ہم نے اسلام بولنا سیکھ لیا ہے، اسلام جینا نہیں
"قومیں اس وقت زوال کا شکار نہیں ہوتیں جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، بلکہ اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب ان کے کردار خالی ہو جائیں۔"
آج اگر پوری دیانت داری کے ساتھ امتِ مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا جائزہ لیا
جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایک طرف قرآن کی تلاوت کی صدائیں ہیں، دوسری طرف
قرآن کے احکام سے بے اعتنائی ہے۔ ایک طرف رسولِ اکرم ﷺ کی محبت کے دعوے ہیں، دوسری
طرف آپ ﷺ کی سنتوں سے دوری ہے۔ ایک طرف دین کے نام پر جلسوں، کانفرنسوں،
سیمیناروں، مناظروں اور مباحثوں کی بھرمار ہے، دوسری طرف ہمارے بازار جھوٹ سے بھرے
ہوئے ہیں، ہمارے گھروں میں سکون مفقود ہے، ہمارے اداروں میں امانت ناپید ہے، ہمارے
معاشرے میں انصاف دم توڑ رہا ہے، اور ہمارے کردار سے اسلام کی خوشبو آہستہ آہستہ
رخصت ہوتی جا رہی ہے۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم اسلام پر گھنٹوں بول سکتے ہیں، مگر چند لمحے اسلام
کے مطابق جینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کو نصیحت کرنے میں مہارت
رکھتے ہیں، مگر اپنے نفس کو نصیحت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ہم منبروں سے اخلاق
کی بات کرتے ہیں، مگر گھروں میں اخلاق بھول جاتے ہیں۔ ہم قرآن کے حقوق پر تقریریں
کرتے ہیں، مگر خود قرآن کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ ہم رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر ہزاروں
صفحات لکھ دیتے ہیں، مگر اپنی زندگی کا ایک صفحہ بھی سیرتِ نبوی ﷺ کے رنگ میں
رنگنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
افسوس! ہم نے دین کو گفتگو کا فن بنا لیا ہے، زندگی کا فن نہیں۔ ہم نے
اسلام کو زبان کی زینت تو بنا لیا، مگر کردار کی زینت نہ بنا سکے۔ حالانکہ اسلام
صرف پڑھنے، پڑھانے، سننے یا سنانے کے لیے نہیں آیا تھا؛ اسلام تو انسان کو بدلنے
آیا تھا۔ وہ دل بدلنے آیا تھا، فکر بدلنے آیا تھا، کردار سنوارنے آیا تھا، معاشرہ
تعمیر کرنے آیا تھا اور انسان کو زمین پر اللہ کا صالح بندہ بنانے آیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں صرف ایک مذہب کی تبلیغ نہیں کی
تھی، بلکہ ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی تھی جس میں انسان کی قدر اس کے لباس، نسب،
دولت اور طاقت سے نہیں، بلکہ اس کے تقویٰ، اخلاق اور کردار سے ہوتی تھی۔ آپ ﷺ نے
صرف نماز پڑھنا نہیں سکھایا بلکہ نماز کو زندگی میں اتارنا سکھایا؛ صرف روزہ رکھنا
نہیں سکھایا بلکہ خواہشات کو قابو میں رکھنا سکھایا؛ صرف زکوٰۃ دینا نہیں سکھایا
بلکہ دوسروں کا درد اپنے دل میں محسوس کرنا سکھایا؛ صرف حج کا طریقہ نہیں بتایا
بلکہ بندگی کا شعور عطا فرمایا۔
اسلام نے انسان کو بتایا کہ تمہاری زندگی کا مقصد صرف کھانا، کمانا، سونا
اور مر جانا نہیں ہے۔ تمہیں ایک دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ تم سے تمہاری
زبان کا بھی حساب ہوگا اور تمہارے کردار کا بھی۔ تم سے تمہاری نمازوں کا بھی سوال
ہوگا اور تمہارے پڑوسی کے حقوق کا بھی۔ تم سے تمہارے علم کا بھی پوچھا جائے گا اور
اس علم پر عمل کا بھی۔ اس لیے اسلام نے ہمیشہ کردار کو الفاظ پر مقدم رکھا۔ مگر
افسوس! اکیسویں صدی کا مسلمان اس حقیقت کو بھولتا جا رہا ہے۔ اس نے دنیا کو منزل
سمجھ لیا ہے، حالانکہ دنیا صرف ایک پڑاؤ ہے۔ اس نے مال کو کامیابی سمجھ لیا ہے،
حالانکہ کامیابی اللہ کی رضا کا نام ہے۔ اس نے شہرت کو عزت سمجھ لیا ہے، حالانکہ
عزت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے سوشل میڈیا کی تعریفوں کو سرمایہ بنا لیا ہے،
حالانکہ اصل سرمایہ وہ نیک اعمال ہیں جو قبر کی تاریکی میں روشنی بنیں گے۔
آج ہم اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلانے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کر دیتے
ہیں، مگر انہیں بہترین انسان بنانے کی فکر کم کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر،
انجینئر، پروفیسر، تاجر یا افسر بن جائیں، مگر یہ خواہش کمزور پڑ گئی ہے کہ وہ
سچے، دیانت دار، بااخلاق، رحم دل اور اللہ سے ڈرنے والے مسلمان بنیں۔ یہی وہ لمحہ
ہے جہاں ہماری ترجیحات بدل گئیں، اور جب ترجیحات بدلتی ہیں تو قوموں کی تقدیریں
بھی بدل جاتی ہیں۔ ہم نے دین کو معلومات تک محدود کر دیا ہے۔ ہمیں فقہی اختلافات
یاد ہیں، مگر والدین کے حقوق بھول گئے۔ ہمیں مناظرے کے دلائل یاد ہیں، مگر سچ
بولنے کی عادت نہیں رہی۔ ہمیں دوسروں کی غلطیاں نظر آتی ہیں، مگر اپنا نفس دکھائی
نہیں دیتا۔ ہم دوسروں کی اصلاح چاہتے ہیں، مگر اپنی اصلاح سے بھاگتے ہیں۔ یہی وہ
بیماری ہے جس نے امت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے! اگر آج رسول اللہ ﷺ ہمارے بازاروں سے
گزریں، ہمارے گھروں میں تشریف لائیں، ہمارے تعلیمی اداروں کو دیکھیں، ہمارے
کاروبار کا جائزہ لیں، ہمارے سوشل میڈیا کو دیکھیں، ہماری گفتگو سنیں اور ہمارے
معاملات کا مشاہدہ کریں، تو کیا ہم پورے اطمینان سے کہہ سکیں گے کہ یا رسول اللہ
ﷺ! ہم نے آپ کے اسلام کو صرف پڑھا نہیں، جیا بھی ہے؟ یہ سوال کسی اور سے نہیں، ہم
میں سے ہر ایک سے ہے۔ آج امت کو تقریروں کی نہیں، کردار کی ضرورت ہے۔ نعروں کی
نہیں، عمل کی ضرورت ہے۔ اختلافات بڑھانے والوں کی نہیں، اپنے نفس کی اصلاح کرنے
والوں کی ضرورت ہے۔ اسلام کو ثابت کرنے کے لیے دلائل کم نہیں، مگر اسلام کو زندہ
کرنے کے لیے کردار کم پڑ گئے ہیں۔
یاد رکھیے! اسلام کتابوں میں زندہ نہیں رہتا، اسلام انسانوں میں زندہ رہتا
ہے۔ قرآن الماریوں میں نہیں، سینوں میں زندہ رہتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ تقریروں سے
نہیں، کردار سے زندہ رہتی ہے۔ اور قومیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب ان کے افراد
اسلام کو زبان سے نہیں بلکہ اپنی زندگی سے بولتے ہیں۔ اسی لیے آج سب سے بڑا سوال
یہ نہیں کہ ہم اسلام کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ ہم اسلام کے مطابق
کتنا جیتے ہیں؟ کیونکہ ہم نے اسلام بولنا تو سیکھ لیا ہے، مگر ابھی اسلام جینا
سیکھنا باقی ہے۔
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں اپنی نگاہیں موجودہ دور سے ہٹا کر
تاریخ کے اس روشن افق کی طرف اٹھانی ہوں گی جہاں اسلام صرف کتابوں میں نہیں،
انسانوں کے کردار میں زندہ تھا۔ کیونکہ کسی بھی قوم کے حال کو سمجھنے کے لیے اس کے
ماضی کا مطالعہ ناگزیر ہوتا ہے۔ جو قوم اپنے روشن ماضی سے رشتہ توڑ دیتی ہے، وہ
اپنے تاریک حال کی شکایت تو کر سکتی ہے، مگر اپنے روشن مستقبل کی تعمیر نہیں کر
سکتی۔
ذرا تصور کیجیے! مدینہ کی وہ گلیاں جہاں رسولِ اکرم ﷺ تشریف لے کر گزرتے
تھے۔ وہاں اسلام صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں تھا، بلکہ بازار کی رونق
میں بھی اسلام تھا، عدالت کے فیصلوں میں بھی اسلام تھا، تجارت کے لین دین میں بھی
اسلام تھا، گھروں کی تربیت میں بھی اسلام تھا، شوہر اور بیوی کے تعلقات میں بھی
اسلام تھا، والدین اور اولاد کے حقوق میں بھی اسلام تھا، حکمران کی ذمہ داریوں میں
بھی اسلام تھا اور رعایا کے فرائض میں بھی اسلام تھا۔ اسلام عبادت کا نام بھی تھا
اور انسانیت کی خدمت کا بھی۔ اسلام اللہ کے حقوق بھی سکھاتا تھا اور بندوں کے حقوق
بھی۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو صرف قرآن کی آیات یاد نہیں
کرائیں بلکہ ان آیات کو ان کے دلوں، سوچوں اور کردار میں اتار دیا۔ یہی وجہ تھی کہ
وہ قرآن کے حافظ بننے سے پہلے قرآن کے پیکر بن گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے
جب رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا اخلاق
قرآن تھا۔ یہی وہ معیار تھا جس نے ایک منتشر قوم کو دنیا کی رہنما قوم بنا دیا۔
سوچیے! وہ کون سی طاقت تھی جس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سچائی
کا استعارہ بنا دیا؟ وہ کون سا جذبہ تھا جس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو
راتوں کے اندھیرے میں رعایا کی خبرگیری پر مجبور کیا؟ وہ کون سی کیفیت تھی جس نے
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنا مال اللہ کی راہ میں بہانے پر آمادہ رکھا؟ وہ
کون سا ایمان تھا جس نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے عدل، علم اور شجاعت کو
رہتی دنیا تک مثال بنا دیا؟ اس کا جواب صرف ایک ہے: انہوں نے اسلام پڑھا نہیں تھا،
اسلام جیا تھا۔
ان کے نزدیک اسلام مسجد میں شروع ہو کر مسجد پر ختم نہیں ہوتا تھا۔ ان کی
نماز بازار میں بھی نظر آتی تھی، ان کا روزہ ان کی زبان پر بھی دکھائی دیتا تھا،
ان کی زکوٰۃ ان کے اخلاق میں بھی محسوس ہوتی تھی، اور ان کا حج ان کی عاجزی میں
بھی جھلکتا تھا۔ ان کے لیے عبادت اور کردار دو الگ چیزیں نہیں تھیں، بلکہ ایک ہی
حقیقت کے دو رُخ تھے۔
پھر تابعین آئے، تبع تابعین آئے، اور ان کے بعد وہ نفوسِ قدسیہ آئیں جنہیں تاریخ اولیائے کرام کے نام سے یاد کرتی ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے وعظ میں اس لیے تاثیر تھی کہ ان کی آنکھیں راتوں کی عبادت سے اشک بار ہوتی تھیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی نصیحت اس لیے دلوں میں اترتی تھی کہ وہ پہلے خود اس پر عمل کرتے تھے۔ حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ نے تصوف کو شریعت سے کبھی جدا نہیں ہونے دیا۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمہ اللہ نے محبت، خدمت، اخلاص اور حسنِ اخلاق سے وہ انقلاب برپا کیا جسے تلواریں بھی پیدا نہ کر سکیں۔ حضرت مخدوم اشرف سمنانی رحمہ اللہ، حضرت سید سالار مسعود غازی رحمہ اللہ اور بے شمار اولیائے کرام نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ اسلام کی سب سے مؤثر دعوت زبان نہیں، بلکہ زندگی ہے۔
انہیں دیکھ کر لوگ مسلمان ہوتے تھے، ان کی تقریریں سن کر نہیں؛ ان کے اخلاق
سے متاثر ہوتے تھے، ان کے لباس سے نہیں؛ ان کی سچائی دلوں کو فتح کرتی تھی، ان کی
شہرت نہیں۔ انہوں نے کبھی اپنی دینداری کی تشہیر نہیں کی، مگر اللہ تعالیٰ نے ان
کے اخلاص کو ایسا قبول فرمایا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی ان کا تذکرہ احترام
سے کیا جاتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر اپنے حال پر غور کرنا چاہیے۔
ہم ان بزرگوں کے ناموں پر کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں، ان کے عرس مناتے ہیں،
ان کی سیرت پر تقریریں کرتے ہیں، ان کے اقوال نقل کرتے ہیں، مگر کیا ہم نے ان کی
زندگی سے کچھ سیکھا؟ کیا ہمارے اندر وہ خوفِ خدا پیدا ہوا؟ کیا ہمارے دل میں آخرت
کی وہ تڑپ پیدا ہوئی؟ کیا ہماری تجارت میں وہ دیانت آئی؟ کیا ہماری زبان جھوٹ سے
پاک ہوئی؟ کیا ہمارے گھروں میں رحمت اتری؟ کیا ہماری آنکھوں میں امت کا درد پیدا
ہوا؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم نے اسلاف کو صرف یاد کیا
ہے، اپنایا نہیں؛ ان کی تعریف کی ہے، ان کی پیروی نہیں کی؛ ان کے ناموں سے محبت کا
دعویٰ کیا ہے، مگر ان کے راستے پر چلنے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
یہیں سے امت کا زوال شروع ہوا۔ جس دن اسلام کردار سے نکل کر صرف تقریروں
میں رہ گیا، جس دن قرآن سینوں سے نکل کر صرف رسمِ تلاوت بن گیا، جس دن سنتِ نبوی ﷺ
زندگی کے بجائے صرف جلسوں کا موضوع بن گئی، اسی دن امت کی عظمت بھی آہستہ آہستہ
رخصت ہونے لگی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے اکیسویں صدی کے مسلمان کی داستان شروع
ہوتی ہے؛ ایک ایسا مسلمان جس کے پاس علم پہلے سے زیادہ ہے، ذرائع پہلے سے زیادہ
ہیں، سہولتیں پہلے سے زیادہ ہیں، مگر سکون کم ہے، اخلاص کم ہے، کردار کم ہے اور
اپنے رب سے تعلق پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔
اور جب ہم اس روشن تاریخ کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہیں تو دل کانپ
اٹھتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس قرآن ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا قرآن
ہمارے اندر بھی زندہ ہے؟ سوال یہ نہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے
ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زندگیوں میں سنتِ رسول ﷺ کی کوئی جھلک باقی
ہے؟ سوال یہ نہیں کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا اسلام ہمارے
کردار میں بھی نظر آتا ہے؟
اکیسویں صدی کا مسلمان ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ اس کے گھر میں قرآن بھی
ہے اور اس کے ہاتھ میں موبائل بھی؛ اس کی زبان پر درود بھی ہے اور اسی زبان پر
غیبت بھی؛ وہ مسجد میں صفِ اول کا خواہش مند بھی ہے اور کاروبار میں دھوکے سے بھی
نہیں ہچکچاتا؛ وہ دین کے لیے جذباتی بھی ہوتا ہے مگر دین کے احکام پر عمل کرنے میں
سستی بھی کرتا ہے۔ گویا اس نے اسلام کو عقیدت کا عنوان تو بنا لیا، مگر زندگی کا
دستور نہ بنا سکا۔
آج ہماری محفلوں میں علم کی کمی نہیں۔ ہر شہر میں مدارس ہیں، جامعات ہیں،
دینی اجتماعات ہیں، سیرت کانفرنسیں ہیں، ختمِ بخاری کی تقریبات ہیں، مناظرے ہیں،
مکالمے ہیں، سیمینار ہیں، سوشل میڈیا پر ہزاروں خطبات اور لاکھوں دینی ویڈیوز
موجود ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر علم اتنا بڑھ گیا ہے تو عمل کیوں گھٹتا جا رہا
ہے؟ اگر وعظ اتنے زیادہ ہو گئے ہیں تو ظلم کیوں بڑھ رہا ہے؟ اگر قرآن اتنا پڑھا جا
رہا ہے تو دل اتنے سخت کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو
سننے کی چیز سمجھ لیا، اپنانے کی نہیں؛ ہم نے اسلام کو بولنے کی چیز سمجھ لیا،
جینے کی نہیں۔ ہم نے سمجھ لیا کہ دین کا تعلق صرف مسجد سے ہے، حالانکہ اسلام تو
بازار میں بھی اترتا ہے، عدالت میں بھی، دفتر میں بھی، سیاست میں بھی، معیشت میں
بھی، تعلیم میں بھی، گھر میں بھی اور انسان کے دل کے ہر گوشے میں بھی۔
آج ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو دنیا کی ہر مہارت سکھانا
چاہتے ہیں، مگر سچ بولنے کی عادت نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں کامیاب انسان بنانا چاہتے
ہیں، مگر صالح انسان بنانے کی فکر کم کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے مستقبل کی فکر ہے، مگر
ان کی آخرت کی فکر نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں عزت پائیں، مگر یہ بھول گئے
ہیں کہ اصل عزت تو اللہ کے ہاں کامیاب ہونے میں ہے۔
ہماری زندگیاں بھی عجیب دوڑ بن گئی ہیں۔ صبح سے شام تک رزق کے لیے دوڑ، پھر
اس سے زیادہ رزق کے لیے دوڑ، پھر اس سے بہتر زندگی کے لیے دوڑ، پھر اس سے بڑی
آسائشوں کے لیے دوڑ۔ لیکن کبھی ہم نے رک کر یہ سوچا کہ جس موت سے ہم بھاگ رہے ہیں،
وہ ہماری طرف ہر لمحہ بڑھ رہی ہے؟ جس قبر کو ہم بھولے بیٹھے ہیں، وہ ہماری منتظر
ہے۔ جس رب کے سامنے ہمیں کھڑا ہونا ہے، اس کے لیے ہم نے کیا تیاری کی ہے؟
یہ دنیا، جس کے لیے ہم نے اپنی راتوں کی نیند قربان کر دی، اپنی صحت قربان
کر دی، اپنے رشتے قربان کر دیے، اپنے اصول قربان کر دیے، یہی دنیا ایک دن ہمیں
چھوڑ دے گی، یا ہم اسے چھوڑ جائیں گے۔ محل یہیں رہ جائیں گے، دکانیں یہیں رہ جائیں
گی، بینک بیلنس یہیں رہ جائے گا، شہرت یہیں رہ جائے گی، سوشل میڈیا کے لاکھوں
فالورز یہیں رہ جائیں گے، اور قبر میں صرف دو چیزیں ہمارے ساتھ جائیں گی: ایمان
اور اعمال۔ افسوس! ہم نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے سنوارا اور آخرت کو کل پر ٹالتے
رہے۔ ہم نے جسم کی خوبصورتی پر وقت صرف کیا، مگر دل کی اصلاح کے لیے فرصت نہ
نکالی۔ ہم نے اپنے گھروں کو روشن رکھنے کے لیے لاکھوں خرچ کیے، مگر اپنی قبروں کو
روشن کرنے کے لیے چند لمحے بھی اخلاص کے ساتھ عبادت نہ کر سکے۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے اسلاف نے کبھی فراموش نہیں کیا تھا۔ ان کے سامنے بھی
دنیا تھی، مگر دنیا ان کے ہاتھ میں تھی، دل میں نہیں۔ آج دنیا ہمارے ہاتھ میں کم
اور دل میں زیادہ ہے۔ اسی لیے سکون چھن گیا، برکت اٹھ گئی، اخلاص کم ہو گیا اور
عبادت بھی بوجھ محسوس ہونے لگی۔
جب تک مسلمان دوبارہ یہ نہیں سمجھ لے گا کہ وہ اس دنیا کا مستقل باشندہ
نہیں بلکہ ایک مسافر ہے، جب تک اسے قبر کی تنہائی، میدانِ حشر کی ہولناکی، میزان
کا انصاف، پلِ صراط کی باریکی اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کا یقین دل کی
گہرائیوں سے حاصل نہیں ہوگا، اس وقت تک اس کے الفاظ تو مسلمان رہیں گے، مگر اس کی
زندگی اسلام کی حقیقی تصویر نہیں بن سکے گی۔ اسی لیے آج امت کو نئے نعروں کی نہیں،
نئے کردار کی ضرورت ہے؛ نئی تقریروں کی نہیں، نئی زندگی کی ضرورت ہے؛ اور نئی
بحثوں کی نہیں، اس ایمان کی ضرورت ہے جو انسان کو دنیا کے درمیان رہتے ہوئے بھی
آخرت کا مسافر بنا دے۔
لیکن یہ ایمان، یہ یقین اور یہ کیفیت اس وقت پیدا نہیں ہوتی جب انسان صرف
دین کے بارے میں جانتا ہو؛ یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ ہر صبح خود کو ایک مسافر
اور ہر شام خود کو اپنے رب کے قریب سمجھ کر زندگی گزارنے لگتا ہے۔ یہی وہ راز تھا
جس نے پہلی نسل کے مسلمانوں کو تاریخ کا امام بنا دیا اور یہی وہ حقیقت ہے جسے
بھلا کر آج کا مسلمان اپنی منزل سے بھٹک گیا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے اس دنیا کو کبھی مستقل قیام گاہ نہیں سمجھا۔ آپ ﷺ نے
فرمایا کہ دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی اجنبی یا مسافر رہتا ہے۔ یہی تعلیم صحابۂ
کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں اتر گئی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ دنیا ایک مختصر
پڑاؤ ہے، اصل زندگی تو وہ ہے جو موت کے بعد شروع ہوگی۔ اسی لیے ان کی نگاہیں محلات
پر نہیں، جنت پر ہوتی تھیں؛ ان کے خواب تخت و تاج کے نہیں، اللہ کی رضا کے ہوتے
تھے؛ ان کے قدم بازار میں ضرور چلتے تھے، مگر ان کے دل ہمیشہ عرشِ الٰہی کی طرف
متوجہ رہتے تھے۔
آج ہم نے اس حقیقت کو الٹ دیا ہے۔ ہم دنیا کے لیے اس طرح منصوبے بناتے ہیں
جیسے ہمیں کبھی مرنا ہی نہیں، اور آخرت کے لیے اس طرح تیاری کرتے ہیں جیسے ابھی
ہزاروں سال زندہ رہنا ہو۔ حالانکہ موت نہ عمر دیکھتی ہے، نہ دولت، نہ منصب، نہ
شہرت۔ وہ بادشاہ کے دروازے پر بھی آتی ہے اور فقیر کی جھونپڑی میں بھی۔ وہ جوان کو
بھی لے جاتی ہے اور بوڑھے کو بھی۔ وہ کسی کو مہلت کا پروانہ دکھا کر نہیں آتی،
بلکہ اچانک آتی ہے اور انسان کو اس دنیا سے اٹھا کر اس دنیا میں پہنچا دیتی ہے
جہاں نہ سفارش چلتی ہے، نہ دولت کام آتی ہے، نہ رشتہ داری، نہ شہرت۔
کتنا عجیب انسان ہے! روزانہ جنازے دیکھتا ہے، قبرستان جاتا ہے، اپنے عزیزوں
کو اپنے ہاتھوں سے مٹی میں اتارتا ہے، مگر واپس آتے ہی پھر اسی غفلت کی زندگی میں
گم ہو جاتا ہے۔ گویا مرنے والے سب ہیں، صرف وہ خود نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ
ہر جنازہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ "آج میری باری تھی، کل تمہاری ہوگی۔"
قبر وہ جگہ ہے جہاں نہ کوئی عہدہ ساتھ جائے گا، نہ کوئی ڈگری، نہ کوئی بینک
بیلنس، نہ کوئی عالی شان مکان، نہ کوئی کاروبار، نہ سوشل میڈیا کی شہرت، نہ لوگوں
کی واہ واہ۔ وہاں صرف دو چیزیں انسان کے ساتھ ہوں گی: ایک اس کا ایمان، اور دوسرے
اس کے اعمال۔ اگر ایمان مضبوط ہوگا، اعمال صالح ہوں گے، حقوق العباد ادا کیے ہوں
گے، دل اللہ کے خوف سے آباد ہوگا، تو وہی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بن جائے
گی۔ اور اگر زندگی صرف دنیا کے لیے گزری، خواہشات کے پیچھے گزری، ظلم، تکبر، بے
ایمانی اور غفلت میں گزری، تو پھر یہی قبر حسرتوں کی پہلی منزل بن جائے گی۔
ہمارے اسلاف جب رات کو سوتے تھے تو یہ یقین نہیں ہوتا تھا کہ صبح آنکھ کھلے
گی یا نہیں۔ اسی لیے وہ ہر دن کو اپنی زندگی کا آخری دن سمجھ کر گزارتے تھے۔ ان کے
نزدیک ہر نماز آخری نماز تھی، ہر سجدہ آخری سجدہ تھا، ہر ملاقات آخری ملاقات تھی۔
یہی احساس انہیں گناہوں سے روکتا تھا، یہی احساس انہیں ظلم سے بچاتا تھا، یہی
احساس انہیں عاجزی، اخلاص اور تقویٰ عطا کرتا تھا۔ اور آج…… ہم نے موت کو اپنی
گفتگو سے بھی نکال دیا ہے۔ ہمیں سرمایہ کاری کے منصوبے یاد ہیں، مگر قبر کی تیاری
یاد نہیں۔ ہمیں دنیا کی خبریں معلوم ہیں، مگر اپنے نامۂ اعمال کی خبر نہیں۔ ہمیں
یہ فکر ہے کہ آنے والے دس برسوں میں ہمارا مقام کیا ہوگا، مگر یہ فکر نہیں کہ اگر
آج رات موت آ گئی تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دیں گے۔
ہم نے اپنی زندگیوں کو اس قدر دنیا کے گرد گھما لیا ہے کہ آخرت ایک دور کا
تصور بن کر رہ گئی ہے، حالانکہ آخرت دور نہیں، ہر گزرتا ہوا سانس ہمیں اس کے قریب
لے جا رہا ہے۔ ہر طلوعِ آفتاب ہماری عمر کا ایک ورق کم کر دیتا ہے، ہر غروبِ آفتاب
ہمیں ہماری آخری منزل کے ایک دن قریب کر دیتا ہے۔ وقت خاموشی سے گزر رہا ہے، عمر
خاموشی سے ختم ہو رہی ہے، اور موت خاموشی سے ہماری طرف بڑھ رہی ہے۔ اس لیے اگر
واقعی ہم اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس لانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے دلوں
میں آخرت کو زندہ کرنا ہوگا۔ جس دل میں آخرت زندہ ہو جائے، اس کی زبان جھوٹ نہیں
بولتی، اس کا ہاتھ ظلم نہیں کرتا، اس کی آنکھ خیانت نہیں کرتی، اس کا دل تکبر سے
بھر نہیں سکتا، اور اس کی زندگی صرف دنیا کے لیے نہیں رہتی۔ وہ جان لیتا ہے کہ اصل
کامیابی اس دن ہے جب اللہ تعالیٰ فرمائے: "آج تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم
غمگین ہوگے۔"
پس، امت کی اصلاح کا آغاز نہ صرف علم سے ہوگا، نہ صرف جذبات سے، بلکہ اس
یقین سے ہوگا کہ ہم سب مسافر ہیں، ہمیں لوٹ کر اپنے رب کے حضور جانا ہے، اور وہاں
ہماری تقریروں سے زیادہ ہمارے کردار کا حساب لیا جائے گا۔ اسی دن یہ حقیقت پوری
طرح آشکار ہوگی کہ اسلام بولنے والے کتنے تھے، اور اسلام جینے والے کتنے۔
اور جب انسان کے دل میں آخرت کا یقین کمزور پڑ جاتا ہے تو پھر دنیا کی ہر
چمک اسے اپنی طرف کھینچنے لگتی ہے۔ وہ حق اور باطل کا فیصلہ بھی اپنے فائدے کی
بنیاد پر کرنے لگتا ہے۔ اس کی عبادت میں اخلاص کم ہونے لگتا ہے، اس کے علم میں
برکت اٹھ جاتی ہے، اس کے رزق سے قناعت رخصت ہو جاتی ہے، اور اس کے کردار سے وہ نور
غائب ہو جاتا ہے جو ایک سچے مسلمان کی پہچان ہوتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا
بحران غربت نہیں، بے روزگاری نہیں، سیاسی کمزوری نہیں، سائنسی پسماندگی بھی نہیں؛
ان سب سے پہلے اور ان سب سے بڑا بحران کردار کا بحران ہے۔ جب کردار گر جاتا ہے تو
علم بھی بے اثر ہو جاتا ہے، دولت بھی وبال بن جاتی ہے، طاقت بھی ظلم میں بدل جاتی
ہے، اور آزادی بھی بے راہ روی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
ذرا اپنے معاشرے پر نگاہ دوڑائیے۔ باپ اپنے بچوں سے دیانت کی امید رکھتا ہے
مگر خود جھوٹ بولتا ہے۔ استاد شاگرد سے اخلاق چاہتا ہے مگر خود اپنے منصب کا حق
ادا نہیں کرتا۔ تاجر برکت کی دعا کرتا ہے مگر ناپ تول میں خیانت کرتا ہے۔ ملازم
تنخواہ پوری لیتا ہے مگر کام پورا نہیں کرتا۔ حکمران انصاف کا وعدہ کرتا ہے مگر
انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ عوام حکمرانوں کو برا کہتے ہیں مگر خود قانون کی
پابندی سے گریز کرتے ہیں۔ ہر شخص اصلاح دوسرے سے چاہتا ہے، مگر اپنی اصلاح سے
نظریں چرا لیتا ہے۔ یہی وہ بیماری ہے جس نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
ہم نے دین کو دوسروں پر لاگو کرنے کی چیز سمجھ لیا ہے، اپنے اوپر نافذ کرنے
کی نہیں۔ ہمیں دوسروں کے عیب فوراً دکھائی دیتے ہیں، مگر اپنے نفس کی خرابیاں نظر
نہیں آتیں۔ ہم فرقوں پر بحث کرتے ہیں، مگر اخلاق پر خاموش رہتے ہیں۔ ہم معمولی
فقہی اختلافات پر گھنٹوں گفتگو کرتے ہیں، مگر والدین کی نافرمانی، پڑوسیوں کے
حقوق، امانت، دیانت، وعدے کی پابندی، سچائی اور حسنِ سلوک جیسے بنیادی اسلامی
اوصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا اسلام اکثر مسجد کی دہلیز
پر رک جاتا ہے۔ نماز ختم ہوتی ہے تو اخلاق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ رمضان گزرتا ہے تو
تقویٰ بھی رخصت ہو جاتا ہے۔ حج سے واپسی ہوتی ہے تو عاجزی بھی ساتھ نہیں آتی۔ گویا
عبادتیں ہمارے اعمال میں تبدیلی پیدا کرنے کے بجائے صرف ایک رسم بن کر رہ گئی ہیں،
حالانکہ عبادت کا مقصد انسان کو بدلنا ہے، صرف اس کے معمولات کو بدلنا نہیں۔
ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچنا ہوگا کہ اگر رسول اللہ ﷺ آج ہمارے
درمیان تشریف لائیں تو کیا ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی پیش کرنے کی ہمت
رکھیں گے؟ کیا ہمارے بازار، ہمارے تعلیمی ادارے، ہماری سیاست، ہماری معیشت، ہماری
عدالتیں، ہمارے گھر اور ہمارے رویّے اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہم واقعی آپ ﷺ کے
امتی ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے دل کو بے چین کر دے تو سمجھ لیجیے کہ ایمان
ابھی زندہ ہے، کیونکہ زندہ دل ہی اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے۔ مردہ دل کو نہ اپنی
غلطی محسوس ہوتی ہے اور نہ اپنے انجام کی فکر ہوتی ہے۔
امت کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے اپنے کردار کی اصلاح کی، اللہ
تعالیٰ نے ان کی تقدیر بدل دی۔ بدر کے میدان میں تعداد کم تھی مگر ایمان مضبوط
تھا، اس لیے فتح ملی۔ اندلس میں علم کے ساتھ عمل تھا، اس لیے دنیا نے مسلمانوں سے
روشنی حاصل کی۔ بغداد، دمشق، بخارا، سمرقند اور دہلی صرف عمارتوں کی وجہ سے عظیم
نہیں تھے، بلکہ اس لیے عظیم تھے کہ وہاں ایسے انسان پیدا ہوتے تھے جن کے علم کو ان
کے کردار کی تائید حاصل ہوتی تھی۔ آج اگر ہم دوبارہ عزت چاہتے ہیں تو ہمیں نئی
تہذیب ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنی اصل تہذیب کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں کوئی نیا قرآن نہیں چاہیے، وہی قرآن چاہیے جو ہمارے گھروں میں موجود ہے؛ مگر
فرق یہ ہوگا کہ اب وہ صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی کے لیے کھولا
جائے۔ ہمیں کوئی نیا رسول نہیں چاہیے، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی اسی سنت کو اپنی
زندگیوں میں دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ ہمیں نئے نعروں کی ضرورت نہیں، بلکہ نئے انسانوں
کی ضرورت ہے؛ ایسے انسان جو سچ بولیں، امانت ادا کریں، وعدہ نبھائیں، ظلم سے بچیں،
اللہ سے ڈریں اور بندوں سے محبت کریں۔
یاد رکھیے! امت کی تعمیر ایوانوں سے نہیں، انسانوں سے ہوتی ہے؛ اور انسان
اس وقت بنتا ہے جب اس کے دل میں قرآن اتر جائے، اس کی زبان پر سچ آ جائے، اس کے
ہاتھوں سے ظلم ختم ہو جائے، اس کی آنکھوں میں حیا آ جائے اور اس کی زندگی میں رسول
اللہ ﷺ کی سنت سانس لینے لگے۔ جس دن ہم نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ہم صرف اسلام کے
داعی نہیں بلکہ اسلام کے عملی نمونہ بھی بنیں گے، اسی دن سے امت کی بیداری کا سفر
شروع ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قوموں کی تقدیر اس وقت بدلتا ہے جب وہ خود اپنی
حالت بدلنے کا عزم کر لیتی ہیں۔
آخرکار سوال پھر وہی آ کر کھڑا ہو جاتا ہے جس سے ہم بار بار نظریں چرا لیتے
ہیں۔ اگر آج ہماری زندگی کا آخری سورج غروب ہو جائے، اگر آج ہماری سانسوں کی ڈور
ٹوٹ جائے، اگر آج ہمارے نامۂ اعمال پر آخری لکیر کھینچ دی جائے، تو کیا ہم پورے
اطمینان کے ساتھ اپنے رب کے حضور کھڑے ہو سکیں گے؟ کیا ہماری زبان وہی گواہی دے گی
جو ہمارا کردار دے گا؟ یا پھر ہماری زبان کچھ اور کہے گی اور ہمارے اعمال کچھ اور؟
ذرا تصور کیجیے... ایک دن ہماری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گی۔ وہ
گھر جسے بنانے میں پوری زندگی لگا دی، وہیں رہ جائے گا۔ وہ زمین جس کے لیے جھگڑے
کیے، وہیں رہ جائے گی۔ وہ دولت جس کے لیے حلال و حرام کی تمیز مٹا دی، وہ دوسروں
کے حصے میں چلی جائے گی۔ وہ عہدے، وہ شہرت، وہ تعریفیں، وہ اعزازات، وہ سوشل میڈیا
کی مقبولیت، سب اسی دنیا میں رہ جائیں گے۔ پھر چار کندھے ہوں گے، چند آنسو ہوں گے،
کچھ دعائیں ہوں گی، اور مٹی کی ایک خاموش قبر ہوگی۔ اس کے بعد نہ کوئی دوست ساتھ
ہوگا، نہ کوئی رشتہ دار، نہ کوئی وکیل، نہ کوئی سفارش، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی
بارگاہ اور انسان کا اپنا عمل ہوگا۔ اس دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کتنی
تقریریں کیں، کتنے مناظرے جیتے، کتنے لوگوں کو خاموش کیا، کتنی کتابیں جمع کیں یا
کتنے پیروکار بنا لیے۔ سوال یہ ہوگا کہ تم نے جو جانا تھا، اس پر کتنا عمل کیا؟ تم
نے قرآن کو کتنا جیا؟ تم نے رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں کتنا زندہ رکھا؟
تمہارے اخلاق کیسے تھے؟ تمہارے معاملات کیسے تھے؟ تم نے بندوں کے حقوق کیسے ادا
کیے؟ اسی لیے اسلام نے ہمیشہ کردار کو علم سے جدا نہیں ہونے دیا۔ ایسا علم جو عمل
پیدا نہ کرے، وہ انسان کو عاجزی کے بجائے غرور میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسی عبادت
جو اخلاق نہ سنوارے، وہ صرف رسم رہ جاتی ہے۔ ایسی دینداری جو انسان کو رحم دل،
دیانت دار، انصاف پسند اور باکردار نہ بنائے، وہ اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر پاتی۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف دوسروں کی اصلاح کی فکر کریں؛ سب سے
پہلے ہمیں اپنے دلوں کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ اپنے گھروں کو قرآن کا گھر بنانا ہوگا،
اپنی زبان کو سچ کا عادی بنانا ہوگا، اپنے کاروبار کو امانت کا نمونہ بنانا ہوگا،
اپنے بچوں کو صرف کامیاب نہیں بلکہ صالح بنانا ہوگا، اپنے معاشرے میں محبت، انصاف،
خدمت اور اخلاص کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پہلی نسل
کے مسلمانوں نے دنیا کو حیران کر دیا تھا، اور یہی راستہ آج بھی امت کی نجات کا
راستہ ہے۔
یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس لیے نہیں چنا تھا کہ یہ صرف اسلام
کا نام لے، بلکہ اس لیے چنا تھا کہ یہ اسلام کی زندہ تصویر بن کر دنیا کے سامنے
آئے۔ اگر ہمارے چہروں سے اسلام پہچانا نہ جائے، اگر ہمارے معاملات سے اسلام کی
خوشبو نہ آئے، اگر ہمارے اخلاق سے رسول اللہ ﷺ کی سنت ظاہر نہ ہو، تو ہمیں اپنے
ایمان کی کیفیت پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔۔
آئیے! آج ہم ایک عہد کریں کہ ہم دین کو صرف کتابوں میں نہیں، اپنے دلوں میں
جگہ دیں گے؛ صرف زبان پر نہیں، اپنے کردار میں اتاریں گے؛ صرف مسجد تک نہیں، اپنے
گھر، بازار، دفتر، عدالت، تعلیم، تجارت اور معاشرت کے ہر گوشے میں زندہ کریں گے۔
ہم اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھائیں گے کہ مسلمان کیسے کہلاتے ہیں، بلکہ یہ بھی
سکھائیں گے کہ مسلمان کیسے جیتے ہیں۔ کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ انہی لوگوں کو زندہ
رکھا ہے جنہوں نے اپنے الفاظ سے پہلے اپنے کردار کو بولنے دیا۔ رسول اللہ ﷺ آج بھی
زندہ ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کی سیرت دلوں میں زندہ ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آج بھی
زندہ ہیں، کیونکہ ان کا عمل زندہ ہے۔ اولیائے کرام آج بھی یاد کیے جاتے ہیں،
کیونکہ انہوں نے اپنی زندگیاں اللہ کے لیے وقف کر دیں۔ انہوں نے زندگی گزاری نہیں،
زندگی کو مقصد دیا؛ انہوں نے اسلام کی تبلیغ صرف زبان سے نہیں، اپنے وجود سے کی۔ اور
اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ہمیں بھی خیر کے ساتھ یاد کریں، اگر ہم چاہتے
ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو، اگر ہم چاہتے ہیں کہ قبر ہمارے لیے جنت کا باغ
بنے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو، تو ہمیں آج،
ابھی اور اسی لمحے فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کا رخ بدلیں گے۔
آئیے! اسلام کے بارے میں بولنے سے پہلے اسلام کے مطابق جینا شروع کریں؛
کیونکہ الفاظ کانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کردار دلوں میں اتر جاتا ہے۔ تقریریں وقتی
اثر چھوڑتی ہیں، مگر عمل صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔ دنیا بولنے والوں کو کچھ عرصہ
سنتی ہے، مگر جینے والوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔
ہم نے اسلام بولنا سیکھ لیا ہے... اب وقت آ گیا ہے کہ اسلام جینا بھی سیکھ لیں۔ یہی ہماری عزت کا راستہ ہے، یہی ہماری نجات کا راستہ ہے، اور یہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں