پر ہو، محض مشہور بات کی بنیاد پر نہیں۔ تیسری رہنمائی نص اور واقعے کے درمیان صحیح تطبیق ہے۔ فقہ کا حسن یہی ہے کہ وہ شریعت کے ثابت اصولوں کو زندگی کے بدلتے ہوئے حالات پر منطبق کرتی ہے۔ اعلیٰ حضرت کے ہاں یہ وصف نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ کاغذی کرنسی جیسے نئے معاشی مسئلے پر ان کی تحقیق اس بات کی مثال ہے کہ فقیہ کو نئے واقعے سے گھبرانا نہیں چاہیے اور نہ ہی قدیم فقہی ذخیرے سے بے نیاز ہونا چاہیے؛ بلکہ دونوں کے درمیان ایک مضبوط علمی پل قائم کرنا چاہیے۔

          چوتھی رہنمائی فقہی تراث سے گہرا ربط ہے۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے اجتہادی ذوق کو فقہِ حنفی کی صدیوں پر محیط علمی روایت سے جدا نہیں کیا۔ متون، شروح، حواشی اور فقہی فروع ان کے استدلال کا سرمایہ تھے۔ اس سے آج کے فقیہ کو یہ سبق ملتا ہے کہ جدید مسائل کے حل کے لیے جدید معلومات ضروری ہیں، مگر ان معلومات کو شرعی حکم میں تبدیل کرنے کے لیے اصولِ فقہ اور فقہی تراث کی مضبوط بنیاد بھی ناگزیر ہے۔ پانچویں رہنمائی اختلاف کے آداب ہیں۔ فقہی مسائل میں اختلاف ایک علمی حقیقت ہے، لیکن اعلیٰ حضرت کے فقہی اسلوب میں دلیل، تحقیق اور علمی گفتگو کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ آج کے دور میں، جب علمی اختلاف کبھی شخصی نزاع کی شکل اختیار کرلیتا ہے، اعلیٰ حضرت کا تحقیقی مزاج یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کو علمی میزان پر رکھا جائے؛ شخصیتوں کے بجائے دلائل کا جائزہ لیا جائے اور حق کی تلاش کو اپنی علمی جدوجہد کا مقصد بنایا جائے۔

          چھٹی اور نہایت اہم رہنمائی فتویٰ میں احتیاط اور ذمہ داری ہے۔ مفتی کا قلم عام قلم نہیں؛ اس سے نکلنے والا ایک جملہ کسی شخص کی عبادت، تجارت، نکاح، طلاق، وراثت یا معاشرتی زندگی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت کی طویل افتائی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ فتویٰ دینا محض علمی قدرت کا اظہار نہیں بلکہ شرعی ذمہ داری بھی ہے۔ اس لیے عصرِ حاضر کے فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ جلد بازی سے بچے، مسئلے کی مکمل صورت سمجھے، سوال کے پس منظر کو جانے اور پھر شریعت کے اصولوں کی روشنی میں جواب دے۔ ساتویں رہنمائی عصر کے مسائل سے باخبر رہنا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے عہد کے نئے مسائل سے صرف اس لیے کنارہ نہیں کیا کہ وہ پہلے فقہی کتابوں میں اسی صورت میں موجود نہیں تھے۔ یہی فقاہت کی زندہ روح ہے۔ آج کے فقہا کے سامنے ڈیجیٹل تجارت، آن لائن معاملات، جدید مالیاتی نظام، مصنوعی اعضا، طبی ترقیات، نئی معاشرتی صورتیں اور بے شمار دیگر مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ حضرت کا منہج ہمیں بتاتا ہے کہ فقیہ کو ایک طرف شرعی اصولوں کا امین ہونا چاہیے اور دوسری طرف اپنے زمانے کے حالات کا باخبر ناظر بھی۔

          یوں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی میراث آج کے فقیہ کے لیے محض ماضی کا محفوظ سرمایہ نہیں، بلکہ طریقہ کار کا ایک روشن نمونہ ہے۔ ان سے یہ سیکھا جاسکتا ہے کہ فقاہت صرف کثرتِ معلومات کا نام نہیں؛ یہ نصوص کے فہم، اصولوں کی معرفت، جزئیات پر نظر، حالات کا ادراک، تحقیق کی دیانت اور حکمِ شرعی کی ذمہ دارانہ ترجمانی کا نام ہے۔

          اگر آج کا فقیہ اعلیٰ حضرت کے علمی منہج سے یہ چند اصول اخذ کرلے گہرائی کے ساتھ علم، تحقیق کے ساتھ استدلال، اصول کے ساتھ تطبیق، تراث کے ساتھ ربط، عصر کے ساتھ آگہی اور فتویٰ میں تقویٰ و احتیاط—تو فقہ ماضی کی کتابوں میں محفوظ ایک علمی ورثہ بن کر نہیں رہے گی، بلکہ عصرِ حاضر کے انسان کی رہنمائی کرنے والی ایک زندہ اور متحرک قوت کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ یہی اعلیٰ حضرت کی فقہی میراث کا سب سے بڑا پیغام ہے کہ زمانہ بدل سکتا ہے، مسائل کی صورتیں بدل سکتی ہیں، سوالات کے عنوانات بدل سکتے ہیں؛ لیکن فقیہ کی علمی ذمہ داری نہیں بدلتی: وہ ہر نئے سوال کو شریعت کے ابدی اصولوں کی روشنی میں دیکھے، تحقیق کرے، سمجھے اور پھر حق کی امانت پوری دیانت کے ساتھ لوگوں تک پہنچائے۔

خاتمہ

          اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی خدمات کا مطالعہ ہمیں صرف ایک عظیم فقیہ کی علمی عظمت سے روشناس نہیں کراتا، بلکہ عصرِ حاضر کے لیے ایک واضح علمی و فقہی لائحہ عمل بھی عطا کرتا ہے۔ آج کے فقہا اور مفتیانِ کرام کے لیے اعلیٰ حضرت کا منہج یہ پیغام رکھتا ہے کہ قرآن و سنت سے مضبوط وابستگی، فقہی تراث کا گہرا مطالعہ، اصولِ فقہ میں پختگی، تحقیق و تدقیق کی عادت، جدید حالات سے واقفیت اور فتویٰ میں تقویٰ و احتیاط یہ سب فقاہت کے ناگزیر تقاضے ہیں۔

          آج جب انسانی زندگی نت نئی صورتوں سے دوچار ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ کو صرف تبرکاً پڑھنے کے بجائے ان کے فقہی منہج کو سمجھا جائے، ان کے استدلال کے اصولوں کا مطالعہ کیا جائے اور انہی اصولی بنیادوں پر عصرِ حاضر کے نئے مسائل کا شرعی حل تلاش کیا جائے۔ یہی ان کی فقہی میراث سے حقیقی استفادہ ہوگا۔ ان کی تصانیف ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ فقہ ماضی کی محفوظ یادگار نہیں، بلکہ شریعت کے ابدی اصولوں کی روشنی میں بدلتے ہوئے حالات کی رہنمائی کا نام ہے۔

          اعلیٰ حضرت نے اپنے قلم سے ایک ایسا علمی چراغ روشن کیا جس کی روشنی ان کے عہد کی سرحدوں سے آگے نکل گئی۔ فتاویٰ رضویہ ہو یا ان کے گراں قدر رسائل، ان میں محفوظ فقہی بصیرت آج بھی اہلِ علم کے لیے تحقیق، استدلال اور رہنمائی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس خزانے کو محض عقیدت کی نگاہ سے نہ دیکھیں، بلکہ علمی بصیرت کے ساتھ پڑھیں، سمجھیں اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے مربوط کریں۔ اور آخر میں ہم سنی، بلا مبالغہ، بلا غلو اور حدِ اعتدال سے تجاوز کیے بغیر یہ فخر سے کہتے ہیں:

وادیِ رضا کے کوہِ ہمالہ رضا کا ہے

جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے

 

مراجع و مصادر

۱۔  امام احمد رضا خان بریلوی، فتاویٰ رضویہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، 2006ئ۔

۲۔  امام احمد رضا خان بریلوی، جد الممتار علی رد المحتار، مختلف ناشرین، 2013ئ۔

۳۔  امام احمد رضا خان بریلوی، کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم، 2005ئ۔

۴۔  محمد احمد مصباحی، امام احمد رضا کی فقہی بصیرت، المجمع الاسلامی، مبارک پور، اعظم گڑھ، 1993ئ۔

۵۔  محمد احمد اعظمی مصباحی، امام احمد رضا کی فقہی بصیرت: جد الممتار کے آئینے میں، المجمع الاسلامی، 1993ئ۔

۶۔  محمد ظفرالدین بہاری، حیاتِ اعلیٰ حضرت، جلد اول، مرکز اہل سنت برکات رضا، گجرات، 2003ئ۔

۷۔  محمد ظفرالدین بہاری، حیاتِ اعلیٰ حضرت، جلد دوم، مرکز اہل سنت برکات رضا، گجرات، 2003ئ۔

 ۸۔  بدرالدین احمد قادری، سوانح حضرت امام احمد رضا، نوری بک ڈپو، لاہور، 2022ئ۔

۹۔  مفتی محمد قاسم عطاری، اعلیٰ حضرت کی اعلیٰ باتیں، کراچی: مکتبۃ المدینہ، 2022ئ۔

۰۱۔  امام احمد رضا خان بریلوی، الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ، بیروت: دار الامام یوسف النبھانی، 2023ئ۔

 

 تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری

رابطہ نمبر: 9037099731 
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com

 

تبصرے