ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے اختلافِ مسلک نہیں، اتحادِ امت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے!

ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے اختلافِ مسلک نہیں، اتحادِ امت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے! 


آج ہم ایک ایسے پُرفتن، نازک اور آزمائش بھرے دور سے گزر رہے ہیں جہاں مسلمانوں کی دینی، مذہبی اور تہذیبی شناخت مختلف جہات سے مسلسل چیلنج کی جا رہی ہے۔ صدیوں پرانی مساجد، مدارسِ اسلامیہ، مکاتب، قبرستان اور دیگر مذہبی شعائر کے حوالے سے آئے دن نئے تنازعات اور مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں مسلمانوں نے سیاسی، سماجی اور مذہبی میدانوں میں متعدد مشکلات، ناانصافیوں اور امتیازی رویّوں کا سامنا کیا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے صبر، حکمت، آئینی طریقۂ کار اور پُرامن جدوجہد کو اختیار کرتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کی کوشش کی ہے۔

تاہم اب معاملہ صرف دینی اداروں یا مذہبی شعائر تک محدود نہیں رہا، بلکہ بعض مواقع پر امتِ مسلمہ کے سب سے مقدس سرمایہ، یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس، آپ کی عزت، عظمت اور ناموس کو بھی گستاخی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دکھ اور اذیت نہیں ہو سکتی کہ اس کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کی جائے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ہر مسلمان کو اپنی دینی، اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان فقہی، مسلکی اور فکری اختلافات صدیوں سے موجود ہیں اور علمی دنیا میں ان کی اپنی ایک حیثیت ہے، لیکن جب معاملہ قرآنِ کریم، دینِ اسلام، اللہ تعالیٰ کی عظمت اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا ہو تو تمام اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اختلافات اپنی جگہ رہ سکتے ہیں، لیکن امت کے مشترکہ مسائل میں اتحاد ہی ہماری اصل قوت ہے۔

اگر ہمارے مخالفین اپنے نظریاتی مقاصد کے لیے تمام اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ ہمارا رب ایک ہے، ہمارا نبی ایک ہے، ہمارا قرآن ایک ہے، ہمارا قبلہ ایک ہے اور ہمارا کلمہ بھی ایک ہے۔ جب ہماری بنیادی شناخت ایک ہے تو ایسے مواقع پر ہماری آواز بھی ایک ہونی چاہیے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ قرآنِ کریم نے بارہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم، توقیر اور ادب کا حکم دیا ہے، جبکہ احادیثِ مبارکہ میں واضح فرمایا گیا ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے والد، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ یہی محبت مسلمان کی اصل پہچان اور ایمان کی روح ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہماری زندگی کا مرکز ہے تو پھر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں ہمارے ذاتی مفادات، مسلکی وابستگیاں، ادارہ جاتی رقابتیں یا تنظیمی اختلافات ہمیں اس عظیم ذمہ داری سے غافل تو نہیں کر رہے۔ ہر مسلمان کو اپنے مسلک اور فقہی موقف پر قائم رہنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن جب دینِ اسلام، قرآنِ کریم، اللہ تعالیٰ کی عظمت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس یا ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی عزت و حرمت کا معاملہ درپیش ہو تو تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر، مکمل حکمت، صبر اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، متحد آواز بلند کرنی چاہیے۔

یہ کسی ایک جماعت، تنظیم یا مکتبِ فکر کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس لیے ہندوستان کے تمام مسلمان، خواہ وہ سنی، دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سلفی، اہلِ حدیث، تبلیغی یا کسی بھی دینی سلسلے سے وابستہ ہوں، ایسے مواقع پر اتحاد و یکجہتی کا عملی نمونہ پیش کریں۔ اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے انہیں علمی دائرے تک محدود رکھا جائے اور امت کے مشترکہ مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے۔

ہمیں یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر ہم ایسے حساس مواقع پر خاموشی اختیار کریں یا باہمی اختلافات میں الجھے رہیں تو اس سے امت کی اجتماعی قوت کمزور ہوگی اور مخالف عناصر کو مزید حوصلہ ملے گا۔ اس کے برعکس اگر مسلمان حکمت، بصیرت اور اتحاد کے ساتھ اپنی آئینی و قانونی آواز بلند کریں تو اس کا اثر زیادہ مضبوط، مؤثر اور دیرپا ہوگا۔ اتحاد جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، اخلاص، برداشت اور مشترکہ جدوجہد سے پیدا ہوتا ہے، اور یہی وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔

جب ہم موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہیں، خصوصاً سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر ہونے والی سرگرمیوں کو دیکھتے ہیں، تو یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کی آواز اکثر منتشر دکھائی دیتی ہے۔ مختلف دینی جماعتیں، ادارے اور شخصیات اپنے اپنے دائرۂ کار میں دین کی خدمت انجام دے رہی ہیں، جو یقیناً قابلِ قدر ہے، لیکن جب امت کو درپیش مشترکہ مسائل سامنے آتے ہیں تو ایک مضبوط، منظم اور متحد اجتماعی موقف کم ہی نظر آتا ہے۔ اس کمی کو دور کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر، مدارس، خانقاہوں اور دینی اداروں کے درمیان بعض اوقات انتظامی، تنظیمی یا علمی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اختلافِ رائے ایک فطری اور علمی حقیقت ہے اور جب تک وہ اخلاق، احترام اور دلیل کے دائرے میں رہے، امت کے لیے باعثِ رحمت بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم ان اختلافات کو اس حد تک بڑھا دینا کہ امت کی اجتماعی قوت متاثر ہونے لگے، کسی بھی اعتبار سے دانش مندی نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کے تمام معتبر دینی ادارے، مدارس، خانقاہیں، اسلامی تنظیمیں اور مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ وقتاً فوقتاً ایک مشترکہ مشاورتی پلیٹ فارم قائم کریں، جہاں امت کو درپیش اجتماعی مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے، باہمی اعتماد کو فروغ دیا جائے، اور ایسے معاملات میں متفقہ لائحۂ عمل تیار کیا جائے جن کا تعلق پوری امت سے ہو۔

خاص طور پر جب دینِ اسلام، قرآنِ کریم، اللہ تعالیٰ کی عظمت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس یا دیگر مسلمہ دینی اقدار کا معاملہ درپیش ہو تو تمام مسلمان، اپنے مسلکی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر، آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، حکمت، صبر اور ذمہ داری کے ساتھ متحد آواز بلند کریں۔ یہی طرزِ عمل امت کے وقار، باہمی اعتماد اور اجتماعی طاقت کو مضبوط کرے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے اتحاد، اخوت اور دینی غیرت کی ایک بہترین مثال قائم کرے گا۔


اس پوری گفتگو کا حاصل یہی ہے کہ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم اپنے فقہی یا مسلکی اختلافات کو ختم کر دیں، کیونکہ اختلافِ رائے علمی دنیا کی ایک مسلم حقیقت ہے، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اختلافات کو باہمی نفرت، عداوت اور انتشار کا سبب نہ بننے دیں۔ امتِ مسلمہ کی اصل طاقت اس کی وحدت، اخوت، باہمی اعتماد اور مشترکہ شعور میں پوشیدہ ہے۔ جب بھی دینِ اسلام، قرآنِ کریم، اللہ تعالیٰ کی عظمت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس یا دیگر مسلمہ دینی اقدار کو نشانہ بنایا جائے تو تمام مسلمانوں کو اپنے مسلکی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر، آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، حکمت، صبر اور ذمہ داری کے ساتھ متحد آواز بلند کرنی چاہیے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ملک بھر کے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مفتیانِ کرام، مشائخِ عظام، دینی اداروں اور اسلامی تنظیموں کے ذمہ داران ایک مستقل مشترکہ مشاورتی پلیٹ فارم قائم کریں، جہاں امت کو درپیش اجتماعی مسائل پر باہمی مشاورت کے ذریعے متفقہ لائحۂ عمل تیار کیا جائے۔ اسی طرح مساجد، مدارس، جامعات اور دینی اجتماعات میں اتحادِ امت، اختلاف کے آداب، باہمی احترام اور حسنِ اخلاق کو فروغ دیا جائے، جبکہ سوشل میڈیا کو اشتعال انگیزی اور باہمی تنقید کے بجائے دعوتِ دین، اصلاحِ امت اور مشترکہ اسلامی اقدار کے تحفظ کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔

آئیے! ہم سب یہ عہد کریں کہ اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے احترام، اخوت اور خیر خواہی کو برقرار رکھیں گے، علمی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے، اور جب بھی دینِ اسلام، قرآنِ کریم، اللہ تعالیٰ کی عظمت یا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا معاملہ پیش آئے گا تو ہم سب ایک امت، ایک صف اور ایک آواز بن کر اپنا آئینی، قانونی اور اخلاقی کردار ادا کریں گے۔

اگر ہم ان اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ان شاء اللہ امتِ مسلمہ میں باہمی اعتماد مضبوط ہوگا، ہماری اجتماعی قوت میں اضافہ ہوگا اور ہم دینِ اسلام، قرآنِ کریم اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر، باوقار اور ذمہ دار کردار ادا کر سکیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاصِ نیت، اتحادِ امت، حسنِ اخلاق، باہمی محبت، حکمت و بصیرت اور حق پر استقامت عطا فرمائے، اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت، ادب، تعظیم اور ناموس کے تحفظ کے تقاضوں کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔







تبصرے