نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اگر یہی گستاخی کسی مسلمان نے کسی دھرم گرو کے بارے میں کی ہوتی تو کیا ہوتا؟

اگر یہی گستاخی کسی مسلمان نے کسی دھرم گرو کے بارے میں کی ہوتی تو کیا ہوتا؟

ہندوستان ایک جمہوری، سیکولر اور کثیر مذہبی ملک ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے آباد ہیں۔ آئینِ ہند ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے اور اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ ہر شخص اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کی بنیاد باہمی احترام، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی پر قائم ہے۔ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے مذہب کے مقدس پیشواؤں، مذہبی شخصیات، دیوی دیوتاؤں یا مذہبی علامات کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کریں۔ نہ یہ آئینِ ہند کی روح کے مطابق ہے، نہ اخلاقیات اس کی اجازت دیتی ہیں اور نہ ہی انسانیت کا تقاضا یہی ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں ہر شخص کو اپنے مذہب سے محبت کا حق ہے، لیکن کسی دوسرے کے مذہب یا مقدس شخصیات کی توہین کا حق ہرگز حاصل نہیں۔

مگر کچھ سالوں سے، تقریبا دس پندرہ سالوں سے جب سے بی جے پی کی سرکار ہندوستان میں آئی ہے تب سے مسلمانوں کے خلاف ایک مہم چھیڑ دی گئی ہے کہ مسلمانوں کے گرو کے بارے میں یعنی مسلمانوں کے جو نبی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں اور ان کی بیویوں کے بارے میں غلط غلط نازیبا کلمات استعمال کر کے مسلمانوں کی عزت کو ان کی وقار کو ٹھیس پہنچانا، رسول کی شان میں گستاخی کر کے مسلمانوں کو پریشان کرنا، مسلمانوں کی مساجد کو مسمار کرنا، مسلمانوں کے مکاتب و مدارس اسلامیہ کو منہدم کرنا، قبرستانوں کو ان سے چھیننا اور ان کے بنائی گئی سو سالہ دو سو سالہ عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر کے اس پہ بلڈوزر چلا دینا اس طرح کے بے شمار مہم چلائی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کو کسی طریقے سے اتنا پریشان کیا جائے کہ مسلمان دیش چھوڑ کر کے بھاگ جائیں۔ یہ بی جے پی کے نیتاؤں نے مسلمانوں کے خلاف جو ظلم و زیادتی کی ہے وہ اب حد سے پار ہو گئی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہر چیز کو برداشت کیا ہر پہلو کو برداشت کیا لیکن یہ بی جے پی کی پالتو کتیا، سور کی اولاد، حرام خور، گٹر سے نکلی ہوئی دو ٹکی کی لونڈی، بدچلن ،بے حیا ،بے غیرت اور سور کی منہ کی حرامی یہ نازیہ الہی جو بی جے پی کی ایک ممبر ہے ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کی ہے وہ ہرگز نا قابل قبول ہے ۔ 

اور یہ بدچلن کہتی ہے کہ "محمد، عائشہ سے چھ سال کی عمر میں شادی کرتے ہیں اور تین سال تک حضرت عائشہ کو خوب کھلایا پلایا جاتا ہے اور موٹا کیا جاتا ہے تاکہ محمد کو سیکس کرنے میں مزہ ائے" یہ اس حرام خور اور بچلن کے جملے تھے، یہ جملے میں نے یہاں اس لیے ذکر کیے ہیں تاکہ ہر مسلمان کی غیرت جاگ سکے اور ہر مسلمان اپنے ایمان کا جائزہ لے سکے، یہ پرکھ سکے کہ اس کے اندر دین سے، رسول سے اور اسلام سے کتنی محبت ہے؟ اور کیا اس گستاخی کو وہ مسلمان برداشت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ جملہ بس آپ لوگوں کے ایمان کو پرکھنے کے لیے لکھا گیا ہے۔ 

اے بی جے پی کے حکمرانو! یاد رکھو کہ تم سے پہلے بھی اس دنیا میں بڑے بڑے حکمران، طاقتور بادشاہ اور عظیم سلطنتیں گزر چکی ہیں۔ نمرود، شداد اور فرعون جیسے حکمران اپنی قوت و اقتدار پر نازاں تھے، مگر آج ان کا اقتدار تاریخ کے اوراق میں ایک عبرت بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا میں کوئی حکومت، کوئی طاقت اور کوئی سلطنت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔

اگر بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ چند برسوں کی حکمرانی نے اسے دائمی اقتدار عطا کر دیا ہے تو یہ محض ایک خوش فہمی ہے۔ اقتدار ایک امانت ہے، اور ہر امانت کے بارے میں ایک دن جواب دہی ہونی ہے۔ اس لیے وقت رہتے انصاف، مساوات اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کیجیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران غرور، ناانصافی اور عوامی جذبات سے بے اعتنائی کا راستہ اپناتے ہیں تو ان کا زوال بھی اتنا ہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا ان کا عروج تھا۔ سب سے خطرناک تو یہ بی جے پی کی دلی ہے نازیہ الہی، جب دیکھو تب مسلمانوں کے خلاف بھوکتی رہتی ہے پتا نہیں اسے بھونکنے کا پیسہ ملتا ہے؟ یا بھوکنے کے لیے خود کو سلا دیتی ہے؟ یا خود کی عزت کو بی جے پی والوں کے ساتھ لٹا دیتی ہے؟؟؟ 

  نازیہ الٰہی، جو بی جے پی سے وابستہ ہیں، کی جانب سے کی گئی یہ گستاخانہ اور قابلِ اعتراض گفتگو کسی بھی اعتبار سے درست قرار نہیں دی جا سکتی۔ یہ نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی ہے بلکہ آئینِ ہند کی روح، باہمی احترام کے اصولوں اور سماجی ہم آہنگی کے بھی خلاف ہے۔ ایسے بیانات قانون کے دائرے میں جانچے جانے چاہئیں اور اگر ان میں قانونی خلاف ورزی پائی جائے تو متعلقہ شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص کسی مذہب، دھرم گرو یا مقدس شخصیت کے بارے میں نازیبا اور توہین آمیز کلمات استعمال کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ 

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اسی نوعیت کی گفتگو کسی مسلمان کی جانب سے کسی ہندو دھرم گرو، دیوی دیوتا یا کسی دوسرے مذہب کی مقدس شخصیت کے بارے میں کی جاتی تو کیا صورتِ حال یہی ہوتی؟ کیا میڈیا خاموش رہتا؟ کیا سیاسی جماعتیں خاموش رہتیں؟ کیا مقدمات درج نہ ہوتے؟ کیا احتجاج نہ ہوتے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا یہ ہے کہ تمام شہریوں اور تمام مذاہب کے لیے ایک ہی معیار ہو۔ اگر کسی مذہب کی مقدس شخصیات کے بارے میں توہین آمیز گفتگو قابلِ اعتراض ہے تو یہی اصول تمام مذاہب پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ مذہبی احترام یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہونا چاہیے، کیونکہ احترام ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک پرامن اور متحد معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔ 

مسلمانوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس ان کی جان، مال اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ ﷺ کی شان کے بارے میں کوئی نامناسب بات سامنے آتی ہے تو مسلمانوں کے دلوں میں شدید درد اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اس احساس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ اسے نظر انداز کرنے کی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سماجی تنظیمیں اور مذہبی رہنما اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں، تاکہ ملک میں مذہبی احترام، آئینی مساوات اور باہمی ہم آہنگی کا ماحول برقرار رہے۔ ہندوستان کی طاقت نفرت میں نہیں بلکہ اتحاد، انصاف اور باہمی احترام میں ہے۔

اس پورے معاملے کا ایک اور پہلو بھی انتہائی توجہ طلب ہے۔ جب بھی کسی دوسرے مذہب کی مقدس شخصیات یا مذہبی جذبات سے متعلق کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ملک بھر میں فوری ردِّعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ سیاسی جماعتیں بیانات جاری کرتی ہیں، میڈیا میں بحثیں شروع ہو جاتی ہیں، مقدمات درج ہوتے ہیں اور قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ لیکن جب مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا معاملہ سامنے آتا ہے تو اکثر مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انصاف اور حساسیت کے پیمانے سب کے لیے یکساں ہیں؟

اگر واقعی ہندوستان ایک جمہوری اور آئینی ملک ہے تو پھر قانون کا اطلاق بھی یکساں ہونا چاہیے۔ کسی بھی مذہب کے مقدس پیشوا، مذہبی رہنما یا محترم شخصیات کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کو ایک ہی معیار سے دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ایک طبقے کے مذہبی جذبات قابلِ احترام ہیں تو دوسرے طبقے کے جذبات بھی اتنے ہی قابلِ احترام ہیں۔ یہی آئین کا تقاضا ہے اور یہی انصاف کا اصول بھی۔

اس واقعے نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر ان کے مذہبی جذبات کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا جاتا۔ مسلمان رسولِ اکرم ﷺ سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس محض ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ایمان کا مرکز اور زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اسی لیے جب آپ ﷺ یا ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے میں نامناسب گفتگو سامنے آتی ہے تو مسلمان اسے محض ایک بیان نہیں بلکہ اپنے ایمان اور عقیدت پر حملہ محسوس کرتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ایک اور سوال بھی اٹھتا ہے کہ ایسے مواقع پر مسلم قیادت، دینی ادارے، خانقاہیں اور علمی مراکز کس حد تک اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟ عوامی سطح پر تو شدید ردِّعمل سامنے آتا ہے، لوگ قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، شکایات درج کراتے ہیں اور سوشل میڈیا پر آواز بلند کرتے ہیں، لیکن بہت سے افراد یہ محسوس کرتے ہیں کہ بعض اوقات دینی قیادت کی جانب سے وہ مؤثر اور متحد آواز سنائی نہیں دیتی جس کی عوام توقع کرتی ہے۔ یقیناً اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے، لیکن جب معاملہ رسول اللہ ﷺ کی ناموس، حرمت اور عزت کا ہو تو مسلمانوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے علماء، مشائخ، دینی ادارے اور مذہبی تنظیمیں بھی ایسے مواقع پر واضح اور مؤثر موقف اختیار کریں تاکہ امت کو حوصلہ اور رہنمائی مل سکے۔

آج ضرورت اشتعال، نفرت اور انتشار کی نہیں بلکہ شعور، اتحاد، قانونی جدوجہد اور مؤثر آواز بلند کرنے کی ہے۔ بالخصوص جب ناموسِ رسالت ﷺ اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی حرمت و عظمت پر کوئی حملہ ہو یا ان کی شان میں گستاخی کی جائے تو یہ کسی ایک فرد، جماعت یا مخصوص مکتبِ فکر کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ایمان، غیرت اور دینی حمیت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر تمام مسلمانوں کو اپنے فروعی اور جزوی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔ خواہ کسی کا تعلق دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، شیعہ، جماعتِ اسلامی یا کسی بھی دوسرے مکتبِ فکر سے ہو، ناموسِ رسالت ﷺ کے معاملے میں سب کو ایک صف میں کھڑے ہو کر اپنی مشترکہ ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کی عزت و ناموس ہم سب کا مشترکہ سرمایہ ایمان ہے، اور اس کے تحفظ کے لیے اتحاد و یکجہتی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

لہٰذا میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ جب بھی ناموسِ رسالت ﷺ اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے احترام و تقدس کا معاملہ درپیش ہو تو ہم اپنے باہمی اختلافات کو طاقِ نسیاں پر رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں، قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور آواز بلند کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ امتِ مسلمہ اپنے نبیِ کریم ﷺ کی محبت اور حرمت کے معاملے میں ایک جسم کی مانند ہے۔ حقیقی محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ ساتھ شعور، حکمت، اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی شاعرِ ہدیٰ سیف علی شاہ عدمؔ صاحب قبلہ جامعہ دارالہدی اسلامیہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  طالب علم و ہنر کا آسرا دارالہدی  کس قدر ہے خوبصورت خوشنما دارالہدی  ان شاء اللہ عام ہو جائیگا علم دوجہاں  اب یون ہی بنتا رہیگا ہر جگہ دارالہدی جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ ایک ممتاز تعلیمی ادارہ اورعظیم الشان تربیتی گہوارہ ہے جو دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی، روحانی، اور اخلاقی رہنمائی کے مقصد سے عمل میں آیا۔ یہاں کے نصاب میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، اور اسلامی تاریخ کے ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ دنیاوی اور دینی دونوں میدانوں میں کامیاب ہو سکیں۔ جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا ماحول طلبہ کے کردار کی تعمیر اور ان کے اندر اسلامی اقدار کے فروغ پر مرکوز ہے۔ یہاں اساتذہ کا انتخاب نہایت محتاط انداز میں کیا جاتا ہے تاکہ وہ علم کے ساتھ تربیت کا بہترین نمونہ پیش کریں۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور...

کلثوم بانو! تیری جرأتِ ایمانی کو سلام

کلثوم بانو! تیری جرأتِ ایمانی کو سلام یہ زمانہ عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سائنس و ٹیکنالوجی کی چکاچوند، جدید تعلیم کی دوڑ، مادّی ترقی کی اندھی خواہش اور دنیاوی کامیابیوں کا شور ہے، تو دوسری طرف دینی اقدار، حیا، عفت اور اسلامی تشخص پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ آج بہت سے لوگ معمولی دنیاوی مفاد کے لیے اپنے اصولوں، اپنی تہذیب اور یہاں تک کہ اپنے دین تک کا سودا کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ایسے پُرفتن ماحول میں جب بے پردگی کو آزادی، حیا کو پسماندگی اور دینی احکام پر عمل کو قدامت پسندی سمجھا جانے لگا ہے، ایک مسلمان کے لیے اپنے ایمان اور اسلامی شناخت پر ثابت قدم رہنا یقیناً کسی جہاد سے کم نہیں۔ خصوصاً مسلمان خواتین کے لیے حجاب محض ایک کپڑا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل، حیا و عفت کی حفاظت اور اسلامی تشخص کا روشن عنوان ہے۔ یہ وہ تاجِ عزت ہے جس نے صدیوں سے مسلمان عورت کو وقار، احترام اور انفرادیت عطا کی ہے۔ مگر افسوس کہ آج بعض حلقوں کی جانب سے حجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مسلم خواتین کو مختلف طریقوں سے اس سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں جب کوئی مسلمان...

حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں...

  حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں!   تذکرہ مصطفی کا کرتے ہیں سب فدایانِ حافظ ملت نعت کی شکل میں زباں پر ہے خوب ا حسانِ حافظ ملت             جلالۃ العلم،استاذ العلما حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بافیص مدرس،خدارسیدہ بزرگ،کامیاب مصلح ومبلغ اور ہزاروں کی تعداد میں علما وفقہا کی جماعت تیار کرنے والے اس مرد قلندر کو دنیائے اہل سنت بہت قریب سے جانتی ہے۔ آپ کی حیات و خدمات نے پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کے خوابوں کی حسین تعبیر جامعہ اشرفیہ مباک پور آج پوری دنیا حافظ ملت کا دینی وعلمی اور روحانی فیضان تقسیم کر رہا ہے۔ مصباحی برادران ملک اور بیرون ملک دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دے کر فرمانِ حافظ ملت ”زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام“ کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،آمین۔ تو آئیے ہم حضور حافظ ملت کی ہمہ جہت شخصیت کو اقوالِ ائمہ کی ...