شیخ المشائخ حضرت محمد تیغ علی قادری آبادانی علیہ الرحمہ کی تعلیمات میں آج کا معاشرہ
عصرِ حاضر انسانی تاریخ کا وہ دور ہے جس میں بظاہر ترقی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے، مگر انسان اپنے باطن میں ایک عجیب بے چینی، اضطراب اور خلا کا شکار ہے۔ سائنس نے فاصلے سمیٹ دیے، ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک اسکرین پر جمع کر دیا، معلومات کے دروازے ہر شخص کے لیے کھول دیے گئے، مگر انسان کے اندر سے اطمینان، قناعت، اخلاص، باہمی محبت اور روحانی سکون جیسے اوصاف تیزی سے کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آج کا انسان بہت کچھ جانتا ہے، مگر اپنے آپ کو جاننے سے غافل ہے؛ بہت سے لوگوں سے رابطے میں ہے، مگر حقیقی تعلقات سے محروم ہے؛ دنیا کو دیکھنے کے لیے ہزاروں ذرائع رکھتا ہے، مگر اپنے دل کا آئینہ دیکھنے کے لیے وقت نہیں۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں مجددِ طریقت شیخ المشائخ حضرت الحاج شاہ محمد تیغ علی قادری آبادانی مظفرپوری رحمۃ اللہ علیہ کی اصلاحی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ آپ کے ارشادات میں جو اختصار، جامعیت اور اصلاحی بصیرت پائی جاتی ہے، وہ صرف ایک خاص زمانے کے افراد کی تربیت تک محدود نہیں؛ ان میں انسانی نفس، اخلاق اور معاشرتی زندگی کے ایسے بنیادی اصول موجود ہیں جن کی ضرورت ہر دور میں رہتی ہے۔ آپ کے منقول ارشادات میں شریعت و طریقت کے تعلق، حسد کی تباہ کاری، صبر و شکر کی اہمیت اور عبادت کے ذریعے باطن کی اصلاح پر خصوصی زور ملتا ہے۔
آج کے معاشرے کا سب سے بنیادی بحران یہی ہے کہ ہم نے اصلاح کو باہر تلاش کرنا شروع کردیا ہے، جبکہ خرابی کا ایک بڑا حصہ انسان کے اندر موجود ہے۔ ہم معاشرے کی برائیوں پر گفتگو کرتے ہیں، حکومتوں اور اداروں کی اصلاح چاہتے ہیں، نوجوانوں کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہیں، خاندان کے بکھرنے کا ماتم کرتے ہیں، لیکن اپنے نفس، اپنی زبان، اپنے معاملات اور اپنے کردار کا احتساب بہت کم کرتے ہیں۔ حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کی اصلاحی فکر اسی بنیادی نکتے کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ معاشرے کی حقیقی اصلاح فرد کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں۔
آپ کا ارشاد ہے: "عبادت اپنی شناخت کا آئینہ ہے، جب تک کہ آئینہ عبادت کے صیقل سے صاف نہ کرلیا معرفتِ نفس محال ہے۔" یہ مختصر مگر عمیق ارشاد آج کے انسان کے لیے ایک مکمل تربیتی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ عبادت محض چند ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ انسان کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر نماز انسان کو جھوٹ سے نہ روک سکے، روزہ اسے بد اخلاقی سے نہ بچا سکے، ذکر اسے تکبر اور حسد سے پاک نہ کرسکے اور دینی نسبت اس کے معاملات کو درست نہ کرسکے تو ہمیں اپنی عبادت کے ظاہری ڈھانچے کے ساتھ اس کی روح پر بھی غور کرنا ہوگا۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد پیدا ہوگیا ہے۔ ایک شخص عبادت گزار بھی ہوسکتا ہے اور معاملات میں سخت مزاج بھی؛ زبان پر ذکر بھی ہوسکتا ہے اور اسی زبان سے غیبت بھی؛ دینی معلومات بھی بہت ہوسکتی ہیں اور اخلاقی تربیت بہت کم۔ اس تضاد کا علاج محض مزید معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ عبادت کو اصلاحِ باطن کا ذریعہ بنانا ہے۔ حضرت کی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان صرف مذہبی شناخت اختیار کرلے، بلکہ یہ ہے کہ دین اس کے مزاج، کردار اور معاملات میں نظر آئے۔
اسی مقام پر حضرت شاہ تیغ علی قادری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ارشاد نہایت اہم ہوجاتا ہے کہ "کمالِ شریعت کا نام طریقت ہے۔" اس جملے میں شریعت اور طریقت کے تعلق کا ایک جامع تصور موجود ہے۔ آج کبھی دین کو صرف ظاہری احکام تک محدود کردیا جاتا ہے اور کبھی روحانیت کے نام پر شریعت کی پابندی کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حضرت کی تعلیم ان دونوں رویوں کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ شریعت زندگی کا راستہ متعین کرتی ہے اور طریقت اس راستے پر اخلاص، محبت، پاکیزگی اور باطنی تربیت کے ساتھ چلنے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔
آج مسلمانوں کے لیے اس توازن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک طرف مذہبی جذبات موجود ہیں، دوسری طرف اخلاقی بحران بڑھ رہا ہے۔ مذہبی شناخت موجود ہے، مگر معاملات میں کمزوری ہے۔ عبادت موجود ہے، مگر باہمی برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ دینی گفتگو بہت ہے، مگر عملی دینی کردار کمزور پڑتا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شریعت کو زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ اخلاقی اصول کے طور پر سمجھا جائے اور طریقت کو باطن کی اصلاح و کردار سازی کا ذریعہ بنایا جائے۔
عصرِ حاضر کی ایک بڑی بیماری حسد ہے۔ حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے: "سب سے پہلے جو گناہ وجود میں آیا وہ حسد ہے۔" آج حسد نے اپنی صورت بدل لی ہے۔ پہلے انسان اپنے پڑوسی کے گھر، لباس یا مال سے حسد کرتا تھا؛ آج سوشل میڈیا نے حسد کے دائرے کو عالمی بنا دیا ہے۔ کسی کی کامیابی، کسی کی شادی، کسی کا کاروبار، کسی کی شہرت، کسی کی علمی ترقی، کسی کی مقبولیت حتیٰ کہ کسی کی دینی خدمت بھی بعض لوگوں کے لیے حسد کا سبب بن جاتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف فرد کی روحانی بیماری نہیں بلکہ اجتماعی ترقی کی رکاوٹ بھی ہے۔ جس معاشرے میں ایک انسان دوسرے کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے اسے گرانے کی کوشش کرے، وہاں اجتماعی قوت پیدا نہیں ہوسکتی۔ دینی حلقوں میں بھی اگر کسی عالم، داعی، قلم کار یا نوجوان کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھ لیا جائے تو یہ رویہ امت کو تقسیم کرتا ہے۔ حضرت کی تعلیم کی روشنی میں اس بیماری کا علاج یہ ہے کہ انسان دوسروں کے لیے خیر چاہے، کامیاب افراد کی حوصلہ افزائی کرے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ دوسرے کی کامیابی پوری امت کے لیے کامیابی ہوسکتی ہے۔
اسی طرح آج کا معاشرہ بے صبری کا شکار ہے۔ انسان ہر چیز فوراً چاہتا ہے۔ چند دن محنت کرکے بڑی کامیابی، چند ماہ تعلیم حاصل کرکے بڑا مقام، تھوڑی سی کوشش سے شہرت اور فوری نتائج کی خواہش نے نوجوانوں کے اندر استقامت کو کمزور کیا ہے۔ حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے: "صبر و شکر سالک کے لیے دولتِ لازوال ہے۔"
یہ تعلیم موجودہ دور کے لیے انتہائی اہم ہے۔ صبر انسان کو ناکامی کے وقت ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور شکر کامیابی کے وقت غرور سے۔ صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ مقصد کے لیے مسلسل کوشش کرتے ہوئے نتائج کے معاملے میں اللہ پر اعتماد رکھنا ہے۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے الحمدللہ کہنا نہیں بلکہ نعمت کو صحیح مقصد میں استعمال کرنا بھی ہے۔ اگر مسلمان نوجوان صبر، شکر اور استقامت کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں تو بہت سی ذہنی، اخلاقی اور معاشی پریشانیاں کم ہوسکتی ہیں۔
آج کا انسان دنیا کے حصول میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے یہ احساس کم ہوتا جارہا ہے کہ دنیا وسیلہ ہے، منزل نہیں۔ حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کی اصلاحی فکر میں دنیاوی زندگی سے فرار کے بجائے اللہ تعالیٰ سے تعلق برقرار رکھتے ہوئے زندگی گزارنے کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ اس تصور کی آج شدید ضرورت ہے۔ مسلمان تجارت کرے، ملازمت کرے، تعلیم حاصل کرے، صنعت قائم کرے، جدید ٹیکنالوجی سیکھے، دنیاوی ترقی حاصل کرے، لیکن اپنی ترقی کو اللہ سے دوری کا ذریعہ نہ بنائے۔
مسلمانوں کی پسماندگی کا علاج یہ نہیں کہ وہ دنیا چھوڑ دیں؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو دین کے اخلاقی اصولوں کے تابع کریں۔ ڈاکٹر بنیں مگر دیانت نہ چھوڑیں، انجینئر بنیں مگر امانت نہ چھوڑیں، تاجر بنیں مگر حرام سے بچیں، صحافی بنیں مگر سچائی نہ چھوڑیں، سیاست میں جائیں مگر ظلم سے بچیں، ٹیکنالوجی استعمال کریں مگر اخلاقی حدود نہ توڑیں۔ یہی وہ متوازن فکر ہے جو آج مسلم معاشرے کو درکار ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل موجودہ دور کے فتنوں کے درمیان سب سے زیادہ توجہ کی محتاج ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا اپنی ذات میں برائی نہیں، لیکن ان کا بے مقصد اور غیر ذمہ دارانہ استعمال وقت، فکر، نگاہ اور اخلاق کو متاثر کرسکتا ہے۔ نوجوان چند گھنٹے علمی مطالعے کے بجائے مسلسل اسکرولنگ میں گزار دیتا ہے؛ دوسروں کی زندگی دیکھتے دیکھتے اپنی زندگی سے غیر مطمئن ہوجاتا ہے؛ شہرت کو کامیابی سمجھنے لگتا ہے؛ اور کبھی کبھی دینی مسائل کو بھی مختصر ویڈیوز اور غیر مستند مواد سے سمجھنے لگتا ہے۔
ایسے ماحول میں حضرت کی تعلیمات کی روشنی میں نوجوانوں کو محض ڈانٹنے کے بجائے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں بتایا جائے کہ موبائل چھوڑنا مقصد نہیں، موبائل کا غلام نہ بننا مقصد ہے۔ سوشل میڈیا سے فرار مقصد نہیں، اسے خیر، علم، دعوت اور تعمیری کام کے لیے استعمال کرنا مقصد ہے۔ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے علم، ہنر، عبادت اور خدمت میں لگانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ اسی طرح خاندانی نظام کی اصلاح بھی موجودہ معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔ گھر معاشرے کی پہلی درس گاہ ہے۔ اگر گھر میں احترام، محبت، دینی ماحول اور باہمی اعتماد موجود ہو تو بچے مضبوط کردار کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ لیکن اگر گھر میں مسلسل جھگڑا، بدکلامی، بے اعتمادی، والدین کی بے قدری اور اولاد کی بے تربیتی ہو تو معاشرتی خرابیوں کو روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔
حضرت کی اصلاحی فکر کو اگر گھر تک پہنچایا جائے تو والدین صرف بچوں کو ڈگریاں دلانے کے بجائے کردار بھی دیں گے؛ بچے صرف والدین سے اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کریں گے بلکہ ان کے حقوق کو بھی سمجھیں گے؛ میاں بیوی ایک دوسرے کو مقابل سمجھنے کے بجائے رفاقت اور ذمہ داری کے رشتے سے دیکھیں گے۔ یوں اصلاح کا عمل گھر سے معاشرے تک پھیل سکتا ہے۔ آج مسلمانوں کے لیے علمی ترقی بھی اسی اصلاحی منصوبے کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔ روحانیت کا مطلب دنیاوی علوم سے بے اعتنائی نہیں۔ بلکہ ایک ایسا مسلمان درکار ہے جو قرآن و سنت سے وابستہ بھی ہو اور جدید دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ دینی علم کے ساتھ زبانیں، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق، معاشیات، قانون، صحافت اور جدید مہارتیں حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مسلمان نوجوان اگر علم میں مضبوط، کردار میں پاکیزہ اور مقصد میں واضح ہوجائے تو وہ اپنی ذات کے ساتھ اپنی قوم کی بھی تقدیر بدل سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اس اصلاح کا عملی مرکز کون ہوگا؟ اس کا جواب صرف ایک فرد یا ایک ادارہ نہیں۔ گھر، مسجد، مدرسہ، خانقاہ، تعلیمی ادارہ اور معاشرتی قیادت سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ اخلاقی و سماجی تربیت کا مرکز بن سکتی ہے۔ مدرسہ صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ کردار سازی کا ادارہ بن سکتا ہے۔ خانقاہ صرف روحانی وابستگی کی جگہ نہیں بلکہ اصلاحِ نفس، خدمتِ خلق اور معاشرتی رہنمائی کا مرکز بن سکتی ہے۔ علماء کو بھی نوجوانوں کے سوالات، جدید مسائل اور بدلتے ہوئے معاشرتی حالات سے واقف ہوکر ان کی رہنمائی کرنی ہوگی۔
یہاں حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کی اصلاحی فکر کا ایک بنیادی سبق سامنے آتا ہے کہ اصلاح محض گفتار سے نہیں بلکہ تربیت سے ہوتی ہے۔ انسان کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ جھوٹ مت بولو؛ اسے سچائی کی تربیت بھی دینی ہوگی۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ حسد نہ کرو؛ اسے خیر خواہی اور ایثار کی عملی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ دنیا سے محبت نہ کرو؛ اسے دنیاوی وسائل کے صحیح استعمال کا شعور بھی دینا ہوگا۔
آج کے مسلم معاشرے میں ایک اور اہم ضرورت مثبت دینی قیادت کی ہے۔ مسلمانوں کو ایسی قیادت چاہیے جو ماضی سے جڑی ہو مگر حال سے بے خبر نہ ہو؛ شریعت سے وابستہ ہو مگر معاشرے کے حقیقی مسائل کو بھی سمجھے؛ روحانیت کی بات کرے تو کردار سازی بھی کرے؛ نوجوانوں کو صرف تنقید کا نشانہ نہ بنائے بلکہ ان کی صلاحیتوں کو صحیح رخ دے۔ حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا عصرِ حاضر پر اطلاق اسی وقت مؤثر ہوگا جب انہیں صرف مجالس، محافل اور تذکروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عملی تربیتی منہج بنایا جائے۔ ان کی تعلیمات سے متاثر ہوکر ایسے تربیتی حلقے قائم کیے جاسکتے ہیں جہاں نوجوانوں کو ذکر و عبادت کے ساتھ مطالعہ، اخلاق، خدمتِ خلق، وقت کی پابندی، حلال معاش، والدین کے حقوق، سوشل میڈیا کے آداب اور اجتماعی ذمہ داری کی تربیت دی جائے۔
یہاں ایک تنقیدی پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ ہم اپنے اکابر کی تعلیمات کا تذکرہ تو بہت کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ ان تعلیمات کا ہماری اپنی زندگی پر کتنا اثر ہوا؟ اگر ہم حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے محبت کا اظہار کریں مگر حسد سے نہ بچیں، طریقت کی نسبت رکھیں مگر شریعت کی پابندی میں کمزور ہوں، ذکر کی محفل میں شریک ہوں مگر معاملات میں بددیانتی کریں، صبر و شکر کی تعلیم سنیں مگر معمولی ناکامی پر مایوس ہوجائیں، تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا ہوگا۔
بزرگوں سے حقیقی وابستگی صرف نام لینے سے ثابت نہیں ہوتی؛ ان کی تعلیمات کو کردار میں اتارنے سے ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے آج کے معاشرے میں حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کی معنویت اس بات میں ہے کہ وہ انسان کو باہر سے بدلنے سے پہلے اندر سے بدلنے کی دعوت دیتی ہیں۔ آج ہمیں ایسے مسلمان کی ضرورت ہے جس کا دل اللہ سے وابستہ ہو، کردار پاکیزہ ہو، ذہن علم سے روشن ہو، معاملات دیانت دار ہوں، نگاہ مقصد پر ہو، ہاتھ محنت میں مصروف ہوں اور دل امت کے درد سے آشنا ہو۔
اگر فرد اپنے نفس کا محاسبہ کرے، عبادت کو اصلاحِ باطن کا ذریعہ بنائے، حسد کے بجائے خیر خواہی اختیار کرے، صبر و شکر کو زندگی کا شعار بنائے، شریعت اور طریقت کے متوازن تصور کو سمجھے، دنیاوی ترقی کو دینی و اخلاقی اصولوں کے تابع رکھے اور اپنی علمی و معاشی صلاحیتوں کو قوم کی تعمیر کے لیے استعمال کرے تو معاشرے کی اصلاح کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ اس اعتبار سے حضرت شاہ محمد تیغ علی قادری آبادانی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات آج کے دور کے لیے محض روحانی تبرک نہیں بلکہ اصلاحِ فرد، تعمیرِ خاندان، تطہیرِ معاشرہ اور بیداریِ امت کا ایک قابلِ غور فکری سرمایہ ہیں۔ ان تعلیمات کی اصل معنویت اسی وقت سامنے آئے گی جب ہم انہیں ماضی کی یادگار کے طور پر نہیں بلکہ حال کے مسائل کے حل کے طور پر پڑھیں گے۔
آج ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں عبادت انسان کے اخلاق کو سنوارے، علم انسان کے کردار کو بلند کرے، طریقت انسان کو شریعت کا پابند بنائے، دولت انسان کو مغرور نہ کرے، کامیابی انسان کو دوسروں کا دشمن نہ بنائے، اور ترقی انسان کو اپنے رب سے دور نہ کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت شاہ تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات عصرِ حاضر سے ہم کلام ہوتی ہیں۔
آج کے پُرفتن دور میں معاشرے کی حقیقی تبدیلی کسی ایک نعرے، کسی ایک تحریک یا کسی ایک ادارے سے نہیں آئے گی؛ یہ تبدیلی دلوں کی اصلاح، کردار کی تعمیر، علم کی روشنی، اخلاق کی پختگی اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق کے ذریعے آئے گی۔ اور جب یہ تبدیلی فرد سے شروع ہوکر گھر، خاندان، مسجد، مدرسہ اور پورے معاشرے تک پہنچے گی، تب ایک ایسا مسلم معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جو روحانی اعتبار سے بیدار، علمی اعتبار سے مضبوط، اخلاقی اعتبار سے پاکیزہ، معاشی اعتبار سے خود کفیل اور اجتماعی اعتبار سے باوقار ہو۔ اسی میں حضرت شاہ محمد تیغ علی قادری آبادانی رحمۃ اللہ علیہ کی اصلاحی تعلیمات کو عصرِ حاضر میں زندہ کرنے کی حقیقی معنویت پوشیدہ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں