کیا سپریم کورٹ جج جسٹس چندر شیکھر یادوکے خلاف سخت کاروائی کرے گی؟

کیا سپریم کورٹ جج جسٹس چندر شیکھر یادوکے خلاف سخت کاروائی کرے گی؟ 

ایک مشہور صحافی اختر عظیم صاحب کا ایک تجزیاتی مضمون میرے نظروں سے گزرا تو میں سوچا پڑھ لیتا ہوں، جب میں اس مضمون کو پڑھتا ہوں تو یہ سمجھ میں آیاہے کہ آج کی حکومت جبر استبداد کے اقتدار میں اندھی ہو گئی ہے۔ اختر عظیم صاحب قبلہ لکھتے ہیں کہ مرکزی حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو اور دہلی حکومت کے مختلف محکموں میں تین دہائیوں پر محیط ملازمت کے دوران جو تجربات حاصل ہوئے، وہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا عکس تھے۔ ہر دفتر میں اخوت، یگانگت اور ایک دوسرے کے عقائد و روایات کا احترام نمایاں تھا۔ یہ رویہ اس دور کے کانگریسی حکمرانوں کے سیکولر مزاج کی عکاسی کرتا تھا۔ افسروں سے لے کر ادنیٰ ملازمین تک سبھی اپنے ساتھیوں کے مذہبی اور سماجی عقائد کی نہ صرف عزت کرتے تھے بلکہ بحث و مباحثے میں بھی شائستگی اور احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔

آگے اور بھی قلم بند کرتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب میرا تبادلہ جالندھر کے پریس انفارمیشن بیورو میں کیا گیا۔ دہلی کے اردو یونٹ میں جہاں مسلمان ساتھیوں کی خاصی تعداد موجود تھی، وہیں جالندھر پہنچ کر میں اکیلا مسلمان تھا۔ جب پہلا جمعہ آیا تو میرے دل میں یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا کہ شاید نماز جمعہ ادا نہ کر سکوں گا، اور اس خیال نے مجھے بے حد بے چین کر دیا۔اسی اثنا میں گیارہ بجے میرے افسر اعلیٰ نے مجھے بلایا۔ ان کے کمرے میں داخل ہو کر جب میں نے ادب سے سلام کیا تو وہ خوشی سے مسکرا اٹھے۔ کہنے لگے، ”اختر صاحب“، یہ لفظ سن کر دل خوش ہو گیا۔ گویا برسوں بعد کانوں میں رس گھولنے والی آواز سنائی دی۔ میں نے اپنی زندگی کے ابتدائی پچیس سال اسی گنگا جمنی تہذیب میں بسر کیے ہیں، جہاں احترام اور رواداری کا ماحول ہوتا تھا۔ آج کل تو صبح سے شام تک بس نمسکار اور گڈ مارننگ ہی سننے کو ملتا ہے۔پھر انہوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور مسکراتے ہوئے کہا، ”اختر، آج جمعہ ہے اور میں جانتا ہوں کہ ایک گزرا سے گزرامسلمان بھی جمعہ ترک نہیں کرتا۔ جالندھر میں خوبصورت مساجد تو موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ غیر آباد ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ اندرون شہر صدیوں پرانی ایک درگاہ حضرت امام ناصر الدین کی ہے، جہاں چند مسلمان رہتے ہیں اور باقاعدہ پنج وقتہ نماز ہوتی ہے۔ لیکن وہاں پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔“ان کے یہ کلمات سن کر مجھے ایک عجیب سکون ملا۔ آپ کو سمجھنا چاہئے کہ یہ گفتگو نہ صرف ان کے وسیع الظرف ہونے کا ثبوت تھی بلکہ ہندوستانی معاشرت کی اس خوبصورتی کی یاد دہانی بھی کراتی تھی جو آج دھندلا سی گئی ہے۔

روزنامہ آگ،تاریخ19دسمبر 2024 کی روشنی میں،میں یہ لکھ رہا ہوں کہ عظیم اختر صاحب آگے لکھتے ہیں: یہ کہہ کر افسر اعلیٰ نے فوری طور پر پریس انفارمیشن بیورو کے دفاتر میں خبریں پہنچانے والے موٹر سائیکل رائیڈر کو بلایا اور حکم دیا، ”آج سے ہر جمعہ اختر صاحب کو درگاہ امام ناصر الدین لے جایا کرو تاکہ یہ نماز جمعہ ادا کر سکیں، اور اس کام میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔“ یہ سن کر میں حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں مبتلا ہو گیا۔ پریس انفارمیشن بیورو کے دہلی دفتر میں ماضی کے انسان دوست اور مسلم نواز افسروں، جیسے آنجہانی جگناتھ، آزاد، جی ڈی چندن، ہردیال شاد، شمشیر سنگھ نرالہ اور غالب پرست ایچ ایس سرسوتی کے رویے میری یادداشت کا حصہ تھے۔ لیکن یہاں جالندھر میں ایک غیر مسلم افسر کی انسانیت نواز اور مذہبی رواداری پر مبنی یہ مہربانی میرے لیے ایک نئی اور دل کو چھو لینے والی مثال تھی۔جب میں نے ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ”شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں، اختر صاحب! میں ہندو ہوں، اور میرے دھرم نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ ہر مذہب اور عقیدے کا احترام کیا جائے۔ آپ کے دینی فرائض کا احترام ہم پر لازم ہے۔ اگر آپ چاہیں تو دفتر میں ہی ظہر اور عصر کی نمازیں بھی ادا کر سکتے ہیں۔“  افسر اعلیٰ کے اس رویے نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ سرکاری موٹر سائیکل کے ذریعے جمعہ کی نماز کے لیے درگاہ جانا اب معمول بن گیا۔ مزید برآں، ظہر اور عصر کی نمازیں دفتر کے ایک گوشے میں باقاعدگی سے ادا کرنے لگا۔ میرے غیر مسلم ساتھی بھی میرے اس عمل کو نہ صرف قبولیت کی نگاہ سے دیکھتے بلکہ کبھی نماز کی تاخیر ہوتی تو خود آ کر یاد دہانی کراتے، ”اختر صاحب، کیا بات ہے؟ آپ نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی؟“۔اس بے لوث حسن سلوک اور آپسی احترام کے ماحول نے میرے دل میں اس دور کے سماجی تعلقات اور بھائی چارے کی قدروں کو مزید اجاگر کیا۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت تھا کہ مذہب اور ثقافت کی بنیاد پر انسانیت کبھی تقسیم نہیں ہو سکتی، اگر دل میں خلوص اور احترام موجود ہو۔

یہ تحریر آنجہانی پنڈت نہرو اور کانگریسی راج کے اُس دور کی ایک جھلک پیش کرتی ہے جب دفتری ماحول اور سماجی زندگی میں مذہبی یگانگت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی قدریں مضبوط تھیں۔ وہ دور، جب نہرو اور کانگریسی قیادت نے ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس“ جیسے نعروں کو عملی طور پر نافذ کیا، آج کے مقابلے میں ایک مختلف سماجی تصویر پیش کرتا تھا۔ لیکن اس وقت کی مسلم حکمرانوں کے دور کی مخالفت میں زبان چلانے والوں نے ان قدروں کو کھنڈن کرتے ہوئے ایک سیاسی فائدہ حاصل کیا، جس کا فائدہ بھگوا بریگیڈ کو انتخابات میں ہوا۔ پنڈت نہرو کی مذمت کے اس مشغلے نے عوام الناس کو کانگریس سے دور ضرور کر دیا، لیکن اس سیاسی چالاکی کے پس پردہ، مسلم دشمنی کا ایک نیا باب لکھا جانے لگا۔ مسلمانوں کو سماجی ترقی کے نام پر نشانہ بنایا گیا، اور قانون سازی میں ان کے خلاف امتیازی رویہ اپنایا گیا۔ یہ عمل نہ صرف سماج میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم کی ایک گہری لکیر کھینچ گیا بلکہ عدالتی نظام جیسے حساس شعبے کو بھی متاثر کیے بغیر نہ رہ سکا۔

آج،ملک کی ان ریاستوں میں جہاں حکمراں جماعت کا غلبہ ہے، عدالتوں کے رویے میں ایک واضح جھکاؤ نظر آتا ہے۔ تاریخی مساجد، درگاہوں اور خانقاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور مندروں کے کھنڈرات یا دیوی دیوتاؤں کی باقیات کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے سروے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں، اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی بے بسی کا احساس دلایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عدالتی انصاف کے بنیادی اصولوں کو نہ صرف کمزور کر رہی ہے بلکہ مسلمانوں کو مسلسل محرومی کا شکار بنا رہی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اس منظم مہم نے ایک طرف ان کی سماجی حیثیت کو نشانہ بنایا ہے تو دوسری طرف ان کے بنیادی حقوق پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ نفرت کے اس بیج سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے اور اکثریتی ووٹ بینک کو خوش رکھا جا سکے۔

ملک کے بدلتے سیاسی اور سماجی ماحول میں مسلمانوں کو ان کی بے بضاعتی کا احساس دلانے کا کام جہاں دیگر عناصر انجام دے رہے ہیں، وہیں عدلیہ کے کچھ افراد بھی اس عمل میں شامل ہو چکے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ جی کی ریاست کے ہائی کورٹ کے جج جسٹس چندر شیکھر یادو نے اپنے حالیہ بیانات سے عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان کے خیالات نے ایک ایسے عدالتی منصب کو تنازع کا شکار کر دیا، جس کا مقصد انصاف فراہم کرنا اور تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنا تھا۔ وشو ہندو پریشد کے لیگل سیل کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں جسٹس شیکھر یادو نے اپنی عدالتی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ایسے بیانات دیے، جنہیں کسی بھی صورت عدالتی وقار کے مطابق نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک اکثریتی طبقے، یعنی ہندوؤں کی مرضی سے چلے گا۔ اس بیان کے ذریعے انہوں نے نہ صرف عدلیہ کی غیر جانبداری کو نقصان پہنچایا بلکہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو حاشیے پر ڈالنے کی کوشش بھی کی۔ جسٹس یادو نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی تعریف کرتے ہوئے مسلمانوں کی مذہبی رسومات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلمان بچوں کے سامنے جانور ذبح کرتے ہیں، جس سے بچوں میں ہمدردی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے ہندو رسومات اور دیوی دیوتاؤں کے احترام کا درس دیتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی روایات اور مذہبی اقدار کے لیے ہدف تنقید بنایا۔

یہ بیانات ایک ایسے جج کی جانب سے آئے ہیں، جس کا کام آئین کی پاسداری کرنا اور انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ ان خیالات نے نہ صرف عدالتی غیر جانبداری کو مجروح کیا ہے بلکہ مسلمانوں کے خلاف جاری تعصب کو مزید ہوا دی ہے۔ عدلیہ کے ایسے رویے سے اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دینے والا آئین کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے، اور ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔جسٹس شیکھر یادو کے خیالات ایک خاص نظریاتی رجحان کی عکاسی کرتے ہے، جو مذہبی تعصب اور اکثریتی تسلط کو فروغ دیتا ہے۔ ایسے بیانات عدلیہ کی ساکھ اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یہ وقت ہے کہ عدلیہ کے ذمہ داران اس مسئلے پر توجہ دیں اور یہ یقینی بنائیں کہ عدلیہ کا ہر فرد آئینی اصولوں اور انسانی حقوق کی پاسداری کرے۔جسٹس چندر شیکھر یادو اپنے خیالات کے اظہار میں ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے نفرت انگیز بیانات اور تعصب کو مزید ہوا دینے میں مصروف نظر آئے۔ مسلم علما ء کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہوں نے”انہیں عوام کو اکسانے والے اور ملک کے خلاف خطرہ قرار دیا“، جو کسی بھی جمہوری اور عدالتی ذمہ داری کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور ان سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کے یہ بیانات مسلمانوں کے خلاف ایک منظم تعصب کی عکاسی کرتی ہے اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔

اپنے خطاب میں جسٹس یادو نے ایک سے زیادہ شادیوں، حلالہ، اور تین طلاق جیسے مسلم معاشرتی مسائل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر زور دیا کہ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہندو مذہب میں چھوا چھوت اور جہیز جیسی روایات کو ختم کر دیا گیا ہے، لیکن مسلمانوں نے اپنے معاشرتی قوانین کو تبدیل نہیں کیا۔ یہ بیان نہ صرف غیر حقائق پر مبنی ہے بلکہ مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی حقوق پر حملہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔ جسٹس یادو نے خواتین کے حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عورت کی بے عزتی نہیں کی جا سکتی، خاص طور پر ان خواتین کی جو ہندو شاستروں اور ویدوں میں دیوی کے طور پر تسلیم کی گئی ہیں۔ تاہم، انہوں نے اسی جملے میں مسلمانوں کے ازدواجی قوانین کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کو چار بیویاں رکھنے یا حلالہ پر عمل کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے یہ خیالات ملک کے سیکولر آئین اور قانونی برابری کے اصولوں کے خلاف ہیں۔

یہ بیانات نہ صرف مسلمانوں کے خلاف تعصب کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ عدلیہ جیسے اہم ادارے کی غیر جانبداری اور وقار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ جسٹس یادو کا کہنا کہ ملک میں جلد ہی یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گا،یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنے عدالتی عہدے کو ایک خاص نظریاتی ایجنڈے کے فروغ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان خیالات نے ملک کے آئینی اصولوں، خاص طور پر مذہبی آزادی اور ثقافتی تنوع کی حفاظت کے اصولوں کو چیلنج کیا ہے۔ مسلمانوں کے ازدواجی قوانین پر تنقید کرتے ہوئے جسٹس یادو نے یہ بھی نظر انداز کر دیا کہ ان قوانین کو مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت تسلیم کیا گیا ہے اور ان کا تعلق مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے ہے۔ یہ بیانات اقلیتی حقوق کے تحفظ کے آئینی وعدے کے خلاف ہیں اور ان کے ذریعے ایک مخصوص مذہبی گروہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایسے بیانات عدلیہ کے اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں اور عوام کے درمیان نفرت اور اختلافات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ عدلیہ کے ذمہ داران کو اس قسم کے متعصبانہ خیالات کے خلاف اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عدلیہ کا وقار برقرار رہے اور ملک میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ 

جسٹس چندر شیکھر یادو کے بیانات کا یہ حصہ نہ صرف مذہبی تعصب کو فروغ دیتا ہے بلکہ عدالتی ذمہ داریوں کی غیر جانبداری اور انصاف پسندی کے اصولوں کو بھی مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے خواتین کے احترام کی آڑ میں مسلمانوں کی ازدواجی اور مذہبی روایات کو نشانہ بنایا اور انہیں ہندو ثقافت کے برعکس پیش کیا۔ ان کا کہنا کہ ''ایک کمیونٹی کے افراد ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے، حلالہ کرنے یا تین طلاق پر عمل کرنے کے حق کا دعویٰ کرتے ہیں '' ایک خاص طبقے کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش ہے، جو کہ عدلیہ کی اخلاقیات کے منافی ہے۔جسٹس شیکھر نے اپنے خطاب میں گائے، گنگا اور گیتا کو ہندوستانی ثقافت کے لازم اجزاء قرار دیتے ہوئے ان کی اہمیت پر زور دیا، لیکن اس بیان کے ذریعے انہوں نے ایک مخصوص مذہبی اور ثقافتی نظریہ کو پورے ملک پر تھوپنے کی کوشش کی۔ ان کا یہ کہنا کہ ہندوستانی ہونے کا تعارف گنگا کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے، بھارت کے تنوع اور کثیر الثقافتی شناخت کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف اور ان کے نظریات کی حمایت میں جسٹس یادو نے اپنے خطاب کو مزید متعصبانہ اور غیر آئینی بنا دیا۔ یوگی جی کو ”ک کے سب سے بڑے گؤ بھگت“ کہہ کر انہوں نے ایک سیاسی ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کی، جو کہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔ یہاں تک کہ گائے کو قومی جانور قرار دینے اور یہ دعویٰ کرنے کا ذکر کہ گائے ”آکسیجن خارج کرتی ہے“ غیر سائنسی اور جذباتی بیانات ہیں، جو ایک عدالتی شخصیت کی حیثیت سے ان کے کردار کو مزید متنازع بناتے ہیں۔ اس قسم کا بیان عدالتی عمل کے وقار اور اعتماد کو متاثر کرتا ہے اور عدلیہ کو ایک سیاسی یا مذہبی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنے کے الزامات کو جنم دیتا ہے۔جسٹس یادو کے بیانات بھارت کے آئینی اصولوں، جیسے کہ مذہبی آزادی، سیکولرازم، اور عدلیہ کی غیر جانبداری، کے خلاف ہیں۔ یہ بیانات نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بھارت کی جمہوری اور سماجی ہم آہنگی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ عدلیہ کی عزت اور غیر جانبداری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بیانات کی سخت مذمت کی جائے اور عدالتی ذمہ داریوں کو سیاست اور تعصب سے پاک رکھا جائے۔

جسٹس شیکھر یادو کے متعصبانہ بیانات نے بھارت کی عدلیہ کی غیر جانبداری اور انصاف پسندی کے اصولوں پر ایک سنگین سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ ہندو پریشد جیسی تنظیم کے سیمینار میں ان کا کھل کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بات کرنا ان کے ذہن میں موجود گہری مذہبی عصبیت اور تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح کی سوچ رکھنے والا شخص، جو کھلے عام ایک مذہبی برادری کے خلاف نفرت کا اظہار کرتا ہو، عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر غیر جانبداری سے انصاف فراہم کرنے کا اہل کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ بیان نہ صرف بھارتی مسلمانوں کو ذہنی اذیت پہنچاتا ہے بلکہ ان سیکولر ہندوؤں اور فرقہ وارانہ یکجہتی کے حامی افراد کو بھی جھنجھوڑ دیتا ہے، جو بھارت کو ایک پرامن اور ترقی یافتہ ملک دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیکولر طبقے اور مختلف تنظیموں کی جانب سے جسٹس شیکھر یادو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے، لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے کہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جائے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ بھارت کے موجودہ سیاسی اور سماجی ماحول میں ایسے افراد، جو مذہبی نفرت کو ہوا دیتے ہیں، اکثر محفوظ رہتے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتوں میں مایوسی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ دو تین سال پہلے دہرہ دون میں مسلمانوں کے قتل کا کھلے عام مطالبہ کرنے والوں کو آج تک کسی قسم کی سزا نہیں ملی۔ اسی طرح، پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے اور حکومت سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ 

جسٹس شیکھر یادو کے خلاف کارروائی نہ ہونے کا امکان اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ پر سیاسی دباؤ کس قدر غالب ہے۔ اس طرح کے رویے ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی غیر جانبداری کے اصول کو کمزور کرتے ہیں۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اس وقت ممکن ہوگا جب قانون سب کے لیے برابر ہو اور اس کا اطلاق بلا تفریق کیا جائے۔ یہ افسوسناک ہے کہ بھارت کے موجودہ منظر نامے میں نفرت انگیز بیانات دینے والوں کو نہ صرف چھوٹ دی جاتی ہے بلکہ وہ مزید حوصلہ افزائی محسوس کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں بھارت کے تمام سیکولر ذہنوں اور انصاف پسند افراد کو متحد ہو کر اس رویے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، تاکہ ملک میں مساوات، انصاف اور بھائی چارے کے اصولوں کو زندہ رکھا جا سکے۔

تحریر: محمد فداء ا لمصطفیٰ قادریؔ

رابطہ نمبر:9037099731

 ڈگری اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی،ملاپورم،کیرالا 






تبصرے