ڈیجیٹل عہد میں میڈیا اور قومی بیانیہ
تعمیرِ افکار سے تشکیلِ کردار تک
انسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ قوموں کی تعمیر و تشکیل میں افکار و نظریات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور افکار کی ترسیل کے لیے ہر دور میں مختلف ذرائع اختیار کیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی خطابت نے ذہنوں کو مہمیز دی، کبھی قلم نے انقلاب برپا کیا، اور کبھی مطبوعات نے فکری بیداری کی شمع روشن کی۔ تاہم موجودہ دور کو اگر ذرائع ابلاغ کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ آج میڈیا اور سوشل میڈیا انسانی زندگی کے ہر شعبے پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ یہ ذرائع نہ صرف خبروں اور معلومات کی ترسیل کا فریضہ انجام دیتے ہیں بلکہ افراد اور معاشروں کے فکر و نظر، رجحانات، ترجیحات اور طرزِ زندگی کی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
عصرِ حاضر میں میڈیا ایک ایسی قوت بن چکا ہے جو رائے عامہ ہموار کرتی، افکار کو سمت دیتی اور قومی بیانیے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ایک خبر، ایک تحریر یا ایک ویڈیو چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر اس قوت کو علم، حکمت، دیانت اور اخلاق کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو یہ شعور و آگہی، اتحاد و استحکام اور دینی و اخلاقی اقدار کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن جب یہی ذرائع بے مقصد تفریح، جھوٹ، افواہوں، فکری انتشار اور اخلاقی انحطاط کے لیے استعمال ہونے لگیں تو ان کے منفی اثرات پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ بالخصوص نوجوان نسل دینی تعلیمات، قرآنی ہدایات، احادیثِ نبویہ ﷺ اور اسلافِ امت کے علمی و فکری ورثے سے دور ہو کر ظاہری چمک دمک اور عارضی دلچسپیوں میں الجھ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں یہ امر ناگزیر ہو جاتا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، اس کے مثبت و منفی پہلوؤں کو سمجھا جائے اور ایک ایسے صالح قومی بیانیے کی تشکیل کی کوشش کی جائے جو علم، اخلاق، اعتدال اور قومی و ملّی مفادات کا ترجمان ہو۔
اوپر یہ حقیقت واضح ہو چکی کہ عصرِ حاضر میں میڈیا اور سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی جز بن چکے ہیں۔ اب شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جس کی روزمرہ زندگی کسی نہ کسی صورت ان ذرائع سے وابستہ نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ذرائع ابلاغ محض اطلاعات کی ترسیل کا وسیلہ نہیں رہے بلکہ قوموں کی فکری سمت، تہذیبی شناخت، اخلاقی اقدار اور اجتماعی مزاج کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر ماضی میں قوموں کی قیادت میدانِ سیاست اور منبر و محراب سے ہوتی تھی تو آج اس میں میڈیا بھی ایک مؤثر اور طاقتور قوت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
میڈیا خواہ پرنٹ ہو، الیکٹرانک ہو یا سوشل میڈیا، اس کا اصل مقصد سچائی پر مبنی معلومات کی فراہمی، عوامی شعور کی بیداری، خیر کی ترویج اور معاشرے کی صحیح رہنمائی ہونا چاہیے۔ افسوس کہ جب ذرائع ابلاغ اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر سنسنی خیزی، جھوٹ، تعصب، مفاد پرستی اور وقتی شہرت کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں تو ان کے اثرات صرف افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم کی فکری بنیادوں کو متزلزل کر دیتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے افکار، اقدار اور مشترکہ بیانیے سے زندہ رہتی ہیں۔
قومی بیانیہ دراصل ان اصولوں، اقدار اور نظریات کا مجموعہ ہے جن پر کسی قوم کی وحدت، شناخت اور مستقبل کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ یہی بیانیہ قوم کے افراد کو ایک مقصد، ایک فکر اور ایک سمت عطا کرتا ہے۔ اگر یہ بیانیہ علم، عدل، دیانت، اخلاق، رواداری اور دینی اقدار پر استوار ہو تو معاشرے میں اتحاد، استحکام اور باہمی اعتماد پروان چڑھتا ہے، لیکن اگر اس میں جھوٹ، نفرت، تعصب اور بے راہ روی شامل ہو جائے تو اختلاف، بداعتمادی اور انتشار ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اس لیے میڈیا کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قوم کے صحیح فکر و شعور کی آبیاری کرے، نہ کہ فکری انتشار کو ہوا دے۔
اسلام نے بھی خبر اور اظہارِ رائے کو امانت قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ (الحجرات: 6)، یعنی: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔" یہ آیت صرف خبر کی تحقیق کا حکم نہیں دیتی بلکہ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے لیے بھی ایک ابدی اصول متعین کرتی ہے کہ ہر اطلاع کو ذمہ داری، دیانت اور تحقیق کے ساتھ آگے بڑھایا جائے، کیونکہ ایک غیر مصدقہ خبر بسا اوقات پورے معاشرے میں فتنہ و فساد کا سبب بن جاتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کو محض وقت گزاری، تفریح یا ذاتی شہرت کا ذریعہ بنانے کے بجائے علم و آگہی، دینی شعور، اخلاقی تربیت، قومی یکجہتی اور اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر وسیلہ بنایا جائے۔ جب ذرائع ابلاغ حق، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو وہ نہ صرف ایک باشعور فرد بلکہ ایک باوقار اور مضبوط قوم کی تشکیل میں بھی سنگِ میل ثابت ہوتے ہیں۔
ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ہر نعمت اپنے اندر خیر و شر، تعمیر و تخریب اور نفع و نقصان دونوں امکانات رکھتی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اسی اصول کے تحت ایک ایسی دو دھاری تلوار ہیں جن کا فائدہ یا نقصان ان کے استعمال پر موقوف ہے۔ اگر انہیں علم، حکمت، اخلاق اور خیر کے فروغ کے لیے بروئے کار لایا جائے تو یہ معاشرے کی اصلاح، فکری بیداری اور قومی ترقی کا مؤثر ذریعہ بن جاتے ہیں، لیکن اگر ان کا استعمال بے راہ روی، جھوٹ، نفرت اور بے مقصد مشاغل کے لیے ہونے لگے تو یہی ذرائع قوموں کے اخلاقی زوال اور فکری انتشار کا سبب بن جاتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ میڈیا نے علم و آگہی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آج دینی دروس، قرآنِ کریم کی تعلیم، احادیثِ نبویہ ﷺ کی تشریح، علماء کی تقاریر، علمی مباحث اور تعلیمی مواد چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ بہت سے نوجوان انہی ذرائع کے ذریعے دین کی بنیادی تعلیمات سیکھ رہے ہیں، علمی کتابوں سے متعارف ہو رہے ہیں اور امت کے مسائل سے آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح قومی آفات، سماجی خدمت، رفاہی سرگرمیوں اور خیر کے مختلف کاموں میں بھی میڈیا نے عوام کو بیدار کرنے اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑنے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اس روشن پہلو کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال نے نوجوان نسل کے ایک بڑے طبقے کو دینی و اخلاقی اقدار سے دور کر دیا ہے۔ آج گھنٹوں موبائل کی اسکرین پر صرف ہونے والا وقت قرآنِ کریم کی تلاوت، احادیثِ رسول ﷺ کے مطالعہ، سیرتِ نبوی ﷺ کے فہم اور اسلافِ امت کی علمی و فکری میراث سے رشتہ کمزور کر رہا ہے۔ فضول ویڈیوز، بے مقصد تفریح، غیر اخلاقی مواد، شہرت کی اندھی دوڑ اور لائکس و فالوورز کی خواہش نے بہت سے نوجوانوں کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ علم کی جگہ معلومات، کردار کی جگہ نمائش اور حقیقت کی جگہ مصنوعی زندگی نے لے لی ہے، حالانکہ قوموں کی عزت وقتی شہرت سے نہیں بلکہ علم، کردار اور اعلیٰ اخلاق سے قائم ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جھوٹی خبریں، افواہیں، کردار کشی، مذہبی و سماجی منافرت، فکری انتشار اور سنسنی خیزی بھی سوشل میڈیا کے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ بغیر تحقیق کے ہر خبر کو آگے بڑھانا، دوسروں کی عزت کو مجروح کرنا اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا ایسا رویہ ہے جس سے نہ صرف افراد بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زبان اور قلم دونوں کو امانت قرار دیا ہے اور ہر بات کہنے سے پہلے اس کی ذمہ داری کا احساس دلایا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم میڈیا اور سوشل میڈیا کو اپنی خواہشات کا آلہ بنانے کے بجائے اصلاحِ نفس، دعوتِ دین، علم کی اشاعت، اخلاق کی ترویج اور قومی خیر خواہی کا ذریعہ بنائیں۔ جب یہی ذرائع حق کی آواز، علم کی روشنی اور کردار کی خوشبو پھیلانے لگیں گے تو نوجوان نسل بھی اپنی دینی شناخت، علمی وراثت اور اخلاقی اقدار سے دوبارہ وابستہ ہوگی، اور یہی کسی مضبوط، باشعور اور باوقار قوم کی حقیقی علامت ہے۔
جب یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا قوموں کے افکار و اقدار کی تشکیل میں غیر معمولی اثر رکھتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طاقتور ذریعہ کو صحیح رخ کیسے دیا جائے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ ہر فرد، ہر ادارہ اور معاشرے کے ہر ذمہ دار طبقے کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ کیونکہ قوموں کی تعمیر صرف حکومتوں سے نہیں ہوتی بلکہ باکردار افراد، ذمہ دار اہلِ قلم، مخلص علماء، باشعور اساتذہ اور صالح نوجوان مل کر ایک مضبوط معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔
اسلام نے اظہارِ رائے کو آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا بھی پابند بنایا ہے۔ قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾، یعنی: "انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے، اس پر ایک نگہبان مقرر ہے جو اسے محفوظ کر لیتا ہے۔" (سورۂ ق: 18) یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور قلم سے لکھی ہوئی ہر تحریر، بلکہ آج کے دور میں سوشل میڈیا پر کیا گیا ہر پیغام، ہر تبصرہ اور ہر پوسٹ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہی کا سبب بنے گی۔ اس لیے مسلمان کی پہچان یہی ہے کہ وہ حق بولے، سچ لکھے اور خیر ہی کو عام کرے۔
خصوصاً نوجوان نسل، جو سوشل میڈیا کی سب سے بڑی صارف بھی ہے اور مستقبل کی معمار بھی، اس کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ اپنے قیمتی وقت کو فضول مشاغل، بے مقصد مباحث اور غیر اخلاقی مواد میں ضائع کرنے کے بجائے قرآنِ کریم کی تلاوت، احادیثِ نبوی ﷺ کے مطالعہ، سیرتِ طیبہ، اسلافِ امت کی علمی خدمات اور مفید علمی و تحقیقی مواد کے حصول میں صرف کریں۔ اسی طرح علماء، اساتذہ، صحافیوں اور اہلِ قلم پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی تحریروں، تقاریر اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے سچائی، اعتدال، اخوت، اخلاق اور دینی شعور کو فروغ دیں، کیونکہ قلم اور میڈیا اگر حق کے ساتھ کھڑے ہوں تو نسلوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
آج صالح قومی بیانیے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسے نفرت، تعصب اور اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ علم، عدل، اخلاق، دیانت، باہمی احترام اور خیر خواہی کی بنیاد پر استوار کیا جائے۔ ایسا بیانیہ جو نوجوانوں کو اپنی دینی شناخت پر فخر کرنا سکھائے، انہیں علم و تحقیق کی طرف راغب کرے، وطن اور معاشرے کی خدمت کا جذبہ عطا کرے اور انہیں یہ احساس دلائے کہ سوشل میڈیا پر ان کا ہر لفظ ان کے کردار کا آئینہ ہے۔ جب ہماری سوچ مثبت، زبان مہذب، قلم دیانت دار اور مقصد اصلاحِ امت ہوگا تو میڈیا اور سوشل میڈیا بھی فتنہ و فساد کے بجائے خیر، اتحاد اور تعمیرِ معاشرہ کا مؤثر ذریعہ بن جائیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک باشعور فرد، مضبوط قوم اور صالح معاشرے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا عصرِ حاضر کی ایک ایسی مؤثر قوت ہیں جنہیں نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے اثرات سے انکار ممکن ہے۔ ان ذرائع کا صحیح استعمال قوموں کی فکری بیداری، اخلاقی تعمیر اور دینی شعور کا سبب بنتا ہے، جبکہ ان کا غلط استعمال فکری انتشار، اخلاقی زوال اور دینی بے راہ روی کو جنم دیتا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی قلمی، فکری اور ڈیجیٹل ذمہ داریوں کا احساس کریں، حق و صداقت کو فروغ دیں، جھوٹ اور افواہوں سے اجتناب کریں اور میڈیا کو علم، اخلاق، اتحاد اور خیرِ امت کا ذریعہ بنائیں۔ یہی طرزِ عمل ایک صالح قومی بیانیہ کی تشکیل، مضبوط معاشرے کے قیام اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری ؔ
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں