لیلۃ القدر کی تلاش اور ہماری بے توجہی
رمضان المبارک کا یہ تیسرا عشرہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے، مگر افسوس! بازاروں میں شاپنگ کی رونقیں ہیں، مارکیٹوں میں بھیڑ ہے، کپڑوں کی لین دین ہے اور عید کی تیاریاں زور و شور پر ہیں؛ لیکن دین کا لحاظ، آخری عشرے کا خیال اور رمضان المبارک کے اس عظیم عشرے یعنی جہنم سے آزادی کے عشرے کا احساس دلوں سے جیسے ماند پڑتا جا رہا ہے۔ حالانکہ رمضان المبارک کا یہ تیسرا عشرہ وہ بابرکت اور مقدس عشرہ ہے جس میں بندہ اپنے رب کے حضور جھک کر جہنم سے نجات اور آزادی کا پروانہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے دو عشرے گزر چکے: پہلا عشرہ رحمت کا تھا جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برستی رہیں، دوسرا مغفرت کا تھا جس میں گناہوں کی بخشش کے دروازے کھلے رہے؛ اور اب یہ آخری عشرہ نجات کا عشرہ ہے، جس میں ربِّ کریم اپنے بندوں کو جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرماتا ہے۔
مگر بڑے دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی وہ وقت ہے جب مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ جھکنے، آنسو بہانے، توبہ و استغفار کرنے اور اپنے رب سے لو لگانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ راتیں ہیں جن کی فضیلت احادیثِ مبارکہ میں بار بار بیان کی گئی ہے، اور انہی راتوں میں وہ عظیم رات بھی پوشیدہ ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے؛ مگر ہم میں سے بہت سے لوگ ان قیمتی لمحات کی قدر نہیں کرتے۔ بالخصوص ہماری مائیں، بہنیں اور عورتیں عید کی تیاریوں اور گھریلو مصروفیات میں الجھ جاتی ہیں، اور بالعموم ہمارے مرد حضرات، خصوصاً نوجوان، ان دس قیمتی راتوں کو کھیل کود، گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح میں یوں ہی گنوا دیتے ہیں؛ گویا انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ یہ راتیں کتنی عظیم، کتنی بابرکت اور کتنی فیصلہ کن ہیں۔
آہ! اگر دل جاگ جائے، اگر نگاہ حقیقت کو پہچان لے تو انسان سمجھ جائے کہ یہ آخری عشرہ محض چند دنوں کا نام نہیں، بلکہ یہ نجات کا دروازہ ہے، بخشش کا موسم ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے سمندر میں ڈوب جانے کا سنہری موقع ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان راتوں کو عبادت، دعا، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی میں گزار کر اپنے رب کی رضا اور جہنم سے آزادی کا پروانہ حاصل کر لیتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ رمضان المبارک کے ابتدائی ایام میں مساجد کچا کچ بھری رہتی ہیں، نمازیوں کی کثرت سے مسجدیں آباد نظر آتی ہیں، صفیں بھر جاتی ہیں اور عبادت کا خوب منظر ہوتا ہے۔ مگر جیسے ہی رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا ہے، وہی مسجدیں سنسان اور ویران ہونے لگتی ہیں۔ سوائے ان چند خوش نصیب لوگوں کے جو اعتکاف میں بیٹھے ہوتے ہیں، باقی لوگ مسجدوں سے دور ہو جاتے ہیں، نمازوں سے غفلت برتنے لگتے ہیں۔ یہ واقعی بڑی شرم اور افسوس کی بات ہے کہ جس مہینے میں عبادت کا شوق اور بڑھ جانا چاہیے تھا، اسی مہینے کے آخری اور سب سے بابرکت دنوں میں ہم مسجدوں سے دور ہو جاتے ہیں۔
ایک اور بات بھی ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ عید کی حقیقی خوشی اور اس کی قبولیت اسی وقت ہے جب رمضان کو صحیح طریقے سے گزارا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری عید، ہماری خوشی، ہماری مسرت، سویاں کھانا، خوشیاں بانٹنا اور جشن منانا اسی وقت قبول ہوگا جب ہم نے رمضان المبارک کو عبادت، تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ گزارا ہو۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ عید کے لیے ہم بڑے ذوق و شوق سے تیاری کرتے ہیں۔ نئے نئے اور چمک دمک والے کپڑے خریدے جاتے ہیں، طرح طرح کے پکوان اور میوے سجائے جاتے ہیں، گھروں میں خوشیوں کا سماں باندھ دیا جاتا ہے۔ عید کے دن مساجد میں کچا کچ بھیڑ ہو جاتی ہے، لیکن یہی مسجدیں عید سے پہلے کے دنوں میں بالکل خالی پڑی ہوتی ہیں۔ یہ منظر ایک مسلمان کے لیے باعثِ شرمندگی ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو زندگی کے ہر حال میں فرض ہے۔ انسان لنگڑا ہو یا لولا، بینائی نہ ہو، سماعت نہ ہو، چلنے کی طاقت نہ ہو، کسی بھی حال میں ہو، نماز کی ادائیگی اس پر لازم ہے۔ مگر افسوس کہ وہی مسلمان جو جانتے ہیں کہ نماز فرض ہے، دل سے اس کا اقرار بھی کرتے ہیں، پھر بھی غفلت میں پڑ کر سال کے بارہ مہینوں کی طرح رمضان المبارک کو بھی کھیل کود، مستی اور غفلت میں گزار دیتے ہیں۔
ایک اور بات جو ہم مسلمانوں کے لیے غور اور فکر کا مقام ہے وہ یہ کہ ہم فطرہ نکالتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور صدقات دیتے ہیں، مگر اکثر یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا دیا ہوا مال کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ کبھی ہم بغیر تحقیق کے کسی کو بھی دے دیتے ہیں، اور بعض اوقات ایسے مدارس یا اداروں کو دے دیتے ہیں جہاں اس مال سے کوئی حقیقی دینی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے میرا پیغام یہ ہے کہ صدقات، فطرات اور زکوٰۃ کی رقم بہت سوچ سمجھ کر ادا کی جائے۔ ایسے مدارس اور مکاتب کا انتخاب کیا جائے جو واقعی ہمارے بچوں کے دینی اور اسلامی مستقبل کو سنوارنے میں مصروف ہوں، جہاں صحیح تعلیم دی جا رہی ہو اور جہاں سے دین کی صحیح خدمت ہو رہی ہو۔ غور و فکر کریں، اہلِ علم سے مشورہ کریں، تحقیق کریں اور پھر اپنے مال کو وہاں خرچ کریں جہاں اس کا صحیح مصرف ہو۔ تاکہ آپ کا دیا ہوا مال صحیح راستے میں خرچ ہو، دین کی خدمت کا ذریعہ بنے اور قیامت کے دن آپ کی نجات کا سبب بن جائے، نہ کہ وہی مال غلط جگہ خرچ ہو کر آپ کے لیے وبال اور عذاب کا باعث بنے۔
اور یاد رکھیں کی حقیقی معنوں میں مسلمان وہ ہے جو رمضان کے بعد بھی وہی تقویٰ، عبادت اور اللہ کی یاد کو اپنی زندگی میں برقرار رکھے جو رمضان میں اختیار کرتا ہے۔ نمازوں کی پابندی کرے، مساجد کو آباد رکھے، قرآنِ کریم کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی کو معمول بنائے۔ گناہوں سے بچے، سچائی، دیانت اور اچھے اخلاق کو اپنائے اور لوگوں کے ساتھ بھلائی کا برتاؤ کرے۔ زکوٰۃ، صدقات اور فطرہ صحیح مستحقین تک پہنچانے کا اہتمام کرے۔ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زندگی رمضان کے بعد بھی اطاعتِ الٰہی اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق گزرتی رہے اور جو ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھے۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں