فرقہ ورانہ تشدد کازہر تعلیمی اداروں میں بھی پھیل رہا ہے۔
تعلیمی اداروں میں
بڑھتے ہوئے تشدد کا مسئلہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک اہم اور نازک معاملہ بن چکا ہے۔
ان اداروں کو ہمیشہ سے علم، شعور اور تربیت کے گہوارے کے طور پر جانا جاتا ہے،
لیکن حالیہ دنوں میں یہاں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات نے اس مقدس فضا کو ناپاک
کر دیاہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف طلبہ کی ذہنی و جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے بلکہ
اس سے پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ اس مسئلے کی کئی وجوہات ہیں۔
اول، تعلیمی اداروں میں سیاسی اثرات کی وجہ سے طلبہ کے درمیان نفرت اور عدم برداشت
بڑھ رہی ہے۔ طلبہ یونین پر پابندی نے نوجوانوں کو اپنے خیالات اور جذبات کے اظہار
سے روک دیا ہے، جس سے مایوسی اور غصے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ دوم، اساتذہ کی جانب
سے بچوں پر سخت رویہ اپنانا، جسمانی سزا دینا اور نفسیاتی دباؤ ڈالنا ایک عام رویہ
بن چکا ہے، جو طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کی خود اعتمادی کو بھی
نقصان پہنچاتا ہے۔
خواتین طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ ہراسمنٹ
کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں، جنہوں نے تعلیمی اداروں کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ ان
تمام عوامل نے طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں کو ایک محفوظ مقام کے بجائے خوف کی جگہ
بنا دیا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں سخت قوانین
بنائے جائیں اور ان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ اساتذہ سے زیادہ طلبہ کی تربیت کا
خصوصی اہتمام کیا جائے تاکہ وہ اساتذہ کے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اور ان
کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں۔ طلبہ یونین کی بحالی سے طلبہ کو اپنے خیالات کا
اظہار کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنی توانائیاں مثبت انداز میں استعمال کر سکیں
گے۔تعلیمی اداروں میں امن اور سکون بحال کرنے کے لیے حکومت، والدین، اساتذہ، اور
سماجی اداروں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ مسئلہ محض تعلیم کا نہیں
بلکہ ہماری نئی نسل کی تعمیر اور ایک باشعور معاشرے کی تشکیل کا بھی ہے۔ اگر ہم نے
فوری طور پر اس جانب توجہ نہ دی تو اس کے اثرات ہماری آئندہ نسلوں تک جائیں گے۔
آندھرا پردیش کے ضلع راچوتی میں پیش آنے
والا ایک افسوسناک واقعہ پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں طلباء نے اپنے ہی
استاد، اعجاز احمد کو شدید تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ واقعہ
اُس وقت پیش آیا جب استاداعجاز احمد نے اپنے طلباء کو کلاس روم میں شور شرابہ کرنے
سے روکا۔ استاد کی اس حرکت پر بعض طلباء برہم ہو گئے اور انہوں نے استاد پر حملہ
کر دیا۔ تشدد کا یہ سلسلہ اتنا شدید تھا کہ اعجاز احمد کو بے دردی سے پیٹا گیا، جس
کے نتیجے میں ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ چند گھنٹوں بعد چل بسے(انا للہ و انا لیہ
راجعون)۔مقامی ذرائع کے مطابق،اعجاز احمد کی بیوی نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر
کی موت دل کے دورے سے نہیں ہوئی، بلکہ انہیں جسمانی طور پر پیٹ پیٹ کر مارا گیا
ہے۔ ان کے جسم پر مار کے نشانات موجود تھے، جو اس بات کا غماز ہیں کہ وہ شدید تشدد
کا شکار ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، راچوتی کی تعلیمی تنظیموں اور مقامی اساتذہ نے
احتجاج کا آغاز کیا اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ اساتذہ کی حفاظت کے لئے فوری
اقدامات کیے جائیں۔
اس واقعے نے نہ صرف مقامی تعلیمی اداروں
میں تشویش پیدا کی بلکہ پورے ملک میں اساتذہ کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا
آغاز کیا ہے۔ اسکولوں میں طلباء کی جانب سے اس نوعیت کی زیادتی کی روک تھام کے لیے
سخت قوانین کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ تنظیموں نے اس کے
خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کو ان کے کام کے دوران
تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے
جائیں۔اس اندوہناک واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ تعلیمی اداروں میں تشدد اور عدم
برداشت کے ماحول کا اثر طلباء اور اساتذہ دونوں پر پڑ رہا ہے، اور اس بات کی ضرورت
ہے کہ اساتذہ کو محفوظ ماحول میں کام کرنے کا حق دیا۔ یہ المناک واقعہ
تعلیمی اداروں پر ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے بگڑتے اخلاقی نظام پر سوالیہ نشان
ہے۔
1. طلبہ میں اس قدر
غصہ اور تشدد کی ذہنیت کیسے پروان چڑھ رہی ہے؟
2. کیا اسکولز میں
اساتذوں کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
3. والدین اور تعلیمی
ادارے طلبہ کی تربیت اور اخلاقیات پر کتنا زور دے رہے ہیں؟
متوفی کی بیوی رحیم النساء نے پولیس میں
شکایت درج کرائی ہے، اور اس واقعہ پر تفتیش جاری ہے۔ تاہم، اس سانحے کا ایک اہم
سبق یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور اخلاقی تربیت کو بہتر بنانے کے لیے
فوری اقدامات کیے جائیں۔ حکومت اور اسکول انتظامیہ کو اساتذہ کے تحفظ کے لیے مضبوط
پالیسیز اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے المیہ سے بچا جا سکے۔ محمد اعجاز کی
موت ایک یاد دہانی ہے کہ استاد کا مقام معاشرے میں بلند ہونا چاہیے، اور ان کے
ساتھ ایسا سلوک ہرگز ناقابل قبول ہے۔ اس واقعے پر غور کرنا اور عملی اقدامات
اٹھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
آج کے طلباء و نوجوانوں میں اخلاقی گراوٹ
اس قدر سراعت کر گئی ہے کہ وہ اپنے حقیقی والدین کو بھی معمولی وجہ پر زدو کوب
کرنے اور مارنے یا قتل جیسے گھناؤنا کام بھی کر گزر رہے ہیں۔اور استاد جو انھیں
غلط کاموں پر ٹونکتے ہیں ایسے اساتذہ ان کے لیے دشمن ہے۔ اس لئے وہ
استاد کو مارنے، بے عزتی کرنے اور قتل جیسے کام کو بھی کرنے سے نہیں ڈر رہے ہیں۔
مستقبل قریب میں ایسے مزید واقعات رو نما ہوسکتے ہیں اس کے تدراک کے لیے، تعلیمی
اداروں میں اخلاقی لیکچرس، علماء کے خطاب،کونسلنگ، نیز دینی و اخلاقی سرگرمیوں کا
انعقاد وغیرہ کے علاوہ اخلاقی بہتری کے لیے ضروری اقدامات لازمی ہے۔
۱) طلبہ میں غصہ اور تشدد
کی ذہنیت پروان چڑھنے کی وجہ یہ کہ ہم نے”پاپا کی پری“ تو سنا ہے لیکن”ماں کا
سانڈھ“نہیں سنا مائیں پوٹّوں کو سانڈھ بنا رہی ہے اور اسکے عیبوں پر اور گناہوں پر
پردہ ڈال کر باپ کو بھی گمراہ کر رہی ہے۔ استاد سے پہلے پوٹّا باپ پر چڑھ رہا ہے
وجہ ہے بے جا لاڈ،ضرورت سے زیادہ پاکیٹ منی اور موبائل پہلے مائیں آٹھ آٹھ دس دس
بچے جنتی تھی تب لاڈ نہیں تھا آج ایک ہی پوٹّا ہے اس لئے ماں لاڈ میں اسے بگاڑ رہی
ہے اسکول سے پوٹّے کی کوئی شکایت آئے ماں چھپاتی ہے اور باپ کے کان بھرتی ہے،
پوٹّے کو معصوم دکھاتی ہے اور ٹیچرس کو ظالم دکھاتی ہے بعد میں باپ ان سانڈوں کو
جیل سے ضمانتیں کراتے پھرتا ہے یہ میں بحیثیتِ طالبِ علم اپنا تجربہ بیان کر
رہا ہوں ا گر کسی کو اچھا نہ لگے تو معافی چاہتا ہوں۔ ۲) اب حکومت نے ٹیچرس کو کلاس روم میں جاتے وقت دو بندوق دھاری باڈی گارڈ دینے
چاہئے کیا؟۔ ۳) اخلاقی تعلیم کی پہلی درس گاہ ماں کی گود
ہوتی ہے اس کا اپنا گھر ہوتا ہے، گھر کے بزرگوں سے اخلاق سیکھے جاتے ہیں جس کے لئے
جوائنٹ فیمیلی میں رہنا ہوتا ہے۔آج سب الگ رہنا پسند کرتے ہیں اور نسلوں کو تباہ
کرتے ہیں۔اللہ اعجاز سر کی مغفرت فرمائیں اور انہیں جنت میں عالی مقام عطا فرمائیں
اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں۔ آمین بجاہِ سید المرسلین.
تحریر:محمد فداء المصطفیٰ گیاوی ؔ
رابطہ نمبر:9037099731
ڈگری اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی،ملاپورم،کیرالا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں