الاسد خاندان کے اقتدار کا بالآخر خاتمہ ہو ہی گیا۔۔
ملک شام میں نصف صدی تک ظلم و استبداد کی علامت بنے الاسد خاندان کے اقتدار کا بالآخر خاتمہ ہو گیا، اور بشار الاسد اپنے اہل خانہ کے ساتھ ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ یہ وہی لمحہ تھا جب شام کی اپوزیشن جماعت نے دمشق پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا۔ بشار الاسد کے ملک سے نکلنے کی خبر نے شام کے سیاسی حالات کو ایک نیا رخ دیا۔ قملکاروں کی ایک رپورٹ کے مطابق، بشار الاسد کا طیارہ دمشق سے پرواز کرنے کے بعد شام کے ساحلی علاقوں کی طرف گیا، جو ان کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے، مگر چند ہی لمحوں بعداس طیارہ نے یوٹرن لیا اور پھر ریڈار سے غائب ہو گیا۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے طیارہ فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہو اور بشار الاسد کا انجام ان کے ظالمانہ دور کی تصویر بن چکا ہو۔
2011 میں عرب بہاریہ کی تحریک کے دوران شام کے عوام نے بشار الاسد کے مظالم کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا۔ ان مظاہروں کا مقصد عوام کو آزادی دلانا اور ان کے وقار کو بحال کرنا تھا، لیکن یہ جدوجہد تیرہ برسوں تک خونریزی، تباہی اور بے شمار مظالم کا شکار رہی۔ ان برسوں میں شام کے عوام نے ظلم، قحط، بے گھر ہونے اور جان لیوا حملوں کے خوفناک مشکلات جھیلے، جن پریشانیوں نے نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ بشار الاسد کے خاتمے کی خبر ان لاکھوں افراد کے لیے ایک امید کی کرن بن سکتی ہے جو آزادی کا خواب دیکھے تھے۔ یہ واقعہ پوری دنیا کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ ظلم کی عمر زیادہ طویل نہیں ہوتی اور عوامی طاقت ہر جابر حکمران کو جھکا سکتی ہے۔ شام کے عوام کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ آزادی کے لیے دی گئی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔
بشار الاسد نے اپنے 24 سالہ دورِ حکومت میں عوامی فلاح و بہبود کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ ان کی حکومت کا محور نہ عوام کی مرضی تھی، نہ فکری آزادی، نہ معاشی ترقی اور نہ سماجی ہم آہنگی۔ بلکہ، وہ ایک محدود گروہ اپنے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے ساتھ مل کر پورے ملک کو یرغمال بنائے ہوئے تھے۔ ان کی آمرانہ پالیسیوں نے شام کو آہنی گرفت میں جکڑ رکھا تھا۔2011 میں جب عرب بہاریہ کی لہریں شام تک پہنچیں اور عوام نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی تو بشار الاسد نے اپنے اقتدار کے دفاع کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جو اکثر ڈکٹیٹرز اپناتے ہیں: ظلم و جبر۔ عوام کا مطالبہ تھا کہ بشار اقتدار چھوڑ دیں، لیکن بجائے اس کے کہ وہ عوامی خواہشات کو سمجھتے، انہوں نے احتجاج کو طاقت سے دبانے کا فیصلہ کیا۔ مظاہرین پر بے دریغ گولیاں برسائی گئیں، انہیں جانوروں کی طرح گھسیٹ کر جیلوں میں ڈالا گیا، اور ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جو کسی بھی انسانی اور شہری حق کی کھلی توہین تھی۔ شامی جیلیں بشار الاسد کے مظالم کا مرکز بن گئیں، جہاں ٹارچر اور تعذیب کے ایسے ایسے ظالمانہ طریقے اپنائے گئے کہ انسانی روح کانپ اٹھے۔ نہتے قیدیوں کو ایسی اذیتوں سے گزارا گیا جو ناقابلِ بیان اور ناقابلِ تصور تھیں۔ ان جیلوں میں کتنی ہی معصوم زندگیاں ختم ہو گئیں، اور ان مظالم نے نہ صرف شام بلکہ دنیا بھر میں انسانیت کو شرمسار کر دیا۔ بشار الاسد کی آمریت کا یہ سیاہ باب دنیا کے لیے ایک تلخ سبق ہے کہ اقتدار کی ہوس اور ظلم کبھی پائیدار نہیں ہوتی۔
جب بشار الاسد کے مظالم کے خلاف عوامی احتجاجات اور مظاہرے بے اثر ثابت ہوئے، اور اس کے جابرانہ رویے میں کسی قسم کی نرمی کے بجائے مزید شدت آتی گئی، تو شام میں مسلح بغاوت کا آغاز ہوا۔ اس بغاوت نے کئی عسکری گروہوں کو جنم دیا، جن میں سب سے نمایاں نام جماعت النصرہ کا تھا۔ یہ جماعت ابتدا میں القاعدہ سے منسلک تھی، اور اسے شام کے اندر ایک بڑی قوت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تاہم، شام اور عراق کے افق پر جب داعش کی صورت میں دہشت گردی کا ایک نیا چہرہ نمودار ہوا، تو جماعت النصرہ نے اس سے اپنی مکمل علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد، 2016 میں، اس جماعت نے القاعدہ سے بھی اپنی وابستگی ختم کر لی۔ یہ اقدام اس کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت تھی، جس کا مقصد خود کو ایک آزاد اور شامی مزاحمتی تحریک کے طور پر پیش کرنا تھا۔ جماعت النصرہ نے وقتاً فوقتاً مختلف ناموں کا سفر طے کیا، اور آخر کار تحریر الشام کے نام سے اپنی شناخت بنائی۔ آج یہ جماعت شام کے اندر مسلح مزاحمت کرنے والی مختلف گروہوں کی قیادت کر رہی ہے۔ اس کی حکمت عملی اور مقاصد کا محور شام کے عوام کو بشار الاسد کی آمرانہ حکومت سے نجات دلانا اور اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں اپنا کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔
تحریر الشام کی تاریخ نہ صرف شام کی خانہ جنگی کے پیچیدہ پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ شام میں جاری جدوجہد محض حکومتی جبر کے خلاف نہیں، بلکہ مختلف مسلح گروہوں کے درمیان طاقت کی کشمکش کا بھی عکاس ہے۔ شام میں جاری مزاحمتی تحریکوں کو کچلنے اور اپنی استبدادی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے بشار الاسد نے 2013 اور 2014 کے دوران روس سے مدد طلب کی۔ روس کی آمد کے بعد شام کی سرزمین پر ایک نئے اور تباہ کن قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوا۔ روسی فضائی حملے اس قدر بے رحمانہ اور وسیع پیمانے پر کیے گئے کہ مشرقِ وسطیٰ نے کئی دہائیوں کے بعد ایسی ہولناک تباہی کا مشاہدہ کیا۔ان حملوں میں بشار الاسد کی حکومت پر یہ الزام عائد ہوا کہ انہوں نے ممنوعہ ہتھیار، خصوصاً فاسفورس بموں، کا استعمال کیا، جو جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ ان ہتھیاروں نے بے شمار انسانی زندگیوں کو راکھ میں بدل دیا، اور ان حملوں کی بربریت کے نتیجے میں شہریوں کے جسم جل کر خاکستر ہوگئے یا موم کی طرح پگھل گئے۔ اس کے علاوہ، کیمیاوی ہتھیاروں کی دوسری خطرناک اقسام کے استعمال کی بھی رپورٹس آئیں، جنہوں نے شام کے عوام پر زندگی کے تمام راستے بند کر دیے۔ روس کے علاوہ، بشار الاسد کو ایران اور اس کی حلیف جماعت حزب اللہ کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ ایران اور حزب اللہ نے شام کی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا، کیونکہ ان کی مداخلت نے فرقہ واریت کو شدید ہوا دی۔ فرقہ وارانہ عصبیت کے بدترین مظاہرے دیکھنے میں آئے، جنہوں نے شام کی خانہ جنگی کو نہ صرف طول دیا بلکہ اس کے نتائج کو بھی زیادہ خونی اور تباہ کن بنا دیا۔
یہ تمام مظالم اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہ صرف شام کی عوام کے لیے ناقابلِ برداشت تھے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا تھا۔ بشار الاسد کی یہ حکمت عملی ایک واضح پیغام تھی کہ وہ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، چاہے اس کی قیمت لاکھوں معصوم جانوں کی تباہی ہی کیوں نہ ہو۔ ایران اور حزب اللہ پر یہ سنگین الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے شام کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے میں منفی اور فرقہ وارانہ کردار ادا کیا۔ سنی اکثریتی علاقوں سے زبردستی لوگوں کو بے دخل کیا گیا اور وہاں شیعہ آبادی کو بسانے کی منظم کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ، ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ بعض سنی بچوں کو شیعہ عقائد اور نظریات کے مطابق تربیت دینے کی کوشش کی گئی تاکہ آنے والی نسلوں کی سوچ میں تبدیلی لائی جا سکے۔
ان تمام ہتھکنڈوں اور حربوں کے ذریعے بشار الاسد نے اپنی حکومت کو وقتی طور پر قائم رکھنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن اس کا خمیازہ شامی عوام کو ناقابلِ تصور نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق شام میں 5 سے 16 لاکھ افراد اس تنازعہ کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو کر مہاجر کیمپوں اور بیرونی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ترکی، لبنان، اور اردن کے علاوہ بڑی تعداد میں شامی باشندے یورپی ممالک میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ترکی میں آج بھی 30 لاکھ سے زائد شامی پناہ گزین انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جن کی زندگی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے۔ شام کی تباہی اس قدر وسیع اور شدید ہے کہ اس کی تعمیر نو کے لیے بے تحاشہ سرمایہ اور کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔
یہ خانہ جنگی نہ صرف شام کے عوام کے لیے ایک المیہ ثابت ہوئی بلکہ یہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن گئی۔ شام کی یہ تباہی دنیا کے لیے ایک سبق ہے کہ استبداد اور فرقہ واریت کا انجام ہمیشہ بربادی ہی ہوتا ہے۔ شام کے بحران کو حل کرنے کی کوششیں ابتداء میں کئی محاذوں پر کی گئیں، لیکن وہ اپنی اثر انگیزی ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔ بشار الاسد پر دباؤ ڈالنے کے لیے عرب لیگ نے نہ صرف شام کی رکنیت ختم کر دی بلکہ تمام عرب ممالک نے بھی اسے سیاسی طور پر تنہا کر دیا۔ بشار الاسد ایک اچھوت کی طرح عرب دنیا سے کٹ کر رہ گئے، لیکن اس کا کوئی بڑا اثر ان کی حکومت پر نہ پڑا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایران اور حزب اللہ کی مسلسل حمایت تھی، جو ان کے لیے ایک مضبوط سہارا بنے رہے۔ اس کے علاوہ، روسی فوج اور کرائے کے جنگجوؤں نے بشار الاسد کی حکومت کو مزید مستحکم کر دیا۔
شام میں جاری خانہ جنگی کے واقعات کا سب سے زیادہ اثر ترکی پر ہوا، کیونکہ شام اور ترکی نہ صرف ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ شام میں موجود مسلح کرد جماعت ”پی کے کے“ ترکی کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی تھی۔ یہ جماعت ایک آزاد کرد ریاست کے قیام کی خواہاں تھی، جس نے ترکی کی سیاسی اور جغرافیائی سالمیت کو چیلنج کیا۔ ان حالات میں ترکی نے شام کے مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور شامی اپوزیشن جماعتوں کو بھرپور تعاون فراہم کیا۔ جب جنگ کی شدت کچھ کم ہوئی تو 2017 کے بعد شام کے مسئلے کے سیاسی حل کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ روس، ایران، اور ترکی نے مل کر ”آستانہ معاہدہ“ کے ذریعے شام میں امن قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت تھا، جس میں فریقین نے شام میں جنگ بندی کے زونز قائم کرنے اور سیاسی مکالمے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ تاہم، یہ کوششیں بھی شام کے بحران کو مکمل طور پر حل کرنے میں ناکام رہیں، کیونکہ میدان میں موجود مختلف فریقین کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے۔
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے کئی بار کوششیں کی گئیں، لیکن وہ اپنی ضد اور استبدادی رویے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوئے۔ ترکی میں مقیم شامی پناہ گزینوں کو واپس ان کے گھروں میں آباد کرنے اور انہیں سماجی نظام میں ضم کرنے کے لیے جو تجاویز پیش کی گئیں، بشار الاسد نے انہیں بھی نظرانداز کر دیا۔ اس ضد نے شام کے مسئلے کو ایک جمود کی کیفیت میں دھکیل دیا، جہاں نہ کوئی پیش رفت ہو رہی تھی اور نہ کوئی حل نکل رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ تعطل کئی برسوں تک برقرار رہے گا۔ تاہم، گزشتہ دس دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق تھا کہ جب 27 نومبر کو امریکہ اور فرانس کی کوششوں سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہو رہا تھا، ٹھیک اسی وقت شام کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ادلب اور حلب پر قبضے کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ حیرت انگیز طور پر، انتہائی مختصر مدت میں، حیہ تحریر الشام کی قیادت میں مزاحمتی جماعتوں نے ادلب، حلب، درعا، اور دمشق تک کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
یہ موقع ان کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوا، کیونکہ بشار الاسد کے حامی قوتیں اس وقت شدید دباؤ میں تھیں۔ مزاحمتی گروہوں نے اپنی حکمت عملی کو انتہائی منظم انداز میں نافذ کیا اور چند ہی دنوں میں شام کے بڑے علاقوں پر اپنا قبضہ مضبوط کر لیا۔ یہ واقعات نہ صرف شامی عوام کے لیے امید کی کرن بنے بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی ایک نیا موڑ ثابت ہوئے، جو برسوں سے اس بحران کا کوئی حل تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔ حزب اللہ کی حالت اس قدر کمزور ہو چکی تھی کہ اسرائیل کی مسلسل کارروائیوں کے بعد شام میں واپس آ کر بشار الاسد کو سہارا دینا اس کے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ ایران کے لیے صورت حال مزید پیچیدہ تھی۔ ایک جانب وہ مسجد اقصیٰ کے دفاع اور فلسطین کی آزادی کی حمایت کے دعوے کر رہا تھا، تو دوسری جانب بشار الاسد کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا اس کے لیے ایک بڑی سیاسی آزمائش بن چکا تھا۔ ایران کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ بشار کی حمایت جاری رکھ کر وہ سنی دنیا میں اپنی پہلے سے خراب ہوتی ہوئی ساکھ کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔
مسئلہ فلسطین اور حماس کی حمایت نے ایران کو سنی دنیا میں اپنی شبیہ بہتر بنانے کا ایک نادر موقع فراہم کیا تھا، اور وہ اسے کسی صورت ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بشار الاسد کی حمایت جاری رکھنے کی گنجائش ایران کے لیے محدود ہوتی جا رہی تھی۔ دوسری جانب روس بھی اپنے مسائل میں گِھرا ہوا تھا۔ یوکرین کی جنگ نے روس کو نہ صرف معاشی طور پر کمزور کر دیا بلکہ اسے اپنی عسکری طاقت کا بڑا حصہ اس تنازع میں جھونکنا پڑا۔ ایسی صورت میں بشار الاسد کو بچانا روس کے لیے بھی ایک ناقابلِ عمل کام بن گیا تھا۔ بشار الاسد کے زوال کے بعد سب سے بڑا نقصان خود ایران اور روس کو ہوا ہے۔ بشار کی آمریت نے روس کو خطے میں پہلی بار اپنے قدم جمانے کا موقع فراہم کیا تھا، اور شام میں روسی فوجی اڈے اس کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی کا ثبوت تھے۔ لیکن بشار کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ سب امکانات ختم ہو گئے۔ ایران کو بھی بشار کی وجہ سے خطے میں اپنی فرقہ وارانہ حکمت عملی کو مضبوط کرنے کا موقع ملا تھا، جو اب بے اثر ہو چکا ہے۔ اس تمام تر سیاسی منظرنامے نے واضح کر دیا ہے کہ بشار الاسد کے زوال سے نہ صرف شام کے عوام نے سکون کا سانس لیا، بلکہ خطے کی سیاست میں بھی ایک نیا باب رقم ہو چکا ہے۔ عرب دنیا میں ایران کے توسیعی منصوبے کے لیے بشار الاسد کا وجود نہایت اہمیت کا حامل تھا، لیکن اب اس کے زوال کے بعد ایران کی پیش قدمی پر یقینی طور پر روک لگ جائے گی۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، بشار الاسد کے خاتمے سے اسے سکون ملے گا کیونکہ اس کے نتیجے میں ایران کے اثر و رسوخ میں واضح کمی آئے گی۔ تاہم، بشار کے بعد اگر اسلام پسند قوتیں اقتدار میں آتی ہیں، تو اسرائیل کے لیے نئی مشکلات جنم لے سکتی ہیں۔
امریکہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکے، لیکن شام کے مسئلے پر امریکہ کا کردار ابتدا سے ہی انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر باراک اوباما کی حکومت نے بروقت اور مؤثر مداخلت کی ہوتی، تو شام کی خانہ جنگی کو شاید آسانی سے روکا جا سکتا تھا۔ افسوس کہ یہ موقع ضائع کر دیا گیا، اور شام ایک تباہ حال ریاست میں تبدیل ہو گیا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ بشار الاسد کے زوال کے بعد شام کا مستقبل کیا ہوگا؟ اپوزیشن جماعتوں کا حقیقی امتحان یہ ہے کہ وہ شام کو کس سمت میں لے کر جاتے ہیں۔ شام اس وقت عالمی طاقتوں کے مفادات کی آماجگاہ بن چکا ہے، جہاں مختلف نظریات اور مقاصد رکھنے والی جماعتیں سرگرم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عدم استحکام کے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔شام کی تعمیر نو ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے مغربی ممالک اور امریکہ کی مالی مدد ناگزیر ہوگی۔ اس موقع پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ شام کو مضبوط جمہوری اصولوں کی بنیاد پر کھڑا کیا جائے۔ عوام کو حقِ رائے دہی کا مکمل اختیار دیا جائے تاکہ وہ اپنے نمائندے خود منتخب کر سکیں، اور سیاسی بحران کی صورت میں بغیر خونریزی کے حکومت کی تبدیلی ممکن ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ماضی کی تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا کی مثال کو اپنانا ایک بہترین قدم ہوگا۔ مفاہمت اور ہم آہنگی کی پالیسی کے ذریعے شام کے عوام کو ایک نیا اور روشن مستقبل دیا جا سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ شام کی بکھری ہوئی ریاست کو ایک مضبوط، مستحکم اور جمہوری معاشرے میں تبدیل کیا جائے۔
عالمی قوتوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس عبوری دور میں اپوزیشن جماعتوں کو دہشت گرد کے طور پر دیکھنا بند کریں۔ حالیہ دنوں میں جدیدہ تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے جب اپنا اصلی نام احمد الشرع دنیا کے سامنے پیش کیا، تو یہ ایک واضح پیغام تھا کہ وہ نئے دور میں بھی موجود ہیں اور اپنی حکمت عملی کو بدل کر ملک میں امن و سکون کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ ابو محمد الجولانی نے جس طریقے سے گزشتہ چند دنوں میں شام کو خونریزی سے بچایا ہے اور جس گرم جوشی سے عوام نے ہر جگہ ان کا استقبال کیا ہے، اس سے یہ واضح ہے کہ شام میں ایک نیا دور آ رہا ہے۔ عوام کی حمایت اور جرات مندی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوریت اور امن کے قیام کے لئے زمین ہموار ہو رہی ہے۔
جمہوریت کے علمبردار ممالک کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپوزیشن کی اس کامیابی کو ناکامی میں نہ بدلیں، بلکہ ان کی کوششوں کو سراہیں اور ایک مضبوط، آزاد اور جمہوری شام کے قیام میں مدد فراہم کریں۔ اگر عالمی قوتیں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر شام میں امن و استحکام کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کرتی ہیں، تو یہ نہ صرف شام کے عوام کے لیے، بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہوگا۔
تحریر:محمد فداء ا لمصطفیٰ قادریؔ
رابطہ نمبر:9037099731
ڈگری اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی،ملاپورم،کیرالا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں