’’تنہا ہی لڑا گستاخوں سے ‘‘یہ محض ایک عنوان نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کی ترجمانی ہے جسے عصرِ حاضر کے ایمانی تقاضوں اور موجودہ حالات کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج جب ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف مختلف انداز سے آوازیں اٹھائی جاتی ہیں، گستاخانہ کلمات کہے جاتے ہیں اور رسولِ اکرم ﷺ کی مقدس ذات کے بارے میں زبان درازی کی جاتی ہے، ایسے دور میں ہمیں تاریخ کے ان روشن کرداروں کی طرف پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے اپنے زمانے میں ناموسِ رسالت ﷺ کا بے خوف ہو کر دفاع کیا۔
برصغیر ہندو پاک میں گزشتہ تقریباً سو، دو سو برس کے عرصے میں ایسے کئی گمراہ اور ضال و مضل گروہ پیدا ہوئے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کیں، نازیبا کلمات کہے اور مختلف تحریروں کے ذریعے مقامِ رسالت ﷺ کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ یہ سلسلہ صرف ماضی تک محدود نہیں، بلکہ آج بھی مختلف صورتوں میں رسولِ مکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں ہمیں ایک ایسے قائد، رہنما، مدبر، مفکر، محدث، فقیہ، ادیب، فلسفی، محقق، مدقق اور مفتی کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے جس نے اپنے دور کے فتنوں کا علم و عمل، جرأت و بصیرت اور عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ مقابلہ کیا۔یہ عظیم شخصیت کسی اور کی نہیں بلکہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
خان رحمۃ اللہ علیہ نے دینِ اسلام کی نشر و اشاعت، تعلیمِ دین کی تقویت، اسلام کے
دفاع اور بالخصوص ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ ان کی
جدوجہد کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس کے خلاف
کوئی گستاخانہ نظریہ یا تحریر سامنے آئی، انہوں نے اس کا علمی اور دندان شکن جواب
دیا۔ انہوں نے قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اسلام
کی حقانیت اور مقامِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے بھرپور علمی کردار ادا کیا۔ اعلیٰ
حضرت کی یہ جدوجہد محض جذباتی ردِعمل نہیں تھی، بلکہ علم، تحقیق، بصیرت اور جرأتِ
ایمانی سے مزین ایک منظم علمی دفاع تھا۔ انہوں نے اپنے دور میں جس طرح گستاخانِ
رسول کے سامنے حق بات کہی، ان کے باطل نظریات کا رد کیا اور ناموسِ رسالت ﷺ کا
پہرہ دیا، وہ آج بھی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اسی لیے "تنہا ہی لڑا
گستاخوں سے" کا عنوان اعلیٰ حضرت کی اسی بے مثال جدوجہد کی طرف اشارہ کرتا
ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا
ہے کہ اکیسویں صدی میں ہم جس جذبے، ایمان، جرأتِ ایمانی، قوت، ولولے، توکل اور
یقین کے ساتھ اعلیٰ حضرت کو ناموسِ رسالت ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، آج اسی
جذبے کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ بڑے بڑے علمائ، فقہائ، مفتیانِ کرام اور خانقاہی
شخصیات اعلیٰ حضرت کو اپنا قائد، رہنما، رول ماڈل اور اپنی زندگی کے لیے مثالی
شخصیت مانتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جب ناموسِ رسالت ﷺ پر پہرہ دینے کا وقت آتا
ہے تو وہی جرأت اور وہی قوت کیوں نظر نہیں آتی جس کا مظاہرہ اعلیٰ حضرت نے اپنے
دور میں کیا تھا؟
یہ سوال آج کے علمائ سے
بھی ہے، آج کے مفتیان سے بھی ہے اور خانقاہوں سے وابستہ ان لوگوں سے بھی ہے جو خود
کو اعلیٰ حضرت کا پیروکار اور ان کی تعلیمات کا حامل قرار دیتے ہیں۔ آخر وہ جذبہ
کہاں گیا؟ وہ جرأت کہاں گئی؟ وہ غیرتِ ایمانی کہاں گئی؟ جس کام کو اعلیٰ حضرت نے
اپنے زمانے میں بے خوف ہو کر، بغیر کسی مصلحت اور خطرے کی پروا کیے، خالصتاً اللہ
کی رضا، اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کی ناموس کے لیے انجام دیا، آج ہم اسی
جذبے کے ساتھ آگے کیوں نہیں بڑھ پاتے؟ اس لیے ضرورت صرف اس بات کی نہیں کہ ہم
اعلیٰ حضرت کا نام سنیں، ان کے تذکرے کریں یا اپنی نسبت ان سے جوڑیں، بلکہ ضرورت
اس بات کی ہے کہ ہم صحیح معنوں میں ان کی زندگی کو پڑھیں، ان کی تعلیمات کا مطالعہ
کریں اور ان کے کردار کو سمجھیں۔ محض نسبت کا دعویٰ کافی نہیں، اس نسبت کا اثر
ہماری زندگی اور ہمارے عمل میں بھی نظر آنا چاہیے۔
آج ہمارے بعض مسلمان بھائی
اعلیٰ حضرت اور خانوادئہ اعلیٰ حضرت سے اپنی وابستگی پر فخر کرتے ہیں اور خود کو
ان کی تعلیمات کا سچا پیروکار سمجھتے ہیں، لیکن جب ان کی عملی زندگی پر نظر ڈالی
جاتی ہے تو ایک بڑا فرق دکھائی دیتا ہے۔ نماز جیسی عظیم عبادت سے غفلت، قرآنِ کریم
کی تلاوت سے دوری، صدقات و خیرات میں کمزوری اور اخلاقی برائیوں سے عدمِ اجتناب یہ
سب ایسے امور ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ غیبت، چغلی، بغض، حسد، جلن اور
دوسرے مسلمانوں کی برائیاں بیان کرنا ہماری زندگی کا حصہ بن جائے اور پھر ہم اعلیٰ
حضرت کی پیروی کا دعویٰ کریں، تو ہمیں اپنے دعوے اور عمل کے درمیان اس فاصلے کو
ضرور دیکھنا چاہیے۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ
بعض لوگ رات رات بھر جلسوں میں اعلیٰ حضرت کی نسبت اور محبت کے دعوے کرتے ہیں،
لیکن صبح کی نماز کے وقت غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی تلاوت سے دور
رہتے ہیں اور اپنی عملی زندگی میں ان تعلیمات کو جگہ نہیں دیتے جن کی طرف اعلیٰ
حضرت نے توجہ دلائی۔ محبت صرف زبان سے کسی شخصیت کا نام لینے کا نام نہیں، بلکہ
محبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان محبوب کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں جگہ دے۔
اسی طرح جب قرآنِ مقدس کی بے حرمتی ہو، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں
گستاخی کی جائے یا رسولِ مکرم، رسولِ معظم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ کلمات کہے
جائیں، تو ایسے مواقع پر خاموشی اختیار کرنے والوں کو بھی اپنے تعلق اور اپنی نسبت
پر غور کرنا چاہیے۔ اگر ہم اعلیٰ حضرت کو اپنا قائد مانتے ہیں تو پھر یہ سوال ضرور
پیدا ہوتا ہے کہ ان کی وہ جرأت، وہ ولولہ اور وہ غیرتِ ایمانی ہماری عملی زندگی
میں کیوں دکھائی نہیں دیتی؟
اعلیٰ حضرت نے اپنے دور
میں مختلف گمراہ اور باطل نظریات کے مقابل علمی میدان میں بھرپور جدوجہد کی۔
وہابیوں، نجدیوں، دیوبندیوں، رافضیوں، قادیانیوں اور مختلف فرقہ پرستانہ و گمراہ
افکار کے رد میں انہوں نے علمی خدمات انجام دیں اور عظمتِ رسول ﷺ کو واضح کیا۔ ان
کی تحریریں آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں اور ان کے ذریعے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ
انہوں نے مقامِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے کس قوت اور بصیرت کے ساتھ قلم اٹھایا۔
اسی سلسلے میں حسام
الحرمین ایک اہم مثال ہے۔ ان کے زمانے میں بعض ایسے افراد اور گروہ بھی موجود تھے
جنہوں نے شانِ رسالت ﷺ کے بارے میں حد سے تجاوز کیا اور ایسے عقائد اختیار کیے جو
مقامِ رسالت ﷺ کے منافی تھے۔ بعض کے نزدیک نبی کریم ﷺ کو عام انسانوں کی طرح بشر
سمجھنا، آپ ﷺ کے علمِ غیب کا انکار کرنا اور آپ ﷺ کی خصوصی فضیلت کو تسلیم نہ کرنا
جیسے نظریات پائے جاتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی ایسے باطل اور
کفریہ تصورات پیش کیے گئے جو اسلامی عقائد کے سراسر خلاف تھے۔
اعلیٰ حضرت نے ان مسائل کو
معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا، بلکہ ان کے بارے میں مکہ مکرمہ کے اپنے زمانے
کے جلیل القدر علمائ، فقہائ اور مفتیانِ کرام کی بارگاہ میں استفتائ پیش کیا۔ اسی
سلسلے میں حسام الحرمین سامنے آئی، جس میں ان باطل عقائد کے بارے میں اہلِ حرم کے
علمائ کے فتاویٰ شامل ہوئے۔ یہ کتاب اس بات کی ایک نمایاں مثال ہے کہ اعلیٰ حضرت
نے گستاخانہ اور باطل نظریات کا مقابلہ صرف جذبات کے ذریعے نہیں، بلکہ علم، تحقیق،
فتویٰ اور مضبوط علمی استدلال کے ذریعے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کی زندگی
ہمارے لیے صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ آج بھی ایک عملی سبق ہے۔ ان کی جدوجہد
ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ صرف دعوے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے
لیے علم بھی چاہیے، عمل بھی، جرأت بھی، اخلاص بھی اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل
بھی۔
اعلیٰ حضرت کے عشقِ رسول ﷺ
کی جھلک ان کے نثر و نظم دونوں میں نمایاں ہے۔ ان کا ایک شعر اسی حقیقت کو نہایت
خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
وہ جان ہیں جہان کی، جان ہے تو جہان ہے
یہ صرف شعر نہیں، بلکہ
اعلیٰ حضرت کے عشقِ رسول ﷺ کی ترجمانی ہے۔ ان کی زندگی، ان کا قلم، ان کی تصانیف
اور ان کی علمی جدوجہد اسی محبتِ رسول ﷺ کے رنگ میں رنگی ہوئی نظر آتی ہے۔
لہٰذا آج ضرورت اس بات کی
ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت کو صرف نام سے نہ جانیں، بلکہ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں، ان
کے کردار کو سمجھیں، ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں اور ان کے جذبہئ
عشقِ رسول ﷺ، جرأتِ ایمانی اور دفاعِ ناموسِ رسالت ﷺ سے سبق حاصل کریں۔ یہی حقیقی
نسبت ہے، یہی سچی محبت ہے اور یہی اعلیٰ حضرت کی زندگی کو سمجھنے کا درست طریقہ
ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں