بھارت–اسرائیل گٹھ جوڑ: سیاسی ضرورت یا فکری ہم آہنگی؟

بھارت–اسرائیل گٹھ جوڑ: سیاسی ضرورت یا فکری ہم آہنگی؟


دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں انسانیت کے دعوے، تہذیب کے نعرے اور امن کی باتیں سب کے سامنے بےنقاب ہو چکی ہیں۔ غزہ کی سرزمین مسلسل لہو میں نہا رہی ہے، معصوم بچوں کی چیخیں آسمان کو چیر رہی ہیں، ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں، اور پوری دنیا محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ریاستی سربراہ مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے قاتلوں کے کندھے تھپتھپائے، تو یہ محض ایک سفارتی قدم نہیں رہتا بلکہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن جاتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا غزہ میں جاری قتلِ عام کے دوران اسرائیل کا دورہ اسی سیاہ باب کی ایک نمایاں مثال ہے، جس نے بھارتی مسلمانوں کے دلوں میں بےچینی، غصہ اور شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور مسلسل قتلِ عام کے پس منظر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں لاکھوں انسان فلسطینی عوام کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں، جب عالمی میڈیا اسرائیلی مظالم کی دلخراش تصویریں دکھا رہا ہے، اور جب معصوم بچوں کی لاشیں ملبے تلے سے نکالی جا رہی ہیں، اس نازک لمحے میں کسی بھی ذمہ دار ریاستی سربراہ کا قاتلوں کے دیس کا رخ کرنا انتہائی افسوسناک اور شرمناک اقدام ہے۔ یہ دورہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ مودی حکومت کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ سیاسی مفادات اور نظریاتی وابستگیاں ہر اخلاقی قدر سے بالاتر ہیں۔

اس دورے کا وقت اس قدر حساس اور تکلیف دہ ہے کہ اسے سفارتی جرات یا حکمتِ عملی قرار دینا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ درحقیقت، یہ فیصلہ مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے برابر ہے، جس نے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ ہر باضمیر انسان کے دل کو زخمی کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس بےحسی اور سنگ دلی کی عکاسی کرتا ہے جو ہندوتوا سیاست کے مزاج میں رچ بس چکی ہے، جہاں انسانیت، انصاف اور اخلاقی ذمہ داریوں کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔

ہندوتوا اور صہیونیت: ایک خطرناک فکری رشتہ

مودی کا اسرائیل جانا دراصل کسی وقتی سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہرے نظریاتی رشتے کا اظہار ہے، جو ہندوتوا اور صہیونیت کے درمیان خاموشی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ یہ دونوں فکر انسانوں کو مذہب اور شناخت کی بنیاد پر تقسیم کرتی ہیں اور طاقت، جبر اور غلبے کو ہی کامیابی کا معیار سمجھتی ہیں۔ ان کا مقصد محض سیاسی اقتدار نہیں بلکہ سماج کی فکری ساخت کو اس طرح بدل دینا ہے کہ اختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

اس اشتراک کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دونوں نظام مظلوم کو مجرم اور ظالم کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ بیانیے کی یہ الٹ پھیر نہ صرف سچ کو مسخ کرتی ہے بلکہ اجتماعی شعور کو بھی مفلوج کر دیتی ہے۔ نتیجتاً معاشرہ آہستہ آہستہ ظلم کو معمول اور ناانصافی کو تقدیر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ ذہنی تبدیلی ہے جو کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا زوال ثابت ہوتی ہے۔ ہندوتوا اور صہیونیت کی یہ قربت دراصل اسی ذہنی غلامی کو مضبوط کر رہی ہے، جس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسلوں کے مستقبل کو تاریک کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فکری گٹھ جوڑ کو محض سیاسی اتحاد سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔

بھارتی مسلمانوں کی نفسیاتی آزمائش اور اجتماعی کرب

اس فکری اور سفارتی پس منظر کا سب سے گہرا اور تکلیف دہ اثر بھارتی مسلمانوں کے دل و دماغ پر پڑتا ہے، جہاں یہ دورہ ایک سیاسی خبر نہیں بلکہ ایک شدید روحانی و نفسیاتی صدمہ بن کر اترتا ہے۔ ایسے حالات میں جب مسلمان پہلے ہی عدم تحفظ، بےیقینی اور مسلسل دباؤ کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہوں، تو اس نوعیت کے اقدامات ان کے زخموں کو اور زیادہ ہرا کر دیتے ہیں۔ یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ان کے دکھ، ان کی تکلیف اور ان کی مذہبی وابستگی ریاستی ترجیحات میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

یہ صورتحال مسلمانوں کے اندر احساسِ محرومی کو مزید بڑھاتی ہے، جس سے مایوسی، اضطراب اور بےچینی جنم لیتی ہے۔ جب کسی ملک کی اقلیت خود کو مسلسل نظرانداز اور غیرمحفوظ محسوس کرے تو اس کے سماجی اثرات نہایت خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ معاشرتی ہم آہنگی کمزور پڑتی ہے، اعتماد ٹوٹتا ہے اور شہری رشتوں میں سرد مہری آ جاتی ہے۔ بھارتی مسلمانوں کے لیے یہ لمحہ اپنے وجود، شناخت اور مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے، کیونکہ ایسے اقدامات محض وقتی سیاسی فیصلے نہیں ہوتے بلکہ طویل المدت ذہنی اور سماجی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ دورہ ایک گہرے کرب کی علامت بن چکا ہے، جسے نظرانداز کرنا خود اپنے وجود سے غفلت کے مترادف ہوگا۔

یہ دورہ عالمی سیاست کے وسیع تر تناظر میں طاقت کے توازن کو ایک نئے رخ پر ڈالنے کا باعث بنا ہے۔ ایسے وقت میں جب بین الاقوامی نظام شدید بےیقینی اور کشمکش کا شکار ہو، کسی بڑے ملک کی جانب سے ایک متنازع فریق کے ساتھ کھڑا ہونا عالمی صف بندی کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس عمل نے نہ صرف عالمی ضمیر کو ایک سخت امتحان میں ڈال دیا بلکہ بین الاقوامی اداروں کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے۔ کمزور اقوام کے لیے یہ پیغام خاص طور پر مایوس کن ہے کہ طاقتور ملک انسانی اقدار سے زیادہ اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح کے فیصلے عالمی نظام میں انصاف، مساوات اور انسانی حقوق کے دعوؤں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً دنیا ایک ایسے ماحول کی طرف بڑھتی ہے جہاں قانون کی بالادستی کے بجائے طاقت کی حکمرانی غالب آ جاتی ہے، اور یہی رجحان مستقبل میں مزید تنازعات اور عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے زندہ ضمیر میں ہوتی ہے، اور جب یہی ضمیر خاموش ہو جائے تو سماجی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر بےحسی کا رویہ آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ظلم پر حیرت ختم اور ناانصافی پر سوال اٹھانے کی ہمت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہ کیفیت صرف ایک طبقے تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے، جہاں لوگ اپنی ذاتی مصروفیات میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ اجتماعی مسائل ان کے لیے غیر اہم ہو جاتے ہیں۔ اس بےتفاوتی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آنے والی نسلیں بھی اسی رویے کو اپنا لیتی ہیں، اور یوں ایک خاموش زوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس لیے سماجی ضمیر کو بیدار رکھنا محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ بقا کی شرط ہے۔

موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلمان اپنی فکری بنیادوں کو ازسرِنو مضبوط کریں اور کردار سازی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ صرف وقتی جذبات یا ردعمل کسی قوم کو دیرپا تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے، دینی مراکز اور سماجی تنظیمیں مل کر ایک ایسی نسل تیار کریں جو شعور، حکمت اور اخلاقی استقامت سے لیس ہو۔ جب افراد فکری طور پر مضبوط ہوتے ہیں تو وہ حالات کا درست تجزیہ کرنے اور صحیح فیصلے لینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مضبوط کردار انسان کو دباؤ، خوف اور مایوسی کے مقابل ڈٹ جانے کی طاقت دیتا ہے۔ یہ داخلی استحکام ہی دراصل بیرونی خطرات کا سب سے مؤثر جواب بنتا ہے، کیونکہ جو قوم اپنے اندر سے مضبوط ہو، اسے شکست دینا کسی بھی طاقت کے لیے آسان نہیں ہوتا۔

کسی بھی جمہوری نظام میں مؤثر آواز وہی سمجھی جاتی ہے جو نظم، تحمل اور دانش کے ساتھ بلند کی جائے۔ منظم انداز میں اظہارِ رائے نہ صرف اپنی بات کو وزن دیتا ہے بلکہ مخالفین کے لیے بھی اسے نظرانداز کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ عوام میں آئینی شعور پیدا کیا جائے، قانونی حقوق سے واقفیت بڑھائی جائے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے۔ جب کوئی قوم اپنے مطالبات کو واضح، مدلل اور پُرامن طریقے سے پیش کرتی ہے تو وہ نہ صرف داخلی سطح پر قبولیت حاصل کرتی ہے بلکہ عالمی برادری میں بھی سنجیدگی سے لی جاتی ہے۔ یہی طرزِ عمل معاشرے میں مثبت تبدیلی کا راستہ ہموار کرتا ہے اور انتشار کے بجائے تعمیری مکالمے کو فروغ دیتا ہے، جو کسی بھی پائیدار جدوجہد کی بنیاد ہوتا ہے۔

مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ صرف تب ممکن ہے جب آج سے منظم منصوبہ بندی کی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے تعلیمی، معاشی اور سماجی ڈھانچوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں۔ تعلیم کو ترجیح دینا، نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنا، اور خودانحصاری کی طرف بڑھنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ساتھ ہی سماجی ہم آہنگی کو فروغ دے کر اندرونی اختلافات کو کم کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ جب ایک قوم اپنے وسائل کو درست سمت میں استعمال کرتی ہے اور طویل المدت اہداف کے تحت کام کرتی ہے تو وہ مشکل ترین حالات میں بھی اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔ یہی فکری اور عملی تیاری آنے والے طوفانوں کے مقابل ایک مضبوط ڈھال ثابت ہو سکتی ہے اور قوم کو عزت و وقار کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔


تبصرے