محرم الحرام: آغازِ سال، احتسابِ نفس اور ہماری ذمہ داریاں


محرم الحرام: آغازِ سال، احتسابِ نفس اور ہماری ذمہ داریاں

    اسلامی سال کا آغاز محض ایک نئی تاریخ کا آغاز نہیں بلکہ ایک نئے شعور، نئی فکر اور نئی ذمہ داری کا اعلان ہے۔ دنیا کے کیلنڈر بدلنے سے صرف دن اور مہینے تبدیل ہوتے ہیں، لیکن ہجری سال کا آغاز ایک مسلمان کو اس کی تاریخ، اس کے عقیدے، اس کی تہذیب اور اس کے دینی فرائض کی یاد دلاتا ہے۔ ماہِ محرم ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وقت گزر رہا ہے، عمریں کم ہو رہی ہیں اور ہم اپنے انجام کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم رک کر اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں اور آئندہ زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق ڈھالنے کا عزم کریں۔

    ہجری سال کی بنیاد تاریخ کے ایک عظیم ترین واقعے یعنی ہجرتِ نبوی ﷺ پر رکھی گئی۔ یہ محض ایک جغرافیائی سفر نہیں تھا بلکہ حق کے لیے قربانی، دین کی خاطر مشکلات برداشت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کا عملی نمونہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سال کا آغاز مسلمانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ اگر دین اور دنیا میں کوئی ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو ایک مؤمن کو ہمیشہ دین کو ترجیح دینی چاہیے۔

    محرم الحرام ان چار مقدس مہینوں میں شامل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی حرمت عطا فرمائی ہے۔ قرآنِ کریم نے ان مہینوں کی عظمت کو واضح کیا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے محرم کو "شہر اللہ" یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا۔ اس مہینے میں عبادت، ذکر و اذکار، توبہ و استغفار اور نیک اعمال کی خاص اہمیت ہے۔ یومِ عاشوراء کی فضیلت احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے اور اس دن کا روزہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کے کفارے کا ذریعہ بنتا ہے۔

    اسی مہینے میں کربلا کا عظیم واقعہ پیش آیا جہاں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں نے حق و صداقت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانی رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے، باطل کے سامنے نہ جھکنے اور دین پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی رہے گی۔ لیکن افسوس کہ بعض لوگوں نے اس عظیم واقعے کو جذباتی افسانوں، من گھڑت قصوں اور بے بنیاد روایات کے ذریعے مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔

    آج محرم الحرام کے نام پر امت کے ایک بڑے طبقے میں ایسی رسومات رائج ہو چکی ہیں جن کا نہ قرآن میں ثبوت ہے، نہ حدیث میں اور نہ ہی صحابۂ کرام و اہلِ بیت کے مبارک طرزِ عمل میں۔ خود کو زخمی کرنا، سینہ کوبی کرنا، نوحہ خوانی کرنا، تعزیوں کے گرد غیر شرعی مراسم ادا کرنا اور غم کو عبادت کا درجہ دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام صبر، وقار اور شرعی حدود کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ جذبات کے نام پر شریعت کی خلاف ورزی کی۔

    اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر بے شمار جھوٹے واقعات، من گھڑت روایات اور غیر مستند قصے عام کیے جا رہے ہیں۔ بعض لوگ بغیر تحقیق کے ہر پیغام، ہر پوسٹ اور ہر ویڈیو کو آگے بڑھا دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآنِ کریم نے خبر کی تحقیق کا حکم دیا ہے۔ جھوٹ کو پھیلانا اور اسے دین کا حصہ بنا کر پیش کرنا ایک سنگین گناہ ہے۔ اہلِ بیتِ اطہار سے محبت ایمان کا حصہ ہے، لیکن ان کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے بارے میں صرف وہی بات بیان کی جائے جو مستند اور معتبر ہو۔

    آج کے مسلمان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ محرم کو خرافات کا نہیں بلکہ اصلاح کا مہینہ بنائے۔ وہ اپنی نمازوں کی فکر کرے، قرآن سے تعلق مضبوط کرے، والدین کے حقوق ادا کرے، حلال و حرام کی تمیز سیکھے، امت کے مسائل کو سمجھے اور اپنے عقیدے کی حفاظت کرے۔ محرم ہمیں رونے سے زیادہ جاگنے، ماتم سے زیادہ عمل کرنے اور نعروں سے زیادہ کردار سازی کی دعوت دیتا ہے۔

    ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مسلمان اپنی اسلامی شناخت کو زندہ کریں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمانوں کو ہجری مہینوں کے نام تک یاد نہیں ہوتے، لیکن غیر اسلامی تقاویم اور تہواروں کی مکمل معلومات ہوتی ہیں۔ ایک زندہ امت وہی ہوتی ہے جو اپنی تاریخ، اپنی تہذیب اور اپنے دینی تشخص سے جڑی رہے۔ ہجری سال کا احترام اور اس کا استعمال ہماری دینی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔

    آج امتِ مسلمہ جن فکری، اخلاقی اور معاشرتی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان سے نکلنے کا راستہ محض جذباتی نعروں یا وقتی جوش و خروش میں نہیں بلکہ شعور، علم اور عمل میں پوشیدہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کو مقصدیت عطا کریں، اپنے دینی شعور کو بیدار کریں اور ہر معاملے میں قرآن و سنت کو اپنا معیار بنائیں۔ جب تک ہم دین کو رسم و رواج، سنی سنائی باتوں اور غیر مستند روایات کے بجائے مستند علم اور صحیح فہم کی بنیاد پر نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک بہت سی گمراہیاں اور فکری کمزوریاں ہمارا تعاقب کرتی رہیں گی۔

    مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں علمِ دین کے حصول کو اہمیت دیں، اپنی نئی نسل کی فکری تربیت پر توجہ دیں اور انہیں ایسے ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنی تاریخ، اپنے اکابر اور اپنی دینی اقدار سے صحیح طور پر واقف ہو سکیں۔ گھروں میں دینی گفتگو کا ماحول پیدا کیا جائے، مساجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ اصلاح و تربیت کے مراکز بنایا جائے اور تعلیمی اداروں میں بھی اخلاقی و دینی شعور کو فروغ دیا جائے۔ یہی وہ اقدامات ہیں جو ایک مضبوط، باشعور اور باکردار مسلم معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ ہر مسلمان کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ دین کی خدمت صرف علماء اور دینی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ امت کے ہر فرد کی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جس قدر ایک شخص اپنے عمل، اپنے اخلاق، اپنے کردار اور اپنی گفتگو کے ذریعے خیر کو عام کرتا ہے، اسی قدر وہ امت کی اصلاح اور تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جبکہ معلومات کی ترسیل نہایت تیز ہو چکی ہے، سچائی، دیانت اور تحقیق کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر بات کو پرکھنے، سمجھنے اور تحقیق کرنے کی عادت اپنائی جائے تاکہ حقائق اور افواہوں کے درمیان فرق باقی رہے۔

    یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت، برکت اور رحمت ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو اخلاص کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو قومیں اپنی اصلاح کی فکر چھوڑ دیتی ہیں، ان کے زوال کا آغاز اندر سے ہوتا ہے، جبکہ جو قومیں علم، عمل، تقویٰ اور اتحاد کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے ترقی، عزت اور سربلندی کے راستے کھول دیتا ہے۔

    محرم الحرام کا آغاز دراصل ہر مسلمان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ گزرے ہوئے وقت سے سبق حاصل کرے، آنے والے دنوں کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرے اور اپنی زندگی کو اس انداز میں گزارے کہ وہ دنیا میں خیر کا ذریعہ اور آخرت میں کامیابی کا مستحق بن سکے۔ اگر ہم اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کرنے، اپنے اعمال کو بہتر بنانے اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنے کا عزم کر لیں تو یہی شعور ایک مضبوط فرد، ایک صالح معاشرہ اور ایک بیدار امت کی تشکیل کا سبب بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اس پر ثابت قدم رہنے اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


حوالہ جات

1. البخاری، محمد بن اسماعیل (194ھ-256ھ)۔ الجامع الصحیح (صحیح البخاری)۔ تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر۔ ناشر: دار طوق النجاۃ، بیروت، لبنان۔ اشاعت: 1422ھ۔

2. مسلم، ابو الحسین مسلم بن حجاج القشیری (204ھ-261ھ)۔ الجامع الصحیح (صحیح مسلم)۔ ناشر: دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان۔ متعدد اشاعتیں۔

3. الطبری، محمد بن جریر الطبری (224ھ-310ھ)۔ تاریخ الامم والملوک (تاریخ طبری)۔ ناشر: دار التراث، بیروت، لبنان۔ دوسری اشاعت، 1387ھ / 1967ء۔

4. القاری، علی بن سلطان محمد القاری (متوفی 1014ھ)۔ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح۔ ناشر: دار الفکر، بیروت، لبنان۔ پہلی اشاعت، 1422ھ / 2002ء۔

5. خان، امام احمد رضا قادری بریلوی (1272ھ-1340ھ)۔ فتاویٰ رضویہ۔ ناشر: رضا فاؤنڈیشن، لاہور، پاکستان۔ جدید مطبوعہ ایڈیشن۔

6. اعظمی، صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی (1300ھ-1367ھ)۔ بہارِ شریعت۔ ناشر: مکتبۃ المدینہ، کراچی، پاکستان۔ جدید اشاعت۔



محمد فداء المصطفیٰ قادری ؔ

رابطہ نمبر:903709973

 جامعہ دارالہدی اسلامیہ، ملاپور،کیرالا


تبصرے