مولانا مبارک حسین مصباحی کی علمی، فکری اور نثری خدمات: ایک تحقیقی مطالعہ
مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری خدمات کا مطالعہ دراصل اردو ادب، اسلامی صحافت اور معاصر علمی و فکری تحریکات کے ایک اہم باب کا مطالعہ ہے۔ برصغیر کی علمی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی تدریسی، تحقیقی، تصنیفی اور قلمی صلاحیتوں کے ذریعے اپنے عہد کی فکری ترجمانی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ مولانا مبارک حسین مصباحی انہی ممتاز اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، تحقیقی ذوق اور دل نشیں اسلوبِ نگارش کے ذریعے دینی و ملی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کا تعلق الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی اس عظیم علمی روایت سے ہے جس نے برصغیر میں علمِ دین، دعوت و تبلیغ اور فکری رہنمائی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
مولانا مبارک حسین مصباحی کی شخصیت ہمہ جہت علمی، فکری اور ادبی خدمات کی آئینہ دار ہے۔ اگرچہ آپ نے تدریس، افتا، تحقیق، صحافت اور تصنیف کے مختلف میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا، تاہم علمی صحافت اور فکری رہنمائی کے شعبے میں آپ کی خدمات کو خاص امتیاز حاصل ہے۔ آپ نے طویل عرصے تک ماہنامہ ’’اشرفیہ‘‘ کی ادارت کے فرائض انجام دیے اور اسے محض ایک رسالے کی حیثیت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اہلِ سنت کی علمی ترجمانی، فکری رہنمائی اور ملی شعور کی بیداری کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بنا دیا۔ آپ کے اداریے اپنے دور کے اہم دینی، تعلیمی، سماجی اور قومی مسائل کا نہایت بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتے تھے اور قارئین کو مسائل کی درست تفہیم کے ساتھ ان کے مناسب حل کی طرف بھی متوجہ کرتے تھے۔
آپ نے قلم کو صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے اصلاحِ امت، دفاعِ عقائدِ اہلِ سنت، فروغِ تعلیم اور بیداریِ شعور کا ایک مؤثر وسیلہ بنایا۔ آپ کی تحریروں میں علمی گہرائی، تحقیقی پختگی، فکری اعتدال اور ادبی شائستگی کا حسین امتزاج نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ مختلف رسائل و جرائد، بالخصوص ماہنامہ ’’اشرفیہ‘‘ کے ذریعے آپ نے دینی، تعلیمی، سماجی، تاریخی اور ملی موضوعات پر گراں قدر مضامین اور اداریے تحریر کیے، جنہوں نے قارئین کی فکری تربیت اور علمی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی نثر میں ایک صاحبِ علم محقق کی سنجیدگی، ایک مصلحِ امت کا درد اور ایک ذمہ دار صحافی کا شعور بیک وقت جلوہ گر نظر آتا ہے۔
اسی وجہ سے مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری خدمات چند کتابوں یا مضامین تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع علمی و فکری سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ کی تحریروں نے اردو دینی ادب کو نئی توانائی بخشی، علمی صحافت کے معیار کو بلند کیا اور نئی نسل کو اپنے دینی و فکری ورثے سے وابستہ رکھنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ چنانچہ آپ کی نثری خدمات کا مطالعہ نہ صرف آپ کی علمی و فکری شخصیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ عصرِ حاضر میں دینی صحافت اور اردو نثر کے ارتقا کا جائزہ لینے کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
اسی علمی و فکری خدمت کا ایک اہم پہلو عقائدِ اہلِ سنت کا مدلل دفاع اور امت کی فکری رہنمائی ہے۔ مولانا مبارک حسین مصباحی نے اپنے مضامین اور مقالات کے ذریعے عقائدِ اہلِ سنت کی وضاحت کی، فکری انتشار کا جائزہ لیا اور امت کو اعتدال و استقامت کی راہ دکھائی۔ ان کی تحریروں میں مسلکی تعصب کے بجائے علمی استدلال، اعتدالِ فکر اور تحقیقی انداز نمایاں نظر آتا ہے، جس کی بنا پر ان کی نگارشات علمی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں۔ انہوں نے مدارسِ اسلامیہ کی افادیت، دینی تعلیم کی اہمیت، اساتذہ کی ذمہ داریوں اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت جیسے موضوعات پر مسلسل قلم اٹھایا۔ ان کی تحریروں نے اہلِ علم اور طلبہ میں علمی ذوق اور تحقیقی شعور کو فروغ دیا اور دینی تعلیم کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔
اسی طرح اکابر علماء اور اسلافِ اہلِ سنت کی خدمات کو محفوظ کرنا بھی ان کے نمایاں کارناموں میں شامل ہے۔ انہوں نے مختلف علمی و دینی شخصیات کی حیات و خدمات پر تحقیقی مضامین تحریر کرکے نہ صرف ان کے علمی ورثے کو محفوظ کیا بلکہ نئی نسل کو اپنے اکابر سے روشناس کرانے کا اہم فریضہ بھی انجام دیا۔ اس اعتبار سے ان کی تحریریں اردو تذکرہ نگاری اور سوانح نگاری کے قیمتی سرمائے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ملی اور سماجی مسائل کے سلسلے میں بھی ان کی نظر نہایت گہری اور حقیقت پسندانہ تھی۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش تعلیمی، سماجی اور تہذیبی چیلنجز پر مدلل انداز میں اظہارِ خیال کیا اور ملت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی کوشش کی۔ ان کے مضامین میں ملت کا درد، قوم کی فکر اور مستقبل کی تعمیر کا جذبہ نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری اور تصنیفی خدمات ان کی علمی شخصیت کا روشن ترین پہلو ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قلمی خدمت، فکری رہنمائی اور دینی صحافت کے فروغ کے لیے وقف کر دیا۔ اگرچہ وہ ایک کامیاب مدرس، محقق اور مفکر کی حیثیت سے بھی معروف ہیں، لیکن ان کی شناخت ایک صاحبِ طرز ادیب، سنجیدہ صحافی اور بالغ نظر قلم کار کی حیثیت سے زیادہ نمایاں ہے۔ ان کی تحریروں میں علمی وقار، تحقیقی گہرائی، زبان کی شستگی اور فکر کی پختگی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
ان کی تصنیفی خدمات کا دائرہ کتابوں، مقالات، اداریوں، تبصروں اور تحقیقی مضامین تک وسیع ہے۔ ان کی مستقل تصانیف میں ’’دو عظیم شخصیتیں‘‘ اور ’’خلیج کا بحران: ایک تفصیلی جائزہ‘‘ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں، جن سے ان کی تحقیقی بصیرت اور تجزیاتی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اگرچہ کتابی صورت میں ان کی تصانیف کی تعداد زیادہ نہیں، لیکن ان کا اصل علمی سرمایہ مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہونے والے مضامین، مقالات اور اداریوں پر مشتمل ہے، جو مقدار و معیار دونوں اعتبار سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
ان کی قلمی زندگی کا سب سے اہم مرکز ماہنامہ ’’اشرفیہ‘‘ رہا ہے۔ اس رسالے سے ان کی وابستگی محض ایک مدیر کی حیثیت سے نہیں تھی بلکہ وہ اس کے فکری معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک اس کے اداریے تحریر کیے اور ہر دور کے اہم مسائل پر اہلِ علم اور عوام دونوں کی رہنمائی کی۔ ان کے اداریوں میں دینی تعلیم، مدارسِ اسلامیہ، اصلاحِ معاشرہ، نوجوانوں کی تربیت، قومی یکجہتی، مسلم مسائل، عالمِ اسلام کی صورتِ حال، بین الاقوامی سیاست اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز جیسے موضوعات کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ یہی اداریے ان کی فکری بصیرت، وسیع مطالعے اور ملت کے مسائل سے گہری وابستگی کے آئینہ دار ہیں۔
مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری خدمات کا ایک اہم پہلو اکابر علماء، مشائخ اور اولیائے کرام کی حیات و خدمات سے ان کی گہری وابستگی بھی ہے۔ انہوں نے متعدد علمی و دینی شخصیات پر تحقیقی مضامین تحریر کرکے نہ صرف ان کے علمی، فکری اور اصلاحی کارناموں کو اجاگر کیا بلکہ نئی نسل کو اپنے علمی و روحانی ورثے سے روشناس کرانے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ اس اعتبار سے ان کی تحریریں سوانح نگاری، تذکرہ نگاری اور تاریخ نویسی کے میدان میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہیں۔ وہ تاریخ کو محض واقعات کے مجموعے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس سے فکری اور عملی رہنمائی اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے باعث ان کی نگارشات علمی افادیت کے ساتھ تربیتی اہمیت بھی رکھتی ہیں۔
ان کی نثر کا نمایاں وصف اس کی سادگی، شائستگی اور علمی استناد ہے۔ وہ پیچیدہ علمی مسائل کو بھی نہایت سہل، واضح اور مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تحریریں عام قارئین کے لیے قابلِ فہم اور اہلِ علم کے لیے قابلِ اعتماد بن جاتی ہیں۔ ان کے اسلوب میں خطیبانہ جذباتیت کے بجائے تحقیقی متانت، اعتدالِ فکر اور مدلل اندازِ بیان نمایاں ہے، جس کے باعث ان کی تحریریں وقتی اثرات سے بالاتر ہو کر دیرپا علمی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔
موضوعات کے اعتبار سے بھی مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری خدمات غیر معمولی وسعت اور ہمہ گیری کی حامل ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم کو کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رکھا بلکہ عقائد و نظریات، تعلیم و تربیت، فقہ و شریعت، تصوف و اخلاق، تاریخ و سیرت، ملی و سماجی مسائل، عالمِ اسلام کے حالات اور معاصر فکری چیلنجز جیسے متنوع موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ ان کی تحریروں کا مقصد محض معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ قارئین کی فکری تربیت، دینی رہنمائی اور اصلاحِ معاشرہ تھا۔
عقائد و نظریات کے میدان میں انہوں نے اہلِ سنت و جماعت کے افکار و تعلیمات کی توضیح اور ان کے علمی دفاع پر خصوصی توجہ دی۔ جدید فکری شبہات اور فتنوں کے تناظر میں انہوں نے ایسے مضامین تحریر کیے جن سے عقیدے کی پختگی اور دینی شعور کے استحکام میں مدد ملی۔ اسی طرح تعلیم و تربیت کے موضوع پر انہوں نے مدارسِ اسلامیہ، دینی تعلیم کی اہمیت، اساتذہ کی ذمہ داریوں اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت جیسے مسائل پر مدلل گفتگو کی، جس سے علمی شعور اور تحقیقی ذوق کے فروغ میں مدد ملی۔
اصلاحِ معاشرہ بھی ان کی تحریروں کا ایک مستقل موضوع رہا ہے۔ انہوں نے اخلاقی زوال، خاندانی انتشار، نوجوان نسل کے مسائل اور معاشرتی چیلنجز پر قلم اٹھاتے ہوئے محض مسائل کی نشاندہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے مناسب حل اور اصلاحی پہلوؤں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اسی طرح ملی اور قومی مسائل کے سلسلے میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور تہذیبی صورتِ حال کا تجزیہ کیا اور ملت میں خود احتسابی، اجتماعی شعور اور احساسِ ذمہ داری کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کے موضوعات پر بھی ان کی آرا اعتدال اور بصیرت کی آئینہ دار ہیں۔
فقہ و شریعت اور تصوف و اخلاق کے موضوعات بھی ان کی نگارشات میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے جدید مسائل کے شرعی پہلوؤں کی وضاحت، اسلامی احکام کی حکمت اور روحانی و اخلاقی تربیت جیسے مباحث پر نہایت متوازن انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ تزکیۂ نفس، اخلاص، تقویٰ اور اصلاحِ باطن جیسے موضوعات پر ان کی تحریریں قاری کو ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
اسی طرح عالمِ اسلام کے حالات، مسلم دنیا کو درپیش مسائل اور بین الاقوامی سیاسی تبدیلیوں پر بھی ان کی گہری نظر رہی۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر سنجیدہ اور مدلل انداز میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے قارئین میں عالمی شعور اور فکری حساسیت پیدا کرنے کی کوشش کی۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری و تصنیفی خدمات اردو دینی ادب، اسلامی صحافت اور علمی تحقیق کا ایک گراں قدر سرمایہ ہیں۔ ان کی تحریروں نے علمی ذوق، فکری پختگی، دینی شعور، اخلاقی بیداری اور ملی احساسِ ذمہ داری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہی ہمہ گیری، اعتدال اور افادیت ان کی نثری خدمات کو اردو دینی ادب میں ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہے اور انہیں آنے والے محققین کے لیے ایک معتبر علمی ماخذ کی حیثیت بخشتی ہے۔
کسی بھی ادیب، محقق یا صحافی کی عظمت کا صحیح اندازہ اس کی تحریروں کے اثرات اور ان کے علمی و فکری ثمرات سے لگایا جاتا ہے۔ مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری خدمات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کی تحریریں محض کاغذ کے صفحات تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے علمی حلقوں، دینی اداروں اور معاشرتی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی نگارشات نے مطالعہ، تحقیق اور تنقیدی شعور کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور علمی مسائل کو سمجھنے کے لیے ایک متوازن اور سنجیدہ طرزِ فکر فراہم کیا۔
جامعہ اشرفیہ اور اس سے وابستہ علمی حلقوں میں ان کی تحریروں نے تحقیقی مزاج اور فکری سنجیدگی کو فروغ دیا۔ ان کے مضامین اور اداریے محض معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں تھے بلکہ قارئین کو غور و فکر اور مسائل کے گہرے تجزیے کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ اسی طرح ان کی صحافتی خدمات نے دینی صحافت کو سنجیدہ علمی بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے اداریوں میں وقتی جذباتیت کے بجائے حالات و واقعات کا معتدل اور بصیرت افروز تجزیہ ملتا ہے، جس کے نتیجے میں دینی جرائد کو فکری رہنمائی اور اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر ذریعہ بنانے میں مدد ملی۔
ان کی تحریروں کا ایک اہم اثر نئی نسل کو اپنے علمی، دینی اور تہذیبی ورثے سے وابستہ کرنا بھی ہے۔ انہوں نے اکابر علماء اور دینی شخصیات کی خدمات کو اس انداز میں پیش کیا کہ علمی تسلسل اور فکری وراثت کے تحفظ کا شعور مضبوط ہوا۔ اسی طرح ان کی نگارشات نے معاشرے میں اعتدال، سنجیدگی، ذمہ داری اور مثبت فکر کو فروغ دیا۔ وہ محض تنقید پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اصلاح، تعمیر اور عملی رہنمائی کے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تحریریں علمی افادیت کے ساتھ عملی اہمیت بھی رکھتی ہیں۔
ان تمام جہات کے پیش نظر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مولانا مبارک حسین مصباحی صرف ایک مصنف یا صحافی نہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر عالم، بالغ نظر محقق اور مخلص مصلح تھے، جنہوں نے اپنے قلم کو دین، علم اور ملت کی خدمت کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ ان کی تحریروں میں علمی استناد، تحقیقی گہرائی، فکری اعتدال اور اصلاحِ امت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کے فکری، تعلیمی، سماجی اور ملی مسائل کو گہرائی سے سمجھا اور انہیں علمی انداز میں پیش کیا۔ ان کی قلمی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ قلم محض اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ علمی بیداری، فکری تعمیر اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک طاقتور وسیلہ بھی ہے۔
مولانا مبارک حسین مصباحی کی علمی دیانت، تحقیقی سنجیدگی، اعتدالِ فکر اور مسلسل مطالعہ و تصنیف کا ذوق آج کے طلبہ، محققین اور اہلِ قلم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی عملی تفسیر ہے کہ علم کی حقیقی برکت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب اسے دین کی خدمت، معاشرے کی اصلاح اور انسانیت کی رہنمائی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ اس اعتبار سے ان کی نثری خدمات اردو دینی ادب، اسلامی صحافت اور علمی تحقیق کا ایک گراں قدر سرمایہ ہیں، جن کی افادیت آنے والے زمانوں میں بھی برقرار رہے گی۔
ان کے مجموعی علمی و قلمی کارناموں کے مطالعے سے چند اہم نتائج سامنے آتے ہیں:
اول: مولانا مبارک حسین مصباحی نے اردو دینی نثر کو علمی وقار، تحقیقی گہرائی اور فکری اعتدال سے آراستہ کیا۔
دوم: ماہنامہ ’’اشرفیہ‘‘ کے ذریعے انہوں نے دینی صحافت کو محض خبر رسانی کے دائرے سے نکال کر فکری اور اصلاحی رہنمائی کا مؤثر ذریعہ بنایا۔
سوم: ان کی تحریروں نے اہلِ سنت کے علمی و فکری تشخص کے استحکام، دینی تعلیم کے فروغ اور ملی شعور کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔
چہارم: انہوں نے تحقیق، مطالعہ، اخلاقی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے رجحانات کو فروغ دے کر نئی نسل کو اپنے علمی و تہذیبی ورثے سے مربوط کرنے میں اہم خدمت انجام دی۔
پنجم: ان کی نثری خدمات مستقل تصانیف تک محدود نہیں بلکہ مضامین، اداریوں، تبصروں اور تحقیقی مقالات پر مشتمل ایک وسیع علمی سرمایہ ہیں، جو اہلِ علم اور محققین کے لیے قابلِ استفادہ ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
الغرض مولانا مبارک حسین مصباحی کی نثری خدمات اردو دینی ادب، اسلامی صحافت اور علمی تحقیق میں ایک مستقل اور قابلِ قدر باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے منتشر علمی ذخیرے کی مزید تحقیق، تدوین اور اشاعت وقت کی ایک اہم ضرورت ہے، تاکہ ان کے علمی و فکری ورثے کو زیادہ منظم انداز میں محفوظ کیا جا سکے اور آنے والی نسلیں بھی اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں