کلامِ اعلیٰ حضرت پر پابندی؟ یہ کیسی حماقت ہے؟


کلامِ اعلیٰ حضرت پر پابندی؟ یہ کیسی حماقت ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبِ مکرم ﷺ کی مدح و ثنا کو وہ عظمت عطا فرمائی ہے کہ ہر دور میں ایسے خوش نصیب اہلِ علم، اہلِ قلم اور اہلِ عشق پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اپنی زندگیاں نعتِ رسول ﷺ کی خدمت میں وقف کر دیں۔ انہی درخشاں شخصیات میں مجددِ دین و ملت، امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام آفتابِ نصف النہار کی طرح روشن ہے۔ آپ نے عشقِ رسول ﷺ کو جس انداز سے اپنے قلم اور زبان کے ذریعے عام کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ کا مجموعۂ نعتیہ کلام حدائقِ بخشش اردو نعتیہ ادب کا ایسا لازوال سرمایہ ہے جس سے اہلِ محبتِ رسول ﷺ صدیوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک ہوتے رہیں گے۔

اعلیٰ حضرت کے بعد بھی اہلِ سنت کے بے شمار جلیل القدر علماء، مشائخ، مفتیانِ کرام، نعت خواں اور اہلِ قلم نے آپ کے کلام کی اشاعت، تدریس، تشریح اور ترسیل میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ برصغیر کے طول و عرض میں ہزاروں علماء نے حدائقِ بخشش کی عظمت کو اجاگر کیا، اس کی شرحیں لکھیں، اس پر دروس دیے اور عشقِ رسول ﷺ کے اس پیغام کو نسل در نسل منتقل کیا۔ اسی طرح بے شمار نعت خواں حضرات نے اعلیٰ حضرت کے کلام کو اپنی آواز کا زیور بنا کر دنیا بھر میں پہنچایا، جس کے نتیجے میں لاکھوں دلوں میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی شمعیں روشن ہوئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کلامِ اعلیٰ حضرت کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے کا محتاج نہیں، بلکہ یہ عشقِ رسول ﷺ کی وہ خوشبو ہے جو ہر دور میں اہلِ ایمان کے دلوں کو معطر کرتی رہے گی۔ جب تک دنیا میں عاشقانِ رسول ﷺ موجود ہیں، حدائقِ بخشش کی بہاریں قائم رہیں گی، اس کے اشعار پڑھے جاتے رہیں گے، سنے جاتے رہیں گے اور ان سے محبت و عقیدت کا نور پھیلتا رہے گا۔ کسی کی مخالفت، ناراضی یا رکاوٹ اس نور کو بجھا نہیں سکتی، کیونکہ جس کلام کی بنیاد اخلاص، محبتِ رسول ﷺ اور خدمتِ دین پر ہو، اسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دوام عطا فرماتا ہے۔  لہٰذا اگر کبھی کسی شخصیت کو کلامِ اعلیٰ حضرت پڑھنے سے روکا جائے یا اس حوالے سے کوئی اختلاف سامنے آئے تو اصل اہمیت افراد کی نہیں، بلکہ اس امانتِ عشق کی ہے جو نسلوں سے منتقل ہو رہی ہے اور آئندہ بھی منتقل ہوتی رہے گی۔ افراد آتے اور چلے جاتے ہیں، مگر اخلاص پر مبنی علمی و دینی خدمات اور اہلِ محبت کا سرمایہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

اگر واقعی یہ بات درست ہے کہ نعت خواں عقیل صدیقی صاحب کو دعوت دینے کے باوجود انہیں کلامِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پڑھنے سے روکا گیا، تو یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر وہ کون سی وجہ تھی کہ عاشقِ رسول ﷺ کے اس مقبول و معروف نعتیہ کلام کو پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی؟ اگر کسی مخصوص کلام پر پابندی عائد کی جائے تو فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد کیا ہے؟

کلامِ اعلیٰ حضرت برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اہلِ سنت کے نزدیک غیر معمولی مقبولیت رکھتا ہے۔ حدائقِ بخشش صدیوں سے محبتِ رسول ﷺ کے متوالوں کی زبان پر ہے، لاکھوں افراد اسے پڑھتے، سنتے اور اس سے روحانی کیف حاصل کرتے ہیں۔ نعت خوانی کی دنیا میں اعلیٰ حضرت کو جو مقام، شہرت اور عوامی قبولیت حاصل ہوئی، وہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، اور ان کا کلام آج بھی محافلِ میلاد، اجتماعات اور دینی پروگراموں کی زینت بنا ہوا ہے۔

ایسی صورت میں اگر کسی نعت خواں کو صرف کلامِ اعلیٰ حضرت پڑھنے سے روک دیا جائے تو اس اقدام سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ منتظمین کو اس کلام یا اس نسبت سے کسی درجے کا تحفظ یا عدمِ قبول ہے۔ اس تاثر کو ختم کرنے کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح کریں کہ اگر معاملہ ذاتی، انتظامی یا وقتی تھا تو اس کی صراحت کریں، اور اگر کوئی علمی وجہ تھی تو اسے دلائل کے ساتھ بیان کریں۔ بصورتِ دیگر عوام کے ذہنوں میں مختلف سوالات جنم لینا ایک فطری امر ہے۔اس لیے اس واقعے کو جذبات کی بجائے دلیل اور تحقیق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے، تاکہ حقیقت سامنے آئے اور اہلِ محبتِ رسول ﷺ کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی یا انتشار پیدا نہ ہو۔

لَمْ يَأْتِ نَظِيرُكَ فِي نَظَرٍ

مثلِ تو نہ شُد پیدا جانا

جگ راج کو تاج تورے سر سوہے

تجھ کو شہِ دوسرا جانا

اَلْبَحْرُ عَلٰی وَالْمَوْجُ طَغٰی

میں بے کس و طوفاں ہوش رُبا

منجدھار میں ہوں، بگڑی ہے ہوا

موری نیا پار لگا جانا

یہ وہ لازوال نعتیہ کلام ہے جسے امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر تحریر فرمایا۔ یہ کلام صرف چند اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی سچی ترجمانی ہے، جو ایک صدی سے زائد عرصے سے دنیا بھر کی نعتیہ محفلوں میں عقیدت و احترام کے ساتھ پڑھا جا رہا ہے۔

بیان کردہ واقعے کے مطابق عقیل صدیقی صاحب نے اپنی نعت خوانی کا آغاز اسی مبارک کلام سے کیا۔ چند اشعار پڑھنے کے بعد جب انہوں نے کلامِ اعلیٰ حضرت کو مزید آگے بڑھانا چاہا تو اسٹیج پر موجود منتظمین کی جانب سے انہیں مزید کلامِ اعلیٰ حضرت پڑھنے سے روک دیا گیا۔

اگر واقعہ حقیقتاً اسی طرح پیش آیا ہے تو یہ ایک نہایت سنجیدہ اور قابلِ غور معاملہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیا سبب تھا کہ محبتِ رسول ﷺ سے لبریز اس عظیم نعتیہ کلام کو مکمل طور پر پیش کرنے کی اجازت نہ دی گئی؟ جبکہ یہی کلام برصغیر سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں عاشقانِ رسول ﷺ کی زبان پر ہے اور ہر سال بے شمار دینی اجتماعات، میلاد کی محافل اور نعتیہ پروگراموں کی زینت بنتا ہے۔

اس اقدام نے اہلِ سنت اور محبانِ اعلیٰ حضرت کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر اس کے پیچھے کوئی انتظامی، وقتی یا علمی وجہ تھی تو اسے کھلے انداز میں بیان کیا جانا چاہیے، تاکہ حقیقت واضح ہو اور اس حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو۔ کیونکہ کلامِ اعلیٰ حضرت جیسی عظیم دینی میراث کو پڑھنے سے روکنے کا واقعہ یقیناً معمولی نہیں، بلکہ وضاحت کا متقاضی ہے۔

الغرض! اس پورے واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دینی محافل کو ذاتی پسند و ناپسند، گروہی اختلافات اور غیر ضروری تنازعات سے محفوظ رکھا جائے۔ اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو تو اس کا حل دلیل، حکمت اور باہمی گفتگو سے تلاش کیا جائے، نہ کہ ایسے طرزِ عمل سے جس سے عوام کے دلوں میں سوالات اور بدگمانیاں پیدا ہوں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا نعتیہ کلام حدائقِ بخشش اہلِ سنت کا ایک عظیم علمی و روحانی سرمایہ ہے، جس نے ایک صدی سے زیادہ عرصے سے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کی ہے۔ ایسے عظیم ورثے کا احترام کرنا، اس کی قدر کرنا اور اسے محبت و ادب کے ساتھ آگے پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ہر اس کلام کی عزت کریں جو قرآن و سنت، عقائدِ اہلِ سنت اور محبتِ رسولِ اکرم ﷺ کے مطابق ہو۔ اختلاف کی صورت میں بھی عدل، انصاف اور حسنِ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، کیونکہ یہی اہلِ علم اور اہلِ سنت کا شیوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کو حق سمجھ کر قبول کرنے، اہلِ حق کا ادب کرنے اور محبتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔




تبصرے