کلثوم بانو! تیری جرأتِ ایمانی کو سلام
یہ زمانہ عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سائنس و ٹیکنالوجی کی چکاچوند، جدید تعلیم کی دوڑ، مادّی ترقی کی اندھی خواہش اور دنیاوی کامیابیوں کا شور ہے، تو دوسری طرف دینی اقدار، حیا، عفت اور اسلامی تشخص پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ آج بہت سے لوگ معمولی دنیاوی مفاد کے لیے اپنے اصولوں، اپنی تہذیب اور یہاں تک کہ اپنے دین تک کا سودا کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ایسے پُرفتن ماحول میں جب بے پردگی کو آزادی، حیا کو پسماندگی اور دینی احکام پر عمل کو قدامت پسندی سمجھا جانے لگا ہے، ایک مسلمان کے لیے اپنے ایمان اور اسلامی شناخت پر ثابت قدم رہنا یقیناً کسی جہاد سے کم نہیں۔ خصوصاً مسلمان خواتین کے لیے حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل، حیا و عفت کی حفاظت اور اسلامی تشخص کا روشن عنوان ہے۔ یہ وہ تاجِ عزت ہے جس نے صدیوں سے مسلمان عورت کو وقار، احترام اور انفرادیت عطا کی ہے۔ مگر افسوس کہ آج بعض حلقوں کی جانب سے حجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مسلم خواتین کو مختلف طریقوں سے اس سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں جب کوئی مسلمان بیٹی دنیاوی مفادات، تعلیمی مواقع یا معاشرتی دباؤ کے مقابلے میں اپنے دین اور حجاب کو ترجیح دیتی ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتی بلکہ پوری امت کی بیٹی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک زندہ مثال بن جاتی ہے۔
تاریخِ انسانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی باطل نے حق کے چراغ کو بجھانے کی کوشش کی، اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے اور بندیاں پیدا فرمائیں جنہوں نے اپنے کردار اور استقامت سے یہ ثابت کر دیا کہ ایمان نہ تو دباؤ کے سامنے جھکتا ہے اور نہ ہی دنیاوی مفادات کے ہاتھوں فروخت ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے عمل سے آنے والی نسلوں کے لیے راہِ ہدایت متعین کرتے ہیں اور معاشرے کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ عزت و سربلندی کا حقیقی معیار دولت، شہرت یا منصب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دین پر ثابت قدمی ہے۔
موجودہ دور میں جبکہ مادّی کامیابی کو زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا دیا گیا ہے، نوجوان نسل خصوصاً طلبہ و طالبات مختلف قسم کے فکری اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہیں۔ تعلیم، ملازمت اور کیریئر کے نام پر بعض اوقات ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں جن میں ایک مسلمان کو اپنی دینی شناخت اور دنیاوی مفادات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ ایسے نازک مواقع پر وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے ایمان کو ہر دوسری چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔ راجستھان کی باہمت مسلم طالبہ کلثوم بانو کا واقعہ اسی حقیقت کا ایک روشن نمونہ ہے۔
کلثوم بانو نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ ایمان کی روشنی آج بھی دلوں میں زندہ ہے، حیا کا چراغ آج بھی فروزاں ہے اور دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والی بیٹیاں آج بھی اس امت کا سرمایہ ہیں۔ ان کا واقعہ محض ایک طالبہ کی ذاتی زندگی کا واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو ہر اُس مسلمان تک پہنچنا چاہیے جو کسی نہ کسی سطح پر اپنے دین اور دنیا کے درمیان کشمکش کا سامنا کر رہا ہے۔
حال ہی میں منعقد ہونے والے نیٹ (NEET) امتحان میں شرکت کے لیے کلثوم بانو بھی ہزاروں دیگر طلبہ کی طرح اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے امتحانی مرکز پہنچیں۔ ان کے ذہن میں بھی ایک روشن مستقبل، اعلیٰ تعلیم اور اپنے مقاصد کے حصول کی امیدیں تھیں۔ لیکن وہاں پیش آنے والے ایک واقعے نے اس امتحان کو محض تعلیمی امتحان نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایمان، حیا اور دینی تشخص کی آزمائش میں تبدیل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ امتحانی مرکز میں ان سے کہا گیا کہ اگر وہ امتحان میں شریک ہونا چاہتی ہیں تو انہیں اپنا نقاب یا حجاب ہٹانا ہوگا۔ بظاہر یہ ایک انتظامی شرط تھی، لیکن ایک باعمل مسلمان لڑکی کے لیے یہ معاملہ محض ایک رسمی تقاضا نہیں تھا بلکہ اس کی دینی شناخت اور اس کے اصولوں سے وابستہ مسئلہ تھا۔ اسی لیے یہ لمحہ ان کی زندگی کا ایک غیر معمولی امتحان بن گیا۔
اس موقع پر ان کے سامنے دو راستے موجود تھے۔ ایک راستہ وہ تھا جو بظاہر آسان دکھائی دیتا تھا؛ یعنی وقتی طور پر سمجھوتہ کر لیا جائے، امتحان دیا جائے اور مستقبل کی راہ میں آنے والی رکاوٹ کو ختم کر دیا جائے۔ دوسرا راستہ وہ تھا جس میں ظاہری مشکلات تو موجود تھیں لیکن اس کے ساتھ اپنے دینی اصولوں پر ثابت قدمی بھی تھی۔ بہت سے لوگ ایسے مواقع پر مصلحت کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کلثوم بانو نے جس حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ واقعی قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا حکم، ان کی حیا اور ان کی اسلامی شناخت کسی بھی دنیاوی کامیابی سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے لیے تعلیم اہم تھی، مستقبل اہم تھا اور ترقی کی خواہش بھی فطری تھی، لیکن ان تمام چیزوں کی اہمیت اس وقت ثانوی ہو گئی جب معاملہ دین اور دینی شناخت کا سامنے آیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جو ان کے کردار کو ایک عام طالبہ کے کردار سے ممتاز کرتا ہے۔
کلثوم بانو کا یہ موقف کسی جذباتی ردِّعمل یا وقتی جوش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس یقین کا اظہار تھا جو ایک مسلمان کے دل میں اپنے رب کے احکام کے بارے میں ہونا چاہیے۔ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ انسان زندگی کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے، خواہ اس کے لیے وقتی مشکلات ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کسی خوف، دباؤ یا مصلحت کے بغیر اپنے اصولی موقف پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جو انسان کی شخصیت، کردار اور ایمان کا اصل معیار بن جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان کے دعووں اور اس کے عمل کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔ کلثوم بانو کے سامنے بھی ایسا ہی ایک مرحلہ تھا۔ ایک طرف ایک اہم قومی امتحان اور اس سے وابستہ خواب تھے، جبکہ دوسری طرف ان کا حجاب، ان کی حیا اور ان کا دینی تشخص تھا۔ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ایک مؤمن کی نظر صرف دنیاوی کامیابیوں پر نہیں ہوتی بلکہ وہ ہر قدم پر اپنے رب کی رضا کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے۔
ان کے اس فیصلے نے نہ صرف ان کی ذاتی استقامت کو نمایاں کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ اگر انسان اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی مثال بن جاتا ہے۔ آج جب بہت سے نوجوان مختلف قسم کے فکری دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، کلثوم بانو کا کردار انہیں یہ سکھاتا ہے کہ وقتی فائدہ ہمیشہ حقیقی کامیابی نہیں ہوتا۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جو انسان کو اپنے ضمیر، اپنے عقیدے اور اپنے رب کے سامنے سرخرو کر دے۔ ان کی ثابت قدمی کے نتیجے میں بالآخر متعلقہ حکام نے ان کے موقف کا احترام کیا اور انہیں حجاب کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت مل گئی۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ تھا، لیکن اس کے پسِ منظر میں ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے۔ یہ سبق یہ ہے کہ جب بندہ خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے حکم پر قائم رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے راستے پیدا فرما دیتا ہے جن کا وہ خود بھی تصور نہیں کر سکتا۔
یہ واقعہ صرف ایک طالبہ کی کامیابی نہیں بلکہ اس حقیقت کا عملی اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وفادار بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ جو شخص اس کی رضا کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی، عزت اور کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اسی لیے کلثوم بانو کا یہ کردار محض ایک تعلیمی واقعہ نہیں بلکہ ایمان، استقامت اور دینی غیرت کی ایک زندہ مثال بن چکا ہے۔ اسی نقطۂ نظر سے جب ہم اس واقعے کا مزید گہرائی کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں تو اس میں استقامتِ ایمانی، توکل علی اللہ اور عصرِ حاضر کی مسلم خواتین کے لیے متعدد اہم اسباق پوشیدہ نظر آتے ہیں، جن پر تفصیلی گفتگو اگلے حصے میں کی جائے گی۔
گزشتہ سطور میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک اہم تعلیمی موقع پر کلثوم بانو نے دنیاوی مفاد اور دینی تشخص کے درمیان انتخاب کرتے ہوئے اپنے ایمان اور حجاب کو ترجیح دی۔ بظاہر یہ ایک طالبہ کا ذاتی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پسِ منظر میں وہ عظیم صفات کارفرما تھیں جو ہر دور میں اہلِ ایمان کا امتیاز رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کا مطالعہ صرف ایک تعلیمی تنازعے کے طور پر نہیں بلکہ استقامتِ ایمانی، توکل علی اللہ اور دینی غیرت کے تناظر میں کیا جانا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا اصل امتحان آسائش اور سہولت کے ماحول میں نہیں ہوتا بلکہ اُس وقت ہوتا ہے جب انسان کو اپنے عقیدے اور اپنے مفاد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔ ایسے مواقع پر بہت سے لوگ حالات کے دباؤ، معاشرتی رجحانات یا وقتی مصلحتوں کے سامنے جھک جاتے ہیں، لیکن اہلِ ایمان کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اصولوں کو وقتی فائدوں پر قربان نہیں کرتے۔ کلثوم بانو کے سامنے بھی یہی صورتحال تھی۔ ایک طرف ایک ایسا امتحان تھا جس پر ان کے مستقبل کی کئی امیدیں وابستہ تھیں اور دوسری طرف ان کا حجاب اور دینی شناخت تھی۔ انہوں نے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، وہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ ایک مسلمان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی رضا ہر دوسری چیز پر مقدم ہونی چاہیے۔
قرآنِ کریم میں بار بار اہلِ ایمان کو استقامت اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے، کیونکہ استقامت ہی وہ صفت ہے جو انسان کو آزمائشوں کے درمیان ثابت قدم رکھتی ہے۔ بسا اوقات آزمائشیں مالی ہوتی ہیں، کبھی معاشرتی ہوتی ہیں اور کبھی نظریاتی۔ لیکن ہر آزمائش کا مقصد یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی کتنی اہمیت ہے۔ کلثوم بانو کا واقعہ بھی اسی حقیقت کی ایک عملی تصویر ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ واضح کر دیا کہ ایمان صرف چند رسمی عبادات کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترجیح دینے کا نام ہے۔
اگر تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حق پر ثابت قدم رہنے والوں نے ہمیشہ مشکلات کا سامنا کیا، مگر انہی لوگوں نے تاریخ کے صفحات پر عزت اور وقار حاصل کیا۔ انبیائے کرام علیہم السلام سے لے کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے صالحین تک، سب کی زندگیوں میں آزمائشیں آئیں، لیکن انہوں نے حق کا دامن نہیں چھوڑا۔ خصوصاً اسلامی تاریخ کی عظیم خواتین نے بھی حیا، عفت اور دین پر استقامت کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج تک امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ کلثوم بانو کا کردار اگرچہ ان تاریخی شخصیات کے مقام سے بہت مختلف ہے، لیکن ان کے عمل میں اسی استقامت اور دینی وابستگی کی جھلک نظر آتی ہے جو اہلِ ایمان کا خاصہ رہی ہے۔
اس واقعے کا دوسرا اہم پہلو توکل علی اللہ ہے۔ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب کو ترک کر دے، بلکہ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی تمام جائز کوششیں کرنے کے بعد اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور اس کی رحمت و حکمت پر کامل اعتماد رکھے۔ کلثوم بانو نے بھی امتحان میں شرکت کی تیاری کی، وقت پر امتحانی مرکز پہنچیں اور اپنی ذمہ داری پوری کی، لیکن جب ان کے سامنے ایک دینی مسئلہ آیا تو انہوں نے اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔
بظاہر حالات ان کے حق میں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ یہ امکان موجود تھا کہ وہ امتحان سے محروم ہو جائیں، ایک سال ضائع ہو جائے یا ان کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ پیدا ہو جائے، لیکن انہوں نے اپنے ایمان کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں توکل کا حقیقی حسن نمایاں ہوتا ہے۔ بندہ اسباب کو دیکھتا ضرور ہے، مگر اس کا اعتماد اسباب پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب، یعنی اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی استقامت کو ضائع نہیں ہونے دیا اور ان کے لیے آسانی کی صورت پیدا فرما دی۔
یہاں ایک اہم نکتہ قابلِ غور ہے کہ بعض لوگ دین اور دنیا کو ایک دوسرے کی ضد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اسلام نے کبھی بھی علم، تحقیق اور ترقی کی مخالفت نہیں کی۔ اسلام نے تو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے اور مسلمانوں کی علمی تاریخ اس کی روشن مثال ہے۔ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کو ترقی کے نام پر اپنے دینی اصولوں سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا جائے۔ ایسی صورت میں ایک مسلمان کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ وہ دین کو بنیاد بناتے ہوئے دنیاوی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ کلثوم بانو نے بھی یہی پیغام دیا کہ تعلیم اور ترقی مطلوب ہیں، لیکن ان کی قیمت اپنے ایمان اور دینی تشخص کی صورت میں ادا نہیں کی جا سکتی۔
آج کی مسلم طالبات کے لیے اس واقعے میں ایک نہایت اہم سبق موجود ہے۔ موجودہ دور میں تعلیمی اداروں، سوشل میڈیا اور مختلف فکری رجحانات کے ذریعے نوجوان نسل پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بعض اوقات دینی احکام کو فرسودہ اور اسلامی تشخص کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک مسلمان لڑکی کے لیے اپنی حیا، اپنے حجاب اور اپنی دینی وابستگی کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن کلثوم بانو کا کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر دل میں ایمان کی روشنی موجود ہو تو حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، انسان اپنے اصولوں پر قائم رہ سکتا ہے۔
یہ واقعہ والدین، اساتذہ اور سماج کے دیگر ذمہ دار افراد کے لیے بھی ایک پیغام رکھتا ہے۔ ہماری نئی نسل کو صرف تعلیمی کامیابیوں کے لیے تیار کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے اندر ایمان، کردار، خود اعتمادی اور دینی شعور بھی پیدا کرنا ضروری ہے۔ جب نوجوانوں کے دلوں میں اپنے دین کی محبت پیدا ہوگی تو وہ زندگی کے ہر میدان میں بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہوں گے۔ کلثوم بانو کی استقامت اس بات کا نتیجہ ہے کہ ان کے اندر اپنے دین کے بارے میں شعور اور وابستگی موجود تھی۔
اسی طرح مسلم خواتین کے لیے بھی اس واقعے میں ایک امید افزا پیغام پوشیدہ ہے۔ آج جب دنیا کے مختلف حصوں میں حجاب کے بارے میں بحثیں جاری ہیں اور مختلف انداز سے مسلم خواتین کو اپنی شناخت سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایسے میں کلثوم بانو جیسے کردار یہ ثابت کرتے ہیں کہ حجاب صرف ایک ظاہری علامت نہیں بلکہ ایک فکری وابستگی، دینی شعور اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے محبت کا اظہار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو خواتین اپنے حجاب کو اپنی شناخت سمجھتی ہیں، وہ اسے محض ایک رسم نہیں بلکہ اپنی عزت اور وقار کا حصہ تصور کرتی ہیں۔
اگر ہم مجموعی طور پر اس واقعے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک امتحانی مرکز میں پیش آنے والا واقعہ نہیں، بلکہ یہ عصرِ حاضر کے ایک بڑے فکری مسئلے کی علامت ہے۔ ایک طرف مادّی کامیابیوں کی دوڑ ہے اور دوسری طرف دینی اقدار کا تحفظ۔ ایسے حالات میں کلثوم بانو نے اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ ایک مسلمان کے لیے صحیح راستہ وہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا شامل ہو۔ دنیاوی کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کی اصل قدر اسی وقت ہے جب وہ انسان کو اپنے رب سے دور نہ کریں۔
بلاشبہ کلثوم بانو نے اپنے کردار سے یہ ثابت کر دیا کہ آج بھی ایسی بیٹیاں موجود ہیں جو اپنے دین پر فخر کرتی ہیں، اپنے حجاب کو عزت کا تاج سمجھتی ہیں اور اپنے ایمان کو دنیاوی مفادات پر ترجیح دینا جانتی ہیں۔ ان کا یہ عمل صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پوری امت کی بیٹیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے۔ ایسے کردار معاشروں میں امید پیدا کرتے ہیں، نوجوان نسل کو اعتماد دیتے ہیں اور یہ یاد دلاتے ہیں کہ حق پر قائم رہنے والے لوگ ہر دور میں موجود رہتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف کامیاب پیشہ ور نہیں بلکہ باکردار مسلمان بنانے کی فکر کریں۔ ہم انہیں یہ سکھائیں کہ ترقی اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ صحیح توازن کے ساتھ دونوں کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کی کامیابیاں عارضی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا، نیک کردار اور دین پر استقامت وہ دولت ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو کرتی ہے۔ کلثوم بانو کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب انسان خلوصِ نیت کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے حق کا ساتھ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے، اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور اسے دوسروں کے لیے مثال بنا دیتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
کلثوم بانو! تیری جرأتِ ایمانی، تیری حیا، تیرے توکل، تیری استقامت اور تیرے باوقار کردار کو سلام۔ تو نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ ایمان آج بھی زندہ ہے، حیا آج بھی زندہ ہے اور دینِ اسلام پر فخر کرنے والی بیٹیاں آج بھی اس امت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے دین و دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے اور تیرے اس عمل کو آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت، حوصلے اور استقامت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں