نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بدلتے ہوئے حالات میں صدرُ الشریعہ کی تعلیمات کی معنویت



۲ ذی القعدہ: عرسِ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمیؒ
بدلتے ہوئے حالات میں صدرُ الشریعہ کی تعلیمات کی معنویت
     الحمد للہ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، اما بعد! جب تاریخِ اسلام کے درخشاں اوراق پلٹے جاتے ہیں تو بعض شخصیات ایسی نظر آتی ہیں جن کی علمی، فقہی اور روحانی عظمت صدیوں پر محیط ہو جاتی ہے۔ انہی نفوسِ قدسیہ میں ایک عظیم اور تابندہ نام صدرُ الشریعہ حضرت علامہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کا ہے، جو مسلکِ اہلِ سنت کے امام، فقیہِ اعظم امام احمد رضا خان بریلوی کے فیضانِ تربیت کا حسین ثمر تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت، شریعت کی پاسبانی اور امت کی رہنمائی میں صرف کر دی۔
 آج کا یہ پُرفتن اور تیز رفتار دور، جہاں فکری انتشار، اخلاقی زوال اور دینی بے راہ روی عام ہو چکی ہے، ہمیں اس بات کا شدت سے احساس دلاتا ہے کہ ہم اپنے اسلافِ صالحین کی تعلیمات کی طرف رجوع کریں۔ خصوصاً صدرُ الشریعہ کی وہ جامع، معتدل اور حکیمانہ تعلیمات جو نہ صرف اپنے عہد کے مسائل کا حل تھیں بلکہ آج کے جدید چیلنجز کا بھی مکمل جواب رکھتی ہیں۔ یہ محض ایک تعارفی کلمات نہیں بلکہ اس پُرآشوب دور میں ہمارے لیے ایک سنجیدہ پیغام ہے کہ ہم صدرُ الشریعہ کی حیاتِ مبارکہ اور ان کی تعلیمات کو اپنا عملی شعار بنائیں، تاکہ فتنوں کے اس سیلاب میں بھی ہم دینِ حق پر ثابت قدم رہ سکیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق سنوار سکیں۔
     آج کے بدلتے ہوئے حالات میں بھی صدرُ الشریعہ علیہ الرحمہ کی تعلیمات ہمارے لیے ایک واضح اور مضبوط رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ایک مسلمان کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ کریم ﷺ کے احکامات کو اپنی زندگی کا محور بنائے اور شریعتِ مطہرہ کے تمام اصول و ضوابط کو پوری سنجیدگی، مضبوطی اور استقامت کے ساتھ تھامے رکھے۔ آج کا دور، جو فتنوں، فکری انتشار اور جدیدیت کے بے ہنگم اثرات سے بھرا ہوا ہے، خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں صدرُ الشریعہ کی یہی تعلیم ہمارے لیے نجات کا راستہ ہے کہ ہم دین کے بنیادی اصولوں سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہیں اور ہر حال میں شریعت کی پیروی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
     حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین پر خلوص کے ساتھ عمل کریں، تو یہی عمل ہماری تمام مشکلات، پریشانیوں اور چیلنجز کا سب سے مؤثر حل بن سکتا ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں نہ صرف گمراہی سے بچاتا ہے بلکہ ایک باوقار، پُرسکون اور کامیاب زندگی کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے۔
 چنانچہ پہلا مرحلہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ کریم ﷺ کی رضا اور شریعتِ مطہرہ کی پابندی ہے، تو اس کے بعد دوسرا نہایت اہم مرحلہ صحیح اور جامع علم کا حصول ہے۔ کیونکہ بغیر علم کے نہ دین مکمل سمجھ میں آتا ہے اور نہ ہی دنیا کے تقاضوں کا صحیح ادراک ہو پاتا ہے۔ آج کا دور علم اور مہارت کا دور ہے، جہاں صرف جذبات یا روایتی وابستگی کافی نہیں بلکہ مضبوط علمی بنیاد کی ضرورت ہے۔ لہٰذا مسلمان نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دینی علوم قرآن، حدیث اور فقہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں، ان میں پختگی پیدا کریں، اور اپنے ایمان و عمل کو علمی استحکام عطا کریں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے، جسے ہم ایک جدید، سائنسی اور ٹیکنالوجی سے بھرپور دنیا کہہ سکتے ہیں۔ ایسے میں صرف دینی علم پر اکتفا کر لینا کافی نہیں، بلکہ عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم، ٹیکنالوجی، سائنس، معاشیات اور دیگر میدانوں میں آگے بڑھنا، اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا، یہ سب ایک باشعور مسلمان نوجوان کی ذمہ داری ہے۔ صدرُ الشریعہ علیہ الرحمہ کی زندگی اسی توازن کی روشن مثال ہے۔ آپ نے اپنے استاذِ گرامی، فقیہِ اعظم امام احمد رضا خان بریلوی سے نہ صرف دینی علوم میں کمال حاصل کیا بلکہ اپنے دور کے تقاضوں کو بھی سمجھا اور امت کی رہنمائی فرمائی۔
     لہٰذا آج کے مسلمان نوجوان کو چاہیے کہ وہ اس نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینی اور عصری دونوں علوم میں مہارت حاصل کرے۔ کیونکہ یہی توازن اسے نہ صرف ایک مضبوط مسلمان بناتا ہے بلکہ اسے اس جدید اور مسابقتی دنیا میں باوقار مقام بھی عطا کرتا ہے۔ دین اور دنیا کا یہ حسین امتزاج ہی وہ راستہ ہے جو ایک مسلمان نوجوان کو کامیابی، استحکام اور حقیقی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔
     چنانچہ تیسرا اہم مرحلہ اصلاحِ نفس اور کردار سازی ہے، جو ایک مسلمان کی حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔ اگرچہ ہم حضور صدرُ الشریعہ علیہ الرحمہ جیسے بلند مرتبہ بزرگ کی کامل پیروی کا حق ادا نہیں کر سکتے، لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی بھرپور کوشش کریں اور اپنی زندگی کو ان کے اسوہ کے مطابق ڈھالنے کی جدوجہد جاری رکھیں۔ اصلاحِ نفس کا مطلب صرف ظاہری عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اپنے باطن کو سنوارنا، اپنے نفس کو قابو میں رکھنا اور اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنا بھی اسی کا حصہ ہے۔ آج کے دور میں، جہاں جذبات کی بے اعتدالی، فکری انتشار اور خواہشات کی بے لگامی عام ہو چکی ہے، مسلمان نوجوان کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ وہ اپنے نفس، اپنے جذبات، اپنی سوچ اور اپنے خیالات پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا کرے۔ نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ایسی قوت اور ملکہ پیدا کرے جس کے ذریعے وہ اپنے نفس کا محاسبہ کر سکے، اپنی کمزوریوں کو پہچان سکے اور انہیں دور کرنے کی مسلسل کوشش کرے۔ غصہ، حسد، تکبر، خود پسندی اور ریاکاری جیسے باطنی امراض سے بچنا اور ان کی جگہ صبر، عاجزی، اخلاص اور حسنِ اخلاق کو اپنانا ہی اصل کردار سازی ہے۔
     حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط اور صالح معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس کے افراد اپنے کردار کو سنواریں۔ لہٰذا آج کے مسلمان نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو اصلاحِ نفس اور اعلیٰ کردار کے سانچے میں ڈھال دے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔
 چنانچہ جب ایک مسلمان نوجوان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے، علمِ دین و دنیا سے خود کو آراستہ کر لے، اور اپنے نفس کی اصلاح و کردار سازی کی راہ پر گامزن ہو جائے، تو اس کے بعد چوتھا اہم مرحلہ دین پر استقامت اور فتنوں کا مقابلہ ہے۔ کیونکہ اصل امتحان یہی ہے کہ انسان مشکل حالات، بدلتے ماحول اور پُرفتن دور میں بھی اپنے دین پر قائم رہے۔ آج کا زمانہ بے شمار آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے سوشل میڈیا کی یلغار، بے حیائی کا فروغ، فکری گمراہی اور دین سے دوری کے رجحانات یہ سب نوجوانوں کے ایمان کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔
     ایسے حالات میں صدرُ الشریعہ علیہ الرحمہ کی تعلیمات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ صرف وقتی جوش یا جذبات کافی نہیں، بلکہ مستقل مزاجی، صبر اور استقامت کے ساتھ دین پر قائم رہنا ضروری ہے۔ نوجوان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں شریعت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھے، خواہ حالات موافق ہوں یا مخالف۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ برے ماحول، غلط صحبت اور گمراہ کن نظریات سے خود کو محفوظ رکھے، اور اپنے ایمان کی حفاظت کو اپنی سب سے بڑی ترجیح بنائے۔ دنیا کی وقتی چمک دمک اور فانی لذتوں کے مقابلے میں آخرت کی دائمی کامیابی کو پیشِ نظر رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص ان تمام فتنوں کے باوجود دین پر ثابت قدم رہتا ہے، وہی کامیاب ہے۔ لہٰذا آج کے مسلمان نوجوان کے لیے یہی چوتھا مرحلہ نہایت اہم ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ دین پر قائم رہے اور ہر قسم کے فتنوں کا حکمت، صبر اور بصیرت کے ساتھ مقابلہ کرے۔
     پانچواں اہم مرحلہ دعوتِ دین اور خدمتِ امت ہے۔ کیونکہ اسلام صرف انفرادی اصلاح کا نام نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی اور معاشرتی ذمہ داری کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ صدرُ الشریعہ علیہ الرحمہ کی پوری زندگی اسی حقیقت کا عملی نمونہ تھی کہ انہوں نے اپنے علم، اپنے کردار اور اپنی صلاحیتوں کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ امتِ مسلمہ کی رہنمائی اور اصلاح کے لیے وقف کر دیا۔ آج کے مسلمان نوجوان کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ دین کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ اپنے گھر، اپنے دوستوں، اپنے معاشرے اور خاص طور پر نوجوان نسل میں اچھائی کو عام کرے، برائی سے روکے اور نرمی، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دین کی دعوت دے۔ اس کے ساتھ ساتھ امت کے مسائل کا شعور رکھنا، ان کے حل کے لیے فکر مند ہونا اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق عملی کردار ادا کرنا بھی اسی مرحلے کا حصہ ہے۔ آج کی دنیا میں قلم، زبان، سوشل میڈیا اور عملی کردار—یہ سب دعوتِ دین کے مؤثر ذرائع بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا استعمال ذمہ داری اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے۔
     حقیقت یہ ہے کہ جب ایک نوجوان خود سنور جاتا ہے اور دوسروں کو سنوارنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنی نجات کا سامان کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ایک مثبت انقلاب کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ لہٰذا دعوتِ دین اور خدمتِ امت ہی وہ آخری اور اعلیٰ مرحلہ ہے جو ایک کامل اور ذمہ دار مسلمان کی پہچان بناتا ہے۔
     اسی لیے اس بدلتے ہوئے پُرفتن اور تیز رفتار دور میں ہمارے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم حضور صدرُ الشریعہ علیہ الرحمہ کی عظیم اور مایہ ناز تصنیف بہارِ شریعت سے مضبوط تعلق قائم کریں۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل رہنما، ایک جامع نصاب اور ایک ایسا عملی دستور ہے جو زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں شریعت کی روشنی فراہم کرتا ہے۔ خصوصاً مسلمان نوجوانوں کے لیے یہ کتاب ایک بیش بہا خزانہ ہے، کیونکہ اس میں دین کے بنیادی مسائل سے لے کر روزمرہ زندگی کے پیچیدہ معاملات تک، ہر چیز کو نہایت آسان، واضح اور مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ آج کے اس دور میں، جہاں فکری انتشار اور دینی کمزوری عام ہو چکی ہے، بہارِ شریعت کا مطالعہ نوجوان کو ایک مضبوط علمی بنیاد اور واضح سمت عطا کرتا ہے۔
     لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس کتاب کا محض سرسری مطالعہ نہ کریں بلکہ گہرائی، تحقیق اور تنقیدی شعور کے ساتھ اس کا مطالعہ کریں، اس کے مضامین کو سمجھیں، اور انہیں اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ایک مسلمان نوجوان اخلاص کے ساتھ اس عظیم تصنیف کو اپنا ساتھی بنا لے، تو یقیناً ان شاء اللہ اس کی فکری، عملی اور روحانی زندگی میں ایک مثبت اور انقلابی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہارِ شریعت سے جڑنا دراصل شریعت سے جڑنا ہے اور شریعت سے وابستگی ہی اس دور کے تمام فتنوں سے حفاظت اور کامیابی کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔
     اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگرچہ ہم ان عظیم ہستیوں جیسے نہیں بن سکتے، مگر ہمیں کم از کم ان کے ادنیٰ غلاموں کی طرح زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں ان کی تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے، شریعتِ مطہرہ کے تمام احکام پر مضبوطی سے قائم رہنے، اور اپنی زندگی کو دین کے سانچے میں ڈھالنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ یا اللہ! ہمارے دلوں میں دین کی سچی محبت پیدا فرما، ہمیں نفس و شیطان کے فتنوں سے محفوظ رکھ، اور ہمیں اپنے نیک بندوں کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی

کس قدر ہے خوبصورت خوشنمادارالہدی شاعرِ ہدیٰ سیف علی شاہ عدمؔ صاحب قبلہ جامعہ دارالہدی اسلامیہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  طالب علم و ہنر کا آسرا دارالہدی  کس قدر ہے خوبصورت خوشنما دارالہدی  ان شاء اللہ عام ہو جائیگا علم دوجہاں  اب یون ہی بنتا رہیگا ہر جگہ دارالہدی جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ ایک ممتاز تعلیمی ادارہ اورعظیم الشان تربیتی گہوارہ ہے جو دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی، روحانی، اور اخلاقی رہنمائی کے مقصد سے عمل میں آیا۔ یہاں کے نصاب میں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر، اور اسلامی تاریخ کے ساتھ جدید علوم کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ دنیاوی اور دینی دونوں میدانوں میں کامیاب ہو سکیں۔ جامعہ دارالہدیٰ اسلامیہ کا ماحول طلبہ کے کردار کی تعمیر اور ان کے اندر اسلامی اقدار کے فروغ پر مرکوز ہے۔ یہاں اساتذہ کا انتخاب نہایت محتاط انداز میں کیا جاتا ہے تاکہ وہ علم کے ساتھ تربیت کا بہترین نمونہ پیش کریں۔ جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور...

حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں...

  حضور حافظِ ملت شاہ عبد العزیز محدّث مرادآبادیؒ علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی نظر میں!   تذکرہ مصطفی کا کرتے ہیں سب فدایانِ حافظ ملت نعت کی شکل میں زباں پر ہے خوب ا حسانِ حافظ ملت             جلالۃ العلم،استاذ العلما حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ایک بلند پایہ عالمِ دین، بافیص مدرس،خدارسیدہ بزرگ،کامیاب مصلح ومبلغ اور ہزاروں کی تعداد میں علما وفقہا کی جماعت تیار کرنے والے اس مرد قلندر کو دنیائے اہل سنت بہت قریب سے جانتی ہے۔ آپ کی حیات و خدمات نے پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کے خوابوں کی حسین تعبیر جامعہ اشرفیہ مباک پور آج پوری دنیا حافظ ملت کا دینی وعلمی اور روحانی فیضان تقسیم کر رہا ہے۔ مصباحی برادران ملک اور بیرون ملک دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دے کر فرمانِ حافظ ملت ”زمین کے اوپر کام اور زمین کے نیچے آرام“ کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،آمین۔ تو آئیے ہم حضور حافظ ملت کی ہمہ جہت شخصیت کو اقوالِ ائمہ کی ...

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا

خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نبی مکرم، رسول معظم، سرکار اعظم، رحمت عالم سرکار مدینہ ﷺکے اخلاق و عادات کے مظہر کامل ہیں اسی لئے اولیاء کرام اور علمائے عظام نے آپ کی بارگاہ غوثیت میں نذر عقیدت پیش کیا اور آپ کی عظیم شان و عظمت کو یوں بیان کیا ہے کہ میرے آقا حضور غوث اعظم دستگیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ ہر غم زدہ اور پریشان حال کی دستگیری فرماتے، ضعیفوں میں بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے، سلام میں پہل کرتے، لوگوں کی خطاؤں اور کوتاہیوں کو درگزر فرماتے، جو کوئی بھی آپ کی ذراسی خدمت کرتا نذرونیاز، ہدیہ تحفہ پیش کرتے اس کی قدر کرتے۔ جود وسخا کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی مجلس میں بعض اوقات چار سو حاضرین کو ولایت کے مقام تک پہنچا دیتے، آپ انتہائی رحیم اور کریم النفس تھے۔ شجاعت ایسی کہ خلیفہ وقت کو منبر پر بیٹھے للکار کر خلاف شرع امور سے روکتے، صدق وصفا میں کمال درجہ رکھتے تھے۔ امانت کے پاسباں، انصاف و عدل کے پیکر عفوو عطا فرمانے والے، علم و حیا میں بے مثل و بے مثال، مروت...