مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی: قانون کی بالادستی یا سیاسی و مذہبی تعصب؟

 


مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی: قانون کی بالادستی یا سیاسی و مذہبی تعصب؟

عالمی نظامِ انصاف میں عجلت نہیں، قانونی عمل کو ترجیح دی جاتی ہے 


تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، تہذیبی اور تمدنی شناخت کی بنیاد ہوتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن اقوام نے اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا، انہوں نے علم، تحقیق اور ترقی کی نئی منزلیں طے کیں، جبکہ جن معاشروں سے علم کی روشنی چھین لی گئی، وہ رفتہ رفتہ فکری جمود، معاشی پسماندگی اور سماجی انتشار کا شکار ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر مہذب اور جمہوری نظام میں تعلیمی اداروں کو محض اینٹ اور پتھر کی عمارتیں نہیں، بلکہ قوم کے مستقبل کی تعمیر گاہیں تصور کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کا دستور بھی اسی فکر کا آئینہ دار ہے۔ آئینِ ہند اپنے شہریوں کو مساوات، مذہبی آزادی، تعلیم کے فروغ اور اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا بنیادی حق عطا کرتا ہے۔ یہی آئینی ضمانت ہندوستان کی تکثیری شناخت اور جمہوری روح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ لیکن جب کوئی تعلیمی ادارہ انتظامی کارروائیوں، قانونی تنازعات یا سیاسی مباحث کا مرکز بن جائے تو یہ معاملہ محض ایک ادارے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے، نظامِ تعلیم اور عوامی اعتماد پر مرتب ہوتے ہیں۔

اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ان دنوں اسی نوعیت کے ایک بڑے تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے یونیورسٹی کی تقریباً چالیس عمارتوں میں سے اڑتیس عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہدام (Demolition) کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ ان تعمیرات کے لیے مطلوبہ نقشے، منظوری اور قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے، اس لیے متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ضروری ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ تعمیرات اس وقت کی گورننگ پالیسی اور انتظامی دائرۂ اختیار کے مطابق انجام دی گئیں، لہٰذا انہیں غیر قانونی قرار دینا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ قانونی طور پر بھی قابلِ اعتراض ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے معاملہ عدالتوں اور قانونی فورمز تک پہنچ چکا ہے، جہاں اس کا حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

یہاں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون سا فریق درست ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسے حساس معاملات کا فیصلہ بلڈوزر کے ذریعے ہونا چاہیے یا عدالت کے ذریعے؟ قانون کی حکمرانی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر شخص اور ہر ادارے کو اپنی بات پیش کرنے، ثبوت فراہم کرنے اور غیر جانبدار عدالتی سماعت کا مکمل حق حاصل ہو۔ اگر کسی تعمیر میں قانونی خامی موجود ہے تو اس کا تعین آزاد عدالتی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات سے جن کے نتیجے میں ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے۔

مولانامحمد علی جوہر یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی کیمپس کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس ادارے میں مختلف شعبہ جات کے تحت ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں بڑی تعداد معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی بھی ہے۔ ایسے طلبہ کے لیے یہ یونیورسٹی محض ڈگری حاصل کرنے کی جگہ نہیں بلکہ بہتر مستقبل، سماجی ترقی اور معاشی استحکام کی امید ہے۔ اگر اس ادارے کی بنیادی عمارتیں ہی مسمار کر دی جائیں تو اس کے اثرات صرف ایک انتظامیہ یا ایک سیاسی شخصیت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان ہزاروں طلبہ اور ان کے خاندانوں تک پہنچیں گے جن کی امیدیں اس ادارے سے وابستہ ہیں۔

اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کے بانی اعظم خان ایک سیاسی شخصیت رہے ہیں، اور گزشتہ چند برسوں میں ان کے خلاف متعدد قانونی مقدمات قائم ہوئے ہیں۔ تاہم کسی بھی جمہوری معاشرے میں کسی فرد کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات اور ایک تعلیمی ادارے کی اجتماعی حیثیت کو ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ادارہ اپنے اندر ہزاروں طلبہ، اساتذہ، محققین، ملازمین اور سماجی ذمہ داریوں کا حامل ہوتا ہے، اس لیے اس کے مستقبل کا تعین مکمل قانونی شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی فرد، ادارہ یا تنظیم قانون سے بالاتر نہیں۔ اگر واقعی کسی تعمیر میں قانونی بے ضابطگی ثابت ہو جائے تو متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی ہونا ایک فطری اور آئینی تقاضا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ اصول بھی اتنا ہی بنیادی ہے کہ جب تک تمام قانونی مراحل مکمل نہ ہو جائیں، تمام دستاویزات کی جانچ نہ ہو جائے اور عدالت اپنا حتمی فیصلہ نہ سنا دے، اس وقت تک ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتے ہوں۔

تعلیم صرف ایک شخص کا حق نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جنگوں، قدرتی آفات اور سیاسی بحرانوں کے دوران بھی تعلیمی اداروں کو حتی المقدور محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ کسی قوم کی تعلیمی بنیاد کو کمزور کرنا درحقیقت اس کے مستقبل کو کمزور کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ تعلیمی اداروں سے متعلق ہر فیصلہ سیاسی مصلحتوں یا انتظامی عجلت کے بجائے قانون، انصاف اور آئینی اقدار کی روشنی میں کیا جائے۔ لہٰذا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ محض چند عمارتوں کے قانونی جواز کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہندوستان میں قانون کی بالادستی، اقلیتوں کے تعلیمی حقوق، انتظامی شفافیت اور جمہوری اقدار کے عملی امتحان کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ہر فیصلہ عدالت، آئین اور انصاف کی روشنی میں ہو، نہ کہ ایسے اقدامات کے ذریعے جن سے علم کے چراغ بجھنے کا اندیشہ پیدا ہو۔

اگرچہ اس تنازع کا فیصلہ عدالت کے دائرۂ اختیار میں ہے اور حتمی قانونی رائے وہی معتبر ہوگی، لیکن اس پورے معاملے کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ پہلو ہندوستانی مسلمانوں کے اندر گزشتہ ایک دہائی سے پیدا ہونے والا عدمِ تحفظ اور یہ احساس ہے کہ ان کے مذہبی، تعلیمی اور اوقافی ادارے مسلسل انتظامی کارروائیوں کی زد میں آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف ہونے والی موجودہ کارروائی کو بھی محض ایک تعمیراتی تنازع کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ اسے ایک وسیع تر سماجی اور سیاسی تناظر میں سمجھا جا رہا ہے۔

گزشتہ دس بارہ برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں سے ایسے متعدد واقعات منظر عام پر آئے جن میں مساجد، مدارس، مکاتب، خانقاہوں، عیدگاہوں، قبرستانوں اور وقف املاک کے حوالے سے قانونی تنازعات پیدا ہوئے۔ کہیں تجاوزات کا الزام لگا، کہیں زمین کی ملکیت پر سوال اٹھایا گیا، کہیں رجسٹریشن اور نقشوں کی خامیوں کو بنیاد بنایا گیا اور کہیں سرکاری اراضی پر قبضے کے دعوے سامنے آئے۔ ان معاملات میں حکومت اور متعلقہ اداروں کا یہ مؤقف رہا کہ کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں، لیکن مسلم سماج کے ایک بڑے طبقے نے ان اقدامات کو امتیازی رویے کے تناظر میں دیکھا۔ اس احساس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متعدد مواقع پر متعلقہ اداروں کی جانب سے دستاویزات پیش کیے جانے کے باوجود کارروائیاں رک نہ سکیں، جس سے انصاف کے بارے میں سوالات نے جنم لیا۔

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی جمہوری ریاست میں قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ اگر کسی مسجد، مدرسے، یونیورسٹی یا کسی بھی ادارے نے واقعی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونا قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے۔ لیکن یہی اصول اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ کارروائی مکمل شفافیت، غیر جانب داری اور عدالتی نگرانی میں ہو۔ قانون کی اصل روح انتقام نہیں بلکہ انصاف ہے، اور انصاف صرف اس وقت معتبر ہوتا ہے جب وہ ہر شہری کے لیے یکساں معیار پر نافذ ہو۔

ہندوستان کا آئین اپنے آرٹیکل 14 کے ذریعے تمام شہریوں کو قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 21 باوقار زندگی کے حق کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 سے 30 تک مذہبی آزادی، ثقافتی شناخت اور اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کے حقوق کی آئینی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ یہی دفعات ہندوستان کی سیکولر اور جمہوری شناخت کی بنیاد ہیں۔ اس لیے جب بھی کسی اقلیتی تعلیمی ادارے کے خلاف کوئی بڑی کارروائی ہوتی ہے تو فطری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا تمام آئینی تقاضے اور قانونی مراحل پوری طرح اختیار کیے گئے ہیں؟؟؟

محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ بھی اسی زاویے سے دیکھا جانا چاہیے۔ اگر واقعی تعمیرات قانون کے مطابق نہیں ہیں تو عدالت کے فیصلے کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جائے۔ لیکن اگر انتظامیہ کے پاس قانونی منظوری، ریکارڈ یا ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ان کا مؤقف مضبوط ہوتا ہے، تو انہیں بھی مکمل دیانت داری کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔ قانون کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی فریق کو پہلے سے مجرم تصور نہ کیا جائے، بلکہ تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی فیصلہ صادر ہو۔

یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کی عمارتوں کو مسمار کرنے کا سب سے بڑا اثر ان طلبہ پر پڑتا ہے جن کا اس تنازع سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ ہزاروں طلبہ اپنی تعلیم، امتحانات، تحقیق اور مستقبل کے خوابوں کے ساتھ ایسے اداروں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اگر ان کے تعلیمی ماحول کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا ازالہ برسوں میں بھی ممکن نہیں ہوتا۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں طلبہ کے مستقبل کو سیاسی، انتظامی یا قانونی تنازعات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومتیں اس بات کا ادراک کریں کہ طاقت کا اصل مظاہرہ عمارتیں گرانے میں نہیں بلکہ ادارے بنانے میں ہے۔ قومیں بلڈوزروں سے نہیں بلکہ جامعات، لائبریریوں، تحقیقی مراکز اور علمی شخصیات سے ترقی کرتی ہیں۔ ایک یونیورسٹی کی اینٹیں گرائی جا سکتی ہیں، لیکن اگر اس عمل سے عوام کے دلوں میں انصاف پر اعتماد متزلزل ہو جائے تو اس نقصان کی تلافی آسان نہیں ہوتی۔

محمد علی جوہر یونیورسٹی کے تنازع نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ کیا ہندوستان اپنے آئینی وعدوں کے مطابق تمام شہریوں کے ساتھ یکساں انصاف کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے؟؟؟ کیا انتظامی کارروائیاں عوام میں اعتماد پیدا کر رہی ہیں یا بے اعتمادی کو فروغ دے رہی ہیں؟؟ اور کیا تعلیمی اداروں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنے کی روایت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت نہیں؟ ؟۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو سیاسی بیانات اور عوامی جذبات کے بجائے قانون، آئین اور عدالتی عمل کی روشنی میں حل کیا جائے۔ اگر کسی نے قانون توڑا ہے تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے، لیکن اگر کسی ادارے کے قانونی حقوق موجود ہیں تو انہیں بھی پوری دیانت داری کے ساتھ تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یہی جمہوریت کا حسن اور آئین کا تقاضا ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کی اجتماعی عقل، شعور اور مستقبل کی علامت ہوتے ہیں۔ جب قوموں سے ان کے علمی مراکز چھین لیے جائیں تو صرف عمارتیں ہی نہیں گرتیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے خواب بھی ملبے تلے دبنے لگتے ہیں۔ اس لیے ریاست، عدلیہ، انتظامیہ اور سماج، سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ قانون کی بالادستی برقرار رکھتے ہوئے علم کے چراغ بجھنے نہ دیں، کیونکہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ قوموں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔


تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری ؔ

رابطہ نمبر: 9037099731

پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا 


تبصرے