کچھ مضامین صرف پڑھے نہیں جاتے، کردار کی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں

 

 

کچھ مضامین صرف پڑھے نہیں جاتے، کردار کی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں

روزنامہ انقلاب میں شائع شدہ معصوم مرادآبادی کے مضمون "عالم بدیع اعظمیؒ: ایک درویش کی رحلت" کے مطالعے کے بعد چند تاثرات

        صحافت جب محض خبر رسانی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر تاریخ کے شعور، معاشرے کی نبض اور انسان کے باطن کی ترجمان بن جائے تو اس کے صفحات صرف روزمرہ کے واقعات کا اندراج نہیں رہتے بلکہ زمانے کی فکری دستاویز بن جاتے ہیں۔ اردو صحافت کی خوش قسمتی ہے کہ آج بھی اس کے دامن میں چند ایسے اہلِ قلم موجود ہیں جن کی تحریریں وقتی موضوعات سے آگے بڑھ کر نسلوں کے لیے فکری سرمایہ بن جاتی ہیں۔ ان ہی معتبر ناموں میں جناب معصوم مرادآبادی کا نام نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ معصوم مرادآبادی ان قلم کاروں میں ہیں جنہوں نے صحافت کو کبھی محض پیشہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایک فکری ذمہ داری اور ملی امانت سمجھ کر نبھایا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل ہوں، قومی سیاست کے اتار چڑھاؤ، اردو زبان و ادب کے تقاضے ہوں یا کسی عظیم شخصیت کی خدمات کا تذکرہ، ان کے قلم میں ہمیشہ اعتدال، سنجیدگی، دیانت اور حقیقت پسندی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ محسوس کی جاتی ہیں، اور یہی احساس ایک اچھے قلم کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

        آج روزنامہ انقلاب کے دہلی ایڈیشن میں ان کا ایک نہایت ہی وقیع، فکر انگیز اور دل کو چھو لینے والا مضمون پڑھنے کا موقع ملا، جس کا عنوان تھا "عالم بدیع اعظمیؒ: ایک درویش کی رحلت"۔ مضمون مکمل ہوا تو دیر تک ذہن اسی کے حصار میں رہا۔ یوں محسوس ہوا جیسے میں نے ایک سیاسی رہنما کے حالاتِ زندگی نہیں پڑھے بلکہ اخلاص، سادگی، دیانت اور بے لوث عوامی خدمت کی ایک ایسی داستان کا مطالعہ کیا ہے جس کی مثالیں ہمارے عہد میں کم کم نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون صرف ایک تعزیتی نوٹ نہیں تھا، بلکہ ایک پورے عہد کی اخلاقی تاریخ تھی۔ معصوم مرادآبادی نے عالم بدیع اعظمیؒ کی شخصیت کو جس توازن، وقار اور ادبی اسلوب کے ساتھ پیش کیا، وہ اردو صحافت کے اعلیٰ معیار کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے نہ شخصیت پرستی کا راستہ اختیار کیا، نہ جذباتی مبالغے سے کام لیا، بلکہ ایک ایسے انسان کا تعارف کرایا جس نے سیاست کے شور میں رہ کر بھی اپنے کردار کی خاموش روشنی کو کبھی مدھم نہیں ہونے دیا۔

        مضمون پڑھتے ہوئے بارہا یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم شاید ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سیاست کا تعلق خدمت سے کم اور مفادات سے زیادہ جوڑ دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب عالم بدیع اعظمیؒ جیسے کردار سامنے آتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ سیاست اگر اخلاق، دیانت اور انسان دوستی کے ساتھ وابستہ ہو تو وہ اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وہ بنیادی تاثر تھا جو اس مضمون نے میرے دل میں پیدا کیا اور یہی احساس اس تحریر کے قلم بند کرنے کا سبب بنا۔ معصوم مرادآبادی نے عالم بدیع اعظمیؒ کی زندگی کے ان گوشوں کو بھی نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا جنہیں عموماً سیاسی سوانح میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کی عظمت صرف اس کے عہدے، منصب یا سیاسی کامیابیوں میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل پہچان اس کا کردار، اس کی سادگی، اس کی دیانت اور انسانوں کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مضمون پڑھنے کے بعد عالم بدیع اعظمیؒ میرے ذہن میں صرف پانچ مرتبہ منتخب ہونے والے رکنِ اسمبلی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے درویش صفت انسان کے طور پر نقش ہوگئے جو اقتدار کے ایوانوں میں رہ کر بھی دنیاوی نمود و نمائش سے بے نیاز رہا۔

        اس مضمون میں بیان کیے گئے کئی واقعات دل پر گہرا اثر چھوڑ گئے۔ ایک عوامی نمائندہ جو سرکاری پروٹوکول کے بجائے عام بسوں میں سفر کرتا ہو، اسمبلی کسی دوست کے اسکوٹر پر پہنچتا ہو، اپنے گھر کی صفائی خود کرتا ہو اور معمولی لباس میں پوری زندگی گزار دے، یقیناً وہ محض سیاست دان نہیں بلکہ ایک زندہ کردار ہوتا ہے۔ یہ واقعات پڑھتے ہوئے بار بار خیال آیا کہ اگر سیاست کا چہرہ ایسا ہوتا تو شاید عوام کے دلوں میں سیاست کے لیے اتنی بے اعتمادی پیدا نہ ہوتی۔ مجھے سب سے زیادہ جس پہلو نے متاثر کیا وہ عالم بدیع اعظمیؒ کی فکری دیانت تھی۔ انہوں نے کبھی قوم کو خوش کرنے کے لیے وقتی جذبات کا سہارا نہیں لیا، بلکہ مسلمانوں کی کمزوریوں کی نشاندہی بھی اسی صاف گوئی سے کی جس طرح وہ ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قوموں کی تعمیر صرف احتجاج سے نہیں بلکہ تعلیم، مطالعہ، تنظیم، خود احتسابی اور فکری بیداری سے ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں جبکہ جذباتی نعروں کا بازار گرم ہے، ایسے حقیقت پسندانہ خیالات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

        معصوم مرادآبادی نے ایک اور نہایت اہم پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا کہ عالم بدیع اعظمیؒ کا مطالعہ غیر معمولی تھا۔ انہیں ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی تاریخ، ملی تحریکات اور قومی شخصیات پر حیرت انگیز عبور حاصل تھا۔ ان کی گفتگو محض معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتی تھی بلکہ تجربے، مطالعے اور گہرے مشاہدے کا نچوڑ ہوتی تھی۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو کسی بھی رہنما کو وقتی سیاست سے بلند کرکے تاریخ کے اوراق میں جگہ عطا کرتی ہیں۔ ان کے مضمون میں مذکور ایک بیمار صحافی کی خاموش مدد کا واقعہ بھی بہت کچھ سکھا گیا۔ اس واقعے نے یہ احساس دلایا کہ حقیقی خدمت وہ ہے جس میں شہرت کی خواہش نہ ہو، اور اصل انسان دوستی وہ ہے جو کیمرے کے سامنے نہیں بلکہ خاموشی کے ساتھ انجام دی جائے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے عالم بدیع اعظمیؒ کو ایک منفرد شخصیت بنا دیا۔

        یہ حقیقت ہے کہ معصوم مرادآبادی کا یہ مضمون محض ایک فرد کی رحلت کا بیان نہیں بلکہ ہمارے عہد کے اخلاقی زوال پر ایک خاموش مگر گہرا تبصرہ بھی ہے۔ انہوں نے کسی پر براہِ راست تنقید کیے بغیر یہ سوال ہمارے سامنے رکھ دیا کہ آخر ہم نے سیاست کو خدمت سے اقتدار، اور کردار سے تشہیر تک کیسے پہنچا دیا؟

            معصوم مرادآبادی کے اس مضمون کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ انہوں نے عالم بدیع اعظمیؒ کی شخصیت کو صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ، صاحبِ فکر اور صاحبِ کردار انسان کے طور پر پیش کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی شخصیت کے تذکرے میں اس کے عہدے سے زیادہ اس کے اخلاق، اس کی سادگی، اس کی فکری دیانت اور اس کے انسانی اوصاف نمایاں ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ شخص اپنے منصب سے کہیں بلند ہو چکا ہے۔ یہی احساس اس مضمون کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

        آج ہماری سیاست میں شخصیتیں تو بہت ہیں مگر کردار کم ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریریں بہت ہیں مگر عمل کی مثالیں نایاب ہیں۔ وعدے بے شمار ہیں مگر خدمت کا جذبہ معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں عالم بدیع اعظمیؒ جیسے لوگ چراغ کی مانند ہوتے ہیں، جو خود خاموش رہ کر دوسروں کے لیے راستہ روشن کرتے ہیں۔ وہ شاید اپنے بعد بڑی جائیدادیں، محلات یا سیاسی وراثت چھوڑ کر نہیں گئے، لیکن وہ ایک ایسا اخلاقی سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جس کی قدر آنے والی نسلیں بھی کرتی رہیں گی۔ اس مضمون نے مجھے ایک اور اہم حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ معاشرے میں قلم اور کردار کا تعلق ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کردار نہ ہو تو قلم کھوکھلا ہو جاتا ہے، اور اگر قلم نہ ہو تو کردار تاریخ کے صفحات میں گم ہو جاتا ہے۔ معصوم مرادآبادی نے اپنے اس مضمون کے ذریعے صرف عالم بدیع اعظمیؒ کو خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا بلکہ ان کے کردار کو تاریخ کی امانت بنا دیا۔ یہی ایک ذمہ دار صحافی اور حساس ادیب کا اصل فریضہ بھی ہے۔

        بلاشبہ، آج جب صحافت کا ایک بڑا حصہ سنسنی، جلد بازی اور وقتی مباحث میں الجھتا دکھائی دیتا ہے، ایسے میں اس نوعیت کی تحریریں امید کی کرن محسوس ہوتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قلم کا اصل مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ شعور بیدار کرنا، اقدار کی حفاظت کرنا اور تاریخ کے گم ہوتے نقوش کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معصوم مرادآبادی جیسے اہلِ قلم اردو صحافت کے لیے سرمایۂ افتخار ہیں۔

        اس مضمون کو پڑھنے کے بعد میرے دل میں ایک ذاتی احساس بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا۔ میں، محمد فداء المصطفیٰ قادری، اردو زبان و ادب سے خصوصی شغف رکھتا ہوں۔ اگرچہ اس وقت جنوبی ہند کی علمی سرزمین دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا میں پی جی ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے زیرِ تعلیم ہوں اور دینی و تحقیقی علوم سے وابستہ ہوں، لیکن اردو ادب ہمیشہ سے میرے ذوق، مطالعے اور فکری تربیت کا اہم حصہ رہا ہے۔ میں وقتاً فوقتاً ممتاز ادباء، صحافیوں اور اہلِ قلم کی تحریروں کا مطالعہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ زبان، اسلوب اور فکر کی پختگی سے کچھ سیکھ سکوں۔ میری یہ بھی خواہش ہے کہ آئندہ زندگی میں اردو ادب کے میدان میں مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کروں، اس زبان کی ادبی روایت سے گہرا رشتہ قائم رکھوں اور اپنی بساط کے مطابق اس کی خدمت کا کوئی حق ادا کر سکوں۔ معصوم مرادآبادی جیسے بزرگ اہلِ قلم کی تحریریں نوجوان قارئین کے لیے محض مضامین نہیں بلکہ ایک غیر رسمی درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہیں، جہاں زبان کی شائستگی، فکر کی گہرائی اور اظہار کی دیانت بیک وقت سیکھنے کو ملتی ہے۔

        یہ مضمون بھی میرے لیے صرف عالم بدیع اعظمیؒ کی زندگی جاننے کا ذریعہ نہیں بنا بلکہ اس نے مجھے یہ سبق دیا کہ ایک سچا قلم کس طرح ایک عظیم شخصیت کو الفاظ کے ذریعے زندہ رکھ سکتا ہے۔ میں نے اس مضمون سے صرف معلومات حاصل نہیں کیں بلکہ یہ بھی سیکھا کہ شخصیت نگاری کس طرح کی جاتی ہے، واقعات کو کس طرح فکری تسلسل دیا جاتا ہے، اور ایک انسان کی پوری زندگی کو چند صفحات میں اس طرح سمویا جاتا ہے کہ قاری کے دل میں احترام اور آنکھوں میں نمی دونوں پیدا ہو جائیں۔ میں یہ سطور نہ کسی تنقیدی زاویے سے لکھ رہا ہوں اور نہ کسی ادبی دعوے کے ساتھ، بلکہ ایک طالبِ علم کی حیثیت سے اپنے ان احساسات کو قلم بند کر رہا ہوں جو روزنامہ انقلاب میں شائع ہونے والے اس وقیع مضمون کے مطالعے کے بعد میرے دل میں پیدا ہوئے۔ اگر ایک اچھی تحریر قاری کے اندر سوچنے، سیکھنے اور اپنے عہد کو نئے زاویے سے دیکھنے کا جذبہ پیدا کر دے تو یقیناً وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے، اور معصوم مرادآبادی کا یہ مضمون اسی معیار پر پورا اترتا ہے۔

        آخر میں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عالم بدیع اعظمیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی بے لوث عوامی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، رفقاء اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ جناب معصوم مرادآبادی صاحب کے قلم میں مزید قوت، بصیرت اور تاثیر عطا فرمائے کہ وہ اسی طرح حقائق، تاریخ، ملت اور معاشرے کی ترجمانی کرتے رہیں۔ ایسے قلم صرف مضامین نہیں لکھتے بلکہ قوموں کی فکری میراث محفوظ کرتے ہیں، اور یہی ان کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔




 

تبصرے