وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ تو دے دیا، مگر طلبہ کے زخموں کا مداوا کون کرے گا؟

 

 

وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ تو دے دیا، مگر طلبہ کے زخموں کا مداوا کون کرے گا؟

                   تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر کا بنیادی ستون، نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی ضمانت اور ریاست کی ترقی کا سب سے مضبوط سرمایہ ہوتی ہے۔ جب یہی نظام بے یقینی، بے اعتمادی اور انتظامی ناکامیوں کی زد میں آ جائے تو اس کے اثرات صرف امتحانی مراکز تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم کے مستقبل پر مرتب ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں سے امتحانات میں بے ضابطگیوں، پیپر لیک کے واقعات اور ان کے نتیجے میں لاکھوں طلبہ کو درپیش مشکلات نے ایک نہایت سنجیدہ قومی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان واقعات نے بے شمار نوجوانوں کی برسوں کی محنت کو مشکوک بنا دیا، والدین کی امیدوں کو متزلزل کیا اور تعلیم جیسے مقدس شعبے پر عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔

          حال ہی میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر اپنے جائز مطالبات کے لیے جمع ہونے والے طلبہ کے احتجاج نے بھی پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ احتجاج کے دوران طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات، سختی اور طاقت کے استعمال کی تصاویر اور خبریں عوامی سطح پر وسیع بحث کا موضوع بنیں۔ اگرچہ ہر واقعے کی حقیقت اور قانونی ذمہ داری کا تعین متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ایک طالب علم اپنی کتاب چھوڑ کر سڑک پر انصاف کی فریاد لے کر نکلنے پر مجبور ہو جائے تو یہ محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کے لیے لمحہ فکریہ بن جاتا ہے۔ 

          وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ بلاشبہ ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے، لیکن کیا صرف ایک استعفیٰ ان لاکھوں طلبہ کے دلوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی کو ختم کر سکتا ہے؟ کیا ان نوجوانوں کی ضائع شدہ محنت، ذہنی اذیت، مالی نقصان اور ٹوٹے ہوئے خواب صرف ایک عہدے کی تبدیلی سے واپس آ جائیں گے؟ کیا آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد نظام تشکیل دیا جائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، جو نقصان پہلے ہو چکا، اس کا ازالہ کس طرح ہوگا؟ آج ضرورت صرف چہروں کی تبدیلی کی نہیں بلکہ ایسے نظام کی ہے جو ہر طالب علم کو یہ یقین دلائے کہ اس کی محنت محفوظ ہے، اس کا مستقبل کسی بدعنوانی یا انتظامی غفلت کی نذر نہیں ہوگا، اور اس کے ساتھ ہر حال میں انصاف کیا جائے گا۔ کیونکہ جب قوم کا طالب علم غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تو درحقیقت پوری قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب صرف ایک استعفیٰ نہیں، بلکہ دیانت دار قیادت، شفاف نظام، مؤثر احتساب اور آئین کے مطابق بلاامتیاز انصاف ہی دے سکتا ہے۔

وزیر بدلنے سے نہیں، نظام بدلنے سے انصاف قائم ہوتا ہے

          کسی بھی جمہوری ریاست میں افراد سے زیادہ اہمیت اداروں اور نظام کی ہوتی ہے۔ وزراء آتے ہیں، جاتے ہیں، حکومتیں بنتی اور بدلتی رہتی ہیں، مگر اگر انصاف کا نظام کمزور ہو، احتساب صرف نعروں تک محدود ہو اور قانون کا نفاذ سب کے لیے یکساں نہ ہو، تو محض عہدوں کی تبدیلی سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلا کرتی۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ریاست اپنے ہر شہری کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائے کہ اس کے حقوق، اس کی عزت اور اس کے مستقبل کی حفاظت ہر حال میں قانون کے مطابق کی جائے گی۔ ہندوستان کا آئین بھی اسی تصور کی بنیاد پر قائم ہے۔ آئین کا آرٹیکل 14 ہر شہری کو قانون کے سامنے برابری کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 15 مذہب، ذات، نسل، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز سے روکتا ہے، آرٹیکل 21 ہر انسان کی باوقار زندگی اور شخصی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 21A بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ان آئینی دفعات کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کے ساتھ بلاامتیاز انصاف کرے اور کسی بھی شخص کو اس کے مذہب، ذات یا نظریے کی بنیاد پر کمتر یا برتر نہ سمجھے۔

          آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان میں انصاف کا معیار ہر فرد کے لیے ایک جیسا ہو۔ نہ کسی شہری کو اس کے مذہب کی وجہ سے خوف محسوس ہو، نہ کسی طالب علم کو اپنے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا سامنا کرنا پڑے، اور نہ ہی کسی نوجوان کو یہ احساس ہو کہ اس کی آواز صرف اس کی شناخت کی بنیاد پر کمزور سمجھی جائے گی۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں حکومت کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، مگر ریاستی ادارے آئین کے مطابق غیر جانب دار رہیں اور ہر شہری کو مساوی تحفظ فراہم کریں۔ 

          نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر ان کی توانائیاں تعلیم، تحقیق، اختراع اور کردار سازی میں صرف ہونے کے بجائے خوف، بے یقینی اور عدم اعتماد کی نذر ہو جائیں تو اس کا نقصان صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنے والی کئی نسلیں اس کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ اس لیے حکومتوں کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ نوجوانوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ صرف اپنی صلاحیت، محنت اور قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قومی ترقی نفرت، تقسیم اور باہمی بداعتمادی سے نہیں بلکہ عدل، مساوات اور اجتماعی اعتماد سے جنم لیتی ہے۔ جب ایک ہندو، ایک مسلمان، ایک سکھ، ایک عیسائی، ایک بدھ یا کسی بھی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والا شہری خود کو یکساں طور پر محفوظ محسوس کرے، تبھی آئین کی روح زندہ رہتی ہے اور تبھی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ انصاف اگر سب کے لیے ہے تو وہی انصاف ہے، اور اگر انصاف میں تفریق ہو تو پھر وہ انصاف نہیں بلکہ صرف ایک دعویٰ رہ جاتا ہے۔ لہٰذا آج بحث کسی ایک وزیر، ایک عہدے یا ایک سیاسی تبدیلی کی نہیں، بلکہ اس اصول کی ہونی چاہیے کہ کیا ہمارا نظام واقعی ہر ہندوستانی کو بلاامتیاز انصاف، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ جب تک اس سوال کا عملی جواب نہیں ملتا، تب تک کسی بھی تبدیلی کو مکمل کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

صرف حکومت نہیں، عوام بھی جواب چاہتے ہیں

          اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کسی بھی ملک کی بنیاد انصاف، مساوات اور مضبوط اداروں پر استوار ہوتی ہے، تو پھر یہ سوال بھی لازمی پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں عوام کے ذہنوں میں اتنی بے یقینی کیوں پیدا ہوئی؟ آخر وہ کون سے اسباب ہیں جنہوں نے کروڑوں ہندوستانیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں، اور ان کے سوالوں کا جواب دینے والا بھی کوئی نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں ملک نے مختلف شعبوں میں کئی اہم تبدیلیاں ضرور دیکھی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی نظام کی کمزوریاں، سماجی کشیدگی اور عوامی اعتماد میں کمی جیسے مسائل بھی مسلسل زیرِ بحث رہے ہیں۔ ایک جمہوری حکومت کی کامیابی کا معیار صرف بڑے منصوبوں کا اعلان نہیں ہوتا، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ عام شہری کی زندگی میں کتنا سکون، تحفظ اور اعتماد پیدا ہوا۔

          خاص طور پر نوجوان نسل کے حوالے سے یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ ایک طالب علم کی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اطمینان کے ساتھ تعلیم حاصل کرے، اپنی محنت کے مطابق کامیابی حاصل کرے اور اپنے والدین کے خواب پورے کرے۔ لیکن جب تعلیمی نظام پر سوالات اٹھنے لگیں، امتحانی عمل پر اعتماد متزلزل ہو اور نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی محسوس کریں تو یہ صرف انفرادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی تشویش بن جاتا ہے۔ اسی طرح عوام کے ذہنوں میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر بدعنوانی، انتظامی بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آئیں تو ان کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کیوں نہ ہوں؟ اگر کوئی بھی شخص، خواہ وہ کسی بھی جماعت یا عہدے سے تعلق رکھتا ہو، قانون سے بالاتر نہیں، تو پھر احتساب بھی بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے اور یہی آئین کا تقاضا بھی۔

          اس کے ساتھ ایک اور حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذہب، ذات، زبان یا برادری کی بنیاد پر پیدا ہونے والی نفرت کسی بھی ملک کو مضبوط نہیں بناتی۔ ہندوستان کی اصل طاقت ہمیشہ اس کا تنوع، اس کی گنگا جمنی تہذیب اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام رہی ہے۔ اگر سیاست کا محور خدمت کے بجائے تقسیم بن جائے تو نقصان کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوتا ہے۔ اسی لیے آج عوام حکومت سے صرف یہ نہیں پوچھ رہے کہ کون آیا اور کون گیا، بلکہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آئندہ کے لیے کیا بدلے گا؟ کیا ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا؟ کیا نوجوانوں کو ایسا ماحول ملے گا جہاں ان کی صلاحیت ہی ان کی پہچان ہوگی؟ کیا ہر ہندوستانی خود کو بلاخوف و خطر اس ملک کا برابر کا شہری محسوس کرے گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب محض بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دیا جا سکتا ہے۔

اعتماد کیسے بحال ہوگا؟

          ہر بحران اپنے پیچھے صرف نقصانات نہیں چھوڑتا بلکہ ایک ایسا سوال بھی چھوڑ جاتا ہے جو برسوں تک قوم کے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے۔ آج ملک کے لاکھوں طلبہ، ان کے والدین اور تعلیم سے وابستہ ہر شخص کے ذہن میں یہی سوال موجود ہے کہ آخر وہ کون سا عملی قدم اٹھایا جائے گا جس سے ٹوٹا ہوا اعتماد دوبارہ قائم ہو سکے۔ یقین دہانیوں اور بیانات سے وقتی اطمینان تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر پائیدار اعتماد ہمیشہ مضبوط اقدامات سے جنم لیتا ہے۔ کیا ملک کے نوجوان یہ یقین کر لیں کہ آئندہ ان کی برسوں کی محنت کسی انتظامی ناکامی یا بدعنوانی کی نذر نہیں ہوگی؟ کیا ہر امتحان مکمل شفافیت کے ساتھ منعقد ہوگا؟ کیا ہر امیدوار کو یہ احساس دلایا جائے گا کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کی قابلیت اور محنت پر منحصر ہوگی، نہ کہ کسی اور سبب پر؟

          جو نوجوان پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر اپنا قیمتی وقت، مواقع یا ذہنی سکون کھو چکے ہیں، ان کے لیے ریاست کی کیا ذمہ داری ہوگی؟ کیا ان کے نقصان کا کوئی جائزہ لیا جائے گا؟ کیا ان کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کوئی مؤثر حکمتِ عملی سامنے آئے گی؟ کیا ان کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کو محض ماضی کا ایک باب سمجھ کر بند کر دیا جائے گا، یا ان سے سبق سیکھ کر ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جو دوبارہ کسی نوجوان کو اسی آزمائش سے نہ گزارے؟ اسی طرح ایک اور بنیادی سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا آئندہ عوام کو یہ یقین دلایا جا سکے گا کہ ہر سرکاری ادارہ مکمل غیر جانب داری کے ساتھ اپنا فرض انجام دے گا؟ کیا انصاف کا معیار ہر شہری کے لیے یکساں ہوگا؟ کیا قانون کی عمل داری اس انداز میں نظر آئے گی کہ کسی بھی شخص کو یہ محسوس نہ ہو کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے؟

          یہ سوالات کسی حکومت کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک بہتر ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہیں۔ ایک ذمہ دار حکومت تنقید سے خوف زدہ نہیں ہوتی بلکہ عوام کے سوالات کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بناتی ہے۔ اسی طرح ایک باشعور قوم بھی جذبات کے بجائے حقائق، دیانت داری اور جواب دہی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگر واقعی ایک نئے دور کا آغاز مقصود ہے تو اس کا پہلا ثبوت عوام کے اعتماد کی بحالی ہوگا۔ جب ایک طالب علم پورے اطمینان کے ساتھ اپنی کتاب کھولے، ایک والدین اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہوں، اور ہر شہری یہ محسوس کرے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے، تبھی یہ کہا جا سکے گا کہ تبدیلی صرف عہدوں میں نہیں بلکہ نظام کے کردار میں بھی آئی ہے۔

خاتمہ

          وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ کروڑوں انسانوں کے خواب، امیدیں، قربانیاں اور آنے والی نسلوں کی امانت ہوتا ہے۔ ہندوستان بھی ہماری مشترکہ شناخت ہے، جہاں مختلف مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ اس سرزمین کی اصل خوبصورتی اسی تنوع، باہمی احترام اور اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہے۔ آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلافات کو دشمنی میں، مذہب کو سیاست میں اور سیاست کو نفرت میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں بھی بدلتی رہتی ہیں، مگر ملک ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ اس لیے ہر اس قدم کی حمایت ہونی چاہیے جو ہندوستان کو مضبوط، خوشحال، تعلیم یافتہ، پرامن اور باوقار بنائے، اور ہر اس عمل پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے جو ملک کے اتحاد، انصاف اور ترقی کو نقصان پہنچائے۔ یہی ایک باشعور شہری کی پہچان ہے۔

          یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان صرف کسی ایک مذہب، ایک زبان یا ایک طبقے کا نام نہیں، بلکہ یہاں رہنے والا ہر شخص خواہ وہ ہندو ہو، مسلمان ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو، بدھ ہو، جین ہو یا کسی بھی دوسرے عقیدے سے تعلق رکھتا ہواس ملک کا برابر کا شہری ہے۔ اس لیے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نفرت، تعصب، عداوت اور تقسیم کے ہر رجحان سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا کسی قوم کے لیے نفع بخش نہیں ہوتا۔ ہمیں ایسا ہندوستان تعمیر کرنا ہوگا جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر نہیں بلکہ کتاب ہو، جہاں مقابلہ نفرت کا نہیں بلکہ علم، تحقیق اور کردار کا ہو، جہاں ترقی کا معیار مذہبی شناخت نہیں بلکہ صلاحیت اور محنت ہو، جہاں ریلوے، ایئر ویز، روڈ ویز، واٹر ویز، صنعت، زراعت، تعلیم اور ٹیکنالوجی ہر شعبے میں ملک آگے بڑھے، اور جہاں دنیا ہندوستان کو اس کی اقتصادی قوت، سائنسی ترقی، تعلیمی معیار اور انسانی اقدار کی بنیاد پر پہچانے۔

          آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ایک سیاسی واقعہ ہو سکتا ہے، مگر اصل کامیابی اس دن ہوگی جب ہر طالب علم اپنے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہوگا، ہر شہری قانون پر اعتماد کرے گا، ہر ادارہ اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرے گا، اور ہندوستان ترقی، انصاف، امن اور اخوت کی ایسی مثال بنے گا جس پر ہر ہندوستانی کو بلا تفریق مذہب و ملت فخر ہو۔ یہی ایک مضبوط قوم، زندہ جمہوریت اور روشن مستقبل کی حقیقی بنیاد ہے۔

   تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری

رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا

تبصرے