٥ ستمبر اور یومِ اساتذہ

٥ ستمبر اور یومِ اســــــــاتذہ

پانچ ستمبر کا دن یقیناً تمام طلبہ کے لیے ایک عظیم دن ہوتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب طلبہ اپنے اساتذہ سے اپنی محبت، عقیدت اور تشکر کا اظہار کرتے ہیں۔ کسی طالب علم کے دل میں اپنے کسی استاد کے لیے کتنی محبت، کتنا ادب، کتنی عزت، کتنی عظمت اور کتنا وقار موجود ہے، یہ شاید وہی طالب علم بہتر جانتا ہے۔ اسی پانچ ستمبر کو، یعنی یومِ اساتذہ کے موقع پر، کوئی طالب علم اپنے استاد کے لیے کچھ کرتا ہے، کوئی ان کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، اور کہیں پوری کلاس مل کر اپنے اساتذہ کے لیے کوئی پروگرام یا تقریب منعقد کرتی ہے۔ بلاشبہ یہ دن تمام طلبہ و طالبات کے لیے خوشی، محبت اور تشکر کا ایک خوبصورت موقع ہوتا ہے۔
اس دن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ استاد خود تو بادشاہ نہیں ہوتا، لیکن اپنے طلبہ کو بادشاہ بنا دیتا ہے۔ استاد خود شاید تخت پر نہ بیٹھے، لیکن اپنے شاگردوں کو کامیابی کے تخت تک پہنچانے میں اپنا کردار ضرور ادا کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ استاد King Maker یعنی بادشاہ بنانے والا ہوتا ہے۔ استاد وہ شخصیت ہے جو ایک عام سے طالب علم کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے، اسے سنوارتا ہے، اسے راستہ دکھاتا ہے اور اسے اس مقام تک پہنچاتا ہے جہاں وہ دنیا میں اپنی ایک شناخت قائم کر سکے۔ اس لیے ہمیں اور آپ کو چاہیے کہ ہم اپنے اساتذہ کی قدر کریں، ان کی عزت کریں اور ان کے مقام و مرتبے کو سمجھیں۔ وہ ہمیں جو کچھ سکھاتے ہیں، جو طریقہ بتاتے ہیں، جو اسلوب سمجھاتے ہیں، جو اخلاق دیتے ہیں، جو آداب سکھاتے ہیں، ہمیں ان چیزوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے پند و ارشادات، نصیحتوں اور ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے؛ کیونکہ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، بلکہ وہ زندگی جینے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔
ایک صحیح معنوں میں کامیاب طالب علم وہ ہے جو اپنے اساتذہ کی بات کو غور سے سنتا ہے، ان کی نصیحت کو اہمیت دیتا ہے اور ان کے بتائے ہوئے اچھے طریقۂ زندگی کو اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم اپنے اساتذہ کی تعلیمات پر عمل کرے، اسلامی طریقۂ زندگی کو اختیار کرے، استاد کی عظمت، برکت اور موجودگی کو اپنے لیے باعثِ افتخار، باعثِ رحمت اور باعثِ مسرت سمجھے اور ہمیشہ اپنے استاد کا ادب و احترام کرتا رہے تو یقیناً وہ دنیا کے بہت سے میدانوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ کیونکہ استاد کا ادب صرف دنیاوی کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
اسلامی تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں کہ بہت سے طلبہ ابتدا میں نہایت ذہین نہیں تھے، ان کا ذہن بہت تیز نہیں تھا، وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک نہیں تھے؛ لیکن انہوں نے اپنے اساتذہ کا ادب کیا، ان کا احترام کیا، ان کی باتوں کو دل سے قبول کیا اور ان کی دعائیں حاصل کیں۔ وقت گزرتا گیا اور یہی طلبہ اپنے زمانے کے بڑے محدث، مفسر، فقیہ، مفکر، مبلغ، مترجم، ادیب اور دین کے رہبر و قائد بن گئے۔ ان کی کامیابی کے اسباب میں علم و محنت کے ساتھ ساتھ استاد کا ادب بھی ایک عظیم سبب تھا۔ 
استاد کی دعا بھی طالب علم کے لیے ایک بہت بڑی دولت ہے۔ جب استاد اپنے شاگرد کے لیے دل سے دعا کرتا ہے تو وہ دعا اس طالب علم کی زندگی میں خیر و برکت کے دروازے کھول سکتی ہے۔ استاد کی دعا اور استاد کی خوشی طالب علم کے لیے ایک ایسی نعمت ہے جس کی قیمت شاید دنیا کی کسی چیز سے ادا نہیں کی جا سکتی۔
لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج کے دور میں، جہاں ایک طرف اساتذہ کی عزت و عظمت کی بات کی جاتی ہے، وہیں دوسری طرف بعض مقامات پر استاد کو بدنام کرنے، اس کی تذلیل کرنے، اس کے وقار کو مجروح کرنے اور اس کے مقام کو کم کرنے کی کوششیں بھی نظر آتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کبھی استاد کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے، کبھی ان کا مذاق بنایا جاتا ہے اور کبھی ان کے خلاف ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں جو استاد اور شاگرد کے مقدس رشتے کو کمزور کرتی ہیں۔ ایسے ماحول میں تمام طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کے حقوق کو سمجھیں، ان کے وقار اور عزت کا خیال رکھیں اور استاد و شاگرد کے اس عظیم رشتے کو مضبوط بنائیں۔ اختلافِ رائے ہو تو ادب کے ساتھ، کوئی شکایت ہو تو مناسب طریقے سے، لیکن استاد کی عزت و آبرو کو مجروح کرنا کسی صورت طالب علم کے شایانِ شان نہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جس شخص نے ہمیں پڑھایا، لکھایا، سمجھایا، ہماری غلطیوں کی اصلاح کی، ہماری کمزوریوں کی نشاندہی کی اور زندگی کے مختلف مراحل میں ہماری رہنمائی کی، اس کے ساتھ ہمارا رویہ ہمیشہ ادب اور احترام والا ہونا چاہیے۔
اس لیے آج یومِ اساتذہ کے موقع پر میں تمام طلبہ سے صرف اتنی گزارش کرنا چاہوں گا کہ آئیے، آج ہم ایک عہد کریں۔ ہم اپنے اساتذہ کے لیے جو کچھ اچھا کر سکتے ہیں، ضرور کریں گے۔ ہم ان سے دل لگا کر پڑھیں گے، ان کی بات غور سے سنیں گے، ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں گے، ان کی نصیحتوں کو اپنی زندگی میں جگہ دیں گے اور ان کے خلاف کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جس سے انہیں تکلیف پہنچے۔ ہم نہ اپنے اساتذہ کی غیبت کریں گے، نہ چغلی کریں گے، نہ ان کا مذاق اڑائیں گے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے جو ان کے دل کو دکھ پہنچائے۔ بلکہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم اپنے کردار، اپنی محنت، اپنے اخلاق اور اپنی کامیابی سے اپنے اساتذہ کو خوشی دیں؛ کیونکہ طالب علم کی سب سے بڑی کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ خود آگے بڑھے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی کامیابی دیکھ کر اس کا استاد فخر محسوس کرے۔
یاد رکھیے! استاد کی عزت دراصل علم کی عزت ہے، اور علم کی عزت انسان کو بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ جس طالب علم کے دل میں اپنے استاد کے لیے ادب باقی رہتا ہے، اس کے علم میں برکت، اس کے کردار میں نکھار اور اس کی زندگی میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
آخر میں میں اپنے تمام اساتذہ کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا، علم دیا، تربیت دی، ہماری غلطیوں کو برداشت کیا اور ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کو صحت، سلامتی، عزت اور برکت عطا فرمائے، ان کی محنتوں کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں ایسا شاگرد بنائے جس سے ہمارے اساتذہ ہمیشہ خوش رہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے اساتذہ کی جو دعائیں ہمارے لیے ان کے دلوں سے نکلتی ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں ہمارے حق میں ہمیشہ جاری و ساری رکھے۔
یومِ اساتذہ کے موقع پر اپنے تمام اساتذہ کو دل کی گہرائیوں سے سلام، خراجِ عقیدت اور شکریہ!

 ✍️ تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا، انڈیا

تبصرے