آخر ہر چند روز بعد ایک نئی مسجد ہی کیوں؟
بعض اوقات حالات انسان کو ایسے سوالات کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں جو صرف عقل و شعور کی حد تک محدود نہیں رہتے بلکہ دل و دماغ کی گہرائیوں کو بھی جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ سوالات ہوتے ہیں جو کسی ایک فرد کی سوچ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے اندر پائی جانے والی بے چینی، فکر اور اضطراب کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج کے اس دور میں بھی ایک ایسا ہی سوال بار بار ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ آخر ہر چند روز بعد ایک نئی مسجد ہی کیوں تنازعات کا مرکز بن جاتی ہے؟ آخر کیوں وقفے وقفے سے کسی نہ کسی مسجد کے بارے میں نئے دعوے، نئی بحثیں اور نئے اختلافات سامنے آجاتے ہیں؟ اور آخر کیوں یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا؟
یہ سوال اس لیے بھی زیادہ اہم اور حساس بن جاتا ہے کہ مسجد محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت گاہ ہے، جو مسلمانوں کے ایمان، عقیدے، تہذیب، ثقافت اور روحانی زندگی کا مرکز ہوتی ہے۔ مسجد سے مسلمان کا تعلق صرف نماز تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کی پوری دینی تربیت، اخلاقی پرورش اور روحانی سکون کا مرکز بھی یہی جگہ ہوتی ہے۔ اسی لیے جب کسی مسجد کو تنازع کا موضوع بنایا جاتا ہے تو یہ معاملہ صرف ایک قانونی یا تاریخی بحث نہیں رہتا بلکہ براہِ راست لاکھوں دلوں کے جذبات، احساسات اور عقیدتوں کو متاثر کرتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف علاقوں سے یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ بعض مساجد کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کے نیچے کسی مندر کے آثار موجود تھے یا وہاں کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کے نشانات پائے جاتے ہیں۔ ان دعوؤں کے بعد بحث و مباحثہ، اختلاف اور کشیدگی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ایک معاملہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سامنے آجاتا ہے، ایک جگہ سکون نہیں آتا کہ دوسری جگہ نیا تنازع پیدا ہوجاتا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں ایک عام شہری اور خاص طور پر ایک عام مسلمان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ اور کیا واقعی ہمارے معاشرے کی ترجیحات یہی ہونی چاہئیں؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے میں تاریخی اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکتے، لیکن ان اختلافات کو حل کرنے کا طریقہ ہمیشہ مہذب، قانونی اور تحقیقی ہونا چاہیے۔ کسی بھی معاملے کو جذبات، افواہوں یا اشتعال کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نہ صرف مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے اگر کسی مقام کے بارے میں کوئی دعویٰ موجود ہو تو اس کا فیصلہ صرف اور صرف مستند تحقیق، تاریخی شواہد، آئینی اصولوں اور عدالتی طریقہ کار کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔
مسجد کا معاملہ دیگر عام عمارتوں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے۔ یہاں صرف عبادت نہیں ہوتی بلکہ دلوں کا سکون، روح کی پاکیزگی، اخلاق کی تربیت اور دینی شعور کی آبیاری بھی ہوتی ہے۔ مسجد سے وابستہ یادیں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ کسی کے والدین نے وہاں نماز پڑھی ہوتی ہے، کسی نے وہاں قرآن سیکھا ہوتا ہے، کسی نے اپنی زندگی کے اہم دینی لمحات وہیں گزارے ہوتے ہیں۔ اس لیے جب مسجد کو تنازع میں لایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک عمارت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات ایسے بیانیے سامنے آتے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا مسلمان اس ملک کا حصہ نہیں یا وہ یہاں کے مقامی شہری نہیں ہیں۔ حالانکہ تاریخ اس بات کی واضح گواہ ہے کہ مسلمان صدیوں سے اس ملک کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اس سرزمین کی تہذیب، تمدن، زبان، ادب، فنِ تعمیر، تعلیم اور سماجی ڈھانچے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کے آباؤ اجداد نے اسی مٹی پر زندگی گزاری، اسی زمین کے لیے جدوجہد کی اور اسی وطن کی آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں پیش کیں۔
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں نے مل کر اس ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ ان میں بے شمار مسلمان علماء، مجاہدین اور عام افراد بھی شامل تھے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس وطن کی آزادی کے لیے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ اس لیے کسی بھی طبقے کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا نہ صرف تاریخی ناانصافی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے تصور کو بھی کمزور کرتا ہے۔
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ کے بعض مسائل واقعی پیچیدہ ہوسکتے ہیں اور ان پر مختلف آراء بھی پائی جاسکتی ہیں، لیکن ایک مہذب اور باشعور معاشرے کا طریقہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ اختلافات کو نفرت، اشتعال اور تقسیم میں بدل دے۔ اگر کسی معاملے میں کوئی تنازع موجود ہو تو اس کا حل صرف تحقیق، شواہد اور قانونی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جذباتی ردعمل یا سوشل میڈیا کی بحثیں کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل پیش نہیں کرسکتیں۔
آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں اتحاد، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کو فروغ دیں۔ نفرت اور تقسیم کی سیاست وقتی طور پر کچھ اثر ضرور ڈال سکتی ہے، لیکن یہ کسی بھی قوم کو مضبوط نہیں بناسکتی۔ مضبوط معاشرے وہ ہوتے ہیں جو اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، مختلف عقائد کے ماننے والوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں اور مشترکہ قومی مفاد کے لیے مل کر آگے بڑھتے ہیں۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کے اصل اور بنیادی مسائل کی طرف توجہ دیں۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کے مسائل اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے چیلنجز کہیں زیادہ اہم ہیں۔ اگر ہماری تمام توانائیاں صرف ماضی کے تنازعات اور اختلافات میں صرف ہوتی رہیں تو ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا راز نفرت میں نہیں بلکہ علم، انصاف، محنت اور اتحاد میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
مسلمانوں کے لیے بھی یہی پیغام ہے کہ وہ ہر حال میں صبر، حکمت اور قانون پسندی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ وہ اپنے کردار، اخلاق، علم اور خدمت کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ اشتعال اور مایوسی کے بجائے امید، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کو اپنا شعار بنائیں۔ کیونکہ عزت اور ذلت کا حقیقی فیصلہ کرنے والی ذات صرف اللہ رب العزت کی ہے۔
آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس مسئلے کا حقیقی حل صرف ایک ہے: انصاف، قانون کی بالادستی اور باہمی احترام۔ اگر ہم واقعی ایک پرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اختلافات کو نفرت میں بدلنے کے بجائے سمجھداری، تحقیق اور عدل کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔
اللہ رب العزت ہمارے وطن کو ہر قسم کے فتنوں اور نفرتوں سے محفوظ فرمائے، دلوں میں محبت، انصاف اور اعتدال پیدا فرمائے، اور ہمیں ایسا معاشرہ عطا فرمائے جہاں ہر انسان اپنے عقیدے اور مذہب کے ساتھ امن، عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ آمین یا رب العالمین۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں