گیارہویں شریف اور جدید دور کے اخلاقی تقاضے
گیارہویں شریف حضرت غوثِ اعظم، شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کی یاد میں منعقد کی جانے والی ایک معروف مجلس ہے، جس میں اہلِ محبت و عقیدت آپ کی
سیرت، تعلیمات، دینی خدمات اور اوصاف کا ذکر کرتے ہیں، قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر و
درود، ایصالِ ثواب اور صدقہ و خیرات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اہلِ سنت و جماعت کے
حلقوں میں بزرگانِ دین کی یاد منانا، ان کی دینی خدمات کا تذکرہ کرنا اور ان کی
زندگی سے نیکی، تقویٰ اور اخلاص کے اسباق حاصل کرنا ایک اہم دینی و روحانی روایت
ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ کیا گیارہویں شریف صرف ایک
رسم کا نام ہے یا یہ ہماری عملی زندگی کو بدلنے کا بھی ایک ذریعہ ہے؟
اگر ہم غور کریں تو بزرگانِ دین کی یاد منانے کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے
کہ ہم ان کی زندگی کے روشن پہلوؤں کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ صرف ان کا
نام لینا، ان کے فضائل بیان کرنا، نیاز و فاتحہ کا اہتمام کرنا اور محفل میں عقیدت
کے جذبات کا اظہار کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ
کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد تو منائیں، لیکن
نماز کی پابندی نہ کریں، سچ بولنے سے گریز کریں، معاملات میں خیانت کریں، جھوٹ،
غیبت، چغلی اور بدگمانی میں مبتلا رہیں، والدین کے حقوق ادا نہ کریں، پڑوسیوں کو
تکلیف پہنچائیں اور لوگوں کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آئیں، تو ہمیں اپنے طرزِ عمل
پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوری زندگی تقویٰ،
عبادت، علم، اخلاص، سچائی، مجاہدہ اور اصلاحِ امت سے عبارت تھی۔ آپ نے لوگوں کو
اللہ تعالیٰ کی اطاعت، فرائض کی پابندی، حلال و حرام کی رعایت، سچائی، تقویٰ اور
اچھے اخلاق کی تعلیم دی۔ اس لیے اگر ہم واقعی غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
محبت کرتے ہیں تو ہمیں صرف ان کی یاد منانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ بھی
دیکھنا چاہیے کہ ہماری زندگی میں ان کی تعلیمات کا کتنا حصہ موجود ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم دین کی ظاہری اور رسمی چیزوں
میں تو بہت جوش دکھاتے ہیں، لیکن دین کے اخلاقی اور عملی تقاضوں سے دور ہوتے جا
رہے ہیں۔ ہم گیارہویں شریف بڑے ذوق و شوق سے مناتے ہیں، لیکن نماز کے وقت ہماری
مصروفیات ختم نہیں ہوتیں۔ ہم غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت کے واقعات شوق
سے سنتے ہیں، لیکن اپنے کاروبار میں سچائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم
ان کی کرامتیں اور فضائل بیان کرتے ہیں، لیکن ان کی تقویٰ بھری زندگی سے سبق لینے
کی کوشش نہیں کرتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے دینی شعور کا محاسبہ کرنے کی
ضرورت ہے۔
گیارہویں شریف ہمیں سب سے پہلے نماز کا سبق دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز
کو دین کا بنیادی فریضہ قرار دیا ہے۔ بزرگانِ دین کی زندگیوں میں عبادت اور فرائض
کی پابندی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ لہٰذا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد
منانے والا مسلمان اگر نماز میں سستی کرتا ہے تو اسے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے
کہ میں جس بزرگ کی محبت کا دعویٰ کر رہا ہوں، کیا میں ان کی عبادت و تقویٰ کی روش
اختیار کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہوں؟ محفل میں غوثِ اعظم کا نام لینا آسان ہے،
لیکن فجر کے وقت بستر چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا محبت کا عملی امتحان
ہے۔
گیارہویں شریف ہمیں سچائی کا سبق بھی دیتی ہے۔ حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ
تعالیٰ عنہ کی سیرت میں صدق و حق گوئی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ آج ہمارا معاشرہ جھوٹ
کے مختلف انداز سے متاثر ہے۔ معمولی بات میں جھوٹ، کاروبار میں جھوٹ، وعدے میں
جھوٹ، رشتوں میں جھوٹ، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں، دوسروں کے بارے میں بغیر تحقیق
کے باتیں پھیلانا اور اپنی غلطی چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ اگر
ہم غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد میں مجلس منعقد کرتے ہیں تو ہمیں یہ عہد
بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زبان کو جھوٹ سے پاک رکھنے کی کوشش کریں گے۔
گیارہویں شریف ہمیں غیبت اور چغلی سے بچنے کا سبق بھی دیتی ہے۔ آج موبائل
فون اور سوشل میڈیا نے انسان کی زبان کو ایک نئی طاقت دے دی ہے۔ پہلے ایک شخص کی
بات چند لوگوں تک پہنچتی تھی، آج ایک پیغام چند سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ
سکتا ہے۔ اس لیے آج زبان کی حفاظت کے ساتھ انگلیوں اور موبائل کی حفاظت بھی ضروری
ہے۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا غیبت ہے، لوگوں کے درمیان فساد پیدا
کرنے والی باتیں پہنچانا چغلی ہے، اور بغیر تحقیق کے کسی خبر کو آگے بڑھانا بھی
ایک سنگین اخلاقی ذمہ داری ہے۔ قرآنِ کریم نے غیبت سے سختی سے منع کیا ہے۔ لہٰذا
جو شخص بزرگانِ دین کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے، اسے اپنی زبان اور اپنے سوشل میڈیا
دونوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔
گیارہویں شریف ہمیں حسنِ اخلاق کا درس دیتی ہے۔ دین صرف عبادات کا مجموعہ
نہیں بلکہ انسانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ بھی دین کا اہم حصہ ہے۔ آج ایک شخص مسجد میں
عبادت کرتا ہے، نوافل پڑھتا ہے، دینی محفلوں میں شریک ہوتا ہے، لیکن گھر میں بیوی،
بچوں، والدین یا بہن بھائیوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرتا ہے۔ کسی غریب کو حقیر
سمجھتا ہے، کسی کمزور کا مذاق اڑاتا ہے، ملازم کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے اور پڑوسی
کو تکلیف دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ کے نیک بندوں کی محبت کا اثر ہمارے
اخلاق میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بھی اسی پیغام کا حصہ ہے۔ آج کا جدید دور سہولتوں
کا دور ہے، مگر بعض اوقات انہی سہولتوں نے انسان کو اپنے والدین سے دور کر دیا ہے۔
موبائل ہاتھ میں ہے، دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ ہے، لیکن والدین کے پاس بیٹھنے کا
وقت نہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کے لیے محبت بھرے الفاظ موجود ہیں، لیکن گھر میں
والدین کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ بزرگانِ دین
کی سیرت ہمیں کس قسم کا انسان بنانا چاہتی ہے۔
گیارہویں شریف ہمیں حلال روزی اور دیانت داری کا سبق بھی دیتی ہے۔ آج معاشی
زندگی میں دھوکا، ملاوٹ، جھوٹے وعدے، ناپ تول میں کمی، ناجائز منافع، رشوت اور
امانت میں خیانت جیسے مسائل موجود ہیں۔ کوئی شخص محفل میں نعت پڑھ سکتا ہے، نیاز
تقسیم کر سکتا ہے اور بزرگانِ دین کا ذکر کر سکتا ہے، لیکن اگر اس کی کمائی حرام
طریقے سے حاصل ہوتی ہے تو اسے اپنی زندگی کا سنجیدگی سے محاسبہ کرنا چاہیے۔ نیک
لوگوں کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عبادت کے ساتھ معاملات کی پاکیزگی بھی ضروری
ہے۔
گیارہویں شریف ہمیں امانت اور وعدے کی پابندی کا سبق بھی دیتی ہے۔ آج وعدہ
کرنا آسان اور وعدہ پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کسی سے قرض لیا تو واپسی میں
ٹال مٹول، کسی سے کام کا وعدہ کیا تو لاپروائی، کسی کی امانت لی تو اس کی حفاظت
میں کوتاہی۔ حالانکہ مسلمان کی پہچان ہی امانت، دیانت اور وعدے کی پاسداری سے ہونی
چاہیے۔
گیارہویں شریف ہمیں دوسروں کے حقوق کا احساس بھی دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے
حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق بھی اہم ہیں۔ ہم اپنے لیے عزت چاہتے ہیں تو دوسروں کو
بھی عزت دینی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری غلطیوں کو معاف کریں تو ہمیں بھی
دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے عیب نہ
اچھالے تو ہمیں بھی دوسروں کے عیب تلاش نہیں کرنے چاہئیں۔ یہی حقیقی اصلاح ہے۔
آج کے جدید دور میں ایک اور بڑا اخلاقی تقاضا سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ
استعمال ہے۔ مسلمان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ مسجد میں اپنی زبان کو قابو میں
رکھے؛ اسے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر ذرائعِ ابلاغ پر بھی اپنی زبان
اور انگلیوں کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ کسی کی تصویر کا مذاق بنانا، جھوٹی خبر
پھیلانا، کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا، بغیر تحقیق کے الزام لگانا، دوسروں کی نجی
زندگی میں مداخلت کرنا اور نفرت انگیز گفتگو کو عام کرنا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔
اگر غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیمات ہمیں اللہ کی طرف لے جاتی ہیں تو
ہماری آن لائن زندگی بھی اسی اخلاق کی عکاسی کرنی چاہیے۔
گیارہویں شریف ہمیں اختلاف کے باوجود ادب سکھاتی ہے۔ آج معمولی اختلاف بھی
دشمنی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مذہبی، سیاسی، سماجی اور فکری اختلافات میں لوگ ایک
دوسرے کی عزت بھول جاتے ہیں۔ مسلمان کو اختلاف کرتے وقت بھی زبان کی حفاظت کرنی
چاہیے۔ اپنے موقف کو دلیل کے ساتھ بیان کرنا چاہیے، لیکن دوسرے انسان کی عزت پامال
نہیں کرنی چاہیے۔ بزرگانِ دین کی مجلسوں کا مقصد لوگوں کو جوڑنا اور اصلاح کرنا
تھا، اس لیے ان کی یاد کے نام پر نفرت، گالی، تحقیر اور باہمی فساد کو فروغ دینا
ان کی تعلیمات کے مقصد سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ گیارہویں شریف کا اصل فائدہ اسی وقت ہوگا جب
یہ ہمارے اندر تبدیلی پیدا کرے گی۔ اگر گیارہویں شریف کے بعد ہماری نماز بہتر
ہوجائے، قرآن سے تعلق مضبوط ہوجائے، زبان جھوٹ اور غیبت سے محفوظ ہوجائے، والدین
کے ساتھ ہمارا رویہ بہتر ہوجائے، کاروبار میں دیانت آجائے، پڑوسی ہمارے اخلاق سے
محفوظ ہوجائے، غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے ہمارے دل میں رحم پیدا ہوجائے اور ہم
اپنے گناہوں سے توبہ کرنے لگیں تو یہ یاد منانا ہمارے لیے حقیقی اصلاح کا ذریعہ بن
سکتا ہے۔
ہمیں بزرگوں کی محبت کو صرف جذبات تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ محبت کا ایک
تقاضا اتباع بھی ہے۔ اگر ہم کسی بزرگ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں ان کی
زندگی سے یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیسے تعلق رکھتے تھے؟ نماز کے
بارے میں ان کا کیا رویہ تھا؟ علم کے ساتھ ان کا تعلق کیسا تھا؟ لوگوں کے ساتھ ان
کا برتاؤ کیسا تھا؟ سچائی، تقویٰ، صبر، تواضع، سخاوت اور خدمتِ خلق میں ان کا کیا
مقام تھا؟ پھر ہمیں اپنی زندگی کو ان معیاروں پر پرکھنا چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گیارہویں شریف کو صرف ایک سالانہ تقریب کے طور پر
نہ دیکھا جائے بلکہ اسے اپنے اخلاقی اور روحانی محاسبے کا موقع بنایا جائے۔ اس دن
ہم صرف یہ نہ دیکھیں کہ کتنے لوگوں نے محفل میں شرکت کی، کتنی نیاز تقسیم ہوئی اور
کتنے چراغ روشن ہوئے؛ بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ ہماری زندگی میں کتنا نور پیدا ہوا۔
ہماری نمازوں میں کتنا اہتمام آیا، ہماری زبان کتنی پاک ہوئی، ہمارے معاملات کتنے
درست ہوئے، ہمارے دل میں غریبوں کے لیے کتنی محبت پیدا ہوئی اور ہمارے کردار میں
کتنی تبدیلی آئی۔
حقیقت یہ ہے کہ بزرگانِ دین کی یاد کا سب سے خوب صورت حق یہی ہے کہ ان کی
نیکیوں کو یاد کرنے کے ساتھ اپنی زندگی کو بھی نیکی کی طرف لے جایا جائے۔ ہم غوثِ
اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر محفل سجائیں، ان کے فضائل بیان کریں، ان کے
لیے ایصالِ ثواب کریں اور ان سے محبت کا اظہار کریں، یہ سب اپنی جگہ محبت کے مظاہر
ہیں؛ لیکن اس محبت کا سب سے روشن ثبوت یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پابندی
کریں، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے محبت کریں، اپنے اخلاق کو
سنواریں اور مخلوقِ خدا کے لیے خیر اور رحمت کا ذریعہ بنیں۔
لہٰذا آج جب ہم گیارہویں شریف منائیں تو ہمیں اپنے دل سے ایک سوال ضرور
کرنا چاہیے: کیا ہم صرف غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد منا رہے ہیں، یا ان
کی زندگی سے کچھ سیکھ بھی رہے ہیں؟ اگر ہماری نمازیں کمزور ہیں تو ہمیں نماز کی
طرف واپس آنا ہوگا۔ اگر ہماری زبان جھوٹ اور غیبت میں مبتلا ہے تو اسے روکنا ہوگا۔
اگر ہمارے معاملات میں خیانت ہے تو امانت داری اختیار کرنی ہوگی۔ اگر والدین ہم سے
ناراض ہیں تو ان کی خدمت کرنی ہوگی۔ اگر ہم پڑوسیوں کو تکلیف دیتے ہیں تو اپنے
رویے کو بدلنا ہوگا۔ اگر سوشل میڈیا پر ہماری زبان بے قابو ہے تو اسے شریعت اور
اخلاق کے تابع کرنا ہوگا۔
یہی گیارہویں شریف کا وہ عملی پیغام ہے جس کی آج کے دور میں سب سے زیادہ
ضرورت ہے: بزرگانِ دین کی محبت صرف زبان پر نہ ہو، بلکہ کردار میں بھی نظر آئے؛ ان
کا ذکر صرف محفل میں نہ ہو، بلکہ ان کی تعلیمات ہماری روزمرہ زندگی میں بھی زندہ
ہوں۔
ہمیں غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد مناتے ہوئے یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، سچائی، امانت، پاکیزگی، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور حقوق العباد کی ادائیگی سے آراستہ کریں گے۔ کیونکہ بزرگوں کی حقیقی یاد وہی ہے جو انسان کو غفلت سے نکال کر عمل کی طرف لے جائے، زبان کے دعوے سے کردار کی حقیقت تک پہنچائے اور محفل کے چند گھنٹوں سے نکل کر پوری زندگی کو بدلنے کا ذریعہ بن جائے۔
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں