دوستی اور جدید دور کے اخلاقی تقاضے

 

 

دوستی اور جدید دور کے اخلاقی تقاضے 

انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ تنہا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسے زندگی کے مختلف مراحل میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ساتھ وہ اپنے جذبات، خوشیاں، غم، پریشانیاں اور مسائل بانٹ سکے۔ اسی انسانی ضرورت سے دوستی کا تعلق وجود میں آتا ہے۔ دوستی دراصل صرف کسی شخص کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے، بات چیت کرنے یا وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ دوستی ایک ایسا تعلق ہے جس میں محبت، اعتماد، اخلاص، وفاداری، خیر خواہی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ حقیقی دوست وہ نہیں جو صرف خوشی کے وقت ہمارے ساتھ کھڑا رہے، بلکہ حقیقی دوست وہ ہے جو ہماری کمزوری کے وقت ہمیں سنبھالے، ہماری غلطی پر ہمیں متوجہ کرے، برائی سے روکے اور نیکی کی طرف لے جائے۔

اسلام نے دوستی اور صحبت کے معاملے کو بہت اہمیت دی ہے، کیونکہ انسان جس ماحول میں رہتا ہے اور جن لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے، ان کی عادات، خیالات اور اخلاق کا اثر اس کی شخصیت پر ضرور پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اچھے اور برے ساتھی کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: «إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ» یعنی اچھے ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے۔ مشک والے سے یا تو تم مشک خرید لوگے یا اس کی خوشبو تمہیں پہنچے گی، جبکہ بھٹی دھونکنے والے سے یا تو تمہارے کپڑے جل جائیں گے یا تمہیں بدبو محسوس ہوگی۔ (صحیح البخاری، کتاب الذبائح والصید؛ صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب)

اس حدیثِ پاک میں رسول اللہ ﷺ نے دوستی کے اثر کو نہایت خوب صورت انداز میں سمجھایا ہے۔ جس طرح مشک فروش کے پاس بیٹھنے والے کو بغیر کچھ کیے بھی خوشبو حاصل ہوجاتی ہے، اسی طرح نیک اور صالح انسان کی صحبت میں رہنے والے کو اس کے اخلاق، کردار، علم اور نیکی سے فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس بری صحبت انسان کو اس طرح متاثر کرتی ہے جیسے بھٹی کی آگ کپڑے کو جلا دیتی ہے یا اس کا دھواں انسان کے لیے ناگوار بو کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے اسلام ہمیں یہ سوچنے کی تعلیم دیتا ہے کہ ہمارا دوست کون ہے، ہم کس کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں اور ہماری صحبت ہمیں کس راستے پر لے جارہی ہے۔

قرآن کریم نے بھی بری دوستی کے انجام سے خبردار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿  يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ﴾ یعنی ہائے میری بربادی! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا، اس نے مجھے نصیحت آجانے کے بعد اس سے بہکا دیا۔ (سورۃ الفرقان، 25:28-29)۔ یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ انسان کی دوستی صرف دنیاوی زندگی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات آخرت تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے ایک مسلمان کو دوست بنانے میں محض ظاہری پسند، دولت، شہرت یا تفریح کو معیار نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس شخص کی صحبت اس کے دین، اخلاق اور کردار پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔

آج ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں دوستی کا تصور پہلے کے مقابلے میں بہت وسیع ہوگیا ہے۔ پہلے انسان کی دوستی زیادہ تر اپنے محلے، مدرسے، اسکول، کالج یا کام کی جگہ تک محدود ہوتی تھی، لیکن آج موبائل فون اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے انسان ایسے لوگوں سے بھی تعلق قائم کرلیتا ہے جن سے اس نے کبھی ملاقات تک نہیں کی ہوتی۔ اس طرح جدید دور میں دوستی صرف کسی کے ساتھ بیٹھنے یا ملنے کا نام نہیں رہی، بلکہ کسی شخص کو مسلسل دیکھنا، اس کی باتیں سننا، اس کی پوسٹس پڑھنا، اس کے خیالات کو پسند کرنا اور اس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا بھی انسان کی سوچ اور شخصیت کو متاثر کرتا ہے۔

یہاں ہمیں بہت سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں کن لوگوں کو جگہ دے رہے ہیں۔ کیونکہ جس طرح پہلے انسان اپنی مجلس اور اپنے دوستوں سے متاثر ہوتا تھا، آج وہ اپنے موبائل کی اسکرین پر موجود لوگوں سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر ہماری صحبت علم، دین، اچھے اخلاق، محنت اور مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ہے تو اس کے اچھے اثرات ہماری شخصیت میں بھی ظاہر ہوں گے، لیکن اگر ہماری صحبت ایسے لوگوں کے ساتھ ہے جو گالی، جھوٹ، فحاشی، مذاق کے نام پر دوسروں کی تذلیل، وقت کے ضیاع اور غلط کاموں کو معمول سمجھتے ہیں تو آہستہ آہستہ وہ چیزیں بھی ہماری زندگی کا حصہ بن سکتی ہیں۔

آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بعض نوجوان دوستی کو صرف تفریح اور وقت گزاری سمجھنے لگے ہیں۔ دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر گھنٹوں موبائل استعمال کرنا، ایک دوسرے کے ساتھ غیر ضروری گفتگو کرنا، دوسروں کا مذاق اڑانا، غیبت کرنا، غلط ویڈیوز اور تصاویر ایک دوسرے کو بھیجنا اور اپنی قیمتی زندگی کو بے مقصد چیزوں میں ضائع کرنا بعض لوگوں کے نزدیک معمول بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات دوست ہی انسان کو ایسے کاموں کی طرف لے جاتے ہیں جن کا آغاز معمولی مذاق سے ہوتا ہے لیکن بعد میں وہ عادت اور پھر زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مسلمان کو رک کر سوچنا چاہیے کہ کیا یہ واقعی دوستی ہے یا اپنے دوست کو نقصان پہنچانے کا ایک ذریعہ؟

اسلامی اخلاقیات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ حقیقی دوست وہ ہے جو اپنے دوست کی خیر چاہے۔ اگر دوست کوئی غلط کام کرنے جارہا ہو تو اس کے ساتھ صرف اس لیے نہ دیا جائے کہ وہ ناراض ہوجائے گا، بلکہ محبت اور حکمت کے ساتھ اسے سمجھایا جائے۔ اگر وہ نماز میں سستی کرے تو اسے نماز کی طرف متوجہ کیا جائے، اگر وہ والدین کے ساتھ برا سلوک کرے تو اسے والدین کے حقوق یاد دلائے جائیں، اگر وہ کسی کی غیبت کرے تو اسے روکا جائے اور اگر وہ کسی غلط راستے پر جارہا ہو تو اسے واپس لانے کی کوشش کی جائے۔ جو شخص اپنے دوست کو غلط کام کرتے ہوئے دیکھے اور صرف دوستی بچانے کے لیے خاموش رہے، وہ حقیقی معنوں میں اپنے دوست کا خیر خواہ نہیں۔

اسی طرح دوستی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے دوست کے راز کی حفاظت کرے۔ آج بعض لوگ دوستی کے نام پر ایک دوسرے کی ذاتی باتیں جانتے ہیں اور پھر معمولی اختلاف ہونے پر وہی راز دوسروں کے سامنے بیان کردیتے ہیں۔ یہ رویہ اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔ مسلمان کی زبان دوسروں کی عزت کی حفاظت کرنے والی ہونی چاہیے، نہ کہ دوسروں کی کمزوریوں کو پھیلانے والی۔ اسی طرح دوستوں کے درمیان غیبت، بہتان، بدگمانی اور جھوٹ سے بھی بچنا ضروری ہے۔

جدید دور میں دوستی کا ایک اور اہم اخلاقی تقاضا سوشل میڈیا کا درست استعمال ہے۔ مسلمان اگر حقیقی زندگی میں کسی کی عزت کرتا ہے تو اسے سوشل میڈیا پر بھی اس کی عزت کرنی چاہیے۔ کسی کی تصویر کا مذاق اڑانا، کسی کی کمزوری کو وائرل کرنا، بغیر تحقیق کے خبر پھیلانا، کسی کو گالی دینا یا کسی کی عزت مجروح کرنا صرف اس لیے درست نہیں ہوجاتا کہ یہ کام موبائل فون کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اسلامی اخلاق مسجد، مدرسے یا گھر تک محدود نہیں ہیں؛ مسلمان کا اخلاق اس وقت بھی اسلامی ہونا چاہیے جب وہ موبائل کی اسکرین کے سامنے بیٹھا ہو اور کوئی دوسرا شخص اس کے سامنے موجود نہ ہو۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اچھے دوست کی تلاش تو کرتے ہیں، لیکن خود اچھا دوست بننے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کا دوست وفادار ہو، اس کے راز محفوظ رکھے، مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے اور اس کی عزت کرے، لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے دوستوں کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟ کیا ہم ان کی غیر موجودگی میں ان کی عزت کی حفاظت کرتے ہیں؟ کیا ہم ان کی غلطی پر انہیں محبت سے سمجھاتے ہیں؟ کیا ہم ان کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب مثبت ہو تو یہی حقیقی دوستی ہے۔

مسلمانوں کے لیے دوستی کا تصور صرف انفرادی تعلق تک محدود نہیں بلکہ اسلامی اخوت کا حصہ ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ یعنی مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (سورۃ الحجرات، 49:10)۔ اس اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ ہوں، ایک دوسرے کی عزت کریں، ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کریں اور اختلافات کے باوجود اخلاق کی حدود کو نہ توڑیں۔

آج ہمیں اپنے معاشرے میں اسی اسلامی اخلاق کی دوبارہ ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی دوستیوں کی ضرورت ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کریں، ہمارے اخلاق کو بہتر بنائیں، ہمارے اندر علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کریں، ہمیں اپنے والدین اور اساتذہ کا احترام سکھائیں، ہمارے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کریں اور ہمیں اپنی زندگی کے مقصد کی طرف متوجہ کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوست صرف وہ نہیں جس کے ساتھ ہم ہنستے اور کھیلتے ہیں، بلکہ دوست وہ بھی ہے جو ہمیں ہماری اصل منزل یاد دلاتا ہے۔

اس لیے اصلاح کا آغاز دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے ہونا چاہیے۔ ہمیں سب سے پہلے خود اچھا دوست بننے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اپنے دوستوں کے لیے مخلص ہونا ہوگا، ان کے رازوں کی حفاظت کرنی ہوگی، ان کی عزت کا خیال رکھنا ہوگا، ان کی غلطیوں پر حکمت کے ساتھ اصلاح کرنی ہوگی اور انہیں برائی کے بجائے نیکی کی طرف لے جانا ہوگا۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ فلاں سے دوستی نہ کرو، بلکہ انہیں یہ سمجھائیں کہ اچھے اور برے دوست کی پہچان کیا ہے اور صحبت انسان کی شخصیت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔

نوجوانوں کو خاص طور پر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی کا قیمتی وقت ہر شخص کے ساتھ گزارنے کے لیے نہیں ہوتا۔ انسان کو اپنی صحبت کے بارے میں سوچنا چاہیے، کیونکہ آج کا دوست کل کی شخصیت بن سکتا ہے۔ اگر صحبت اچھی ہوگی تو انسان کے اندر اچھے اخلاق پیدا ہوں گے، اور اگر صحبت خراب ہوگی تو انسان کے کردار میں بھی تبدیلی آنا شروع ہوجائے گی۔

آخر میں ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دوستی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت بھی ہوسکتی ہے اور ایک آزمائش بھی۔ اگر دوستی محبت، اخلاص، وفاداری، خیر خواہی اور نیکی پر قائم ہو تو وہ انسان کے لیے دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر دوستی گناہ، غفلت، بے حیائی، جھوٹ، غیبت اور برائی کا ذریعہ بن جائے تو یہی تعلق انسان کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میرا دوست کون ہے؟ بلکہ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ میں اپنے دوست کے لیے کیسا دوست ہوں؟

اسلام ہمیں دوستی چھوڑنے کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ دوستی کو پاکیزہ بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں ایسی دوستی چاہیے جس میں محبت ہو مگر اندھی محبت نہ ہو، مذاق ہو مگر کسی کی عزت مجروح نہ ہو، اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، تعلق ہو مگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر قائم نہ ہو، بلکہ ایسی دوستی ہو جو انسان کو نیکی، علم، اچھے اخلاق اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جائے۔ یہی اسلامی دوستی ہے اور یہی جدید دور میں ایک مسلمان کے لیے دوستی کا اصل اخلاقی تقاضا ہے۔

تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری

پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com

 

 

تبصرے