پیری مریدی: ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
اسلام ایک ایسا مکمل
ضابطۂ حیات ہے جس نے انسان کی ظاہری اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی پاکیزگی اور
اخلاقی تربیت کو بھی غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اسی باطنی اصلاح کو اسلامی اصطلاح
میں تزکیۂ نفس اور احسان کہا جاتا ہے، جس کی عملی صورت تاریخِ اسلام میں اہلِ تصوف
اور صالح مشائخ کی صحبت کے ذریعے نمایاں ہوئی۔ انہی بزرگوں نے ہر دور میں امت کو
اخلاص، تقویٰ، محبتِ الٰہی، اتباعِ سنت اور اصلاحِ نفس کی دعوت دی، جس کے نتیجے
میں بے شمار لوگوں کی زندگیاں سنوریں اور معاشرے میں دین کی روح تازہ ہوئی۔
تاہم عصرِ حاضر میں
بیعت اور پیر و مریدی کا تصور مختلف جہات سے بحث و مباحثہ کا موضوع بن گیا ہے۔ ایک
طرف ایسے اہلِ علم اور مشائخ موجود ہیں جو بیعت کو محض اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس
کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض حلقوں میں اس کے بارے میں ایسے
تصورات فروغ پا رہے ہیں جن کی بنیاد مضبوط شرعی دلائل پر نہیں۔ عام لوگوں میں یہ
خیال پیدا کیا جا رہا ہے کہ گویا کسی شیخ سے بیعت کیے بغیر نجات ممکن نہیں، یا صرف
مرید ہو جانا کامیابی کے لیے کافی ہے، خواہ انسان فرائض و واجبات کی ادائیگی میں
کوتاہی ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ بعض مقامات پر شخصیت پرستی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ
قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات پس منظر میں چلی جاتی ہیں، حالانکہ اسلام میں ہر
مسلمان کی اصل ذمہ داری اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔
یہ صورتِ حال اس موضوع پر ایک متوازن، مدلل اور تحقیقی گفتگو کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون کا مقصد ہرگز تصوف، اولیائے کرام یا اہلِ حق مشائخ کی خدمات کا انکار یا ان کی تنقیص نہیں، کیونکہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک صحیح تصوف، شریعت کی روح اور احسان کا عملی مظہر ہے۔ اس کے برعکس، اس تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کسی شیخ سے بیعت کی حقیقی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ہر مسلمان پر کسی پیر سے بیعت کرنا فرض یا واجب ہے؟ کیا محض مرید ہو جانا نجات کی ضمانت ہے؟ اور قرآن و سنت، ائمۂ امت اور اکابر علماء نے اس مسئلے کے بارے میں کیا رہنمائی دی ہے؟ اسی مقصد کے پیشِ نظر آئندہ صفحات میں بیعت کے مفہوم، اس کی شرعی حیثیت، ائمہ و فقہاء کے اقوال، موجودہ دور میں پائی جانے والی بعض غلط فہمیوں اور صحیح اسلامی نقطۂ نظر کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا، تاکہ قاری جذبات یا تعصبات کے بجائے دلائل کی روشنی میں اس اہم مسئلے کو سمجھ سکے اور اعتدال و بصیرت کے ساتھ صحیح راستہ اختیار کرے۔
بیعت کا حقیقی
مفہوم
کسی بھی شرعی مسئلے پر صحیح رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کی حقیقت اور اصل مفہوم کو سمجھا جائے۔ بیعت بھی انہی اصطلاحات میں سے ایک ہے جسے بعض اوقات اس کے حقیقی مفہوم سے ہٹا کر پیش کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں افراط و تفریط دونوں جنم لیتے ہیں۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں بیعت کی اصل حیثیت کیا ہے اور اسلام میں اس کا مقصد کیا ہے۔ لغوی اعتبار سے بیعت کا لفظ "بیع" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی خرید و فروخت کے ہیں۔ عربوں میں جب دو افراد کسی معاملے پر پختہ عہد کرتے تو ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے، اسی مناسبت سے اس عہد کو "بیعت" کہا جانے لگا۔ بعد ازاں یہی لفظ وفاداری، اطاعت اور عہد و پیمان کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
اصطلاحِ شریعت میں بیعت سے مراد کسی جائز اور شرعی مقصد کے لیے کسی رہنما یا شیخ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہنے کا عہد کرنا ہے۔ لہٰذا بیعت بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ اصلاحِ نفس، تقویٰ اور شریعت پر استقامت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ سے صحابۂ کرام کی بیعت کا ذکر ملتا ہے۔ خصوصاً بیعتِ رضوان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ ۚ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ﴾"بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔" (سورۃ الفتح: 10)
اسی طرح خواتین کی بیعت کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے، جہاں انہیں ایمان، پاکدامنی، نیکی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا عہد لینے کا حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت کا تعلق بنیادی طور پر دین پر ثابت قدم رہنے اور اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے ہے۔ احادیثِ نبویہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر صحابۂ کرام سے مختلف نوعیت کی بیعت لی۔ کسی سے اسلام پر، کسی سے ہجرت پر، کسی سے جہاد پر، کسی سے سمع و طاعت پر اور کسی سے گناہوں سے اجتناب کا عہد لیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیعت کی ایک ہی صورت نہیں تھی بلکہ حالات اور مقاصد کے اعتبار سے اس کی مختلف اقسام تھیں۔
بعد کے ادوار میں جب روحانی تربیت اور تزکیۂ نفس کے منظم مراکز وجود میں آئے تو اہلِ تصوف نے اسی نبوی تعلیم کی روشنی میں بیعتِ اصلاح و سلوک کو اختیار کیا، جس کا مقصد لوگوں کی اخلاقی و روحانی تربیت، گناہوں سے توبہ، ذکرِ الٰہی کی رغبت اور شریعت پر استقامت پیدا کرنا تھا۔ اس اعتبار سے بیعت ایک تربیتی اور اصلاحی نظام ہے، نہ کہ اسلام کا مستقل رکن یا نجات کی لازمی شرط۔ لہٰذا بیعت کی اصل حقیقت کو سمجھنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کا مقصد انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنا، سنتِ نبوی ﷺ کا پابند بنانا اور نفس کی اصلاح کرنا ہے۔ اگر یہ مقصد باقی رہے تو بیعت خیر و برکت کا ذریعہ ہے، لیکن اگر اس کی بنیاد شریعت کے بجائے شخصیت پرستی، اندھی تقلید یا غیر شرعی عقائد پر قائم ہو جائے تو وہ بیعت اپنی اصل روح سے دور ہو جاتی ہے۔
کیا کسی شیخ سے بیعت
کرنا فرض، واجب، سنت یا مستحب ہے؟
یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کے گرد بیعت سے متعلق اکثر مباحث گھومتے ہیں۔ اس مسئلے میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے جذبات، شخصیات یا رائج تصورات کے بجائے قرآن و سنت، اجماعِ امت اور ائمۂ دین کی تشریحات کو معیار بنانا ضروری ہے۔ کیونکہ شریعت میں کسی عمل کو فرض، واجب، سنت یا مستحب قرار دینے کا اختیار صرف شرعی دلائل کی بنیاد پر ہی حاصل ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں کہیں بھی ہر مسلمان کو کسی شیخ یا پیر سے بیعت کرنے کا عمومی حکم نہیں دیا گیا، اور نہ ہی اس کی پابندی کو ایمان یا نجات کی شرط قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایسا کوئی حکم شریعت میں موجود ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے پوری امت کے لیے اسی وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے جس طرح نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر بنیادی احکام کو بیان فرمایا۔
اسی طرح ذخیرۂ احادیث کا مطالعہ بھی یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کا ثبوت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن آپ ﷺ نے امت کے لیے یہ اصول مقرر نہیں فرمایا کہ ہر مسلمان پر کسی روحانی شیخ سے بیعت کرنا لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے ادوار میں بھی اس مسئلے کو اسلام کے لازمی احکام میں شمار نہیں کیا گیا۔ فقہائے امت اور ائمۂ اربعہ کی تصریحات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بیعتِ اصلاح ایک جائز اور مفید عمل ہے، لیکن اسے فرض یا واجب قرار دینا درست نہیں۔ اکابر علماء نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور شریعت پر استقامت ہے، جبکہ بیعت ان مقاصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے، خود مقصد نہیں۔
امام ابو حامد غزالیؒ
نے تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کے لیے صالح مربی کی اہمیت ضرور بیان کی ہے، لیکن
اسے ہر مسلمان پر فرض قرار نہیں دیا۔ اسی طرح امام نوویؒ، امام ربانی مجدد الف
ثانیؒ، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور دیگر اکابر نے بھی روحانی تربیت کی افادیت کو
تسلیم کرتے ہوئے اس کی شرعی حدود کو ملحوظ رکھا ہے۔ برصغیر کے عظیم فقیہ امام احمد
رضا خان بریلویؒ نے بھی متعدد مقامات پر شریعت کی پابندی کو ہر روحانی نسبت پر
مقدم قرار دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بیعت کی حیثیت شریعت کے تابع ہے، نہ کہ
شریعت سے مستقل کوئی درجہ رکھتی ہے۔
اس بنا پر اہلِ سنت والجماعت کا معتدل موقف یہی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی دینی و اخلاقی اصلاح کے لیے کسی ایسے شیخ سے وابستہ ہو جو علم، تقویٰ اور اتباعِ سنت میں معروف ہو، تو یہ ایک مستحسن اور مفید عمل ہے۔ لیکن جو شخص کسی شیخ سے بیعت نہ کرے، اسے محض اسی وجہ سے گناہگار، ناقص الایمان یا نجات سے محروم قرار دینا شرعی دلائل سے ثابت نہیں۔ لہٰذا انصاف پر مبنی نتیجہ یہی ہے کہ بیعت کی اصل قدر و قیمت اس مقصد کے اعتبار سے ہے جس کے لیے اسے اختیار کیا جائے۔ جہاں یہ بندے کو شریعت کی پابندی، حسنِ اخلاق اور تقربِ الٰہی کی طرف لے جائے وہاں یہ باعثِ خیر ہے، اور جہاں اس کے بارے میں ایسے دعوے کیے جائیں جن کی بنیاد کتاب و سنت میں موجود نہ ہو، وہاں احتیاط اور علمی بصیرت اختیار کرنا ہی اہلِ حق کا طریقہ ہے۔
موجودہ دور
کا ایک خطرناک فتنہ
ہر دور میں دین کے نام پر کچھ ایسی غلط رویّے پیدا ہوتے رہے ہیں جن کی اصلاح اہلِ علم کی ذمہ داری رہی ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی روحانی تربیت کے مقدس عنوان کو بعض افراد نے ایسا ذریعہ بنا لیا ہے جس کے نتیجے میں عوام کے اندر دین کی صحیح سمجھ کمزور پڑ رہی ہے۔ یہ مسئلہ کسی مخصوص سلسلے یا شخصیت تک محدود نہیں، بلکہ ایک عمومی رجحان ہے جس کا علمی جائزہ لینا ضروری ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر عوام کی سادگی اور دینی بے خبری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے نظریات پھیلائے جاتے ہیں جن کی بنیاد مضبوط شرعی دلائل پر نہیں ہوتی۔ مرید سے غیر معمولی عقیدت کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اس سے ہر معاملے میں بے چون و چرا اطاعت کی توقع رکھی جاتی ہے، اور کبھی ایسا ماحول بنا دیا جاتا ہے کہ سوال کرنا یا دلیل طلب کرنا بھی گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام میں ہر قول اور ہر عمل کا معیار کتاب و سنت ہے، نہ کہ کسی شخصیت کا محض دعویٰ۔
اسی طرح بعض لوگ روحانی نسبت کو معاشی منفعت یا سماجی اثر و رسوخ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ عقیدت کے نام پر نذرانوں، تحائف اور مالی وابستگی کو اس قدر بڑھا دیا جاتا ہے کہ اخلاصِ عبادت کا مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف روحِ تصوف کے خلاف ہے بلکہ اس اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے جو عوام صالحین سے وابستہ رکھتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ نے اسی اصول کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ شریعت ہر حال میں مقدم ہے، اور طریقت اگر شریعت کے خلاف لے جائے تو وہ طریقت نہیں بلکہ گمراہی ہے۔ آپؒ کا مشہور ارشاد ہے: "بے شریعت پیر، پیر نہیں؛ وہ شیطان ہے۔" یہ مختصر مگر جامع جملہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کسی شخص کی روحانی حیثیت کا معیار کرامات، شہرت یا مریدوں کی کثرت نہیں، بلکہ شریعتِ مطہرہ کی کامل پابندی ہے۔
اسی طرح حضرت مجدد الف
ثانی امام ربانیؒ نے اپنے مکتوبات میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ تمام روحانی
مقامات اور باطنی کیفیات کی اصل قدر اسی وقت ہے جب وہ احکامِ شریعت کے تابع ہوں۔
اگر کوئی دعویٰ انسان کو شریعت کی حدود سے باہر لے جائے تو وہ قابلِ قبول نہیں۔ اس
لیے ضروری ہے کہ مسلمان عقیدت اور اعتدال کے درمیان توازن قائم رکھے۔ جہاں اہلِ حق
مشائخ کی عزت، محبت اور ان سے استفادہ ایمان افروز عمل ہے، وہیں ہر ایسے نظریے،
دعوت یا طرزِ عمل سے محتاط رہنا بھی ضروری ہے جو انسان کو دلیل، تحقیق اور شریعت
کی میزان سے دور کر دے۔ یہی وہ اعتدال ہے جس کی تعلیم قرآن، سنت اور اکابرِ امت نے
ہمیشہ دی ہے۔
پیر
جنت میں لے جائے گا" قرآن و سنت کیا کہتے ہیں؟
اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آخرت میں کامیابی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، اور اس کا معیار انسان کا ایمان، تقویٰ اور اس کے اعمال ہوں گے۔ قیامت کے دن ہر شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انفرادی طور پر حاضر ہوگا اور اپنے کیے ہوئے اعمال کا حساب دے گا۔ یہی وہ اصول ہے جسے قرآنِ کریم نے مختلف انداز میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى)"کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔" (سورۃ الأنعام: 164) ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ "اور انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔" (سورۃ النجم: 39) نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ﴾ "ہر جان اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔" (سورۃ المدثر: 38) اور قیامت کے دن کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيه وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ﴾ "اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں، اپنے باپ، اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھی بھاگے گا۔" (سورۃ عبس: 34-36)
یہ آیات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ آخرت میں کسی انسان کی نسبت یا وابستگی اس وقت تک نفع نہیں دے سکتی جب تک اللہ تعالیٰ اس پر راضی نہ ہو اور بندہ خود ایمان و عمل کے تقاضے پورے نہ کرے۔ احادیثِ نبویہ بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی محبوب ترین صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "اے فاطمہ بنتِ محمد! اللہ کے ہاں اپنے عمل کی فکر کرو، میں اللہ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔"(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اگر نبیِ کریم ﷺ نے
اپنی لختِ جگر کو بھی عمل کی طرف متوجہ فرمایا، تو کسی اور شخصیت کے بارے میں قطعی
نجات کا دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے؟ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" عمل
کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص کو اسی راستے کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا
گیا ہے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ان نصوص کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی انسان کے لیے جنت یا مغفرت کا یقینی فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ البتہ انبیائے کرام، اولیائے صالحین اور اہلِ ایمان کی شفاعت برحق ہے، لیکن وہ بھی اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی رضا کے تابع ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ لہٰذا شفاعت کا عقیدہ اپنی جگہ مسلم ہے، مگر اسے ایسا تصور بنا لینا کہ بندہ اپنے اعمال سے بے فکر ہو جائے، اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ اسی لیے اہلِ سنت والجماعت نے ہمیشہ یہ تعلیم دی ہے کہ نیک لوگوں سے محبت، ان کی صحبت اور ان کی دعاؤں کو غنیمت سمجھا جائے، مگر اپنی نجات کا حقیقی سہارا اللہ تعالیٰ کی رحمت، صحیح عقیدہ اور صالح اعمال ہی کو بنایا جائے۔ یہی قرآن و سنت کی تعلیم ہے اور اسی پر امت کے اکابر کا اتفاق ہے۔
ایسے پیر جو شریعت
کو ثانوی بنا دیتے ہیں
اسلام میں روحانیت کی
بنیاد اتباعِ شریعت پر قائم ہے۔ اس لیے جو دعوت انسان کو احکامِ الٰہی کی پابندی
سے دور لے جائے، وہ اصلاح کا نہیں بلکہ انحراف کا راستہ ہے۔ افسوس کہ موجودہ دور
میں بعض افراد نے روحانی رہنمائی کے نام پر ایسے طرزِ فکر کو فروغ دیا ہے جس کے
نتائج دین کی حقیقی روح کے منافی ہیں۔ کچھ مقامات پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ دینی
احکام کی اہمیت بتدریج کم کر دی جاتی ہے اور ان کی جگہ مخصوص حلقوں، مجالس یا شخصی
وابستگی کو اصل معیار بنا دیا جاتا ہے۔ یوں دین کی اصل بنیادیں پس منظر میں چلی
جاتی ہیں اور ظاہری وابستگی کو کامیابی کی علامت سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ
قرآن کے مزاج سے ہم آہنگ ہے اور نہ سلفِ صالحین کے طریقے سے۔
اسی طرح بعض افراد اپنے اقوال یا الہامات کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ گویا ان پر تنقید یا تحقیق کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ حالانکہ اہلِ سنت کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ غیرِ نبی کا ہر قول قبول بھی کیا جا سکتا ہے اور رد بھی، جبکہ حجت صرف کتاب و سنت ہیں۔ لہٰذا اگر کسی کی بات شرعی دلائل کے مطابق ہو تو اسے قبول کیا جائے، اور اگر اس کے خلاف ہو تو احترام کے ساتھ ترک کر دیا جائے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ نے اسی اصول کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے: "طریقت، شریعت سے جدا کوئی راستہ نہیں، بلکہ شریعت ہی پر کامل استقامت کا نام طریقت ہے۔" اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ باطنی ترقی کا ہر دعویٰ اسی وقت معتبر ہوگا جب وہ شریعت کے دائرے میں ہو۔ شریعت سے ہٹ کر حاصل ہونے والی کوئی کیفیت یا کشف قابلِ اعتماد نہیں۔
حضرت جنید بغدادیؒ، جنہیں "سید الطائفہ" کہا جاتا ہے، فرماتے ہیں: " ہمارا یہ راستہ قرآن و سنت کے ساتھ مقید ہے۔" یہ مختصر اصول صوفیائے کرام کے پورے منہج کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اکابرِ تصوف نے کبھی بھی شریعت سے بے نیازی یا اس میں تخفیف کی تعلیم نہیں دی، بلکہ اپنی تمام روحانی منازل کو اسی کا تابع رکھا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے آپ کو پیر، مرشد یا روحانی رہنما کہلائے، تو اس کی پہچان غیر معمولی دعووں، متاثر کن اندازِ گفتگو یا مریدوں کی تعداد سے نہیں ہوگی، بلکہ اس بات سے ہوگی کہ آیا اس کی تعلیمات قرآن و سنت اور جمہور اہلِ سنت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔ یہی معیار امت کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے اور صحیح روحانی رہنمائی کی طرف رہبری کرتا ہے۔
صحیح شیخ کی پہچان
جب روحانی تربیت کے لیے کسی رہنما کا انتخاب کیا جائے تو محض شہرت، کرامات کے قصے، مریدوں کی کثرت یا پرکشش اندازِ گفتگو کو معیار نہیں بنانا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ انسان پہلے یہ دیکھے کہ جس شخص کی رہنمائی اختیار کی جا رہی ہے، کیا وہ اس منصب کا اہل بھی ہے یا نہیں۔ کیونکہ جس رہنما کی بنیاد ہی درست نہ ہو، وہ دوسروں کی اصلاح کا حق بھی ادا نہیں کر سکتا۔سب سے پہلی علامت یہ ہے کہ وہ دین کا معتبر علم رکھتا ہو۔ اگر کوئی شخص بنیادی شرعی مسائل سے ناواقف ہو یا بغیر علم کے لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو، تو اس سے روحانی رہنمائی لینا دانش مندی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ "اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔" (سورۃ النحل: 43)
دوسری علامت یہ ہے کہ
اس کی زندگی میں عاجزی، بردباری اور خوفِ خدا نمایاں ہو۔ وہ اپنے مقام و مرتبے کی
تشہیر کرنے کے بجائے اپنے کردار سے لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کرے۔ اکابرِ امت نے
ہمیشہ اس بات کو پسند کیا ہے کہ انسان اپنے اعمال سے پہچانا جائے، نہ کہ اپنے
دعووں سے۔
تیسری اہم نشانی یہ ہے
کہ وہ لوگوں کے سوالات، اشکالات اور علمی گفتگو سے نہ گھبرائے، بلکہ خوش اخلاقی کے
ساتھ دلیل کی بنیاد پر رہنمائی کرے۔ جس ماحول میں تحقیق کا دروازہ بند کر دیا
جائے، وہاں علمی ترقی اور صحیح فہم باقی نہیں رہتی۔ امام احمد رضا خان بریلویؒ نے
فرمایا: "شیخ وہ ہے جو خود منزلِ مقصود کا راہی ہو، نہ کہ صرف راہ بتانے کا
مدعی۔" یعنی مرشد کی اپنی عملی زندگی اس کی دعوت کی سب سے بڑی دلیل ہونی
چاہیے۔
اسی طرح حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ والے اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ مخلوق کی بھلائی کے لیے جیتے ہیں۔ ان کے اخلاق میں شفقت، انکساری، خیر خواہی اور خدمتِ خلق نمایاں ہوتی ہے۔ یہی اوصاف کسی بھی روحانی مربی کی اصل پہچان ہیں۔ ایک اہم اصول ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ صالح شیخ کی صحبت یقیناً اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، لیکن شیخ کا انتخاب عقیدت سے پہلے بصیرت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ جب علم، کردار، تقویٰ اور خیر خواہی ایک شخصیت میں جمع ہوں، تبھی اس کی رفاقت انسان کی دینی و اخلاقی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔
بیعت کے فوائد
اسلام میں ہر وہ ذریعہ قابلِ قدر ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا، اخلاقی پاکیزگی اور دینی استقامت کے قریب لے جائے۔ اگر بیعت اپنے صحیح مقصد کے تحت کسی اہل، باعمل اور صاحبِ بصیرت شیخ سے کی جائے تو یہ ایک مؤثر تربیتی نظام ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے فوائد کا تعلق صرف بیعت کے الفاظ سے نہیں، بلکہ اس تعلق کی حقیقت اور اس کے عملی تقاضوں سے ہے۔ بیعت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی اصلاح کا ایک منظم راستہ مل جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی کمزوریوں سے واقف تو ہوتے ہیں، مگر ان سے نجات کا صحیح طریقہ نہیں جانتے۔ ایک صالح مربی ان کی رہنمائی کرتا ہے، ان کے اخلاقی عیوب کی نشاندہی کرتا ہے اور انہیں تدریج کے ساتھ بہتر زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے ذریعے انسان میں محاسبۂ نفس کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے اعمال، اخلاق اور معاملات کا جائزہ لینے لگتا ہے اور اپنی غلطیوں کو معمولی سمجھنے کے بجائے ان کی اصلاح کی فکر کرتا ہے۔ یہی کیفیت روحانی ترقی کی بنیاد ہے۔
بیعت کی برکت سے ذکرِ
الٰہی، دعا، تلاوتِ قرآن اور دیگر نیک اعمال میں پابندی پیدا ہوتی ہے۔ ایک صالح
شیخ اپنے متعلقین کو ایسے معمولات کا پابند بناتا ہے جو دل میں خشوع، اخلاص اور
اللہ تعالیٰ کی یاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ اس کا مقصد نئی عبادتیں ایجاد کرنا نہیں،
بلکہ مشروع اعمال میں دوام پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ
انسان کو نیک صحبت میسر آتی ہے۔ صالح لوگوں کی مجلس، باہمی خیر خواہی اور دینی
ماحول انسان کے کردار پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکابرِ امت نے ہمیشہ
نیک صحبت کو اصلاحِ باطن کے اہم اسباب میں شمار کیا ہے۔
امام احمد رضا خان بریلویؒ نے بھی اہلِ حق مشائخ کی صحبت کو بڑی نعمت قرار دیا ہے، کیونکہ ان کی رفاقت انسان کے دل میں محبتِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ اور حسنِ اخلاق کو پروان چڑھاتی ہے۔ لیکن آپؒ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر روحانی نسبت کا اصل مقصد بندے کے اندر تقویٰ، اخلاص اور حسنِ عمل پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ مختصراً، صحیح اصولوں کے مطابق اختیار کی گئی بیعت انسان کی دینی زندگی کو سنوارنے، اخلاق کو نکھارنے، برے اوصاف سے بچنے اور نیکی پر ثابت قدم رہنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی اس کا حقیقی فائدہ اور اصل روح ہے، جسے اکابرِ امت نے ہمیشہ پیشِ نظر رکھا۔
نتیجہ
اس پوری تحقیق سے یہ
حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام نے انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں اصلاح کو اہمیت دی
ہے، اور اسی مقصد کے لیے ہر وہ ذریعہ قابلِ قبول ہے جو کتاب و سنت کے دائرے میں
رہتے ہوئے بندے کو اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچانے میں معاون ہو۔ بیعت بھی انہی
اصلاحی ذرائع میں سے ایک ہے، بشرطیکہ اس کی بنیاد صحیح عقیدہ، اتباعِ شریعت اور
خالص رضائے الٰہی پر قائم ہو۔ تحقیقی دلائل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کسی شیخ سے
بیعت کرنا اسلام کے بنیادی ارکان یا لازمی فرائض میں شامل نہیں، اس لیے کسی مسلمان
کے ایمان، اسلام یا اخروی انجام کا فیصلہ محض اس بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا کہ اس
نے بیعت کی ہے یا نہیں۔ اسی طرح کسی شخص کو صرف اس بنا پر گمراہ یا نجات سے محروم
قرار دینا بھی علمی دیانت کے خلاف ہے۔
دوسری طرف یہ بھی
حقیقت ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی ایسے صاحبِ علم، صاحبِ تقویٰ اور صاحبِ کردار شیخ
سے وابستہ ہوتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسولِ اکرم ﷺ کی محبت، حسنِ اخلاق
اور پاکیزہ زندگی کی طرف رہنمائی دیتا ہے، تو یہ تعلق اس کے لیے خیر و برکت اور
روحانی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے اہلِ سنت کے اکابر نے ہمیشہ صحیح مشائخ
کی قدر کی ہے اور ان کی صحبت کو اصلاحِ نفس کے مؤثر اسباب میں شمار کیا ہے۔
اس تحقیق کا مقصد نہ کسی خانقاہ کی مخالفت ہے، نہ اہلِ تصوف کی خدمات سے انکار، اور نہ ہی اولیائے کرام کی شان میں کوئی گستاخی۔ مقصود صرف یہ ہے کہ دین کے نام پر پیدا ہونے والی ہر غلط فہمی کو قرآن و سنت اور ائمۂ امت کی روشنی میں پرکھا جائے، تاکہ عوام عقیدت کے ساتھ بصیرت بھی حاصل کریں اور دین کو اس کی اصل صورت میں سمجھ سکیں۔ آخر میں ہر مسلمان کے لیے یہی نصیحت ہے کہ وہ اپنے ایمان، عقیدے، عبادات، معاملات اور اخلاق کی اصلاح کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی صالح اور مخلص شیخ کی صحبت نصیب فرما دے تو اسے اللہ کی عظیم نعمت سمجھے، اس سے فائدہ اٹھائے اور اس کی رہنمائی سے اپنی زندگی کو بہتر بنائے۔ لیکن اپنی امید، اعتماد اور نجات کا حقیقی سہارا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو ہی بنائے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق
کو حق سمجھنے، اس پر عمل کرنے، باطل کو باطل جاننے اور اس سے اجتناب کرنے کی توفیق
عطا فرمائے، اور ہمارے ظاہر و باطن کو اپنی رضا کے مطابق بنا دے۔ آمین۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں