وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ بیان کہ احتجاج کرنے والے طلبہ نے بڑی بڑی گالیاں دیںاور وہ انہیںشرارتی بچے سمجھ کر معاف کرتے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر کے لاکھوں نوجوان اپنے تعلیمی مستقبل، امتحانی شفافیت اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے شدید بے چینی کا شکار ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں نوجوانوں کے خدشات کو سننا اور ان کا حل تلاش کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن جب انہی طلبہ کی آواز کو گمراہی سے تعبیر کیا جائے تو یہ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آخر وہ کون سے حالات تھے جنہوں نے طلبہ کو کلاس روم اور لائبریری چھوڑ کر سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا؟ کوئی بھی نوجوان اپنی تعلیم اور مستقبل کو داؤ پر لگا کر شوق سے احتجاج نہیں کرتا۔ وہ اس وقت آواز بلند کرتا ہے جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی برسوں کی محنت، اس کے خواب اور اس کے تعلیمی حقوق خطرے میں ہیں۔ ایسے حالات میں احتجاج محض ایک ردِعمل نہیں بلکہ اپنی آئینی اور جمہوری آزادی کے استعمال کی علامت بن جاتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ طلبہ نے احتجاج کیوں کیا، بلکہ یہ ہے کہ انہیں احتجاج کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اگر نوجوان شفاف امتحانی نظام، منصفانہ مواقع اور اپنے مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیا انہیں گمراہ کہنا مناسب ہے، یا ان کے خدشات کو سن کر ان کا حل تلاش کرنا ایک جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہے؟ یہی سوال آج ہندوستان کی جمہوری اقدار، حکومتی طرزِ عمل اور نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے قومی سطح پر غور و فکر کا متقاضی ہے۔
جب طالب علم کتاب چھوڑ کر سڑک پر آ جائے
کسی بھی قوم کے طلبہ اس کا
سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب، دل میں
والدین کی امیدیں اور ذہن میں ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایک طالب
علم اپنی زندگی کے بہترین سال کتابوں، لائبریریوں اور درس گاہوں میں اس امید کے
ساتھ گزارتا ہے کہ اس کی محنت ایک دن اسے کامیابی اور عزت کی منزل تک پہنچائے گی۔
وہ کبھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی شناخت ایک احتجاج کرنے والے شخص کے طور پر ہو،
بلکہ اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی علمی قابلیت اور کردار کے ذریعے ملک و قوم
کی خدمت کرے۔ لیکن جب یہی طالب علم کتابیں چھوڑ کر سڑکوں پر آ جائے، کلاس روم کی
جگہ احتجاجی مقام کو اپنا مسکن بنا لے اور امتحان کی تیاری کے بجائے اپنے تعلیمی
حقوق کے تحفظ کے لیے نعرے بلند کرنے پر مجبور ہو جائے، تو یہ کسی بھی باشعور
معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی علامت ہے کہ کہیں نہ
کہیں نظام میں ایسی کمزوریاں موجود ہیں جنہوں نے نوجوانوں کو اس غیر معمولی راستے
پر چلنے پر مجبور کیا ہے۔
جنتر منتر پر جمع ہونے
والے طلبہ کا بنیادی مطالبہ یہی تھا کہ ان کی برسوں کی محنت محفوظ رہے، امتحانی
نظام شفاف ہو اور ان کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہ ہو۔ اگر متعلقہ
ادارے بروقت ان کے خدشات کو سن لیتے، ان کے تحفظات کا اطمینان بخش جواب دیتے اور
اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرتے تو شاید احتجاج کی نوبت ہی نہ آتی۔ اس
لیے اصل سوال یہ نہیں کہ طلبہ سڑکوں پر کیوں آئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ
کون سے حالات پیدا ہوئے جنہوں نے ملک کے نوجوانوں کو کتاب سے زیادہ احتجاج کو اپنی
آواز بنانے پر مجبور کر دیا۔ جب ایک طالب علم قلم چھوڑ کر احتجاج کا بینر اٹھانے
پر مجبور ہو جائے تو اس پر تنقید کرنے سے پہلے اس نظام کا احتساب ضروری ہے جس نے
اسے اس مقام تک پہنچایا۔
احتجاج جرم نہیں، آئینی حق ہے
جمہوریت کی بنیاد صرف
انتخابات پر نہیں بلکہ شہری آزادیوں، اختلافِ رائے کے احترام اور حکومت سے سوال
کرنے کے حق پر قائم ہوتی ہے۔ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی
اور پُرامن اجتماع کا حق عطا کرتا ہے، تاکہ عوام اپنی مشکلات، خدشات اور مطالبات
کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت تک پہنچا سکیں۔ یہی وہ اصول ہے جو ایک
جمہوری ریاست کو آمریت سے ممتاز کرتا ہے۔ جب شہریوں کو اپنی بات کہنے، سوال اٹھانے
اور پُرامن احتجاج کرنے کی آزادی حاصل ہو تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے، اور جب انہی
آوازوں کو دبایا یا انہیں مشکوک قرار دیا جائے تو جمہوری اقدار کمزور ہونے لگتی
ہیں۔
اگر طلبہ نے امتحانی نظام
میں شفافیت، پیپر لیک جیسے مسائل کی روک تھام، منصفانہ مواقع اور اپنے مستقبل کے
تحفظ کا مطالبہ کیا تو وہ کسی غیر آئینی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے،
بلکہ اپنے انہی حقوق کا استعمال کر رہے تھے جن کی ضمانت ملک کا آئین دیتا ہے۔
تعلیم سے وابستہ مسائل پر آواز بلند کرنا کسی حکومت کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ نظام
کی اصلاح کی ایک جمہوری کوشش ہے۔ باشعور نوجوان اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے
سوال کرتے ہیں، اور یہی سوال کسی بھی صحت مند جمہوریت کی علامت ہوتے ہیں۔
ایک ذمہ دار حکومت کا فرض
یہ ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کو مخالف نہیں بلکہ شہری سمجھے، ان کے مطالبات کو
تحمل سے سنے، شفاف تحقیقات کرائے، خامیوں کو دور کرے اور عوامی اعتماد کو بحال
کرے۔ اختلافِ رائے کو گمراہی قرار دینا یا تنقید کرنے والوں کو مشکوک نگاہ سے
دیکھنا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے مناسب طرزِ عمل نہیں۔ جمہوریت کی اصل قوت
لاٹھی، طاقت یا خاموشی میں نہیں بلکہ مکالمے، برداشت، جواب دہی اور انصاف میں
پوشیدہ ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرتی
ہیں اور ملک کو حقیقی معنوں میں جمہوری بناتی ہیں۔
پولیس کی طاقت یا مکالمے کی طاقت؟
جمہوریت میں اختلافِ رائے
کا جواب طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ دلیل، مکالمے اور انصاف سے دیا جاتا ہے۔ جب
عوام، خصوصاً نوجوان اور طلبہ، اپنے جائز مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر آتے ہیں تو ایک
ذمہ دار حکومت سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کی بات سنے، ان کے تحفظات کو سمجھے
اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ اگر ہر احتجاج کا جواب پولیس، لاٹھی
چارج اور طاقت کے مظاہرے سے دیا جائے تو وقتی طور پر ہجوم کو منتشر تو کیا جا سکتا
ہے، لیکن عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی بے اعتمادی اور مایوسی کو ختم نہیں کیا
جا سکتا۔
جنتر منتر پر طلبہ کے
احتجاج کے دوران سامنے آنے والی تصاویر اور مختلف ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی
اطلاعات نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ متعدد رپورٹس کے مطابق پولیس
کارروائی کے دوران کئی طلبہ زخمی ہوئے، بعض کو طبی امداد کی ضرورت پیش آئی اور
احتجاج کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے
اداروں کی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے، لیکن یہ ذمہ داری بھی قانون،
تناسب اور شہری حقوق کے احترام کے دائرے میں ادا کی جانی چاہیے۔ جب تعلیم اور اپنے
مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوان خود کو طاقت کے سامنے بے بس
محسوس کریں تو اس سے ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا
ہوتا ہے کہ اگر یہی طلبہ ملک کا مستقبل ہیں تو کیا ان کے ساتھ مکالمہ زیادہ مؤثر
راستہ نہیں تھا؟ کیا ان کے نمائندوں کو مذاکرات کی میز پر بلا کر ان کے خدشات دور
نہیں کیے جا سکتے تھے؟ کیا امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات کی غیر جانبدارانہ
تحقیقات اور شفاف اصلاحات کا اعلان زیادہ دانشمندانہ قدم نہیں ہوتا؟ جمہوری
حکومتوں کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ احتجاج کو کتنی جلدی ختم کر
دیتی ہیں، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اختلاف کو کتنی حکمت، تحمل اور انصاف
کے ساتھ سنبھالتی ہیں۔
حقیقی قیادت وہ نہیں جو اختلاف کو طاقت سے خاموش کر دے، بلکہ وہ ہے جو ناراض شہریوں کو اعتماد دے، سوالات کا جواب دے اور عوام کو یہ احساس دلائے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ ریاست کی اصل طاقت پولیس کی لاٹھی میں نہیں بلکہ اس کے عدل، برداشت اور مکالمے کی صلاحیت میں ہوتی ہے۔ جب حکومت اپنے نوجوانوں سے بات کرنے کے بجائے ان پر طاقت آزمانے کو ترجیح دیتی ہے تو مسئلہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، اور یہی کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔
قیادت کی عظمت معاف کرنے میں نہیں، انصاف کرنے میں ہے
کسی بھی جمہوری ملک میں
وزیر اعظم محض ایک سیاسی جماعت کا قائد نہیں بلکہ پورے ملک کا رہنما ہوتا ہے۔ اس
کے الفاظ، فیصلے اور رویہ کروڑوں شہریوں کے اعتماد، امیدوں اور مستقبل پر اثر
انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے ایک عظیم قائد کی پہچان یہ نہیں کہ وہ اختلاف کرنے والوں
کو "معاف" کرنے کا اعلان کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اختلاف کی وجہ کو سمجھے،
شکایات کو سنجیدگی سے سنے اور انصاف پر مبنی فیصلوں کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال
کرے۔ جب نوجوان اپنے مستقبل، تعلیم اور روزگار کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں تو
انہیں خاموش کرانے یا ان کی نیت پر شبہ کرنے کے بجائے ان کی آواز کو توجہ سے سننا
قیادت کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ایک طالب علم برسوں کی محنت کے
بعد اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں فکرمند ہو، امتحانی نظام پر اعتماد کھو بیٹھے
اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن انداز میں احتجاج کرے، تو اسے
"گمراہ" قرار دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے
مترادف ہے۔ باشعور حکومتیں نوجوانوں کو الزام نہیں دیتیں بلکہ ان کے خدشات کو دور
کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتی ہیں۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کے حکمران اختلافِ رائے کو برداشت کرتے ہیں، تنقید کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اور عوامی اعتماد کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور جواب دہی کے ذریعے مضبوط بناتے ہیں۔ حقیقی قیادت اپنی عظمت کا اظہار معافی کے اعلان سے نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی، اداروں کی اصلاح اور ہر شہری کو یہ احساس دلانے سے کرتی ہے کہ اس کی آواز اہم ہے، اس کی شکایت سنی جائے گی اور اس کے ساتھ انصاف ہوگا۔
اختتامیہ
طلبہ کسی بھی قوم کا سب سے
قیمتی سرمایہ، اس کے روشن مستقبل کی امید اور ترقی کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ وہ
سڑکوں پر نکلنے کے لیے نہیں بلکہ کتابوں، لائبریریوں اور درس گاہوں میں علم حاصل
کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنی تعلیم، امتحانی نظام کی شفافیت اور اپنے
مستقبل کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں
نہ کہیں نظام میں ایسی خامیاں موجود ہیں جنہیں سنجیدگی سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
ایسے نوجوانوں کو "گمراہ" کہنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ان کے جائز خدشات
سے صرفِ نظر کرنا ہے۔ جمہوریت کی اصل طاقت اختلافِ رائے کو دبانے میں نہیں بلکہ
اسے سننے، سمجھنے اور انصاف کے ساتھ اس کا جواب دینے میں ہے۔ ایک ذمہ دار حکومت
وہی ہوتی ہے جو تنقید سے گھبرانے کے بجائے اسے اصلاح کا موقع سمجھے، نوجوانوں کے
اعتماد کو بحال کرے اور ایسے تعلیمی نظام کی تعمیر کرے جس میں ہر طالب علم کو اپنی
محنت کے محفوظ ہونے کا یقین ہو۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہی
قومیں ترقی کرتی ہیں جنہوں نے اپنے نوجوانوں کی آواز کو دبایا نہیں بلکہ اسے اپنی
طاقت بنایا۔ اگر ہندوستان کو حقیقی معنوں میں ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور باوقار
جمہوریت بنانا ہے تو طلبہ کی آواز کو گمراہی نہیں بلکہ اصلاح، شعور اور بہتر
مستقبل کی امید کے طور پر سننا ہوگا۔ یہی ایک مضبوط قوم اور ذمہ دار قیادت کی
پہچان ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں