والدین کی خدمت: قرآن و سنت اور اسلافِ امت کی تعلیمات کی روشنی میں
اسلام وہ کامل اور آفاقی دین ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کو اعتدال،
رحمت، عدل اور حسنِ اخلاق کے ایسے لازوال اصول عطا کیے ہیں جن کی مثال انسانی
تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہی پاکیزہ تعلیمات میں والدین کے حقوق اور ان کی خدمت کو
ایک ایسا بلند مقام عطا کیا گیا ہے کہ قرآنِ کریم نے حقِ توحید کے فوراً بعد حقِ
والدین کا ذکر فرمایا، اور رسولِ اکرم ﷺ نے والدین کی رضا کو رضائے الٰہی اور ان
کی ناراضی کو ناراضیِ الٰہی کا سبب قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں
والدین کی خدمت محض ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ عظیم عبادت، اعلیٰ اخلاق، کامل
ایمان اور جنت کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔
والدین وہ عظیم محسن ہیں جن کی بے لوث محبت، بے مثال قربانی، مسلسل محنت
اور شب و روز کی دعاؤں نے اولاد کے وجود کو سنوارا، اس کی شخصیت کو نکھارا اور اس
کے مستقبل کو روشن کیا۔ ماں اپنی آغوش میں محبت، ایثار اور شفقت کی ایسی لازوال
داستان رقم کرتی ہے جس کا کوئی بدل نہیں، جبکہ باپ اپنی محنت، فکر اور ذمہ داری کے
ذریعے اولاد کے لیے زندگی کی آسائشیں فراہم کرتا ہے۔ یہی وہ دو عظیم ہستیاں ہیں جن
کے احسانات کا پورا بدلہ ادا کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔
قرآنِ مجید، احادیثِ طیبہ، آثارِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، اقوالِ تابعین،
ائمۂ مجتہدین اور سلفِ صالحین کی تعلیمات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ جس معاشرے میں
والدین کی عزت، خدمت اور اطاعت کو فروغ دیا جاتا ہے، وہاں رحمت، محبت، برکت اور
سکون کا نزول ہوتا ہے، اور جہاں والدین کی ناقدری عام ہو جائے، وہاں بے برکتی، بے
سکونی اور اخلاقی زوال جنم لیتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں قرآنِ حکیم، سنتِ نبوی ﷺ
اور اسلافِ امت کی تعلیمات کی روشنی میں والدین کی عظمت، ان کے حقوق، ان کی خدمت
کی فضیلت اور والدین و اولاد کی باہمی ذمہ داریوں کا اختصار کے ساتھ جامع جائزہ
پیش کیا جائے گا، تاکہ ہمارے دلوں میں والدین کی محبت، احترام اور خدمت کا جذبہ
مزید راسخ ہو اور ہمارے گھروں میں اسلامی معاشرت کی حقیقی روح دوبارہ زندہ ہو سکے۔
اسلام نے والدین کے مقام و مرتبہ کو جس انداز سے بیان کیا ہے، اس کی
نظیر کسی اور نظامِ حیات میں نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید نے مختلف مقامات پر والدین کی
عظمت، ان کے حقوق، ان کی خدمت، اطاعت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو نہایت مؤثر
انداز میں بیان فرمایا ہے۔ ان آیاتِ مبارکہ کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کر دیتا ہے کہ
والدین کی خدمت صرف ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت اور اللہ تعالیٰ
کی رضا حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
سب سے پہلی بات: قرآنِ کریم نے توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ
سلوک کا حکم دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا
إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (سورۃ الإسراء: 23-24)»۔ ترجمہ:
"اور تمہارے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور
والدین کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے
کو پہنچ جائیں تو انہیں 'اُف' تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے نہایت احترام
کے ساتھ گفتگو کرو، اور شفقت کے ساتھ ان کے سامنے عاجزی کا بازو جھکائے رکھو، اور
یوں دعا کرو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے
پالا تھا۔"
یہ آیت والدین کے مقام و مرتبہ کو واضح کرنے والی جامع ترین آیات میں سے
ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان کا حکم دے کر یہ
واضح کر دیا کہ بندوں کے حقوق میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔ مزید یہ کہ صرف
خدمت ہی کافی نہیں بلکہ ان کے سامنے آواز، لہجہ، گفتگو، طرزِ عمل اور دل کے جذبات
تک میں ادب و احترام مطلوب ہے۔ یہاں تک کہ "اُف" جیسا معمولی کلمہ کہنے
سے بھی منع فرمایا گیا، تاکہ اولاد ہر اس رویے سے بچے جو والدین کی دل آزاری کا
سبب بنے۔
دوسری بات: قرآنِ مجید نے والدین کے شکر کو اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ذکر
فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ ۖ
حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ
لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (سورۃ لقمان: 14)»۔ ترجمہ: "اور ہم
نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی۔ اس کی ماں نے اسے
کمزوری پر کمزوری اٹھا کر پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے۔
لہٰذا میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی، آخرکار تمہیں میری ہی طرف لوٹ کر
آنا ہے۔"
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے شکر کے ساتھ والدین کے احسانات
کا شکر ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ خصوصیت کے ساتھ ماں کی قربانیوں کا ذکر اس لیے
فرمایا کہ حمل، ولادت اور رضاعت کی مشقتیں وہی برداشت کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا
ہے کہ والدین کے احسانات کو یاد رکھنا، ان کی قدر کرنا اور زندگی بھر ان کا حق ادا
کرنے کی کوشش کرنا ایک مومن کی شان ہے۔
تیسری بات: قرآنِ کریم نے ہر حال میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم
دی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا
(سورۃ العنکبوت: 8)»۔ ترجمہ: "اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا
برتاؤ کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔"
یہ مختصر مگر نہایت جامع آیت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ والدین کے ساتھ
حسنِ سلوک کسی خاص وقت یا حالت تک محدود نہیں۔ ان کی خوشی، بیماری، کمزوری، بڑھاپے
اور ہر مرحلے میں ان کے ساتھ محبت، نرمی، ادب اور خدمت کا رویہ اختیار کرنا ایک
مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہی حسنِ سلوک خاندان کی مضبوطی اور معاشرے کی خوش حالی کا
سبب بنتا ہے۔
چوتھی بات: قرآنِ مجید نے غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی حسنِ معاشرت کا حکم
دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا
لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا
مَعْرُوفًا (سورۃ لقمان: 15)»۔ ترجمہ: "اور اگر وہ تم پر زور دیں کہ
تم میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ، جس کا تمہیں کوئی علم نہیں، تو اس معاملے میں ان
کی اطاعت نہ کرو، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔"
اسلام کا حسنِ اخلاق یہی ہے کہ اگر والدین ایمان نہ لائے ہوں، تب بھی ان کے
ساتھ ادب، احترام، خدمت اور حسنِ معاشرت کا حکم برقرار رہتا ہے۔ البتہ اگر وہ اللہ
تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو اس میں ان کی اطاعت نہیں ہوگی، لیکن اس اختلاف
کی وجہ سے بھی ان کے حقوق میں کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔
پانچویں بات: قرآنِ کریم نے عبادتِ الٰہی کے ساتھ والدین کے ساتھ احسان کو
لازم قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا
بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (سورۃ النساء: 36)»۔ ترجمہ:
"اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے
ساتھ بہترین سلوک کرو۔"
اس آیتِ مبارکہ میں ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ
والدین کے ساتھ احسان کا ذکر فرمایا۔ اس تکرار سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی
خدمت، ان کی عزت، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنا اللہ
تعالیٰ کو بے حد محبوب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس گھر میں والدین کی عزت کی جاتی ہے،
وہاں سکون، محبت، رحمت اور برکت اپنا ڈیرہ ڈال دیتی ہے۔
قرآنِ مجید کی ان مبارک تعلیمات سے یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ
والدین کی خدمت محض ایک معاشرتی روایت نہیں بلکہ ایک عظیم دینی فریضہ ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ والدین کے حق کو بیان کر کے ان کی عظمت کو ہمیشہ کے لیے
واضح فرما دیا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے والدین کی عزت و توقیر،
خدمت، اطاعت اور دلجوئی کو اپنی زندگی کا شعار بنائے، کیونکہ انہی کی رضا میں اللہ
تعالیٰ کی رضا اور انہی کی خدمت میں دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی پوشیدہ ہے۔
قرآنِ مجید نے والدین کے بلند مقام، ان کے عظیم حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ
سلوک کی نہایت جامع تعلیمات عطا فرمائی ہیں۔ اب آئیے، ان قرآنی ہدایات کے بعد ہم
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث کی روشنی میں والدین کی عظمت، ان کی خدمت کی فضیلت
اور ان کے حقوق کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ قرآنِ کریم کے احکام
کی بہترین تشریح اور عملی تفسیر ذاتِ اقدسِ محمدِ مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور ارشاداتِ
مبارکہ ہی ہیں۔ چنانچہ نبیِ کریم ﷺ نے اپنے فرامین کے ذریعے یہ واضح فرمایا کہ
والدین کی خدمت محض ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، جنت کے حصول
اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا عظیم ذریعہ ہے۔
سب سے پہلی بات: والدین کی رضا میں اللہ تعالیٰ کی رضا پوشیدہ ہے۔ حضرت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ
الْوَالِدِ۔" ترجمہ: "اللہ تعالیٰ کی رضا والد کے راضی ہونے میں ہے، اور
اللہ تعالیٰ کی ناراضی والد کے ناراض ہونے میں ہے۔"(جامع الترمذی، حدیث:
1899)
اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین، خصوصاً والد کی خوشنودی اللہ
تعالیٰ کی خوشنودی کا سبب ہے۔ جو شخص اپنے والدین کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے،
وہ درحقیقت اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ ان کی دل آزاری انسان کو
اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب کر دیتی ہے۔
دوسری بات: والدین کی خدمت جنت میں داخلے کا عظیم ذریعہ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ
رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ. قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:
مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، ثُمَّ
لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ." ترجمہ: "وہ شخص ذلیل و خوار ہو، پھر ذلیل و
خوار ہو، پھر ذلیل و خوار ہو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون؟ فرمایا: وہ شخص جس
نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر بھی ان کی
خدمت کر کے جنت حاصل نہ کر سکا۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2551) بڑھاپا والدین کی
زندگی کا سب سے نازک مرحلہ ہوتا ہے۔ اس وقت انہیں اولاد کی محبت، خدمت اور توجہ کی
سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جو شخص اس سنہری موقع کو ضائع کر دیتا ہے، وہ حقیقت
میں بہت بڑی سعادت سے محروم رہ جاتا ہے۔
تیسری بات: والدہ کی خدمت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: "يَا رَسُولَ اللَّهِ!
مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟
قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:
أَبُوكَ."۔ ترجمہ: "یارسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار
کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا:
تمہاری ماں۔ پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: تمہاری ماں۔ پھر پوچھا: اس کے بعد
کون؟ فرمایا: تمہارا باپ۔" (صحیح البخاری، حدیث: 5971، صحیح مسلم، حدیث:
2548)
اس حدیث میں تین مرتبہ ماں کا ذکر کر کے اس کی عظیم قربانیوں اور بے مثال
احسانات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، جبکہ چوتھے درجے میں باپ کا ذکر کر کے اس کے
مقام و مرتبہ کو بھی واضح کیا گیا ہے۔
چوتھی بات: والدین کی خدمت جہاد سے بھی افضل ہوسکتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی تو رسول
اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: "أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:
فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ."۔ ترجمہ: "کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض
کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر انہی کی خدمت میں اپنا جہاد کرو۔" (صحیح
البخاری، حدیث: 3004، صحیح مسلم، حدیث: 2549)
اگر والدین کو اولاد کی ضرورت ہو تو ان کی خدمت کرنا نفلی جہاد سے بھی
زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اس سے والدین کی خدمت کی عظمت اور اس کے بے مثال اجر کا
اندازہ ہوتا ہے۔
پانچویں بات: والد جنت کے بہترین دروازوں میں سے ایک ہے۔ حضرت ابو الدرداء
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "الْوَالِدُ أَوْسَطُ
أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ، أَوِ
احْفَظْهُ."۔ ترجمہ: "والد جنت کے درمیانی (بہترین) دروازوں میں سے ایک
دروازہ ہے، اب تم چاہو تو اس دروازے کو ضائع کر دو، اور چاہو تو اس کی حفاظت
کرو۔" (جامع الترمذی، حدیث: 1900، سنن ابن ماجہ، حدیث: 3663)
اس حدیثِ مبارکہ میں والد کی رضا اور خدمت کو جنت کے عظیم دروازے سے تعبیر
کیا گیا ہے۔ جو شخص اپنے والد کا احترام کرتا، اس کی خدمت کرتا اور اسے راضی رکھتا
ہے، وہ جنت کے ایک عظیم دروازے کو اپنے لیے کھلا رکھتا ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ والدین کی خدمت محض
اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ ایمان کی علامت، اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ، جنت کے حصول
کا بہترین راستہ اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو
چاہیے کہ وہ والدین کی عزت، خدمت، اطاعت اور دلجوئی کو اپنی زندگی کا شعار بنائے،
کیونکہ یہی تعلیمِ نبوی ﷺ کا تقاضا اور سعادت مند بندوں کا طریقہ ہے۔
قرآنِ مجید نے والدین کے حقوق کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا اور
رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے ارشاداتِ مبارکہ کے ذریعے ان حقوق کی مزید وضاحت فرمائی۔ اب
آئیے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین، ائمۂ مجتہدین اور سلفِ
صالحین کی مبارک زندگیوں کی روشنی میں والدین کی عظمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،
کیونکہ یہی وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی
میں ڈھال کر امت کے لیے بہترین نمونہ پیش فرمایا۔
سب سے پہلی بات: صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے والدین کی خدمت کو اپنی سب سے
بڑی سعادت سمجھا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں والدین کی محبت، خدمت اور
ادب سے عبارت تھیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور
عرض کیا کہ میں نے اپنی والدہ کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر بیت اللہ کا طواف کرایا
ہے، کیا میں نے ان کا حق ادا کر دیا؟ آپ نے فرمایا: "نہیں، تم ان کے دردِ زہ
کی ایک آہ کا بھی بدلہ ادا نہیں کر سکے۔" (الأدب المفرد للإمام البخاری)۔ یہ
واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ والدین، خصوصاً ماں کے احسانات اتنے عظیم ہیں
کہ انسان زندگی بھر خدمت کرتا رہے، تب بھی ان کا پورا حق ادا نہیں کر سکتا۔
دوسری بات: تابعین نے والدین کی خدمت کو عبادت اور قبولیتِ دعا کا ذریعہ
سمجھا۔ تابعین کی زندگیوں میں حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا نام نمایاں ہے۔ وہ اپنی
والدہ کی خدمت میں اس قدر مشغول رہتے تھے کہ اسی خدمت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی
ظاہری زیارت کا شرف حاصل نہ کر سکے، لیکن ان کی والدہ کی خدمت نے انہیں ایسا بلند
مقام عطا کیا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اگر
اویس قرنی سے ملاقات ہو تو ان سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرنا۔ (صحیح مسلم، حدیث:
2542)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلوص کے ساتھ والدین کی خدمت انسان کو اللہ تعالیٰ
کے نزدیک انتہائی بلند مقام عطا کرتی ہے۔
تیسری بات: ائمۂ مجتہدین نے والدین کے احترام کو علم کی برکت کا راز قرار
دیا۔ ائمۂ مجتہدین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ علم کے ساتھ ادب بھی ضروری ہے،
اور سب سے پہلے والدین کا ادب سیکھنا چاہیے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنی
والدہ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ اگر کسی مسئلے میں انہیں اطمینان نہ ہوتا تو
باوجود خود عظیم فقیہ ہونے کے، انہیں اس عالم کے پاس لے جاتے جس پر ان کی والدہ کو
اعتماد تھا۔ اس طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم انسان کو عاجزی، انکساری
اور والدین کی اطاعت سکھاتا ہے، نہ کہ تکبر اور خود پسندی۔
چوتھی بات: سلفِ صالحین والدین کے سامنے انتہائی ادب و انکساری اختیار کرتے
تھے۔مشہور تابعی حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا معمول تھا کہ جب اپنی والدہ سے
گفتگو کرتے تو ان کی آواز نہایت دھیمی ہو جاتی اور آپ کا لہجہ اس قدر نرم ہوتا
گویا ایک عاجز غلام اپنے آقا سے بات کر رہا ہو۔ (الأدب المفرد للإمام البخاری)۔ ان
کا یہ طرزِ عمل اس قرآنی تعلیم کی عملی تفسیر تھا کہ والدین کے سامنے عاجزی کے
بازو جھکائے رکھو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کا احترام صرف خدمت تک محدود
نہیں بلکہ گفتگو، لہجے اور اندازِ معاشرت میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔
پانچویں بات: اولیائے کرام کی عظمت کے پیچھے والدین کی تربیت اور دعاؤں کا
بڑا کردار تھا۔ اولیائے کرام کی زندگیاں اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ والدین کی
تربیت انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر
جیلانی رحمہ اللہ جب حصولِ علم کے لیے بغداد روانہ ہوئے تو ان کی والدہ نے انہیں
سچائی کی نصیحت فرمائی۔ آپ نے پوری زندگی اس نصیحت کو مضبوطی سے تھامے رکھا، یہاں
تک کہ ایک موقع پر ڈاکوؤں کے سامنے بھی سچ بول دیا، جس کے نتیجے میں ان ڈاکوؤں کی
توبہ کا سبب بنے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی مخلصانہ تربیت اور
دعائیں اولاد کو عظمت و ولایت کے بلند مقام تک پہنچا سکتی ہیں۔
صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمۂ مجتہدین اور سلفِ صالحین کی مبارک
زندگیاں اس حقیقت کا واضح اعلان کرتی ہیں کہ والدین کی خدمت محض ایک اخلاقی فریضہ
نہیں بلکہ انبیاء و صالحین کا مبارک طریقہ ہے۔ انہی مقدس ہستیوں نے اپنے کردار سے
امت کو یہ پیغام دیا کہ علم کی برکت، عبادت کی قبولیت، اخلاق کی پاکیزگی اور اللہ
تعالیٰ کی رضا اسی شخص کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے والدین کا ادب کرنے والا، ان کا
فرمانبردار اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھنے والا ہو۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ والدین اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور ان کی رضا و خوشنودی
حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ قرآنِ مجید نے ان کے حقوق کو اپنے حق کے ساتھ بیان
فرمایا، رسولِ اکرم ﷺ نے ان کی خدمت کو جنت کا راستہ قرار دیا، اور صحابۂ کرام،
تابعین، ائمۂ مجتہدین اور سلفِ صالحین نے اپنی عملی زندگی سے اس کی بہترین مثال
قائم کی۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے والدین کی عزت، خدمت، اطاعت اور
دلجوئی کو اپنی زندگی کا شعار بنائے، جبکہ والدین بھی اپنی اولاد کی دینی، اخلاقی
اور فکری تربیت محبت، حکمت اور اعتدال کے ساتھ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کے
حقوق ادا کرنے، ان کی دعائیں حاصل کرنے اور ان کی رضا کے ذریعے اپنی رضا نصیب
فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں