ہم آزادی کا جشن کیوں منائیں؟
میں بحیثیتِ ایک ہندوستانی، برسوں سے اس ملک کے حالات کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔ بالخصوص 2014ئ سے 2026ئ تک کا عرصہ میرے سامنے ہے۔ بلاشبہ یہ دور، خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کے لیے، امتحان، مشکلات، پریشانیوں اور مختلف النوع مصائب سے عبارت رہا ہے۔ بعض حالات ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ سوال ذہن میں ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم آزادی کا جشن کس بنیاد پر منائیں؟ یہ سوال محض جذباتی نہیں، بلکہ ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت سے میرے شعور، مشاہدے اور احساسِ ذمہ داری کا نتیجہ ہے۔
حالیہ برسوں میں، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت والی متعدد ریاستوں میں، مسلمانوں کو مختلف نوعیت کے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مدارس و مکاتب، مساجد، خانقاہوں، مزارات، اوقاف کی املاک اور قبرستانوں سے متعلق تنازعات نے ایک بڑے طبقے کے اندر بے چینی پیدا کی ہے۔ بعض مقامات پر انہدامی کارروائیوں، بعض جگہوں پر تجاوزات کے الزامات اور بعض مقامات پر مذہبی مقامات کی ملکیت سے متعلق تنازعات نے حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
یہ صورتِ حال صرف ایک
مذہبی طبقے کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہونی چاہیے؛ بلکہ ایک جمہوری ملک میں کسی
بھی شہری کے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور عزت و وقار پر سوال
اٹھے تو ہر انصاف پسند انسان کو فکر مند ہونا چاہیے۔
گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ
عرصے کے حالات پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان جذباتی، سماجی،
تعلیمی اور اقتصادی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض اوقات سیاسی
بیانات میں مسلمانوں کو ملک سے نکالنے یا انہیں پاکستان بھیجنے جیسے نعرے بھی
سنائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ آج مسلمانوں
کی ہندوستانی شہریت اور وفاداری پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ تاریخ کے ان ابواب کو کیوں
فراموش کر دیتے ہیں جن میں مسلمانوں نے اس ملک کی آزادی کے لیے بے مثال قربانیاں
پیش کیں؟
اگر ہم آزادیِ ہند کی
تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے
تحریکِ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی ان جلیل القدر
شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے 1857ئ کی جنگِ آزادی کے دوران انگریز اقتدار کے خلاف
مزاحمت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی جدوجہد اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کسی ایک مذہب، قوم یا طبقے کی تاریخ نہیں، بلکہ مختلف
طبقات کی مشترکہ جدوجہد کی تاریخ ہے۔
1857ئ کی جدوجہد میں ہندو،
مسلمان اور دیگر طبقات کے افراد نے اپنی اپنی حیثیت سے حصہ لیا۔ یہی مشترکہ جذبہ
آگے چل کر آزادی کی تحریک کے مختلف مراحل میں بھی نظر آتا ہے۔ اس لیے ہندوستان کی
آزادی کو کسی ایک طبقے کی میراث قرار دینا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہم مسلمان
اس چمن کے وفادار تھے، وفادار ہیں اور ہمیشہ وفادار رہیں گے۔ ہماری تاریخ اس
سرزمین کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسی احساس کی ترجمانی راحت
اندوری کے معروف اشعار میں یوں ہوتی ہے:
ہمارا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
لگے گی آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
یہ اشعار محض جذبات کا
اظہار نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: نفرت کی آگ کسی ایک گھر تک
محدود نہیں رہتی۔ اگر معاشرے میں مذہبی، لسانی یا طبقاتی نفرت کو ہوا دی جائے تو
بالآخر اس کی لپیٹ میں پورا ملک آتا ہے۔
آزادی کا مطلب کیا ہے؟
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا
ہوتا ہے: آزادی آخر ہے کیا؟ کیا صرف یہ کافی ہے کہ ایک ملک غیر ملکی حکمرانوں کے
قبضے سے آزاد ہو جائے؟ یا آزادی کا حقیقی مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے؟ میرے نزدیک
آزادی کا مطلب صرف جغرافیائی آزادی نہیں، بلکہ فکر، اظہار، تعلیم، مذہبی آزادی،
مساوات، انصاف، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت بھی ہے۔ اگر ایک شہری اپنے
مذہب پر عمل کرنے، اپنی بات کہنے، تعلیم حاصل کرنے، اپنے حقوق کے لیے پُرامن آواز
بلند کرنے یا قانون کے سامنے مساوی سلوک کی توقع رکھنے میں خوف محسوس کرے تو ہمیں
یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ آزادی کے اصل مقاصد کہاں تک حاصل ہوئے ہیں۔ ہم جسمانی
اعتبار سے آزاد ضرور ہیں، لیکن اگر ہماری سوچ تعصب، نفرت، اندھی تقلید اور سیاسی
تقسیم کی غلام بن جائے تو ہمیں اپنی ذہنی و فکری آزادی پر بھی غور کرنا ہوگا۔
تعلیم: نوجوانوں کا سب سے بڑا حق
کسی بھی قوم کی ترقی کی
بنیاد تعلیم ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں امتحانات، تعلیمی نظام، بے روزگاری، فیسوں اور
مقابلہ جاتی امتحانات سے متعلق مسائل نے لاکھوں نوجوانوں کو پریشان کیا ہے۔
امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے واقعات نے طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان پیدا کیے
ہیں۔ ایک طالب علم برسوں محنت کرتا ہے، اپنے والدین کی امیدوں کے ساتھ آگے بڑھتا
ہے، اور جب امتحان کے نظام کی کمزوری یا پرچے کے افشا ہونے سے اس کی محنت متاثر
ہوتی ہے تو اس کا نقصان صرف ایک طالب علم کا نقصان نہیں رہتا؛ بلکہ یہ پورے ملک کے
مستقبل کا نقصان بن جاتا ہے۔
اسی طرح جب نوجوان اپنے
جائز مطالبات کے لیے احتجاج کرتے ہیں تو ریاستی اداروں کا فرض ہے کہ ان کے ساتھ
تحمل، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق برتاؤ کریں۔ اختلافِ رائے کو جرم سمجھنا
جمہوری روح کے منافی ہے۔
کیا ترقی صرف دعووں کا نام ہے؟
ترقی یافتہ ملک ہونے کا
مطلب صرف بڑی عمارتیں، چند بڑے منصوبے یا عالمی سطح پر بڑے دعوے کرنا نہیں ہے۔
حقیقی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب عام شہری کی زندگی آسان ہو، تعلیم معیاری اور قابلِ
رسائی ہو، علاج کی سہولت عام آدمی تک پہنچے، روزگار کے مواقع بڑھیں، مہنگائی پر
قابو پایا جائے، کسان مطمئن ہو، مزدور باعزت زندگی گزار سکے اور نوجوان اپنے
مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں۔
اگر عام آدمی مہنگائی، بے
روزگاری، تعلیمی اخراجات، علاج کے بڑھتے ہوئے خرچ اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں سے
پریشان ہو تو ہمیں ترقی کے دعووں کے ساتھ زمینی حقیقت کو بھی دیکھنا ہوگا۔ پیٹرول،
گیس، خوراک، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں جب عام آدمی کے لیے
ناقابلِ برداشت ہو جائیں تو حکومت سے سوال کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ سوال کرنا ملک
دشمنی نہیں؛ بلکہ ایک زندہ جمہوریت کی علامت ہے۔
مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں
یہ بات بھی سمجھنے کی
ضرورت ہے کہ کسی ایک طبقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو صرف اسی طبقے کا مسئلہ
سمجھنا خطرناک ہے۔ اگر آج کسی مسلمان کے بنیادی حق کو پامال کیا جاتا ہے اور باقی
معاشرہ خاموش رہتا ہے تو کل یہی اصول کسی دوسرے شہری کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
اگر آج کسی ایک مذہب کے ماننے والے کی آزادی محدود ہوتی ہے تو کل کسی دوسرے مذہب،
زبان، ذات یا علاقے سے تعلق رکھنے والا شخص بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسی لیے ہندوستان کی اصل
طاقت اس کے تنوع میں ہے۔ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر طبقات اس ملک
کے برابر کے شہری ہیں۔ ہندوستان کسی ایک مذہب یا طبقے کی جاگیر نہیں؛ یہ ان تمام
لوگوں کا وطن ہے جو اس سرزمین کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
پھر ہم آزادی کا جشن کیوں منائیں؟
اب سوال کی طرف واپس آتے
ہیں: ہم آزادی کا جشن کیوں منائیں؟ میرا جواب یہ ہے کہ ہم آزادی کا جشن صرف اس لیے
نہیں مناتے کہ ہمارے ملک کو 1947ئ میں برطانوی اقتدار سے آزادی ملی تھی؛ ہم اس لیے
بھی جشن مناتے ہیں کہ آزادی ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کی یاد ہے، اور یہ ہمیں یاد
دلاتی ہے کہ ہمیں اس آزادی کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ آزادی کا جشن دراصل ایک عہد ہونا
چاہیے:
- کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
- کہ ہم مذہبی نفرت کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
- کہ ہم ہر شہری کے بنیادی حقوق کا احترام کریں گے۔
- کہ ہم تعلیم، انصاف اور مساوات کے لیے جدوجہد کریں گے۔
- کہ ہم اختلافِ رائے کو برداشت کریں گے۔
- کہ ہم ہندوستان کو کسی ایک مذہب کا نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کا وطن سمجھیں گے۔
ہمیں آزادی کے جشن کو صرف
جھنڈے لہرانے، تقریریں کرنے اور رسمی پروگراموں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ
بھی دیکھنا چاہیے کہ آزادی کے بنیادی مقاصد ہماری اجتماعی زندگی میں کس حد تک
موجود ہیں۔ اگر کہیں ناانصافی ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا بھی حب الوطنی ہے۔ اگر
کہیں ظلم ہے تو مظلوم کا ساتھ دینا بھی حب الوطنی ہے۔ اگر کہیں نفرت پھیلائی جا
رہی ہے تو محبت، اتحاد اور بھائی چارے کی دعوت دینا بھی حب الوطنی ہے۔ اور جو لوگ
آج اقتدار کے نشے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان صرف ان کا ہے، انہیں راحت اندوری
کا یہ شعر یاد رکھنا چاہیے:
جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
اقتدار عارضی ہے، لیکن ملک باقی رہتا ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر
وطن نسلوں تک قائم رہتا ہے۔ اس لیے کسی بھی حکمران، جماعت یا طبقے کو یہ حق نہیں
پہنچتا کہ وہ ہندوستان کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ ہم مسلمان اس ملک کے شہری ہیں۔
ہماری تاریخ اس سرزمین سے جڑی ہوئی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس کی آزادی کے لیے
قربانیاں دی ہیں، اور ہم آج بھی اس ملک کی ترقی، امن، استحکام اور خوش حالی چاہتے
ہیں۔
ہمیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔
ہمارا خون اس مٹی میں شامل
ہے، ہماری دعائیں اس ملک کے لیے ہیں، ہماری جدوجہد اس ملک کی بہتری کے لیے ہے، اور
ہمارا مستقبل بھی اسی ہندوستان سے وابستہ ہے۔ لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ہم آزادی کا
جشن کیوں منائیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس آزادی کو حقیقی معنوں میں کیسے محفوظ
رکھیں، کیسے مضبوط کریں، اور کیسے ایسا ہندوستان بنائیں جہاں کسی شہری کو اس کے
مذہب، ذات، زبان یا شناخت کی بنیاد پر خوف محسوس نہ ہو۔
ایسا ہندوستان جہاں آزادی
صرف کتابوں میں لکھی ہوئی ایک تاریخ نہ ہو، بلکہ ہر شہری کی زندگی میں محسوس ہونے
والی ایک حقیقت ہو۔ تب آزادی کا جشن بھی حقیقی ہوگا، اور ہندوستان بھی حقیقی معنوں
میں آزاد، جمہوری اور انصاف پسند ملک کہلانے کا مستحق ہوگا۔
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں