نماز رمضان المبارک کے بعد بھی فرض ہے!
اللہ رب العزت کی عطا کردہ مبارک مہینوں میں سے ہمیں رمضان المبارک کا عظیم
ترین اور مقدس مہینہ ملاتھا اور ہم نماز، تلاوتِ قرآن، تسبیح و تہلیل اور تراویح جیسی
عظیم نعمتوں میں غوطہ زن تھے اور رب ذوالجلال کی رحمت سے سرشار ہو رہے تھے۔ ہم اس
ماہ ِمبارک میں بیشمار اچھے کام سرانجام دیئے۔ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور محتاج
مند لوگوں کی ہم نے مدد بھی کی۔ آپس میں ہم سب شفقت و محبت سے مل رہے تھے، چھوٹے
حضرات بڑے کا احترام کر رہے تھے،بڑے چھوٹوں پر شفقت کر رہے تھے،شوہر اپنی بیوی
کااور بیوی اور اپنے شوہر کا احترام کر رہی تھی،والدین اپنے بچوں کا اور بچیں اپنی
والدین کی عزت کر رہے تھے،اساتذہ اپنے تلامذہ کا اور تلامذہ اپنے اساتذہ کا احترم
کر رہے تھے،محلے کے حضرات اپنے امام کا اور امام اپنے محلے کے لوگوں کا احترام کر
رہاتھاگویا ہر سمت بس خوشیوں کا ہی سماں تھا، لوگ بہت ہی زیادہ خوش نظر آ رہے تھے،
عبادت ذوق و شوق سے کی جا رہی تھی، قرآن مجید کی تلاوت بہت بہتر انداز میں ہو رہی
تھی، مسجدیں آباد ہو رہی تھی یہاں تک کہ ہمارے دل منور ہو رہے تھے۔ اور ساتھ ہی
ساتھ ہم نے اس مبارک مہینے میں بہت سے اچھے کام کرکے ذخیرہ آخرت جمع کر چکے تھے لیکن
مجھے بہت افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ جیسے ہی ہمارے
سروں سے گزرا ہے ہم نماز سے بہت زیادہ غافل ہوچکے ہیں اور تلاوتِ قرآن چھوڑ چکے ہیں
افسوس صد افسوس۔
اگر میں ایک جملے میں کہوں تو یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمارے لیے باعث
نجات ثابت ہوا تھا ہوا ہے اور ہوگا۔ ساری خطاؤں سے نجات پانے کا اہم ترین سرمایہ
ہے اور ہم نے الحمدللہ بہت اچھے کام انجام دیے جس سے ہمارے گھروں میں برکتیں تو آتی
ہی رہی ساتھ ہی ساتھ ہمارے پڑوسیوں، دوست و احباب، اپنے رشتہ دار و اقارب اور تمام
لوگوں کے گھروں میں بھی اللہ کی رحمت نازل ہوتی رہی مگر میرے دوستوں اور عزیزوں کیا
یہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا، نماز باجماعت پانچ وقتہ خشوع و خضوع سے پڑھنا اور
مخلصانہ انداز میں بیس رکعات تراویح کی نماز ادا کرنا یہ فقط رمضان المبارک کے مہینے
کی لیے ہی تھا؟ کیا مسلمانوں کے لیے رمضان مبارک کے بعد نماز فرض نہیں ہے؟ کیا
رمضان کے بعد نیک کام کرنے کی اجازت نہیں ہے؟ کیا مسجدوں میں پانچ وقتہ نماز
باجماعت ادا کرنا صرف رمضان میں فرض ہے؟ میرے دوستوں اور عزیزوں آخر ایسا کیوں؟ کیا
اللہ تعالی نے آپ سبھی کے دلوں میں ایمان جیسی عظیم نعمت نہ عطا کی؟کیاربِ
ذوالجلال نے تمہارے گناہوں کو معاف نہیں کیا؟ کیا تمہارے گھروں میں خیرو برکت کا
نزول نہیں ہوا؟ کیا تمہارے رزق میں وسعت نہیں ہوئی؟ یقینا رمضان المبارک کے مہینے
میں ہمیں ساری چیزیں میسر ہوتی ہے اور ہم خوشی خوشی اپنی زندگی گزار تے ہیں مگر
رمضان کے بعد ہم نماز،روزہ،اور زکاۃ کو کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیوں ہم قرآن کی تلاوت
نہیں کرتے ہیں؟ اور کیا ہم رمضانی مسلمان ہیں؟ ان سارے سوالوں کا جواب آپ کو خود
بنفسہ دینا ہے۔ وقت ملے تو میرے ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں یقینا آپ
کی دنیا بدل جائیگی۔
۔ہم
مسلمان رمضان المبارک کے بعد نماز سے غفلت برتتے ہیں، قرآن کی تلاوت نہیں کرتے ہیں،
فقیروں اور مسکینوں کی مدد نہیں کرتے ہیں اوربس اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل میں
لگ جاتے ہیں۔ خدارا ایسا نہ کریں مسجد آباد کریں قرآن کریم کی تلاوت سے گھروں کو
آباد کریں اور اپنے دلوں کو منور کریں تاکہ آپ یہاں بھی کامیاب اور وہاں بھی کامیاب
ہوں۔
میں چشم دیدہ آنکھوں سے دیکھا ہوا حال بیان کر رہا ہوں کہ عید الفطر کی
نماز کے وقت تمام مسجدوں میں لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا کئی مسجدوں میں دو عید
الفطر کی نماز ادا کی گئی حتی کہ ایک مسجد میں تو میں نے خود الفطر کی نماز پڑھائی
مگر جیسے ہی رمضان مبارک کا مہینہ گزرا مسجدوں سے نمازیوں کی تعداد بالکل گھٹ گئی
ہے، مسجدوں کی رونقیں ختم ہوگی ہے، قرآن کریم کی تلاوت بند ہو گئی ہے، لوگ پھر سے
وہی ضلالت و گمراہی کے راستے پر گامزن ہو گئے ہیں، تمام نیک امور کا ارتکاب کر لئے
ہیں، برے کاموں میں ملوث ہوگئے ہیں حتیٰ کہ شیطان ہمارے اوپر غالب آگیا۔ میرے
دوستوں کیا یہ ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم اپنی پاکیزہ دین مذہب اسلام کی بے حرمتی کریں؟
اور دین اسلام کی مقدس پیغامات کی بے حرمتی کی جائے؟نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہمیں چاہیے
کہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے رمضان المبارک کے بعد تو اور بھی زیادہ ذوق و شوق
سے عبادت کریں، مسجدوں کو آباد تو بالاولیٰ کریں، لوگوں سے باہمی ملاقات کریں،
لوگوں سے حسن اخلاق کے ساتھ تو ملیں تب جا کر ہمارا ایمان مکمل ہوگا، تب ہم مسلمان
کہلانے کے لائق ہوں گے اور تب ہمارا ایمان حقیقی معنوں میں مکمل ہوگا۔
نماز صرف رمضان المبارک میں ہی فرض نہیں بلکہ اس کے علاوہ سال کے پورے مہینے
میں بلانا گا اپنے مقررہ وقت میں فرض ہے۔ تمام اہل اسلام کے ماننے والوں کے لئے
نماز فرض قرار دی گئی ہے۔ اس پاکیزہ دین کے ماننے والوں کو نماز پر پابندی کرنی ہی
چاہیے تاکہ اپنے مذہب کو بلند و بالا کر سکیں اور پیغامِ محمدی صلی اللہ وسلم کو
پوری دنیامیں عام کر سکیں۔ تو دوستوں آخر یہ ہوگا کیسے؟ میرے بھائیو یہ سب تب ہی
ممکن ہوگا جب ہم نماز پر پابندی کریں گے، لوگوں سے حسن اخلاق سے ملیں گے، غریبوں، یتیموں
اور مسکینوں کی مدد کریں گے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زندگی
گزاریں گے اور خود کو ایک اعلی انسان بنائیں گے تب جاکر ہمارا اور ہمارے بچوں کی
زندگی پاکیزہ دین کے طور طریقے سے مزین ہو گئی اور تمام نیک کام خود بخود آسانی کے
ساتھ پائے تکمیل تک پہنچ جائیگی۔اور میرا دعوی ہے
الحمدللہ ہم یہاں بھی کامیاب ہوں گے اور وہاں بھی کامیاب ہوں گے۔ورنہ ہم تو
اس دنیا میں ہلاک و برباد ہونگے ہی ساتھ ہی ہمارے اولاد بھی دین اسلام کے طور طریقوں
کو بلا بیٹھیں گے۔
نماز کی فرضیت کے معاملے میں اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے
'' ان الصلاۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا'' کہ نماز بے شک مومنوں پر اپنے
مقررہ وقت میں فرض ہے۔ ''اقیموا الصلاۃ '' یعنی نماز قائم کرو۔ اللہ تبارک و تعالی
نے ''اقیموا الصلاۃ ''کا لفظ 188 مرتبہ قرآن مقدس میں ذکر کیا ہے تاکہ لوگ نماز کو
اہم ترین عبادتوں میں سے اہم عبادت سمجھے اور باجماعت خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں۔
ہم سب کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ''الصلاۃ معراج المؤمنین''
کہ بے شک نماز مومنوں کی معراج ہے۔تو جب بندہ نماز پابندی کے ساتھ پڑھے گا تو اسے
اس جہاں میں بھی کامیابی ملے گی اور کل قیامت محشر میں بھی کامیاب ہوگا۔ اگر میں
نماز کے بارے میں بتاؤ تو میری باتیں ختم نہ ہوگی بلکہ کہ طویل بحث پکڑ سکتی ہے۔
اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کے مطابق اور ہم سب کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کے ارشادات کے مطابق ہمیں نماز پر پابندی کرنی چاہیے اور نماز اپنے مقررہ وقت میں
ادا کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایسی عبادت ہے جس کے بارے میں کل قیامت محشر میں اولا
سوال کیا جائے گا اور جو جتنا عبادت گزار ہوگا اسے اتنا ہی فائدہ ہوگا۔
میرے دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ میرے اس مضمون کو پڑھ کر کچھ سیکھنے
کے قابل ہوئے ہوں گیاور ان شاء اللہ نماز پر پابندی کریں گے، اپنے مذہب مذہبِ
اسلام کی بے حرمتی سے بچیں گے، اپنے آپ کو اعلی ترین لوگوں میں سے ایک اعلی انسان
بنائیں گے اور خود کی زندگی دوسروں کے لئے نمونہ حیات بنا کر اس جہاں سے رخصت ہو
جائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی ہمیں نماز پر پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور
آپس میں مل جل کرحسن و اخلاق سے زندگی گزارنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائے۔
تحرير:محمد فداء المصطفیٰ گیاوی
رابطہ نمبر: 9037099731
ڈومریا ،مرشد نگر بھنگیا، گیا، بہار

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں